مرکزی صفحہ » تاریخ » ناصر الدین محمود بن شمس الدین التمش

ناصر الدین محمود بن شمس الدین التمش

از منتخب التواریخ

644 ھ/ 1246ء میں تخت سلطنت پر جلوہ افروز ہوا۔ اس نے چھوٹے غیاث الدین جو غیاث الدین خورد کے نام سے مشہور تھا، کو اپنا وزیر بنایا جو وہ اس کے والد کا غلام اور داماد تھا۔ تخت نشینی کے وقت بے شمار تحفے سلطان ناصرالدین کی خدمت میں پیش کیے گیے اور شاعروں نے ان کی مدح میں اشعار پیش کیے۔ ان میں سے چند اشعار یہ ہیں:

آن خداوندی کہ حاتم بذل و رستم کوشش است

ناصِر دنیا و دین محمود بن التمش است

آن جہان داری کہ سقفِ چرخ در ایوان او

در علو مرتبت گوئی فرودین پوشش است

سکہّ زالقاب میمونش چہ انداز دستِ نو

خطبہ رازسم ہمایونش چومایہ نازش است

]وہ خداوند جس کا بذل حاتم جیسا اور اس کی سعی رستم مانند ہے وہ دنیا اور دین دونوں کے لیے ناصر (فتح کرنے والا) ہے، اس کا نام محمود بن التمش ہے۔

اس کے ایوان میں جو چھت ہے وہ جہاںداری کے آسمان جیسی ہے اس کی عظمت، بڑائی اور شان و شوکت کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ دین کی عظمت و شوکت و شکوہ کا پردہ ہے جس کے زیر سایہ دین کی عظمت و بزرگی قائم و دائم ہے۔

اس کی صفات کے بارے میں جو کچھ کہا جائے کم ہے کیونکہ اس کے محمود اور پاک القاب سکّے پر گڑھے ہوئے اور نقش ہیں اور جو نماز کے پہلے خطبہ دیا جاتا ہے وہ اس کے بیانات اور اس کی شاہی سے پُرہے جو مایۂ ناز ہے۔[

اس کے عدل و انصاف اور اخلاق حمیدہ کی یادگار کتاب’’ طبقات ناصری‘‘ ہے جو اس کے نام سے موسوم ہے۔ سلطان نے جمیع امور سلطنت غیاث الدین بلبن کے سپرد کر کے اسے’’الغ خانی‘‘ کے خطاب سے نوازا، ساتھ ہی اختیارات دے کر یہ تاکید کی کہ وہ کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے اسے اور سلطان کو شرمندگی اٹھانی پڑے۔ سلطان اپنے بیشتر اوقات حجرے میں بیٹھ کر خدا تعالیٰ کی عبادت میں صرف کرتا۔ اس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دربار عام میں خاکساری سے جاتااور بے حد سادہ لباس پہنتا، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اپنا گزارا قرآن مجید کی کتابت کی آمدنی سے کرتا۔ سلطان ناصرالدین محمودکے بارے میں اور بہت سی باتیں لوگوں کی زبانوں پرعام تھیں جن سے خلفائے راشدین کی یاد تازہ ہوتی تھی۔ چنانچہ ایک کتاب میں راقم الحروف ]مؤلف منتخب التواریخ مُلّا عبدالقادر بدایونی[ نے یہ پڑھا کہ ایک روز اس کی بیوی نے شکایت کی کہ اس کے پاس کوئی کنیز نہیں ،جس کی وجہ سے روٹی پکاتے پکاتے اس کے ہاتھ میں چھالے پڑ گیے ہیں۔ اس کے جواب میں سلطان نے روکر جواب دیا کہ دنیا فانی ہے کچھ دن اورصبر کرو۔ اللہ تعالیٰ کل قیامت کے دن ایک حور اس کے عوض میں عطا کرے گا۔اس وقت یہ ممکن نہیںہے کہ بیت المال سے کوئی کنیز خریدی جائے۔اس جواب کو سن کر سلطان کی بیوی مطمئن ہوگئی:

جہان خوابی است نزد چشم بیدار

بخوابی دل نبندد مرد ہشیار

]ہوشیار اور جاگتی آنکھوں کے لیے دنیا کسی خواب سے زیادہ کی حقیقت نہیں رکھتی۔ اس لیے تجھے چاہئے کہ اگر تو خود کو ہوشیار مرد سمجھتا ہے تو اس خواب سے دل مت لگا یعنی دنیا سے زیادہ تعلق قائم مت کر[

سلطان رجب ماہ میں فوج کے ساتھ ملتان کے لیے روانہ ہوا اور ماہ ذی قعدہ میں اس نے راوی ندی کو پار کیا۔ الغ خاں کو اپنے نائب کی حیثیت سے جود کی پہاڑیوں اور نندنہ کی مہم کے واسطے بھیجا اور خود سندھ ندی کے کنارے سکونت  اختیار کی۔

اسی دوران الغ خاں نے اس علاقے کے سرکشوںکی سرکوبی کی اور انھیں زیر کیا۔ اس نے کھو کھروںاور دوسرے شورش پسندوں کو بھی پامال کیا۔ اس کے بعد سلطان کے ساتھ آملا اور پھر دونوں ایک ساتھ دہلی واپس آگیے۔ 645 ھ/ 1247ء سلطان نے میوات کی مہم کا ارادہ کیا اور اسے جیتنے کے بعد دوآبہ 1؎کی جانب بڑھا۔ اسی سال الغ خاں کوکٹرہ کی حدود سے باغیوں کو نکالنے کے کام پر مامور کیا اور وہ بے شمار مال غنیمت لے کر دہلی لوٹا۔

646 ھ/ 1248 ء میںسلطان نے رنتھمبور کی جانب مہم چلائی اور اس علاقے کے باغیوں کو کچل کر واپس آیا۔ 647 / 1249 ء میں اس نے الغ خاں کی بیٹی سے نکاح کرلیا ۔

648 ھ/ 1250 ء میں اس نے ملتان پر چڑھائی کی۔ چند روز بعد جب ملک عزالدین یعنی بڑے بلبن جو ناگور کاحاکم تھا، نے بغاوت کی تو سلطان ادھر متوجہ ہوا۔ اس نے جان کی امان چاہی اور وہ پھر وفادار امراء کی فہرست میںشامل ہوگیا۔

649ھ/ 1251ء میں سلطان نے گوالیار، چندیری اور مالوہ کی جانب کوچ کیا۔ راجہ جاہر دیو پانچ ہزار سوار اور دو لاکھ پیادہ فوج کے ساتھ مقابلے کے لیے باہر نکلا مگر شکست کھائی اور نرور کا قلعہ فتح کر لیا۔ اسی سال شیرخاں جو ملتان کا حاکم تھا، عزالدین نے بڑے بلبن کے ساتھ مل کر ناگور ہوتے ہوئے اُچہ کا قلعہ فتح کرلیا۔ شیر خاں نے اسی قلعے میں سکونت اختیار کرلی مگر عزالدین (بڑابلبن) سلطان کی خدمت میں پہنچ گیا۔ سلطان نے اسے بدایوںکاحکمراں بنا دیا اورکشلو خاںکے لقب سے نوازا۔

650ھ/ 1252ء میں سلطان نے دہلی سے لاہور کاارادہ کیا، وہاںسے ملتان اور اُچہ کی جانب روانہ ہوا۔ اس سفرمیںکشلو خاں بیاہ ندی تک اس کے ساتھ تھا ۔

651ھ/ 1253ء میں سلطان دہلی سے کوچ کرکے تبر ھندہ، اُچہ اور ملتان پہنچا۔ یہ علاقہ شیرخاں کے ہاتھ سے نکل گیا تھا اور سندھی اس پر قابض تھے۔ اس نے دوبارہ اس پر قبضہ کیا پھراس کوارسلان خان کے حوالے کردیا اور خود دہلی لوٹ آیا۔

