نظمیں

اتفاقات از ن۔م راشد

ن۔م راشد کی نظم اتفاقات آج اس ساعتِ دزدیدہ و نایاب میں بھی، جسم ہے خواب سے لذت کشِ خمیازہ ترا تیرے مژگاں کے تلے نیند کی شبنم کا نزول جس سے دھُل جانے کو ہے غازہ ترا زندگی تیرے لیے رس بھرے خوابوں کا ہجوم زندگی میرے لیے کاوشِ بیداری ہے؛ اتفاقات کو دیکھ اس حسیں رات کو دیکھ …

مزید پڑھیں