مرکزی صفحہ » فکشن » افسانے » پچھلے برسوں کی برف

پچھلے برسوں کی برف

قرۃالعین حیدر

تاریک پلوں اور تار کے طویل ، پراسرار کھمبوں کے سلسلے کے پار، وہاں پر تنہا سائے لرزاں ہیں، میں وہیں جارہی ہوں۔ تم تو مجھے بالکل نہیںجانتے، ہم اس راستے پر سے پہلے کبھی نہیں گزرے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا، اس سڑک کے دونوں طرف اندھیرے ، یک منزلہ، سرخ چھتوں والے مکان کھڑے تھے ۔ کچھ میں دھیمی روشنی ہورہی تھی۔ ان میں رہنے والے بہت سے جاچکے تھے۔ بہت سے جارہے تھے۔ دور، دور تک کے سارے تاریک گوشوں کی سمت اور مکان خاموش کھڑے تھے۔ ہم اب آگے جارہے ہیں۔ تم چپ کیوں ہو، کیا جب بھی تم خوش ہو اس وقت وہ منظر تمہارے سامنے نہیں آجاتا جب ہم آگ کے سامنے بیٹھے تھے ۔ یا جب ہم ٹھنڈے پتھروں پر چپ چاپ ٹہلتے تھے ۔ رات کی ساعتیں اپنی اپنی جگہ پر ٹھہر گئی ہیں۔ رات کے بعض لمحات اتنے عجیب، ایسے مکمل، ایسے خاموش ہوتے ہیں اور اتنے پراسرار ، جب اندھیرے، ساکت اور مہیب لوہے کی چھتوں والے پلیٹ فارم میں گرجتا، دہکتا ہوا انجن اور سوتی ہوئی ، طویل بیمار ٹرین آدھی رات کو داخل ہوتی ہے، یا جیسے پچھلے پہر کی خاموش ، سنسان، اندھیری سڑکوں پر سے گزرتے ہوئے یک لخت بہت دور سے کوئی پٹرول لینے کا مقام نظر آتا ہے اور اس کے شیشوں میں سے نکلتی ہوئی ٹھنڈی، نیلی روشنی، اور اس کے چاروں طرف، فٹ پاتھ کے کنارے کنارے ٹھہرے ہوئے بارش کے پانی میں یہ دھندلی نیلی روشنی تیرا کرتی ہے اور آدھی رات کی گہرائی میں چند باتیں۔ کوپن دیجئے۔ کیا بجا ہوگا۔ تین بجا ہوگا۔ کہاں جائیے گا۔ وہاں۔ آداب عرض۔ بندگی ۔ وہاں وہاں۔ بہت سی پرانی چیزیں پیچھے چھٹتی جاتی ہیں۔ پرانے گھر ، پرانے ریشمیں پردے، قدیم چینی کے برتن، پرانی کتابیں،جس میں سے اگلے وقتوں کی مہک نکلتی تھی۔

یہ جگہ زندگی سے آگے ہے۔ یہاں پر صرف خوشبو ہے اور تنہائی ، اور رات کی گمبھیرتا۔ احساس یہاں پہنچ کر دم توڑ دیتا ہے۔ کیا یہ میں ہوں۔ کیا یہ میں ہوں۔ یہ سب کس لیے ہے۔ یہ دو۔ یہ دو۔ ہمیشہ ۔ ہرجگہ۔ ازلی، ابدی، یہ دو سائے۔ یہ گلاب کا شگوفہ دیکھو۔ یہ خوب صورت ہے۔ اس میں خوشبو ہے ، اسے دیکھ کر خوشی نہیں ہوتی؟ تیز روشن چائے خانوں میں گزارے ہوئے چند لمحے، اور یہ گلاب کے انبار__ تم سب مرگئے۔ آج میں نہیں ناچوں گی۔ سیاہ گوگلز لگائے، سرخ ہونٹوں، گھنگریالے بالوں اور سیاہ پتلونوں والی خوب صورت عورتیں برف کی سطح پر کودتے کودتے تھک گئیں۔ اور راتوں کی پراسرار گلیوں میں گھومنے والے آوارہ گرد خوابیدہ شہر کے ٹھنڈے کونوں کھدروں میں پڑ کر سوگئے۔ بے بی کنیز سوئے گی۔ مطمئن اور خوش۔ جس طرح میرا باپ ٹھنڈے، گیلے موسم میں، چار خانوں والا لباس پہن کر نپے تلے، متفکر، لیکن مطمئن قدم رکھتا ۔ گولف کھیلنے جاتا تھا۔

ان تاریک راہوں پر بھوت ٹہل رہے ہیں اور جس وقت ہم آگے جارہے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ پراسر ار محلوں کے ستون ایک دوسرے سے لپٹتے آگے پیچھے بھاگتے رہے۔ ہم ان پرانے محلوں کو پیچھے چھوڑ آئے۔ یہ آسمان کے نیچے ایک بہت بڑی اور پرفسوں وسعت ہے۔ اور یہ موسم گرما کی ہوا ہے، جس میں جانے کیا گھلا ہے۔ اس وقت سب سورہے ہوں گے اور جب چاند اوپر اٹھے گا تو وہ سب اس کے نیچے آجائیں گے۔ کیا تمہیں مجھے دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے؟ لیکن تم نے موت کو نہیں دیکھا، نرم ، گرم، سفید، صندلی، برائون ہاتھ جو گل دانوں میں بہار کے سرخ شگوفے سجاتے ہیں، وچتر وینا بجاتے ہیں، ریشمیں، آرام دہ چیزوں کو چھوتے ہیں۔ ان ہاتھوں کو ایک سیاہ بکس میں الگ الگ رکھ دیا جاتا ہے۔ پھر وہ پھولوں کو نہیں پکڑسکتے۔ وہ تصویریں بھی نہیں بنا پاتے، اور موسم گرما کی ہوا ان پر کوئی اثر کیے بغیر پھولوں کو سرسراتی ان کے اوپر سے روتی ہوئی گزرتی رہتی ہے۔ مجھے کدم اور سبز بانس کے جھنڈ میں دیکھ کر کاہے کے لیے اس قدر خوش ہو۔ کیونکہ کدم کی ڈالیاں، اور چمپا کے اونچے درخت اور یہ سب بہت ہی خوب صورت ہے ، اور اس لیے بہت جلد ختم ہوجائے گا۔ آئوآگے چلیں اور ان خود رو پھولوں کے پیچھے شاید ہمیں جنگل کی روحیں مل جائیں اور وہ انسان جو کبھی نہیں آتا۔