652 ھ/ 1254 ء میں سلطان نے بجنورکے پہاڑوں کے دامن میں لشکرجمع کیا اور جو الاپور کے پاس سے گنگا ندی پار کی۔ پھر پہاڑ کے دامن کے ساتھ چلتے چلتے رہاب ندی تک پہنچا۔ راستے میں جہاں کہیں بھی گیا کامیابی ملتی گئی اور عوام کی ایک کثیر تعداد کو گرفتارکیا پھر کٹھیر کی جانب بڑھا، وہاں سے بدایوں اور اودھ پہنچا اور اس کے بعد پایۂ تخت کو روانہ ہوا۔ ابھی زیادہ وقفہ نہیں گزرا ہوگا کہ اسے خبرملی بعض امراء مثلاً الغ خان اعظم، ارسلان خان وغیرہ جن کوسلطان کے پاس سلطان کے بھائی ملک جلال الدین کی حمایت حاصل تھی، ان سب نے مل کر مخالفت شروع کردی ہے۔ خبر ملتے ہی سلطان نے دہلی سے کوچ کیا مگر جب وہ تبرھندہ، کہرام اور کیتھل2 ؎ کے علاقہ میں پہنچا تو چند امراء کی مداخلت سے معاملہ رفع دفع ہوگیا۔ مخالفین صلح کے واسطے آمادہ ہوگیے۔ اور اُن سب نے قسمیں کھا کھا کر اپنے جان ومال کی سلامتی چاہی اور وعدہ کیاکہ وہ سلطان کے وفادار رہیںگے۔

653 ھ/ 1255 ء میں سلطان کامزاج اپنی والدہ ملکہ جہاں کی طرف سے کچھ بدل ساگیا۔ چنانچہ قتلغ خان کو جس کے حبالہ عقد میں ملکہ جہاں تھی کچھ جاگیر عطا کی اور چند روز بعد اسے وہاں سے بہرائچ بھیج دیا۔مگر بدلے ہوئے حالات کے پیش نظر وہ اتنا خائف تھا کہ بہرائچ میں زیادہ قیام نہ کر سکا اور سرمور کے پہاڑ کی جانب چلا گیا۔ جہاں ملک عزالدین، کشلو خان اوربعض دوسرے امراء نے اس کی ہمت افزائی کی، پھر سب نے مل کر بغاوت شروع کی۔ سلطان نے الغ خان کوایک بڑی فوج کے ساتھ ادھر بھیجا۔ جب فریقین ایک دوسرے کے قریب ہوئے تو شیخ الاسلام سیدقطب الدین، قاضی شمس الدین بہرائچی اور کچھ دوسرے امراء نے قتلغ خاں کو ہدایت دی کہ وہ دہلی پر دھاوا بول دیں اور اس پر قبضہ کرلیں۔ دہلی کے باشندوں نے بھی اس سلسلے میں اس کی حوصلہ افزائی کی۔ جب الغ خاں نے سلطان کو صورت حال سے آگاہ کیاتواس نے حکم دیا کہ جن لوگوں نے قتلع خاںکی حوصلہ افزائی کی ہے وہ جہاںکہیں بھی ہوںاپنی جگہ چھوڑ کرمنتشر ہوجائیں۔ قتلع خاں اور عزالدین کشلو خاں نے سوکروہ 3؎ کی مسافرت دو دن میں طے کی اور سامانہ سے دہلی پہنچے، مگر دہلی کی جس جماعت نے ان کو طلب کیا تھا اس کے آدمیوں کاکہیںنام ونشان بھی نہ ملا۔ یہ دیکھ کر دونوں کو بے حد افسوس ہوا اور انھوں نے الگ الگ راہ سے بھاگ جانا مناسب سمجھا۔ جدھر منھ اٹھا چل دیے۔ 4؎ مگر بعد میں الغ خاںسلطان کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔

655 ھ/ 1257 ء 5؎ میں سلطان نے دہلی کے چند اکابر و اعیان کو شہر سے باہر جانے کا حکم صادر کیا۔اسی سال کے آخر میں مغل اُچہ اور ملتان کی حدود میںداخل ہوئے۔ جب کہ عزالدین کشلو خاں ان کے ساتھ جنگ کرنے اور انھیں روکنے میں مصروف تھا۔ سلطان بھی تیزی سے آپہنچا ۔مغل ان دونوں کامقابلہ ایک ساتھ نہیں کر سکے۔ اس لیے وہ خراسان کی جانب لوٹ گیے۔ اس کے بعد سلطان نے بھی سکون کی سانس لی اور اپنے پایۂ تخت کی جانب لوٹ گیا اور ملک جلال الدین جانی کو خلعت عطا کرکے لکھنو تی بھیج دیا۔

656ھ/ 1258ء میں ترکستان سے کچھ ایلچی سلطان کے پاس آئے جنھیں سلطان نے بے شمار انعام وکرام کے ساتھ واپس بھیجا۔ اسی سال حضرت گنج شکر6؎ اصلح 7؎ اللہ اعلی ذکرہ کا وصال ہوا۔

658ھ/ 1260ء میں لکھنو تی سے بے شمار ہاتھی اور خزانے اور بے حساب جواہرات بطور تحفہ بھیجے گیے۔ اسی سال رجب کے مہینے میںملک عزالدین کشلو خاں بلبن کا انتقال ہو گیا اور اسی سال غوث العالم حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی قدس سرہٗ نے بھی خیمۂ وصال ذوالجلال عز شانہ کے جوار قدس میں انتقال کیا۔ ایک عزیز نے یہ مصرعۂ تاریخ کہا ہے:

زتیر عشق ربانی یکی زخمی، دیگر خون شد

]عشق ربّانی کے تیر سے ایک زخمی ہوا دوسرا خدا کو پیارا ہوگیا۔[

658ھ/ 1259ء میں سلطان ناصرالدین محمود نے میوات کے علاقوں کی مہم کی اور جب اِن پر وہ پوری طرح قابض ہوگیا تو 664ھ/ 1265ء میں بیمار ہوگیا اور دنیا کی رونق سے دورکنارہ کشی اختیار کرلی۔ اس کاکوئی وارث نہ تھا جو کہ تخت پر دعویٰ کرتا اور تخت کی عظمت آگے بڑھاتا۔ اس نے 19 سال3 ماہ اور چند روز حکومت کی۔ اس کی قبر دہلی میںہے، ہرسال اس کی قبر پر ایک بڑا اجتماع ہوتا ہے:

بیاد یک نظر اعتبار کن در خاک

کہ خاک تکیہ گہ خسروان معتبر است

]زمین پر ایک نظر سے اعتبار کرکیوں کہ شاہوںاور بزرگوںکے مزارات کی مٹی بھی اعتبار اور سند کامرتبہ رکھتی ہے۔[

اس جماعت میں سے جس نے عہد ناصری میں شاعری کاڈنکا بجایا اور ملک العلامی کے درجے پر پہنچا، ایک شاعر شمس الدین دبیر تھا جس کی جتنی تعریف کی جائے وہ اس کے شان میں کم ہوگی۔ امیر خسرو قدس اللہ سرئہ نے اپنے اشعار کامعیار اس کے کلیہ کو قرار دیا اوراس پر بے حد فخر و مباہات کیا۔ دیباچہ عزۃ الکمال اور اپنے کلام ہشت بہشت کے خاتمے پر انھوں نے شمس الدین دبیر کی خوبیوں کے ذکر اور اس کے اوصاف کے اظہار سے اپنی کتابوں کو سجایا اور سنوارا۔ سلطان غیاث الدین عرف چھوٹے بلبن نے جب کہ شمس الدین دبیر کی عمر کے آخری حصہ تھا، اسے بنگالہ اور کا مروپ کا منشی مقرر کرکے اپنے بڑے بیٹے نصیرالدین بغرا خاںکے پاس بھیج دیا تھا۔

ملک الملوک والکلام امیر فخر الدین عمید توکلی نے بھی قصیدہ میں لکھا ہے:

چو بردارد نگارم چند بند و زخم بر ناخن

زند ناہید را صد زخم غیرت بر جگر ناخن

جب کہ عمید کا ذکر درمیان میں آگیا جو جملہ ممالک ہند کا کنٹرولر تھا، تو یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کے کچھ اور نادرالوجود اشعار درج کیے جائیں، چنانچہ ذیل میں چند اشعار درج ہیں:

برخیز عمید ارنہ فرداست دل تو

بگزر زغزل حمد خداوند جہان گو

مداحی درگاہ خدا کن کہ برافراشت

بی زحمت آلات بسی گنبد مینو

دوشاہ روان کرد برین طارم ارزق

پس داد ز سیارہ شان فیل زہرسُو

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

معزالدین کیقباد

از منتخب التواریخ سلطان بلبن نے خسرو خان کو اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *