Test2

امیر حمزہ ثاقب کا کلام

امیر حمزہ ثاقب دور حاضر کے شعرا کی فہرست میں ایک نمایاں نام ہے جن کی شاعری میں کلاسیکی اور جدید شاعری کا حسین امتزاج محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بازگشت کے لیے کی گئی ریکارڈنگ ملاحظہ فرمائیں۔

مزید پڑھیں

فکرِ غالب اور اردو تنقید

از وحید اختر غالبؔ نے دعا کی تھی کہ ’’یا رب میرے بعد ایک ایسا انسان پیدا کر، جو میر ی ہی طرح گفتار کا گرویدہ ہو تا کہ وہ پہچانے کہ میری شاعری کے ایوان کی دیوار کتنی بلند ہے اور میری کمندِ خیالی کا سلسلہ کس مقام تک رسا ہے   ؎ ذوقیست ہمدمی بہ فغاں بگذرم ز رشک …

مزید پڑھیں

دردؔ کا نظریۂ تصوّف اور اُن کی شاعری

دردؔ کی شاعری کا ذکر آئے تو جو اشعار اپنی طرف دامنِ دل کو کھینچتے ہیں وہ اس قبیل کے ہیں   ؎ ان لبوں نے نہ کی مسیحائی !! ہم نے سَو سَو طرح سے مر دیکھا قتلِ عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا پر تِرے عہد سے آگے تو یہ دستور نہ تھا میرے ہونے سے عبث …

مزید پڑھیں

مجھے الجھا دیا دانش کدوں نے صرف خوابوں میں

مزید پڑھیں

آسماں بھی ہے ستم ایجاد کیا!

قرۃالعین حیدر جولائی ۴۴ء کی ایک ابر آلود سہ پہر جب وادیوں اور مکانوں کی سرخ چھتوں پر گہرا نیلا کہرا چھایا ہوا تھا اور پہاڑ کی چوٹیوں پر تیرتے ہوئے بادل برآمدوں کے شیشوں سے ٹکڑا رہے تھے۔ سوائے کے ایک لائونج میں‘ تاش کھیلنے والوں کے مجمع سے ذرا پرے ایک میز کے گرد وہ پانچوں چپ چاپ …

مزید پڑھیں

سر را ہے

قرۃالعین حیدر موسم گرما کے چاند کی کرنیں دور دور تک سفیداور بھوری چٹانوں پر بکھر گئی تھیں۔ اور ہواؤں میں رات کے پھولوں کی تیز مہک اڑ رہی تھی۔ اور دیواروں کے پرے ہوٹل کونٹی نینٹل میں شومین کا ’’ کارینول ‘‘ بج رہا تھا۔ اور چنار کے درختوں کے نیچے رسپنا کا نقرئی پانی نیلگوں سنگریزوں پر سے …

مزید پڑھیں

کیکٹس لینڈ

قرۃالعین حیدر اب خزاں بھی واپس جانے والی ہے۔ اور سفیدے کے جنگل پر ہریالی اتر رہی ہے اور جھیل کے پرلے کنارے تک پھیل آئے ہیں۔ اور جب سبزبانس کا جھنڈ پانی کی سطح پر جھک کر ہوا میں ڈولتا ہے تو چپکے سے رونے کو جی چاہتا ہے۔ سفیدے کا چھوٹا سا جنگل اس طرح چپ چاپ کھڑا …

مزید پڑھیں

جب طوفان گذر چکا

قرۃالعین حیدر تو کبوتر آسمانوں سے نیچے اترا۔ اور اس کی چونچ میں زیتون کی ایک سبز ڈالی تھی اور اس ڈالی کو دیکھ کر وہ سب زمین کی اس وادی میں پہنچے اور خدا وند خدا کی بزرگی کا نشان قائم کرنے کے لیے آس پاس کی پہاڑیوں کے نیلے بھورے پتھر جمع کرکے انہوں نے ایک عبادت گاہ …

مزید پڑھیں

برف باری سے پہلے

قرۃالعین حیدر ’’ آج رات تو یقینا برف پڑے گی‘‘۔ صاحب خانہ نے کہا ۔ سب آتش دان کے اور قریب ہو کے بیٹھ گئے۔ آتش دان پر رکھی ہوئی گھڑی اپنی متوازن یکسانیت کے ساتھ ٹک ٹک کرتی رہی۔ بلیاں کشنوں میں منہ دیئے اونگھ رہی تھیں‘ اور کبھی کبھی کسی آواز پر کان کھڑے کر کے کھانے کے …

مزید پڑھیں

میں نے لاکھوں کے بول سہے

قرۃالعین حیدر خالدہ توفیق درختوں کے جھرمٹ میں نمودار ہو کر سیدھی میری جانب چلی آرہی تھی۔ اس کے بال شانوں پر بکھرے پڑے تھے۔ جن میں اس نے زرد رنگ کے دو جنگلی پھول اڑس رکھے تھے۔ دور سے وہ شانتی  نکیتن کی کوئی بنگالی طالب علم معلوم ہو رہی تھی جو آمی کوشی موشی قسم کی باتیں کرتی …

مزید پڑھیں