مرکزی صفحہ » تاریخ » ناصر الدین سبکتگین

ناصر الدین سبکتگین

از منتخب التواریخ

غزنی کے راستے ہی میں جب ماہ شعبان 387ھ 998/ء میں سبکتگین نے داعی حق کو لبیک کہا۔ اس سے قبل سبکتگین اپنے فرزند اسمٰعیل کو اپنا ولی عہد مقرر کرچکا تھا۔ جب اس بات کی خبرمحمود کو ملی تو انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو تعزیتی خط لکھا جس میں بطور مصالحت یہ تجویز بھی پیش کی کہ وہ غزنی کا علاقہ محمود کے حوالے کردے اور اس کے عوض بلخ کی گورنری قبول کرلے۔ اسمٰعیل نے اس سے صاف انکار کردیا، چنانچہ دونوں بھائیوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی۔ محمود کو فتح نصیب ہوئی اور اسمٰعیل چھ ماہ تک ضلع بدر رہا۔ آخر اس خاندان کے چند خیر خواہوں نے بیچ میں پڑ کر دونوں بھائیوں میں صلح کرادی۔ اسمٰعیل خود محمود کے پاس گیا اس کے بعد حکومت یمین الدولہ سلطان محمود کے ہاتھ آئی۔ اس اثناء میں سلطان محمود اور امیر منصور بن نوح سامانی اور اس کے بھائی عبدالملک بن نوح سامانی کے درمیان کشیدگی یہاں تک بڑھ گئی تھی کہ جنگ کی نوبت آگئی۔ عبدالملک کے ساتھی، امرائ،اور قائق بھی میدان جنگ میں اترآئے، مگر ان میں سے کوئی بھی سلطان محمود کے مقابلہ کی تاب نہ لاسکا۔ ہرایک نے شکست کھائی اور غزنی سے لے کر خراسان اور حدود ہندستان کی تمام سلطنت سلطان محمود کے قبضے میں آئی۔ چونکہ اس کی ماں رئیس زابل (قندھار) کی دختر تھی اس لیے اسے بھی محمود زابلی کہا جاتا ہے۔ چنانچہ فردوسی بھی شاہنامہ میں لکھتا ہے:

خجستہ درگہ محمود زابلی دریاست

چگونہ دریا کا نرا کنارہ پیدا نیست

شدم بدریا، غوطہ زدم، ندیدم دُر

گناہ بخت من است این گناہ دریانیست

حکومت کے ابتدائی ایام میں خلیفۂ بغداد القاضی باللہ عباسی اور سلطان محمود کے درمیان کسی وجہ کی بنا پر تلخ اور ناگوار خط و کتابت شروع ہو گئی۔ خلیفہ عباس نے اسے بڑی تدبیر سے ختم کیا۔ چنانچہ اس نے ایک خلعت فاخرہ اور دیگر بیش بہا تحائف و جواہر کے ساتھ سلطان محمود کے لیے بھیجے اور اُسے ’’امیر الملت یمین الدولہ کا خطاب عطا کیا۔‘‘ سلطان محمود 387ھ 997/ء میں غزنی سے بلخ اور ہرات پہنچا اور وہاں کے اختلافات حل کرنے کے بعد واپس غزنی آیا۔ اس کے بعد متعدد بار ہندستان پر چڑھائی کی اور چند قلعے فتح کیے۔ عسجدی نے انہی اطراف کے ایک سفر میں یہ قصیدہ لکھا تھا:

