ناصر الدین سبکتگین

از منتخب التواریخ غزنی کے راستے ہی میں جب ماہ شعبان 387ھ 998/ء میں سبکتگین نے داعی حق کو لبیک کہا۔ اس سے قبل سبکتگین اپنے فرزند اسمٰعیل کو اپنا ولی عہد مقرر کرچکا تھا۔ جب اس بات کی خبرمحمود کو ملی تو انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو تعزیتی خط لکھا جس میں بطور مصالحت یہ تجویز بھی پیش …

مزید پڑھیں

ابراہیم بن مسعود بن محمود غزنوی

از منتخب التواریخ وہ ایک عادل، زاہد اور متقی بادشاہ تھا۔ ہر سال اپنے ہاتھ سے قرآن مجید لکھ کر مکہ معظمہ بھیجا کرتا۔ اس نے اپنے لیے کوئی محل سرا تعمیر نہیں کرایاتھا، سوائے ایک مسجد اور مدرسہ کے اور وہ بھی خدا کے لیے تھا۔ جب اُمور سلطنت کی ذمہ داری اس کے کندھوں پر پڑی تو اس …

مزید پڑھیں

سلطان فرخ زادبن مسعود بن محمود غزنوی

سلطان فرخ قید خانے سے رہائی کے بعد امراء کی رائے سے تخت نشین ہوا۔ جب سلجوقیوں کی ایک جماعت نے غزنی پر چڑھائی کی تو اس نے ان کی ایک کثیر تعداد کو قتل کرادیااور آخر ان پر غلبہ پالیا۔ جو سلجوقی گرفتار ہوئے انھیں غزنی بھجوا دیا۔ الپ ارسلان سلجوقی بادشاہ عراق اور خراسان سے فوج کشی کر …

مزید پڑھیں

سلطان عبدالرشید ابن محمود غزنوی

سلطان عبدالرشیدنے تخت نشین ہوتے ہی عبدالرزاق کے مشورے سے غزنی کا رخ کیا۔ علی ابن مسعود بغیر جنگ کیے بھاگ گیا اور طغرل حاجب جو سلطان محمود کا خانہ زاد غلام تھا سیستان فتح کرنے کے بعد غزنی کی جانب بڑھا۔ سلطان عبدالرشید نے ڈٹ کر مقابلہ کیا مگر 445ھ 1053/ء میں طغرل حاجب نے موقعہ پا کر اسے …

مزید پڑھیں

سلطان علی ابن مسعود ابن محمود غزنوی

اُمراء کی رائے سے وہ تخت نشین ہوا، مگر جب عبد الرزاق بن احمدمیمندی سیستان سے بسط اور اسفراز 42؎ کے درمیان قلعہ تک پہنچا اور اسے معلوم ہوا کہ سلطان مودود کے حکم سے اس قلعہ میں عبدالرشید ابن محمود قید ہے تو وہ اسے قیدخانے سے نکال لایا اور تخت سلطنت پر بیٹھا دیا۔ علی کی حکومت کو …

مزید پڑھیں

سلطان مسعود بن مودود بن مسعود بن محمود غزنوی

از منتخب التواریخ مسعود بن مودود صرف تین سال کا بچہ تھا مگر علی بن ربیع نے اپنی حکمت عملی سے اسے تخت پر بٹھایا، مگر یہ صورت حال زیادہ دنوں تک قائم نہ رہ سکی۔ اس کی حکومت کے قیام کو صرف پانچ ماہ ہوئے تھے کہ لوگوں نے اس کے چچا علی کو بادشاہ تسلیم کرلیا۔

مزید پڑھیں

سلطان مودود بن مسعود بن محمود غزنوی

از منتخب التواریخ بامیان میں اپنے باپ کے قتل کے بعد سلطان مودود وزیروں اور امیروں کی متفقہ رائے سے تخت نشین ہوا۔ باپ کے قتل کا انتقام لینے کے لیے اس نے ماریکلہ کی جانب کوچ کرنے کا ارادہ کیا مگر ابونصراحمد بن محمد بن عبد الصمد نے اسے اس کام سے باز رکھا اور غزنی سے لے گیا۔ …

مزید پڑھیں

سلطان محمد بن محمود غزنوی لقب جلال الدولہ

ازا منتخب التواریخ مذکورہ سن421ھ میں اپنے باپ کی وصیت کے مطابق اور اسی کے ایک رشتہ دار ابن ارسلان کی رائے سے غزنی میں تخت سلطنت پر جلوہ افروز ہوا۔ ابھی ڈیڑھ ماہ ہی گزرا تھا کہ امیر ایاز نے بعض دوسرے ملازمین کے ساتھ مل کر سازش کی اور وہ سب کے سب شاہی اصطبل کے گھوڑوں پر …

مزید پڑھیں

سلطان علاؤالدین مسعود شاہ بن رکن الدین فیروز شاہ

اپنے چچا سلطان ناصر الدین محمد اور سلطان جلال الدین جو نسب میں سلطان شمس الدین التمش سے تھے ان سب کی رائے سے وہ تخت نشین ہوا۔ اگر چہ و ہ اس وقت قید خانہ میں تھا مگر عزالدین بلبن کے بڑے بیٹے نے اپنی ایک روز کی تخت نشینی کے دوران ہی اس کی رہائی کا اعلان کردیا …

مزید پڑھیں

سلطان معزّ الدین بہرام بن شمس الدین التمش

از منتخب التواریخ سلطان رضیہ کے بعد سلطان معزّالدین بہرام تخت نشین ہوا اور دہلی پہنچا۔ اس وقت ملک اختیار الدین التونیہ حاکم تبرہندہ نے سلطان رضیہ کے ساتھ عقد کر کے تمام زمینداروں، جاٹوں اور کھوکھروں کی جماعت اور ان کے امراء میں سے چند ایک کو اپنا ہم نوا بنالیا تھا اور ان کی مدد اور اعانت سے …

مزید پڑھیں