سرفراز آرش کی غزلیں

تجربہ روز جسے اس کا نیا ہوتا ہے

پیڑ سے پوچھیے گا راستہ کیا ہوتا ہے

یاد کرتا ہوں تو یاد آتا ہے تم یاد ہی تھے

چابی ملتی ہے تو صندوق کھلا ہوتا ہے

آنکھ روتی ہے تو امید پنپ اٹھتی ہے

پت جھڑ آتا ہے تو یہ باغ ہرا ہوتا ہے

عمر بھر ڈھونڈتے رہیے گا سبب ہونے کا

ایسی رسی کا فقط ایک سرا ہوتا ہے

چاپلوسوں سے نہیں بنتی کہ کچھ وقت کے بعد

یہی قالین کہیں اور بچھا ہوتا ہے

کچھ کتابوں کو پڑھا جاتا ہے پڑھ کر ان میں

روشنائی کے علاوہ بھی لکھا ہوتا ہے

دو ہی ویرانے ملا کرتے ہیں وحشت کو یہاں

اک خدا ہوتا ہے اور ایک خلا ہوتا ہے

بانٹ دینے کی خوشی اپنی جگہ ہے لیکن

لطف تو وہ ہے جو ملنے پہ ملا ہوتا ہے

دن نکلتا ہے تو ہم رات پہ ہنس دیتے ہیں

شام ہوتی ہے تو سورج سے گلہ ہوتا ہے

فتح کرتا ہے وہ جب دل کی فصیلیں آرش

اس کا پرچم مرے پرچم سے بنا ہوتا ہے

Curly ornament line decoration - Transparent PNG & SVG vector file

نہ کوئی ممنوعہ دانہ کھانا نہ خوف دل میں اتارنا تھا

جو ہم نے پہلا گنہ کیا تھا کسی کی نقلیں اتارنا تھا

جدید دنیا میں آنے والوں کی پہلی مڈبھیڑ ہم سے ہوتی

ہمارے یونٹ کا کام ان کے بدن سے مہریں اتارنا تھا

خدا نہ ہوتا تو کاروان جہاں میں اپنی جگہ نہ بنتی

کہ ان دنوں میں ہمارا پیشہ سفر میں نظریں اتارنا تھا

شجر میں کشتی، گھٹا میں چہرے ہمی نے دیکھے کہ اپنا مصرف

فروغ کوزہ گری کی خاطر ورق پہ شکلیں اتارنا تھا

ہمارے لوگوں نے باہمی مشورے سے مل کر بجھا دیے تھے

وہ دیپ جن کے حسب نسب میں زمیں پہ صبحیں اتارنا تھا

ہماری گھڑیوں پہ شام ہونے میں، پانچ بجنے میں دن پڑے تھے

سو ہم کو چھٹی سے پہلے تیشے کو اپنے دل میں اتارنا تھا

کسی کے لہجے کی چاٹ ایسی لگی کہ اپنا شعار آرش

مکالمے کے جنوں میں خود پر اداس نظمیں اتارنا تھا

Curly ornament line decoration - Transparent PNG & SVG vector file

ہو بہو تیرا سراپہ ہے مگر تو نہیں ہے

رات کی رانی میں بس سانپ ہے،خوشبو نہیں ہے

غم دنیا کا ہنر ہے نظرانداز نہ کر

میرے ماتھے کی شکن ہے ترا ابرو نہیں ہے

پھول دیتی ہے ہوا دیتی ہے پھل دیتی ہے

پیڑ کی شاخ ہے یہ آپ کا بازو نہیں ہے

میرے ہاتھوں میں ترا ہاتھ ہے اور شعبدہ گر

ہنس رہے ہیں کہ مرے ہاتھ میں جادو نہیں ہے

اتنی سب لڑکیوں میں کوئی بھی سمجھی نہ مجھے

سب کی سب تتلیاں ہیں ایک بھی جگنو نہیں ہے

غم کہاں ہے یہ ندامت ہے کہ چہرے پہ ترے

تیرے ماتھے کی نمی ہے ترا آنسو نہیں ہے

پھر تو آزادی کوئی ذہنی خلل ہے آرش

بے لباسی میں بھی آزاد اگر تو نہیں ہے

Curly ornament line decoration - Transparent PNG & SVG vector file

اس انکسار کا ادراک تجھ کو کم ہو گا

مرے چراغ کی لو میں بھی تھوڑا نم ہو گا

لپک پڑوں گا میں تصویر سے تری جانب

یہ تیری سمت مرا آخری قدم ہو گا

گزشتہ رات مجھے سیڑھیوں میں یاد آیا

تری تھکن کا سبب بھی کسی کا غم ہو گا

نہیں تو دشت ہے وہ باغ سی گلی اس کی

بس اس کو دیکھنے والا ہی تازہ دم ہو گا

دراز قد جسے جھک جھک سلام کرتے ہیں

وہ جب اٹھے گا تو اس کی کمر میں خم ہو گا

میں زندگی میں کہیں ٹک کے بیٹھ پایا تو

سفر کروں گا , مرا ہم سفر قلم ہو گا

مری کہانی کبھی ختم ہونے والی نہیں

جہاں مروں گا وہیں سے مرا جنم ہو گا

میں خشک جھیل میں سہمی ہوئی نمی ہوں دوست

مرا مچھیروں کے گیتوں سے خوف کم ہو گا

سفر میں اس کو اگر پیڑ کم پڑے آرش

تو اس کا رستہ مرے راستے میں ضم ہو گا

Curly ornament line decoration - Transparent PNG & SVG vector file

سمے نہ کاٹنا جنگل شناس ہو جانا

سنبھل کے رینگنا خطرے میں گھاس ہو جانا

ہم ایسے ہی تھے سو اے بادباں ! ملول نہ ہو

ہمارے بعد کسی کا لباس ہو جانا

سمندر آپ بھنور سے نکال دے گا تمہیں

دعا نہ مانگنا تم بدحواس ہو جانا

وہ گل فروش ہنسے گی تو لوگ سمجھیں گے

گلاب ہونا کسی کا، کپاس ہو جانا

کنویں کو ڈھونڈنے جانا بھی تشنگی ہے بھلا؟

سراب دیکھنے جانا ہے پیاس ہو جانا

بچھڑ کے رونا اگر ہجر ہے تو یہ کیا ہے ؟

کسی کے دل میں کسی کا اداس ہو جانا

تمہارا ہو نہ سکوں تو کسی کا کر دینا

شراب بن نہ سکو تو گلاس ہو جانا

اس ایک شخص کو آتا ہے یہ ہنر آرش

خموش رہنا مگر اقتباس ہو جانا

Curly ornament line decoration - Transparent PNG & SVG vector file

اب تک جو جی چکا ہوں جنم گن رہا ہوں میں

دنیا سمجھ رہی ہے کہ غم گن رہا ہوں میں

اس کی طرف گیا ہوں گھڑی دیکھتا ہوا

اب واپسی پہ اپنے قدم گن رہا ہوں میں

متروک راستے میں لگا سنگ میل ہوں

آباد راستوں کے الم گن رہا ہوں میں

ٹیبل سے گر کے رات کو ٹوٹا ہے اک گلاس

بتی جلا کے اپنی رقم گن رہا ہوں میں

انگلی پہ گن رہا ہوں سبھی دوستوں کے نام

لیکن تمہارے نام پہ ہم گن رہا ہوں میں

کچھ عورتیں ہیں جنس کی تخصیص کے بغیر

کچھ چادریں ہیں جن کو علم گن رہا ہوں میں

آرش بھلا رہا ہوں کوئی یاد رفتگاں

اک بنچ ہے جو باغ میں کم گن رہا ہوں میں

Curly ornament line decoration - Transparent PNG & SVG vector file

About admin

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of