چون شاہ خسروان سفر سومنات کرد

کردارِ خویش را علم معجزات کرد

ماہ شوال 391ھ 1000/ء میں سلطان محمود نے غزنی سے ہندستان کا رخ کیا۔ اس کے ہمراہ دس ہزار سوار تھے۔ سب سے پہلے اس نے پشاور فتح کیا، پھر انہی حدود پر اس کا مقابلہ راجہ جے پال سے ہوا جو بے شمار سوار اور پیادہ لشکر اور تین سو ہاتھیوں کے ساتھ مقابلے میں آیا۔ دونوں طرف سے خوب داد شجاعت دی گئی مگر آخر کار سلطان محمود کو فتح نصیب ہوئی۔ راجہ جے پال اپنے پندرہ رشتہ داروں کے ساتھ گرفتار ہوا جن میں اس کے بھائی اور بیٹے بھی شامل تھے۔ اس معرکے میں پانچ ہزار لوگ جان بحق ہوئے اور مال غنیمت کی ایک کثیر مقدار فاتحین کے ہاتھ آئی۔ راجہ جے پال کے گلے کا ہار جس کی قیمت ایک لاکھ اسی ہزار دینار کے قریب تھی، اس کے علاوہ اس کے دوسرے رشتہ داروں کے گلے کے بیش قیمت ہار بھی اس میں شامل تھے۔ سلطان محمود کو یہ فتح بروز ہفتہ 8؍ محرم الحرام 392ھ مطابق 1001ء کونصیب ہوئی۔ یہاں سے وہ تبرہندہ 12؎کی جانب بڑھا، یہ مقام راجہ جے پال کی قیام گاہ تھی محمود نے اسے فتح کرلیا۔

اس کے بعد پھر ماہ محرّم 393ھ1002-03/ء میں وہ غزنی سے براہ سیستان عازم ہندستان ہوا اور ملتان کے نواح میں بہاتیہ 13؎جہاں کے راجہ بجے رائے نے، اس کی آمد کی خبر پاتے ہیں ڈرکے مارے اپنے آپ کو خنجر سے ہلاک کرلیا۔ اس کا سر سلطان محمود کے حضور میں پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوئی۔ سلطان محمود کو دو سو ستر ہاتھی مال غنیمت میں ہاتھ آئے۔ داؤدبن14؎ نصرملحد حاکم ملتان نے بھی خائف ہو کراطاعت قبول کر لی اور سالانہ بیس مرتبہ بیس بیس ہزار درہم تاوان دینے کا وعدہ کیا۔ سلطان محمود جس وقت ملتان کی جانب بڑھ رہا تھا تو راجہ جے پال کے بیٹے انند پال سے اس کی مڈ بھیڑ ہوئی تھی مگر جنگ کے بعد وہ کشمیر کی طرف بھاگ گیا۔ سلطان15؎ محمود اس کے بعد بہ راستہ ملتان16؎ پہنچا یہ واقعہ 396ھ؍1005-06 میں پیش آیا۔

اس کے اگلے ہی سال 397ھ؍1006-7میں سلطان محمود اور ماوراء النہر کے بادشاہ ایلک خان کے مابین جنگ ہوئی جس میں سلطان محمود غالب آیا اور403ھ؍1012ء میں ایلک خان کی وفات ہوگئی۔

398ھ؍1007ء میں سلطان محمود ترکستان میں داخل ہوا اور ترکوں کے جھگڑے سے فارغ ہوکر اس نے سندھ کے راجہ سکھ پال نورسہ شاہ کا تعاقب کیا۔ وہ گرفتار ہوا اور قید میں ہی مرگیا۔ یہ وہی راجہ سکھ پال تھا جس نے ایک بار اسلام قبول کرلیا تھا اور اسی بنا پر اسے ابو علی سجزی کی قید سے رہا بھی کیا گیا تھا مگر وہ دوبارہ اہل شرک وارتداد میں شامل ہوگیا۔

399ھ؍1008ء میں سلطان محمود نے پھر ہندستان کا رخ کیا اور راجہ انندپال کے ساتھ اس کی جنگ ہوئی جس میں راجہ انند پال ہار گیا اور بے حد و حساب مال غنیمت سلطان محمود کو ملا جسے وہ اپنے ساتھ لے کر قلعہ بھیم نگر17؎ میں فاتحانہ حیثیت سے داخل ہوا اور وہاں کے خزانوں اور دیگرقیمتی چیزوں پر قبضہ کرلیا۔ جو بھیم کے زمانہ سے مدفون اور محفوظ تھے۔ 400ھ؍1009ء میں اس نے حکم دیا کہ سونے اور چاندی کے وہ تمام تخت بے اندازہ دولت اور کثیر اموال غنیمت جسے وہ ہندستان سے لایا تھا دربار میں پیش کیے جائیں۔ چنانچہ سونے چاندی کے تخت دربار میں بچھائے گئے اور تمام مال ودولت کو اوپرنیچے رکھ کر اس کی نمائش سے اصل مقصدلوگوں کو مرعوب کرنا تھا۔