وقت بھاگتا جارہا ہے اور یہ سب بے حد ناکافی ہے۔ بے حد ناکافی ہے۔ تمہیں معلوم ہے کہ باہر کیا ہورہا تھا۔جب ہم اور تم آگ کے سامنے بیٹھے تھے۔ باہر دنیا کا خاتمہ ہورہا تھا اور خدا کے غیر ضروری انسانوں کی ان گنت قطاریں بے حد غیر ضروری طریقے سے دم توڑ رہی تھیں۔ کیا خدائے قدوس کے یہ ان گنت بدصورت ، غیر اہم ، احمق انسان یہ نہ چاہ سکتے تھے کہ ان سرخ ہونٹوں اور گھنگریالے بالوں والی حسین عورتوں کو قریب سے دیکھیں۔ یہ دیکھیں کہ ان کے اطلس کے لباس کیسے ہیں اور ان کے بال اور ان کی صندلی انگلیاں____ اور ان باغوں میں جائیں جہاں رات کے وقت میزیں درختوں کے نیچے رکھ دی جاتی ہیں۔اور قندیلیں ہوا میں جھولتی ہیں اور جازؔ کے باجے بجتے ہیں۔ مجھے اپنی روح بچانی ہے، اپنی روح بچانی ہے، میں نے بے حد فکرمندی کے ساتھ مقدس ماں سے کہا۔ انہوں نے عبادت گاہ کا دروازہ کھولا اور میں اندر گئی اور میں نے دیکھا کہ وہاں پر فرشتے قتل ہورہے تھے اور سحر زدہ چاند کے نیچے مرے ہوئے خدا کی صلیب دھندلکے میں شبنم آلود ستاروں کی طرح جھلملا رہی تھی۔ سینٹ کیتھرین، سینٹ این، سینٹ ایگنس، میں نے ان سب کو آواز دینی چاہی پھر میں نے خداوند کو پکارنے کی کوشش کی۔ لیکن اپریل کا مہینہ میرے دماغ میں گھس گیا اور میں نے باہر آکر اپنی آنکھیںبچوں کی طرح جلدی جلدی جھپکائیں اور اپنی روح کو پکڑنے اور اسے بچانے کے لیے اس کے پیچھے پیچھے بھاگی۔ اور میں نے اتنی بہت سی چیزیں دیکھیں، خوب صورت چھوٹی چھوٹی کشتیاں اور سفید بادبان ، اور سمندر کی نیلی لہروں میں تیرنے والے ہرے جزیرے جہاں سرخ پھل ہوتے ہیں اور یہ دیوانے ہجوم، سن شیڈز کے نیچے بیٹھے ہوئے لیموں اور سوڈا پینے والے فیشن ایبل لوگ، ان کے لمبے لمبے نارنجی کناروں والوںمہکتے ہوئے سگریٹ، شریف دولت مند لڑکیاں، ان کے نگراں چچا اور خالائیں اور فرانسیسی پوڈلزؔ۔ گھٹیا قسم کے دماغ اور تیسرے درجے کے ذہن۔ چھوٹے چھوٹے بند پیانو اور برف کی چٹانیں ، بوڑھے باپ، خوب صورت بیٹیاں ، حاسد بھائی اور احمق شوہر۔ ہمارے احاطے کے پچھواڑے سوئیٹ پی کی کیاریوں کے پرے والا وہ خیمہ جہاں جاڑوں کی ایک دوپہر ہم نے ’’مردہ عورتوں کا گیت پہلی بار پڑھا تھا اور سرخ ناکوں والے بدشکل انگریز بچے، زندگیوں کا یہ مستقل اجتماعی جھوٹ، طویل اکتائی ہوئی سڑکوں پر سے گزرتے ہوئے بدصورت ہجوم، ایسے چلچلاتے ہوئے منظر جنہیں دیکھ کر سر میں درد ہوتا ہے۔ لرزتی ڈگمگاتی آدھی اور تیزروشنیاں اورڈیرسوزی کارٹر، مختلف موسموں ، مختلف جگہوں اور مختلف دنوں میں ہمیں جو باتیں سنائی دیں اور جب میں واپس آئی تو تم لوگ سب کے سب جلدی جلدی عالم گیر سیاسیات پر بحث کر رہے تھے اور درختوں میں قمقمے روشن کیے جارہے تھے، رقص گاہوں کے مرمریں فرش کے نیلگوں اور شفاف سمندر پر سے تیر کرپرے نکلتے ہوئے میں نے شام کے تاریک کونوں میں چھپنے کی کوشش کی اور میں نے اپنے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ میں نے یہ سب تھوڑا ہی معلوم کرنا چاہا تھا، میں نے اسے دیکھا ، اس کے ہاتھوں میں گلاب کے شگوفے تھے جو اس نے بے حیائی میں آگ کے پاس سے اٹھا لیے تھے (کیا اسے پھول، بچے اور کتے پسند نہیں) اور اس کے بال بھیگے ہوئے تھے اس کے بال سرخ روشنی میں جگمگا رہے تھے، میں نے اس سے پوچھا کیا تمہیں یاد ہے۔‘‘ مردہ عورتوں کا گیت۔‘‘ جو ہم نے ایک بار جاڑوں کی دھوپ میں بیٹھ کر پڑھا تھا ۔ مردہ عورتوں کا گیت The Ballad of dead Wemen

Mais ou sont tes Mais ou’ sont tes neiges l’antan’?- neiges l’ antorn?

ہم آج کیا کریں، کل کیا کریں، ہمیشہ کیا کریں گے۔ ہم چلے جارہے ہیں اور رنگ برنگے چہرے ان سرخ ، تاریک پہاڑی کے دروازوں میں سے جھانک کر ہمیں دیکھتے ہیں اور ہوا چلتی رہتی ہے۔

آئو ہم سب سفید یا سیہ لبادے پہن کر کہیں چلیں اور کہیں کسی کونے میں چل کر بیٹھ جائیں۔ رات جب گھوںگھوں ہوا چلی تو میں نے اس سے کہا:

اور پھر وہ تینوں میرے سامنے آگئے۔ جھینگرؔ، روڈنیؔ، شیرؔر۔ اور پرم جیت سنگھ عرف ٹونوؔ۔

ان تینوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ۔ خیالات کا تسلسل کسی طرح بھی ان تینوں کی تصویریں لازم وملزوم طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ پیش نہیں کرسکتا۔ یہ تینوں میرے ’’بوائے فرینڈز‘‘ تھے۔ جھینگرؔ، روڈنی، شیریر اور پرم جیت سنگھ عرف ٹونو۔

اس راستے کے کنارے یاسمین کا ایک انبار پڑا تھا۔ یاسمین ، جسے دیکھ کر سب کچھ یاد آجاتا ہے۔ جسے دیکھ کر سب کچھ بھول جاتا ہے ۔ شام کے اندھیرے میں اس انبار کے پاس میری اپنا نیلا لبادہ پہنے بیٹھی تھی۔ اور اس کے چاروں طرف گھاس میں ستارہ ہائے سحری کی کلیاں کھل رہی تھیں۔ میں نے اس سے کہا۔ میں اس باغ میں آئی ہوں۔ میرے  ہاتھ میں پھولوں کا ایک تاج ہے، اور میں چھوٹے چھوٹے پراعتماد قدم رکھتی اس باغ میں داخل ہورہی ہوں ، تاکہ آج کے دن، اور اس سے اگلے دن، اور اس سے اگلے آنے والے تمام دنوں پر تم اپنا فضل کرو۔ اور میری موت کے گھنٹے میں میرے ساتھ رہو ، پھر میں نے خدا کو دیکھا جو اپنی تخلیق کردہ کائنات سے بہت علاحدہ اور بے پرواہ الگ تھلگ باغ کے ایک کنج میں گھسا بیٹھا تھااور اس کے آگے شمعیں جل رہی تھیں۔ میں نے اس سے کہا۔ اے میرے بہت پیارے خداوند، کیا میںویل پہن کر تمہارے قریب آئوں۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ اور اپنی خوب صورت اور بے نور آنکھوں سے مجھے دیکھتا رہا۔ میرا دل ٹوٹ گیا اور فضا کی خاموشی نے اپنی حماقت اور اپنے شدید سکوت کو بڑی تکلیف کے ساتھ محسوس کیا اور قربان گاہ کے ستونوں کے سائے ایک دوسرے سے لپٹ کر رونے لگے اور میں نے محسوس کیا کہ ہم زماں ومکاں کی اٹل قید سے آگے نہیں نکل سکتے۔ نہ اس کے پیچھے جاسکتے ہیں۔ میں نے مریم ؑسے کہا۔ دیکھو، یہ تمہارا باغ ہے جس میں اس وقت میںتنہاتمہارے پاس آئی ہوں تم مجھے اپنے ساتھ واپس لے چلو، جہاں سے تم آتی تھیں، جہاں سے تم نے اپنا ابدی سفر شروع کیا تھا، تمہیں اس سفر میں مکمل سکون اور مسرت کہیں نہ ملے گی۔ کیونکہ تم خدا کی تخلیق کرنے کے باوجودمحض ایک عورت ہو۔ یہ تینوں جانے کب سے چپکے چپکے میرے ساتھ آرہے ہیں۔ جھینگرؔ، روڈنی شیریرؔ، پرم جیت سنگھ عرف ٹونوؔ۔ یہ تینوں میرے بوائے فرینڈز۔ کیا تم نہیں جانتیں میری پیاری مادر خداوند، کہ جھینگرمرگیا۔ جھینگر برکھا کی کالی راتوں میں ہمیشہ زور، زور سے چلاتا ہے اور چلاتا چلاتا ایک دن مرجاتا ہے۔ اس کی زندگی اتنی مختصر ہوتی ہے ۔ جھینگر جو میرا بوائے فرینڈ تھا وہ بھی ’’بڑی بہیّا ‘‘ کے زمانے میں جانے کدھر سے بہتا بہتا آنکلا تھا۔ چھ سال کی عمر سے اس نے میرے باپ کی کوٹھی میں پنکھا کھینچنا شروع کیا تھا اور گیارہ سال کی عمر تک پہنچ کر وہ مرگیا۔ میں نے مریم سے کہا۔ ہم سب کی زندگی اور موت تمہارے ہاتھ میں ہے۔ تم نے روڈنی کو کیوں نہیں مارا۔ میرا دوسرا بوائے فرینڈ روڈنی شیریر۔ اس کی عمر بھی گیارہ سال کی ہے اور وہ روز شام کو شبیہ کے آگے جھک کر کہتا ہے۔ ہولی میری میرے لیے نجات کی دعا کرنا اور سب کی نہیں تو کم از کم اس گیارہ سالہ بچے کی نجات تو یقینا تمہارے ہاتھ میں ہے۔ جھینگر تو بالکل قنوطی تھا، یا رجعت پسند تھا، یا غالباً فسطائیت کا حامی تھا، برسوں وہ تیز گرمیوں اور جھلستی ہوئی لُو کی دوپہروں میں برآمدے میں بیٹھا حسن کے پنکھے کی رسی کھینچتا اور گلّی ہرائی ڈنڈا رووت ہے، ڈنڈے کی ماں روٹی پودت ہے۔‘‘ گاتا رہا اور گاتا گاتا ایک دن مرگیا۔ اسے انہوں نے مارڈالا جن کا اس نے کبھی کچھ نہ بگاڑا تھا ۔ کسی کا اس پر کوئی احسان نہ تھا، وہ محض ’’بڑی بہیّا‘‘ کے ساتھ جو ایک مرتبہ گومتی میں آئی تھی بہتا بہتا ہماری طرف آنکلا تھا۔ اس نے تم سے یا کسی اور خدا سے کبھی ، اپنی نجات کے لیے دعا نہیں مانگی۔ وہ یقینا رجعت پسند تھا، روڈنی قنوطی یا فسطائی نہیں ہے۔ اسے اپنے مستقبل سے بڑی خوش آئند امیدیں ہیں، اسے تم سے بھی بڑی محبت ہے۔ اب میری پیاری، رحم د ل مادر خداوند۔

زماں ومکاں کی اٹل قید سے میں نہیں نکل سکی، ورنہ اس وقت میں یہاں نہ ہوتی، میں اس خانقاہ میں ہوتی جس کے باغ میں یاسمین کے پھول کھلتے ہیں اور جہاں انسان کے بیٹے کے آگے چاندی کی شمعیں جلتی ہیں۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا، خانقاہ کی طویل بھوری عمارتوں میں خو ب تیز روشنی ہورہی تھی اور اوے ماریا کا مقدس نغمہ فضا سے بلند ہورہا تھا۔ اوے ماریا ۔اوے ماریا۔ اور میں نے اپنے آپ کو دس سال قبل کے اس طویل کمرے میں موجود پایا جس میں دونوں طرف چھوٹے چھوٹے سفید پلنگ بچھے ہوئے تھے۔

اور جہاں آتش دان میں شعلے لہک رہے تھے، اور وہ سب دعائے شب کے بعد سونے کی تیاریاں کر رہی تھیں، پھر یک لخت وہ چلائیں لڑکے____ !!! کھڑکیوں کے شیشے ایک لحظے کے لیے جھلملائے اور پھر بہت سے چھوٹے چھوٹے قدم ایک ساتھ کھڑکیوں پر سے نیچے باغ کے احاطے کی دیوار پر کود گئے۔ اندھیرا گہرا ہوگیا۔

پھر صبح ہوئی مادر مقدس نے سب سے پوچھا تم ان کو پہچان سکیں، جو رات کو دریچوں میں سے جھانکنے آئے تھے۔ ہاں ۔ نہیں ۔ وہ سب خاموش رہیں، وہ مقدس سیاہ پوش راہوں کی خانقاہ کے لڑکے تھے جو رات اپنی ہمسایہ خانقاہ کی لڑکیوں سے بے ضررسا پریکٹیکل قسم کا مذاق کرنے کے لیے آئے تھے اور چاہتے تھے کہ ان چھوٹی چھوٹی خرگوشیوں کو جو سیب کے درختوں کے اس جھنڈ میں رہتی ہیں، ڈرا دیں۔ ان سب کو مقدس راہبات کے سامنے بلایاگیا۔ تم ان میں سے کسی کو پہچان سکتی ہو؟ مادر مقدس نے مجھ سے پوچھا ہاں____ نہیں۔ میں چپ ہوگئی۔ سچائی اور دوستی میں جنگ چھڑگئی۔ وہ پندرہ سالہ نیلی آنکھوں والا شریر اور صحت مند لڑکا جو بڑا جمال میرے بھائی کا دوست اور ان سب کا رنگ لیڈر تھا۔ پرم  جیت سنگھ ۔ پرم جیت سنگھ عرف ٹونو۔ سنو۔ سنو بے بی کنیز، جمال نے چپکے سے مجھ سے کہا ۔ ہم تمہیں چوکولیٹ دیں گے۔ تمہیں شر لی ٹمپل کی نئی فلم دکھا لائیں گے۔ اور جو کہو گی کریں گے۔ لیکن تم خدا کے لیے ہمارے ریورنڈ بردر سے یہ نہ کہہ دینا ٹونو بھی اس گروپ میں شامل تھا۔ اسے بڑی سخت سزا ملے گی۔ اس کا آئندہ کیریر تباہ ہوجائے گا۔ اگلے سال اسے شہزادہ ویلز کے حربی مدرسے میں داخل ہونا ہے، اچھا میں نہیں بتائوں گی، میں نے جمال سے وعدہ کرلیا۔ ٹونو کو سزا نہیں ملی۔ اس کا کیریر بن گیا۔ سپاہی کا کیریر۔ ٹونو پندرہ سال کا رہا ہوگا جب اس نے ایک دفعہ مجھ سے کہا تھا۔

بے بی کنیز جب میں بڑا ہوجائوں گا نا تو ہم ان سفید فام چقندروں کو پکڑ کر باہر نکال دیں گے۔ تب میں اور جمال شہزادہ ویلز کے سپاہی نہیں کہلائیں گے، ہم اپنی قوم کے سپاہی ہوں گے۔ تب ہر بات کتنی اچھی لگا کرے گی____ وہ بڑا ہوا ۔ ہم سب اکٹھے بڑے ہوئے ۔

تب ایک سیاہ آندھی شمال مغرب سے اٹھی اور اس آندھی نے اس لہلہاتی وادی کو  جس میں یاسمین کے پھول کھلتے تھے اپنے دامن میں سمیٹ لیا اور سب کچھ اس میں جل کر بھسم ہوگیا۔ پھول، موسیقی، خوب صورتی، زندگی، محبت کے مقدس اور پاکیزہ رشتے ، سب کچھ ختم ہوگیا، صرف خون اور راکھ کے ڈھیر اوربے جان زندگیاں باقی رہ گئیں۔ اور سفید ہڈیاں، ان گنت سفید ہڈیاں، تب میں نے خوب صورت اور بے نور آنکھوں والے زندگی کے خدا سے کہا۔ تم انسان کے بیٹے ہو۔ تم نے یہ سب دیکھا، تم نے دیکھا کہ اس چھوٹے سے بے انتہا حقیر اور بے ضرر جھینگرؔ کو انہوں نے مار ڈالا کیونکہ وہ میرے باپ کی کوٹھی میں پنکھا کھینچتا تھا اور ٹونوؔ نے اپنے خوبصو رت جسم پر ہتھیار سجا لیے۔ اور روڈنیؔ اب بھی تمہاری رحم دل ماں کی شبیہ کے آگے جھک کر دعا مانگتا ہے کہ وہ ہم سب کو نجات دے۔ اور پھر میں خدا کے کنج سے باہر آئی۔ اور میں نے ٹونوؔ کو دیکھا، اس کے ہاتھوں میں ہتھیار تھے، اور اس کی نیلی آنکھوں میں نفرت تھی اور اس کے دل میں خوف اور دکھ تھا۔ ٹونو_____میں نے اسے یاد دلانا چاہا، تم کون ہو____؟ اس نے زندگی اور احساس سے عاری آواز میں پوچھا، میں بے بی کنیزؔ ہوں۔ میں نے اس سے کہا۔ تم بے بی کنیزؔ ہو۔ اس نے اسی طرح دہرایا۔ اور بے دھیانی میں اس کے ہتھیار جھنجھنا اٹھے۔ ان کی جھنکار کی آواز میں نے سنی، اور میں نے شام کے گہرے سرخ اندھیرے میں اسے آہستہ سے یاد دلایاہاں۔ میں بے بی کنیزؔ ہوں۔ جس نے تمہارا سپاہی کا کیریر بنانے میں تمہاری مدد کی تھی۔ کیا اب تم خوش نہیں ہو۔ تم جواب موت کے سپہ سالار بن چکے ہو۔ موت اتنی دل چسپ چیز ہے ! مجھے ہنسی آگئی، وہ خاموش رہا، پھر اس نے آہستہ آہستہ کہا۔ تم بے بی کنیزؔ ہو تم اب تک کس طرح زندہ ہو۔ تمہیں بھی ختم ہوجانا چاہئے تھا۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ ____کہ کٹی میری بہن کو انہوں نے ختم کردیا۔ پھر وہ چپ ہوگیا۔ اور اپنے ہتھیار اٹھاکر اندھیرے میں آگے بڑھ گیا۔ کچھ دور جاکر وہ دفعتاًرک گیا، اس نے ٹھہری ہوئی آواز میں آہستہ آہستہ کہا۔ جیسے وہ اپنے خدائوں سے مخاطب تھا۔ اس نے کہا۔ کٹی مرگئی، وہ بھی جوان اور خوب صورت اور مطمئن تھی اس کے سامنے بھی ایک زندگی تھی، ایک مستقبل تھا، ایک خدا تھا ۔ لیکن اس کو انہوں نے زندہ نہ رہنے دیا۔ وہ مرگئی____ ٹونو میں نے اسے پکارنا چاہا ، لیکن وہ آگے جاچکا تھا۔

اور غروب آفتاب کی آگ کے نیچے تنہا کھڑے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ میں بہت دکھی ہوں۔ اور روڈنیؔ نے کہا بے بی کنیزؔ تم کیوں روتی ہو، کیوں نہ روئوں اور کیا کروں؟ میں نے اس سے معصومیت سے پوچھا۔ ٹھہرو۔ میں خداوند خدا سے تمہارے لیے دعا کرتا ہوں ۔ اس نے کہا اور وہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے خانقاہ کے باغ میں لے آیا جیسے میں اس کی چھوٹی سی بہن تھی۔ اور وہ گیارہ سال کا روڈنی شیریر قربان گاہ کی سیڑھی پر کھڑا ہوگیا اور تحکمانہ انداز میں اس نے کہا: کہو____ خداوندا____ ! ہمارے ماضی میں ہماری امداد اور ہمارے مستقبل کے آنے والے دنوں کے لیے ہماری امید۔ آندھیوں اور پرشور طوفانوں سے بچنے کے لیے ہماری آخری جائے پناہ ، اور ہمارا ابدی گھر____ ’’آندھیوں اور پرشور طوفانوں سے بچنے کے لیے ہماری آخری جائے پناہ اور ہماراابدی گھر____‘‘ میں نے اس کی چھوٹی سی شیریں آواز کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ دہراناچاہا ۔ لیکن اس وقت مجھے ازلی اندھیارے میں گھومنے میں موت کے پیغامبر اور پہرے دار نظر آئے جن پر دورسمندر کے لائٹ ہائوس کی مدھم سرخ روشنی پڑ رہی تھی اور میں نے محسوس کیا کہ موت اتنی دل چسپ چیز نہیں۔ موت ان صندلی اور گرم ہاتھوں کو ٹھنڈا کردیتی ہے جو کدم کی چھائوں میں پھول چنتے ہیں اور وچتروینا بجاتے ہیں۔ کٹی کے صندلی اورخوب صورت ہاتھوں کو اس نے ٹھنڈا کردیا ہے ۔ اورجھینگر کے کالے کالے چھوٹے چھوٹے حقیر ہاتھوں کو بھی ۔ تب میں نے خانقاہ کے ایک خالی کمرے میں خود کو تنہا موجود پایا۔ لیکن میں مقدس باپ کے سامنے جھک کر اعتراف نہ کرسکی۔ دوسری منزل کی کھڑکی میں سے، جس کی روشنی نیچے باغ کے سرسراتے ہوئے درختوں کے پتوں پر لرزاں تھی، میں نے اپنے چاروں طرف دیکھا، اور مکمل امن وسکون کا شدید احساس میرے جسم پر رینگنے لگا۔ باغ میں آڑو اور چنار اور خوبانیوں کے درخت قطار اندر قطار اپنے مکمل حسن اور ترتیب کے ساتھ کھڑے رات کی ہوا میں سرسرار ہے تھے۔ جس طرح کے درخت کشمیر میں اسی طرح ہوا میں سرسرایا کرتے تھے ۔ کشمیر جس نے بریگیڈیر عثمان اور جانے کس کس کی جان لی۔ جہاں میرا پیارا چھوٹا بھائی جمال بریگیڈیئر عثمان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف لڑنے گیا تھا، میرا بھائی جمال جو ٹونوؔ کے ساتھ ایک قوم اور ملک کے خواب دیکھا کرتا تھا۔ میں نے چپکے سے اپنے دل میں اس سے پوچھا ۔ یہ ہتھیا راٹھاکر تم میں کیا بہادری آگئی، تم جب محاذ پر گئے، وہاں گولیاں چلیں ، سیلوٹ کے لیے ہاتھ اٹھے اور پھر کمزور ی سے گرگئے۔ نفرت ۔نفرت ۔ یہ آگ کے نیچے گرتے ہوئے ان گنت جانور ، محاذ کے دونوںطرف ان پر ہی ہوا چلتی ہے، ان پر ایک ہی رات سایہ کرتی ہے، خوابوں کی اندھیری وادی میں پہنچ کر یہ دونوں طرف کے انسان بالآخر مل جاتے ہیں۔ ان انسانوں کو ایک دوسرے کو مارنے کی آخر کیا ضرورت تھی۔ انسانی زندگی اتنی اہم اور بامعنی نہیں کہ اسے ختم کرنے کے لیے یہ سب جھنجھٹ کیا جاتا۔

اور چھوٹا سا ٹونوؔ جو بارہ سال پہلے میرا ’’بوائے فرینڈ‘‘ تھا۔ بیس سال تک ہمارے کنبے ایک دوسرے کو سگے رشتے داروں سے زیادہ عزیز سمجھتے رہے، لیکن اب کے سے اس آندھی کے ساتھ جوبڑی بہیّا آئی وہ اپنے ساتھ ان ساری رنگ برنگی راکھیوں کو بھی بہا لے گئی، جو ہر سال سلونوکے موقع پر ہم لوگ ایک دوسرے کو دیا کرتے تھے۔ اور اب پتہ نہیں ٹونوؔ کہاں ہے۔ پرم جیت سنگھ عرف ٹونو اگر تمہاری نظر سے یہ سطریں گزریں تو تم اپنے خدا سے دعا کرنا کہ تم آسانی سے مرسکو۔ اور وہ میری موت کے گھنٹے میں میرے ساتھ رہے۔ خدا جو کٹی کی موت کے گھنٹے میں اس کے ساتھ نہیں رہا۔

اور زندگی کی پریوں کی کہانی اسی طرح ختم ہوجاتی ہے۔ عقل مند وزیراعظم مرجاتا ہے۔ ولی عہد مرجاتا ہے ، خوب صورت شہزادی مرجاتی ہے، جس کی شادی خوب صورت شہزادے سے ہوئی تھی۔

اور وقت ہے کہ گزرتا جارہا ہے ۔ مرغ زاروںمیں، دریائوں کے کنارے۔ پہاڑوں کے سرخ چھتوں والے چھوٹے چھوٹے گھروں میں اور اب کرسیاں باہر لائی جارہی ہیں اور پتوں میں قمقمے روشن ہورہے ہیں، اور اب سب درختوں کے نیچے بیٹھیں گے۔ وقت گھٹتا جارہا ہے ، اور ہم تم گرتے پڑتے پیچھے ہٹ رہے ہیں، کوئی آخری سچائی ، اصلی تقدیس ہمارے سامنے نہیں ہے، کوئی مجسمہ، کوئی مکمل تصویر، رات کے آسمان کی آدھی اور نامکمل روشنیاں ڈگمگاتی لرزتی اور بھاگتی اس راستے پر اپنا عکس ڈال رہی ہیں ، جس پر سائے بھوتوں کی طرح چل رہے ہیں ، لمحات کے اس خالی پن کو میں نے محسوس کیا ہے۔ اس خاموشی کو جسے میں چھوبھی نہیں سکی، اور روتے ہوئے وقت کو۔

اور تب یاسمین کے باغ میں جاکر میں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور ان سب چیزوں کو محسوس کرنا چاہا، لیکن قربان گاہ کے سردپتھر کے علاوہ میرے ہاتھ میں اور کچھ نہ آیااور میں نے دیکھا کہ میری انگلیوں میں سرخ رنگ لگا تھا۔ میں نے اپنے ہونٹوں کو چھوا اور میری انگلیاں سرخ ہوگئیں۔ خون__ خدا کا خون__میں نے دیکھا اور میں چلاتی ہوئی باہر بھاگ آئی۔

اور اب جب کہ میری ساری امیدیں ختم ہوچکی ہیں ۔ روڈنی شیرر مقدس شبیہ کے آگے اب بھی جھکا ہوا نجات کی دعا کر رہا ہے ۔ مقدس مریم خدا کی ماں، مہربانی فرماکر ہم گنہگاروں کے لیے دعا کیجئے اور ہماری موت کے گھنٹے میں ہمارے ساتھ رہئے۔‘‘

ہماری موت کے گھنٹے میں۔ ہماری موت۔ کاش کچھ ایسا ہو کہ ہم سب کسی طرح چپکے بیٹھ سکیں۔ تم لوگ اتنا شور کیوں مچاتے ہو۔ دیکھو۔ یہ ہماری موت کا گھنٹہ ہے۔ ہماری موت کا گھنٹہ ہے۔ ہماری موت کا گھنٹہ۔ سنو۔ (ارے بھئی سنو تو سہی۔)

______________________________________________

یہ افسانہ ’’ساقی‘‘ نومبر۔ 1948 میں شائع ہوا تھا۔ کسی افسانوی مجموعے میں شامل نہیں ہے۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

انت بھئے رت بسنت میرو

قرۃالعین حیدر لکڑی کا چھوٹا سا سفید پھاٹک کھول کر ٹونی پنیزی کی کیاری میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے