مرکزی صفحہ » فکشن » افسانے (صفحہ 3)

افسانے

دھندلکوں کے پیچھے

لیکن اچھے دن تو بہت تیزی سے گزر جاتے ہیںنا۔ پھولوں کے موسم کی رنگین سی ہوا کے ایک ہلکے جھونکے کی طرح۔ جو آلوچے کی پتلی ٹہنیوں کو لہراتا ،پردوں کوہلاتااور بالوں کی لہریں الجھاتا ہوا دور سیب کے گھنے سایوں میں کھوجاتا ہے۔ سیب کی سفید کلیاں کھلتی ہیں اور دوپہر ڈھلتے زرد ہوکر زمین پر گرپڑتی ہیں۔ …

مزید پڑھیں

سنا ہے عالم بالا میں کوئی کیمیا گر تھا

پھر شام کا اندھیرا چھا گیا۔ کسی دور دراز کی سرزمین سے، نہ جانے کہاں سے میرے کانوں میں ایک دبی ہوئی سی، چھپی ہوئی آواز آہستہ آہستہ گا رہی تھی: چمک تارے سے مانگی‘ چاند سے داغِ جگر مانگا اڑائی تیرگی تھوڑی سی شب کی زلفِ برہم سے تڑپ بجلی سے پائی، حورسے پاکیزگی پائی حرارت لی نفس ہائے …

مزید پڑھیں

پرواز کے بعد

جیسے کہیں خواب میں جنجررا جرزیا ڈائنا ڈربن کی آواز میں’’ سان فرینڈ وویلی‘‘ کا نغمہ گایا جارہا ہو اورپھر ایک دم سے آنکھ کھل جائے۔ یعنی وہ کچھ ایسا سا تھا جیسے مائیکل اینجلو نے ایک تصویر کو مکمل کرتے کرتے اُکتا کر یوں ہی چھوڑ دیا ہو اور خود کسی زیادہ دلچسپ موڈل کی طرف متوجہ ہوگیا ہو، …

مزید پڑھیں

دیودار کے درخت

نیلے پتھروں کے درمیان سے گزرتی ہوئی جنگلی نہر کے خاموش پانی پر تیرتے ہوئے۔ دیو داروں کے سائے بیتے دنوں کی یاد کے دھندلکے میں کھوکے مٹتے جارہے ہیں۔ بھیگی بھیگی سرد ہوائیں چیڑھ کے نوکیلے پتوں میں سرسراتی ہوئی نکل جاتی ہیں اور دیوداروںکے جھنڈ کے پرے اس اونچی سی پہاڑی پر بنی ہوئی سرخ عمارت کی کھڑکیوں …

مزید پڑھیں

ستاروں سے آگے

کرتار سنگھ نے اونچی آواز میں ایک اور گیت شروع کردیا ۔ وہ بہت دیر سے وہی ایک ماہیا الاپ رہا تھا جس کو سنتے سنتے حمیدہ کرتار سنگھ کی پنکج جیسی تانوں سے، اس کی خوب صورت داڑھی سے، ساری کائنات سے اب اس شدت کے ساتھ بے زار ہوچکی تھی کہ اسے خوف ہوچلا تھا کہ کہیں وہ …

مزید پڑھیں

خوابوں کے محل

اور جب وہ کار سے اُتر کر میری طرف نظر کیے بغیر رومال سے ناک پونچھتا ہوا برآمدے کی سیڑھیوں پر چڑھنے لگا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ گذشتہ رات کالج کی اسٹیج پر اس کے ساتھ آسٹرین ڈچس کے لباس میں رقص کرتی ہوئی ایمیلی شاید میرا مذاق اڑا رہی تھی۔ ’’اپنے چھوٹے سے رومان کا رو پہلا …

مزید پڑھیں

ارادے

اتوار کی ایک معمولی سی دوپہر ۔ یعنی نہ کچھ زیادہ رنگین اور رومانوی اور نہ بالکل غیر دل چسپ___ ہم بے چاری لڑکیاں امرود کے ایک گھنے درخت کے نیچے قالین پر بیٹھی جمائیاں لے رہی تھیں۔ نیند تھی کہ خواہ مخواہ چلی آرہی تھی اور ایک دوسرے سے لڑنے کو دل چاہ رہا تھا۔ اب یہ میں کیوں …

مزید پڑھیں

یہ باتیں

قرۃالعین حیدر میرے دماغ میں اتنے بہت سے خیالات تیزی سے رقص کررہے ہیں __ یہ بے معنی اور بے سروپا باتیں __ نہ معلوم میرے چھوٹے سے سر میں اتنی ساری باتیں کیسے ٹھونس دی گئیں __  میرا بے چارہ چھوٹا سا سر  __ بالوں کی سیاہ لٹوں میں لپٹا ہوا  __  میرے سیاہ بال اور نیلی آنکھیں بہت …

مزید پڑھیں

انت بھئے رت بسنت میرو

قرۃالعین حیدر لکڑی کا چھوٹا سا سفید پھاٹک کھول کر ٹونی پنیزی کی کیاری میں کود آیا۔ چاروں اور پھول کھلے تھے۔ زمین میں ابھی پانی دیا گیا تھا۔ بھیگی ہوئی گھاس میں ٹونی کے چھوٹے چھوٹے فل بوٹ چمکنے لگے۔ چند کنکروں کو ادھر اُدھر ٹھوکر مار نے کے بعد اس نے فاتحانہ انداز سے ہرے رنگ کے پردوں …

مزید پڑھیں

ایک شام

ایک شام اوفّوہ بھئی…اللہ ۔ ممی اچھے تو ہیں ہم بالکل۔ ذرا یوں ہی ساسر میں درد ہوجانے کا مطلب یہ تھوڑا ہی ہے کہ اب ہمیں دودھ اوولٹین پینا پڑے گا۔ اور ممی گھبرائی ہوئی کمرے سے چلی گئیں۔ شاید ڈاکٹر کو فون کرنے۔ میں نے لیمپ کا رخ مسہری کی طرف کرکے آسکر وائلڈ کی ایک کتاب اٹھالی۔ …

مزید پڑھیں