401ھ؍1010ء میں سلطان محمود نے پھر غزنی سے ملتان کا قصد کیا، اور اس علاقہ کے باقی ماندہ حصّے پر بھی قابض ہوگیا۔ اس نے یہاں کے بہت سے قرامطہ18؎ اور ملاحدہ کو بھی موت کے گھاٹ اُتارا اور جو بچ رہے انھیںقلعہ میں بند کردیا یہاں تک کے وہ مرگئے۔ داؤد بن نصر حاکم ملتان کو غزنی لے جا کر قلعہ غوری (غورک) میں مقید کردیا اور وہ اسی کے اندر مرگیا۔ 402ھ؍1011ء میں سلطان محمود نے تھانیسر کا عز م کیا اور راجہ جے پال ثانی پچاس ہاتھی اور دیگر اموال وتحائف بطور نذرانہ لے کر پیش ہوا مگر سلطان محمود نے اسے قبول نہ کیا۔اس لیے کہ تھانیسربتوں اور مندروں کی وجہ سے مشہور تھا اور سلطان محمود کے پیش نظر بھی (صرف بت شکنی) تھی اور وہ اسی مقصد سے یہاں آیا بھی تھا جس کی حفاظت کی خاطر بے شمار ہندوؤں نے اپنی جانیں دیں۔ سلطان محمود اس بت کو اٹھواکر غزنی لے گیا اور حکم دیا کہ اسے دربار کے آستانے پر رکھ دیا جائے تاکہ لوگ اس کے اوپر سے چل کر گزریں اور اسے پامال کریں۔ اس میں سے ایک بت چکر سوم نامی 19؎ تھا۔

403ھ؍1012ء میں سلطان محمود نے گرجستان فتح کیا۔ اسی سال ایک قاصد عزیز مصر کی طرف سے آیا اور جب سلطان کو معلوم ہوا کہ قاصد مذکور کا تعلق فرقہ باطنیہ سے ہے تو ذلت کے ساتھ اسے واپس کردیا۔

404ھ؍1013ء میں سلطان محمود نے شہر بندنہ 20؎ پر لشکر کشی کی۔ یہ شہر بال ناتھ کے پہاڑوں میں واقع تھا۔ راجہ جے پال ثانی نے کچھ فوج اس قلعہ کے دفاع کے لیے مقرر کی اور خود درۂ کشمیر کی جانب چلا گیا۔ چنانچہ سلطان محمود نے یہ قلعہ بڑی آسانی سے مسخر کرلیا اور اس کی نگرانی اور حفاظت کا کام ساریغ کوتوال کے سپرد کرکے خود راجہ جے پال ثانی کے تعاقب میں نکلا اس کوہستانی علاقے سے اس کے ہاتھ کثیر مال ودولت آیا، بے شمار دشمن تہ تیغ ہوئے اور ان کی ایک بہت بڑی تعداد مشرف بہ اسلام ہوئی اور کچھ کو قیدی بنا کر غزنی روانہ کیا گیا۔

406ھ؍1015ء میں سلطان محمود پھر کشمیر کی تسخیر کے لیے نکلا اور موہر کوٹ کے قلعہ کا محاصرہ کیا مگر جلد ہی اسے اس محاصرہ سے دست کش ہونا پڑا اس لیے کہ برف باری اور بارش کی زیادتی نے اسے پریشان کردیا تھا اور کشمیریوں کو پیچھے سے مسلسل کمک بھی پہنچ رہی تھی جس کی وجہ سے وہ اپنی پوزیشن پر مضبوطی سے ڈٹے رہے۔ غزنی واپس جا کر سلطان محمود نے اپنی ہمشیرہ کا عقد ابوالعباس شاہ ابن مامون خوارزم شاہ کے ساتھ کردیا اور اپنی ہمشیرہ کو اس کے پاس بھیج دیا۔

407ھ؍1016ء میں کچھ بدمعاشوں اور دیگر انتہا پسندوں نے مل کر سلطان محمود کے بہنوئی ابوالعباس شاہ کو قتل کردیا۔ جب سلطان محمود کو اس کی اطلاع ملی تو وہ غزنی سے بلخ اور پھر وہاں سے خوارزم پہنچا اور وہاں کے سپہ سالار سے اس کی خونریزی جنگ ہوئی جس میں سلطان محمود کو فتح ہوئی اور اس نے اس علاقہ کی حکومت پر التون تاش کو مقرر کیا اور اسے خوارزم شا ہ کا خطاب عطا کیا اس سے اس نے اپنے بہنوئی کے قاتلوں کی خبر لی اور ان کا صفایا کرکے غزنی واپس آگیا۔ 408ھ؍1017ء میں قنوج پر قبضہ کرنے کی غرض سے سلطان محمود غزنی سے روانہ ہوا اور ہندستان کے سات خوفناک دریاؤں کو عبور کرکے جب وہ قنوج پہنچا تو یہاں کے فرمانروا کورہ 21؎نے بلا چوں وچرا اطاعت قبول کرلی، تحفہ پیش کرنے اور جان کی بخشش کی اجازت مانگی۔ اس کے بعد سلطان محمود نے قلعہ برنہ22؎ کا رخ کیاجہاں کے حکمراں بروت نے جب یہ سنا تو قلعہ اپنے عزیزوں کے سپرد کرکے گوشہ نشین ہوگیا۔اہل قلعہ نے بھی جب یہ دیکھا کہ وہ مقابلہ کی تاب نہیں لاسکتے توڈیڑھ لاکھ روپیہ اور تیس ہاتھی بطور نذرانہ پیش کیے اور پناہ چاہی۔ یہاں سے دریائے جمنا کے کنارے کنارے قلعہ مہاون23؎ پہنچا۔ جہاں کے حاکم کلُ چندرکو جب اس بات کا علم ہواتو اس نے ہاتھی سواروں کو حکم دیا کہ وہ اسے دریاکے پار بھگا کرلے چلیں۔ اسی اثناء میں سلطان محمود بھی مع اپنے لشکر کے آپہنچا، خوف کے مارے کل چندرنے اپنی تلوار سے خود کشی کرلی   ؎ رفت بدوزخ ہم از آن راہ آب

زیستن چون بکام خصم بود

مُردن از زیستن بسی بہتر

قلعہ قنّوج سر کرتے وقت 85ہاتھی اور بے شمار مال غنیمت غازیوں کے ہاتھ آیا تھا۔ اس کے بعد سلطان محمود شہر متھرا کی جانب بڑھا۔ یہ شہر ہندوؤں کی پاک جگہوں میں سے ایک تھا ان کے مطابق یہ شہر کرشن بن بامن دیو کی جائے پیدائش تھی جسے ہندو خدا مان کر اس کی پرستش کرتے تھے۔ یہاں اتنے معبد (مندر) تھے کہ اسے کفر کی کان کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس شہر کو سلطان نے بغیر جنگ کیے پامال کیا اور بے شمار مال غنیمت اس کے ہاتھ آیا۔یہاں سونے کا ایک بُت بھی تھا جسے سلطان محمود کے حکم سے توڑ ڈالا گیا۔ اس بُت کا وزن 993مثقال اصلی سونا تھا اور یاقوت کا ایک ٹکڑا بھی اس میں ایک جگہ پیوست تھا جس کا وزن 450مثقال تھا۔ ایک کوہ پیکر ہاتھی جو ہندستان کے راجاؤں میں سے ایک راجہ گوبند چند کی ملکیت تھا۔سلطان محمودنے اس کی شہرت سُن رکھی تھی اور اس کے دل میں اس کو خریدنے کی تمناّ تھی مگر وہ کسی طرح پوری نہیںہوتی تھی۔ اسے حسن اتفاق کہیے کہ ایک دن وہی ہاتھی بغیر فیل بان خیمئہ شاہی میں داخل ہوا اسے دیکھ کر سلطان محمود کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی، چنانچہ اس نے اس کا نام اسی مناسبت سے خدا داد رکھا۔ اس یلغار کے بعد جب سلطان محمود غزنی پہنچا تو اس کے ساتھ 2 کروڑ 53 ہزار درہم اور ساڑھے تین سو سے زیادہ ہاتھی مال غنیمت کے طور پر تھے۔

410ھ؍1019ء میں سلطان پھر ہندستان پر حملہ آور ہوا اورکالنجر کے راجہ نندا سے دریائے جمنا کے کنارے اس کا سخت مقابلہ ہوا۔ راجہ نندا کے پاس 45000پیادہ فوج اور640 ہاتھی تھے اس نے راجہ قنوج کو بھی اس لیے قتل کردیا تھا کہ اس نے سلطان محمود کی اطاعت قبول کرلی تھی اور راجہ جے پال جو کئی بار سلطان محمود سے شکست کھا کر بھاگا تھا اس کی بھی مدد کی تھی مگر اتنے لاؤ لشکر کے باوجود سلطان محمود کی فوج کا مقابلہ نہ کرسکا اور ڈر کے مارے اپنا جملہ ساز و سامان چھوڑ کر چند خاص مصاحبوں کے ساتھ بھاگ نکلا۔ جب سلطان شہر میں داخل ہوا تو اسے شہرخالی ملا۔ فوج اور دیگر حفاظتی دستوں کا کہیں نام ونشان تک نہ تھا،  چنانچہ اسے خوب لوٹا۔ پھر اس کے بعد راجہ نندا کا تعاقب کرتے ہوئے جب عساکر سلطانی ایک جنگل میں پہنچی تو وہاں 580 ہاتھی اس کے ہاتھ آئے۔ سلطان محمود یہ تمام تر مال ودولت لے کر غزنی پہنچا۔ اس مہم میں اکثر بڑے شہروں پر محمود نے قبضہ کرلیا اور لوگوں نے اسلام مذہب کو دل کھول کر قبول کیا۔

412ھ؍1021ء میں سلطان محمود ایک بار پھر کشمیر پر حملہ آور ہوا اورایک ماہ تک اس نے قلعہ موہر کوٹ کامحاصرہ کیا مگر وہ اتنا مستحکم تھا کہ فتح نہ ہوسکا۔ سلطان محمود اسے چھوڑ کر لاہور کی جانب روانہ ہوا اور موسم بہار کے شروع ہوتے ہی غزنی لوٹ گیا۔

413ھ؍1022ء میں سلطان محمود نے پھر راجہ نندا کے علاقہ کا رخ کیا اور جب قلعہ گوالیار پہنچا تو بغیر کسی رکاوٹ کے وہ فتح ہو گیا اور وہاں کے حاکم سے نذرانہ قبول کرنے کے بعد سلطان محمود نے پھر اسی کو حاکم مقرر کیا۔ اس نذرانہ میں 35ہاتھی شامل تھے۔ یہاں سے کالنجرپہنچا جہاں کے حکمراں راجہ نندانے تین سو ہاتھی کی پیش کش کی اور جان کی امان مانگی۔ اس کے علاوہ راجہ نندانے ہندی زبان میں ایک قصیدہ بھی سلطان کی مدح میں بھجوایا۔ جسے سلطان اپنے ملک کے دانشور اور ہندستان کے دانشوروں کو سنایا۔ سب نے اسے بے حد پسند کیا اور سلطان محمود کو خود بھی اس پر فخر و ناز تھا چنانچہ اس کے صلے میں اس نے راجہ نندا کو پندرہ قلعوں کا حکمراں مقرر کردیا۔ راجہ نندا نے بھی سلطان محمود کے حضور بے حساب زر مال اور جواہر ہدیہ بھیجے۔ اس مہم سے سلطان خوشی خوشی غزنی واپس پہنچا۔

414ھ؍1023ء میں سلطان محمود نے اپنی عساکر قاہرہ کا اور ان لشکروں کا جو اطراف میں متعین تھے محاسبہ کیا تویہ سب 54ہزار سوار اور تیرہ سو ہاتھی احاطۂ تحریر میں آئے۔

415ھ؍1024ء میں سلطان محمود بلخ پہنچا۔جب اس نے دریائے جیحون پارکیا تو ماوراء النہر کے سردار اس کے استقبال کو آئے اور یوسف قدرخان جو پورے ترکستان کا حکمراں تھا وہ بھی آیا اور سلطان محمود کی ملاقات سے فیض یاب ہوا۔ ایک محفل جشن آراستہ کی گئی اور دونوں نے آپس میں ایک دوسرے کو تحفے اور نذرانے پیش کیے۔ علی تگین کے ہاتھوں ماوراء النہر کے عوام سخت پریشان تھے۔ جب اسے سلطان محمود کے آنے کی خبر ملی تو وہ بھاگ کھڑا ہوا مگر تعاقب کر کے اسے گرفتار کرلیا گیا اور ہندستان کے ایک قلعہ میں بند کردیا گیا۔اس کے بعد سلطان محمود واپس غزنی پہنچا اور موسم سرما وہیں گزارا۔

سلطان محمود نے ایک بار پھر سومنات کی جانب لشکر کشی کی۔ سومنات بحرہند کے کنارے ایک بڑا شہر ہے جہاںبرہمنوں کا معبد ہے۔ ان کا معبود ایک بہت بڑا بُت ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے سونے کے بت ہیں۔ اگر چہ بعض مورخوں نے اس بڑے بت کا نام منات لکھا ہے اور اس کے بارے میں یہ خیال آرائی بھی کی ہے کہ یہ ویساہی بت ہے جیسا کہ مشرکین عرب حضرت محمدؐ کے عہد رسالت میں ہندستان کے ساحل پر لائے تھے۔ مگریہ بات ہمارے نزدیک بے بنیاد ہے اس لیے کہ ہندستان کے برہمنوں کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ یہ بت کرشن کے وقت سے اسی جگہ موجود ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسے چارہزار سال کے قریب ہوچکے ہیں اور اس کا نام بھی ہندی زبان میں سوبھا 24؎ناتھ یعنی خالق حسن ہے۔ اس غلطی کی وجہ غالبا یہ ہے کہ ان دونوں ناموں میں کافی مشابہت ہے۔ اس مہم میں سلطان محمود نے پہلے پتن25؎ فتح کیا جو نہروالہ کے نام سے مشہور ہے اور گجرات میں واقع ہے۔ جہاں سے خاصا سامان رسد لے کر وہ سومنات پہنچا۔ اس کے پہنچتے ہی اہل قلعہ نے دروازہ بند کردیا جس کی پاداش میں قلعہ مفتوح ہونے پر ان کو سخت خمیازہ برداشت کرنا پڑا۔اس بڑے بُت کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے غزنی بھیجے گئے جہاں انھیں جامع مسجد کے دوروازے پر رکھ دیا گیا اورلوگ آتے جاتے اسے پامال کرنے لگے۔ واپسی کے وقت بیرم دیو سلطان محمود کی راہ میں حائل ہوا۔ اس کا شمار ہندستان کے بڑے حکمرانوں (راجاؤں) میں ہوتا تھا مگر سلطان محمود نے مصلحتاً اس سے جنگ کرنا مناسب نہیں سمجھا اور راستہ بدل کر سندھ کی جانب چلا اور ملتان پہنچا۔ یہاں خوراک اور پانی کی قلت کے باعث فوج کو بڑی تکلیف اٹھانی پڑی۔ جس کی وجہ سے قیام کیے بغیر وہ واپس غزنی چلا گیا۔

417ھ؍1026ء میں خلیفہ القادر باللہ نے نامہ نیابت کے ساتھ حکومت خراسان، ہندستان، نیمروز اور خوارزم کا عَلَم (جھنڈا) بھی سلطان محمود کو بھیجا اور اس کے بھائیوں اور فرزندوں کو مختلف خطابات سے نوازا۔ سلطان محمود کو ’’کہف الدولہ والاسلام‘‘ اس کے فرزنداکبر امیر مسعود کو شہاب الدولہ وجمال الملّت اور چھوٹے بھائی امیر محمد کو جلال الدولہ اور امیر یوسف کو عضدالدولہ وغیرہ کے خطابات عنایت فرمائے۔ اسی سال ملتان کے جاٹوں نے سر اٹھا یا تو انکی سرکوبی کے لیے سلطان محمود نے ملتان پر چڑھائی کی۔ جاٹوں کے پاس چار ہزار کشتیاں تھیں اور بعض کے مطابق ان کی تعداد آٹھ ہزار تھی۔ ان کشتیوں میں جاٹ فوج کے اہل و عیال بھی تھے۔ عین دریا میں گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ جاٹوں کی بہت سی کشتیاں غرقاب ہوگئیں اور جو لوگ بچ گیے وہ سب تلوار کا لقمہ بنے۔ جاٹوں کے اہل وعیال گرفتار ہوئے۔ اس شکست کی وجہ یہ تھی کہ ایک تو سلطان محمود کی کشتیوں کی تعداد مقابلتاً زیادہ تھی دوسرے اس نے لڑائی بڑی حکمت عملی سے لڑی۔ اس لڑائی سے سلطان محمود مظفر ومنصور غزنی لوٹا۔

418ھ1027/ء میں وہ بادرد کی جانب روانہ ہوا اور اس شہر کے ترکوں کا قلعہ برباد کرنے کے بعد رَے پہنچا اور اس علاقہ کے خزانوں اور دیگر قیمتی چیزوں پر قبضہ کرلیا اور چھوٹے چھوٹے مذاہب کو جڑسے اکھاڑ پھینکا۔ اس کے بعد وہ اصفہان کو اپنے بیٹے اکبر امیر مسعود کے سپرد کرکے غزنی واپس چلا گیا جہاں اس نے ابھی زیادہ دن قیام نہیں کیا تھا کہ مرض دق میں مبتلا ہوگیا، روز بروز کمزور ہوتا گیا تاہم اپنے آپ کو تندرست اور طاقتور ظاہر کرنے کو کوشش کرتا۔ مرض کی حالت میں وہ بلخ بھی گیا اور موسم بہار میں وہ وہاں سے واپس آیا مگر اس مرتبہ اس کا پیمانۂ عمر لبریز ہو چکاتھا اور آخر کار بروز منگل23؍ ربیع الاول 421ھ1030/ء کو وفات پائی اور غزنی میں دفن ہوا۔ اس کی عمر 60سال تھی اس نے 31سال تک حکومت کی۔ کہتے ہیں کہ جب سلطان محمود نزع کی حالت میں تھا تو اس نے حکم دیا کہ خزانے کے تمام مال ودولت اور تحائف و نوادر اس کے سامنے لائے جائیں چنانچہ اس کی تعمیل کی گئی اور اس نے جملہ املاک کی طرف باربار حسرت بھری نظروں سے دیکھا اورآہیں بھرتا رہا مگر ایک چھدام بھی کسی کو دینے کے لیے نہ کہا۔ سلطان محمود نے بارہ مرتبہ ہندستان پر چڑھائی کی اور ہر مرتبہ وہ بے پناہ دولت کے ساتھ لوٹا۔ انما صبابہ عند ربہ اور فردوسی کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا مشہور خاص وعام، چنانچہ عارف جامی لکھتا ہے :

خوش است قدر شناسی کہ چون خمیدہ سپر

سہام حادثہ را کرد عاقبت طوسی

گزشت شوکت محمود ودر زمانہ نماند

جزاین فسانہ کہ نشناخت قدر فردوسی

تذکرۂ محمد عوفی میں بھی یہ اشعار سلطان محمود سے منسوب ہیں:

زبیم تیغ جہان گیرد گرز قلعہ کشاء

جہان مسخّر من شد چومن مسخّر رائی

گہی بفرد بدولت ھمی نشستم شاد

گہی بحرص ھمی رفتی زجائی بجائی

گہی تفاخری کردم کہ من کسی ھستم

کنون برابری بینم ھمی امیرو گدائی

ہزار قلعہ کشادم بیک اشارت دست

بی مصاف شکستم بیک فشردن پائی

چو مرگ تاختن آورد ھیچ سوُد نداشت

بقابقائی خدای است وملک ملک خدائی

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

معزالدین کیقباد

از منتخب التواریخ سلطان بلبن نے خسرو خان کو اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے