Test2

جلال الدین خلجی

از منتخب التواریخ 691 ھ/ 1292ء میں چنگیزی مغلوں نے ہندستان پر حملہ کیا29؎ سنام کے قریب ہندستانی فوج سے ان کا مقابلہ ہوا۔ ہندستانی فوج کی قوت دیکھ کر انھوں نے ہتھیار ڈال دیے اور صلح کی گفتگو کی۔ ان کے سردار نے بادشاہ کو باپ کہہ کر فرزندی اختیار کرنے کی خواہش کی، بادشاہ نے بھی صلح کرلی …

مزید پڑھیں

سیدی مولہ درویش

از منتخب تواریخ سیدی مولہ نہایت عابد و زاہد اور صاحب کرامات بزرگ تھے وہ عجم سے ہندستان آئے اور پہلے اجودھن میں حضرت قطب الاولیاء مخدوم شیخ فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں رہے پھر ان سے رخصت ہوکر ہندستان کے شہروں کی سیر کرتے ہوئے، دہلی آکر قیام کیا۔ شیخ فرید نے رخصت ہوتے وقت …

مزید پڑھیں

شمس الدین کیکاؤس

از منتخب التواریخ کیکاؤس برائے نام بادشاہ تھا۔ اسے کم سنی میں شائستہ خاں اور ملک چھجو کشلی خاں نے 689 ھ/ 1290ء میںتخت پر بیٹھایا تھا۔ ان دنوں شائستہ خاں کے چچا ملک حسین نے جو کیلوکھڑی میں معز الدین کا محافظ تھا کافی اثر ورسوخ پیدا کرلیا تھا۔ جب سارے انتظامات حسب مرضی طے پاگیے تو شائستہ خاں …

مزید پڑھیں

معزالدین کیقباد

از منتخب التواریخ سلطان بلبن نے خسرو خان کو اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا لیکن ایک امیر ملک جسے ایتمر بھی کہتے تھے کچھ اور امراء کے ساتھ مل کر (جو خسرو خاں کے باپ شہید کے مخالف تھے)خسرو کے بجائے بغراخاںکے لڑکے معزالدین کیقباد کو تخت پر بیٹھا دیا۔ اس وقت کیقباد کی عمر صرف 18 سال کی …

مزید پڑھیں

غیاث الدین بلبن خورد

از منتخب التواریخ الغ خانی خطاب تھا 664 ھ/ 1265ء میں تمام امراء اور ملوک کی رائے سے قیصر سفید میں اس نے تخت سلطنت کو زینت بخشی۔ یہ سلطان التمش کے ان چالیس غلاموں میں سے تھا جن میںسے ہر ایک منصب امارت پر فائز ہوا۔جب کہ وہ ابھی الغ خاں تھا اور مملکت کی باگ ڈور اس کے …

مزید پڑھیں

ناصر الدین محمود بن شمس الدین التمش

از منتخب التواریخ 644 ھ/ 1246ء میں تخت سلطنت پر جلوہ افروز ہوا۔ اس نے چھوٹے غیاث الدین جو غیاث الدین خورد کے نام سے مشہور تھا، کو اپنا وزیر بنایا جو وہ اس کے والد کا غلام اور داماد تھا۔ تخت نشینی کے وقت بے شمار تحفے سلطان ناصرالدین کی خدمت میں پیش کیے گیے اور شاعروں نے ان …

مزید پڑھیں

خسرو ملک ابن خسروشاہ

از منتخب التواریخ خسرو شاہ کے انتقال کے بعد خسرو ملک لاہور کے تخت پر بیٹھا۔ وہ اعلی درجہ کا عیاش تھا اس لیے اس کے عہد حکومت میں ہرطرف ابتری پھیل گئی۔ غزنوی حکومت جو پہلے کمزور ہو چکی تھی، خسرو ملک اس کی مردہ لاش کو بس دّرے مار مار کر گھسیٹتا رہا۔ غوری خاندان کا ستارہ عروج …

مزید پڑھیں

خسرو شاہ بن بہرام شاہ

از منتخب التواریخ اپنے والد کے بعد تخت نشین ہوا، علاء الدین حسین بن حسن غوری اس کے مقابلے پر آیا۔ خسروشاہ نے بھاگ کر لاہور کا رخ کیا اور جب علاء الدین غزنی سے کامیاب ہوکر واپس آیا تو خسرو شاہ جوموقع کی تلاش میں لگا ہوا تھا فوج کشی کی اور غزنی پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔ جب قبیلہ …

مزید پڑھیں

سلطان بہرام شاہ مسعود بن ابراہیم

از منتخب التواریخ سلطان بہرام شاہ جب تخت پر بیٹھا تو حکیم سنائی اس کا مداح تھا۔ کلیلہ ودمنہ اور بہت سی دوسری کتابیں اس کے عہد حکومت میں احاطۂ تحریر میں آئیں۔ اس کی تخت نشینی کے روز سید حسن غزنوی نے جو قصیدہ کہا تھا اس کا مطلع ہے: ندائی بر آمد زہفت آسمان کہ بہرام شاہ است …

مزید پڑھیں

ارسلان شاہ بن مسعود بن ابراہیم بن سلطان مسعود

از منتخب التواریخ تخت نشین ہوتے ہی اس نے اپنے تمام بھائیوں کو گرفتار کرلیا، مگر بہرام شاہ بھاگ کر سلطان سنجر کے پاس چلا گیا جو اس کا خالہ زاد بھائی تھا۔ سلطان سنجر نے ہرچند سفارشی خطوط لکھے مگر ارسلان شاہ کے کان پر جوں تک نہ رینگی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سلطان سنجر نے مجبور …

مزید پڑھیں