مرکزی صفحہ » فکشن » افسانے

افسانے

انت بھئے رت بسنت میرو

قرۃالعین حیدر لکڑی کا چھوٹا سا سفید پھاٹک کھول کر ٹونی پنیزی کی کیاری میں کود آیا۔ چاروں اور پھول کھلے تھے۔ زمین میں ابھی پانی دیا گیا تھا۔ بھیگی ہوئی گھاس میں ٹونی کے چھوٹے چھوٹے فل بوٹ چمکنے لگے۔ چند کنکروں کو ادھر اُدھر ٹھوکر مار نے کے بعد اس نے فاتحانہ انداز سے ہرے رنگ کے پردوں …

مزید پڑھیں

آسماں بھی ہے ستم ایجاد کیا!

قرۃالعین حیدر جولائی ۴۴ء کی ایک ابر آلود سہ پہر جب وادیوں اور مکانوں کی سرخ چھتوں پر گہرا نیلا کہرا چھایا ہوا تھا اور پہاڑ کی چوٹیوں پر تیرتے ہوئے بادل برآمدوں کے شیشوں سے ٹکڑا رہے تھے۔ سوائے کے ایک لائونج میں‘ تاش کھیلنے والوں کے مجمع سے ذرا پرے ایک میز کے گرد وہ پانچوں چپ چاپ …

مزید پڑھیں

سر را ہے

قرۃالعین حیدر موسم گرما کے چاند کی کرنیں دور دور تک سفیداور بھوری چٹانوں پر بکھر گئی تھیں۔ اور ہواؤں میں رات کے پھولوں کی تیز مہک اڑ رہی تھی۔ اور دیواروں کے پرے ہوٹل کونٹی نینٹل میں شومین کا ’’ کارینول ‘‘ بج رہا تھا۔ اور چنار کے درختوں کے نیچے رسپنا کا نقرئی پانی نیلگوں سنگریزوں پر سے …

مزید پڑھیں

کیکٹس لینڈ

قرۃالعین حیدر اب خزاں بھی واپس جانے والی ہے۔ اور سفیدے کے جنگل پر ہریالی اتر رہی ہے اور جھیل کے پرلے کنارے تک پھیل آئے ہیں۔ اور جب سبزبانس کا جھنڈ پانی کی سطح پر جھک کر ہوا میں ڈولتا ہے تو چپکے سے رونے کو جی چاہتا ہے۔ سفیدے کا چھوٹا سا جنگل اس طرح چپ چاپ کھڑا …

مزید پڑھیں

جب طوفان گذر چکا

قرۃالعین حیدر تو کبوتر آسمانوں سے نیچے اترا۔ اور اس کی چونچ میں زیتون کی ایک سبز ڈالی تھی اور اس ڈالی کو دیکھ کر وہ سب زمین کی اس وادی میں پہنچے اور خدا وند خدا کی بزرگی کا نشان قائم کرنے کے لیے آس پاس کی پہاڑیوں کے نیلے بھورے پتھر جمع کرکے انہوں نے ایک عبادت گاہ …

مزید پڑھیں

برف باری سے پہلے

قرۃالعین حیدر ’’ آج رات تو یقینا برف پڑے گی‘‘۔ صاحب خانہ نے کہا ۔ سب آتش دان کے اور قریب ہو کے بیٹھ گئے۔ آتش دان پر رکھی ہوئی گھڑی اپنی متوازن یکسانیت کے ساتھ ٹک ٹک کرتی رہی۔ بلیاں کشنوں میں منہ دیئے اونگھ رہی تھیں‘ اور کبھی کبھی کسی آواز پر کان کھڑے کر کے کھانے کے …

مزید پڑھیں

میں نے لاکھوں کے بول سہے

قرۃالعین حیدر خالدہ توفیق درختوں کے جھرمٹ میں نمودار ہو کر سیدھی میری جانب چلی آرہی تھی۔ اس کے بال شانوں پر بکھرے پڑے تھے۔ جن میں اس نے زرد رنگ کے دو جنگلی پھول اڑس رکھے تھے۔ دور سے وہ شانتی  نکیتن کی کوئی بنگالی طالب علم معلوم ہو رہی تھی جو آمی کوشی موشی قسم کی باتیں کرتی …

مزید پڑھیں

پچھلے برسوں کی برف

قرۃالعین حیدر تاریک پلوں اور تار کے طویل ، پراسرار کھمبوں کے سلسلے کے پار، وہاں پر تنہا سائے لرزاں ہیں، میں وہیں جارہی ہوں۔ تم تو مجھے بالکل نہیںجانتے، ہم اس راستے پر سے پہلے کبھی نہیں گزرے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا، اس سڑک کے دونوں طرف اندھیرے ، یک منزلہ، سرخ چھتوں والے مکان کھڑے تھے ۔ …

مزید پڑھیں

شیشے کے گھر جو ٹوٹ گئے

قرۃالعین حیدر جب وہ پہلی بار وہاں گیا تو اس نے دیکھا تھا کہ ہر طرف آم کے باغ حد نظر تک پھیلے ہوئے تھے۔ اور ان کے درمیان سے گھاگھرا خاموشی سے بل کھاتی، لہراتی گزرتی تھی۔ اور ایک صاف شفاف کول تارکی چوڑی اور طویل سڑک تھی جس پر سے اکثر ٹن ٹن کرتے ایکے اور شورمچاتی لاریاں …

مزید پڑھیں

دوسرا کنارہ

قرۃالعین حیدر اندھیرا۔ بہت گہرا اندھیرا۔ خوابوں کا شہر، پرانے نغموں ، پرانی یادوں کاچھوٹاسا ویرانہ، اس پر اندھیرا چھا گیا۔ سارے ایک دوسرے سے مل کر روتے ہوئے آگے روانہ ہوگئے۔ تاریک راستوں پر سے گزرتے ہوئے ۔ سب امیدیں، سارے سپنے ان تاریک راستوں کے کنارے تھک کر گرپڑے۔ اور روحیں آئیں۔ تاریکی، وحشت اور ویرانی کی روحیں۔ …

مزید پڑھیں