مرکزی صفحہ » فکشن » افسانے » میری گلی میں ایک پردیسی

میری گلی میں ایک پردیسی

قہہ قہہ قہہ خی خی خی۔ کھٹ کھٹ کھٹ ۔ پٹ پٹ ۔ آخ خو خی خی …کیا کہنے ہیں میرے شیر۔ ملائوہاتھ ۔ کمال کرگئے یار۔ ہاہ ہاہ ہاہ، اونا معقول لڑکی، پانی پلائو ہمیں، کیا کہا؟ شام کو سنیما میں جگہیں ریزرو کرادوں؟ ارے جب تک ہمارے سوٹ پر استری نہیں کروگی سنیما کیا تمہیں توبندر کا تماشا بھی نہیں دکھایاجائے گا۔ لائوجی کتنے پوائنٹ بنے___ کوئن میں نے لی ہے مولوی صاحب___ اپنی اپنی قسمت کی بات ہے۔ بھائی جان___ آخا___ خو___

میں نے تنگ آکر گیلری کا دروازہ اندر سے بند کردیا۔ جب سے چلّو بھائی رخصت پر گھر آئے تھے دن بھر اسی طرح شور مچتا رہتا تھا۔ ہر وقت برج، کیرم اودھم دھماچوکڑی۔ ایک منٹ بھی چین نہ ملتا تھا۔ میں نے سوچ لیا تھا کہ اگلے ہفتے سے خالہ بیگم کے یہاں چلی جائوں گی۔ کچھ تو پڑھائی کا موقع ملے گا۔ چلّو بھائی کا کیا ہے کسی نہ کسی بہانہ سے چھٹی لے کر پھر آن موجود ہوں گے مگر مجھے ان سے قطعی اتنازبردست عشق نہیں کہ ان کی وجہ سے اپنا وقت برباد کروں۔ امتحان میں صرف پندرہ دن رہ گئے تھے۔

مُلّو کے کمرے میں نہایت زور شور سے کیرم ہورہا تھا ۔ کرسیاں گھسیٹی جارہی تھیں۔ ساتھ ساتھ گراموفون بھی بج رہا تھا۔ اور گلّو اور ٹائینی گلا پھاڑ پھاڑ کر ’’والگا بوٹ مین کا گیت‘‘ الاپ رہے تھے۔ میں نے بہت کوشش کی کہ سامنے کھلی ہوئی کتاب میں دھیان لگائے رکھوں۔ مسہری کے سرہانے والے دریچے پر نیلے اور سفید پھولوں کی ڈالیاں جھکی ہوئی تھیں۔انھیں دیکھ کر مجھے معاً یاد آیا کہ بہار کا موسم کب کا شروع ہوچکا ہے۔ لیکن بہار اور شفتالو کی کلیوں کا خیال دل سے نکالتے ہوئے میں نے پھر کتاب اٹھالی۔ ہوا کے ایک دبیز سے جھونکے سے گیلری کا دروازہ دوبارہ کھل گیا۔ کاہلی کی وجہ سے جی نہ چاہا کہ اٹھ کر اسے بند کردوں۔ باہر زردگلاب کی جھاڑیوں میں شہد کی مکھیاں بہت مصروفیت سے بھنبھنارہی تھیں اور بہت دور آلو چے کے درختوں کے نیچے نہر کا پانی پتھروں سے ٹکراتا ہوا جھیل میں گر رہا تھا__ خاموش اور پرسکون زندگی بعض مرتبہ کیسی نعمت معلوم ہونے لگتی ہے۔

برابر والے کمرے میں اسی طرح غل غپاڑہ مچ رہا تھا۔ چلّوبھائی کے گرج دار قہقہے، نشو کی باریک سی پیاری آواز ۔ ٹائینی کے بے سرے گیت۔

ہاہاہا۔ لو مسٹرگلّو۔ کیا یاد کروگے۔ بی نشو ایک عشق بازی تو ہوگئی مکمل (Love Game کاترجمہ خالص اردو بولنے کی غرض سے عشق بازی کیا گیا تھا) بھئی بورڈ اتنا کھردرا ہورہا ہے پھر آپ جیسے بے ایمانوں سے کیسے جیتیں۔ کیوں ہورہا ہے بورڈ کھردرا___ ساری فرنچ چاک تو لے کے گرادی آپ نے واہ___ لے آئونا وہی اپنا پائوڈر جو سفید سفید روز اپنے منھ پر لگاتی ہو۔ اب پارٹنر بدلوجی۔ یہ قطعی قانون کے خلاف ہے۔ مستورات ایک طرف اور ہم لوگ ایک طرف، لیکن تمام مستورات یہاں موجود بھی تو نہیں___ ارے رانی کہاں ہے؟ اپنے کمرے میں بے چاری پڑھ رہی ہے۔ یہ کیانامعقول حرکت ہے اس کی، شریف آدمی ایسے اچھے موسم میں کہیں پڑھا کرتے ہیں۔ لائو اسے پکڑ کر___‘‘

یا اللہ اب میری آفت آئی اور دوسرے لمحے چلّو بھائی دریچے میں سے اندر کو د آئے۔ میں نے جلدی سے پلنگ پوش اوڑھ کر آنکھیں بند کرلیں۔ وہ گرج کر بولے۔

’’اولڑکی تم کو پلنگ پوش سمیت اٹھاکر جھیل میں پھینک دیا جائے گا۔ ورنہ اٹھو شریفوں کی طرح سے___‘‘

’’خدا کے لیے چلو بھائی۔ مجھے آج ہسٹری کا سارا کورس دہراکر ختم کرنا ہے ۔‘‘ میں نے التجاکی۔

’’ہش!کھڑی ہوجائوفوراً۔ ورنہ گیا تمہارا پائوڈر کا ڈبہ! فرنچ چاک ختم ہوچکی ہے۔‘‘ اور سچ مچ یہ چلو بھائی میرا بہترین ’’کوٹی ‘‘ کا ڈبہ اٹھاکر دریچے کی طرف مڑے۔ گویا دروازوں کے بجائے عام طور پر کھڑکیاں ہی آمدورفت کا صحیح ومناسب راستہ ہیں۔

ہائے اللہ میرے بہترین چلو بھیا۔ اچھا میں چلتی ہوں۔ لیکن میرا یہ پائوڈر رکھ دیجئے۔ اب تو پانچ روپے میں بھی نہیں ملتایہ‘‘۔

’’اچھا اگر تم آج شام کو آئس کریم بناکر کھلائو تو پائوڈر بھی واپس اور ایک مزے کی بات بھی بتائیں۔ آم کی آئس کریم ہو بھئی ایسے ٹھاٹ کی بات ہے کہ بس سن کر تمہاری طبیعت خوش ہوجائے گی۔‘‘ انھوں نے ڈبہ سنگھارمیز پر رکھتے ہوئے کہا۔

’’فرمائیے‘‘۔ میں نے بُرا سا منھ بناکر دوبارہ پلنگ پوش اوڑھتے ہوئے کہا۔

’’ہیں ہیں۔ پھر وہی حرکت___ ارے ہم تم سے شادی کررہے ہیں___ سنا‘‘۔

یہ مجھے پہلے ہی معلوم ہوچکا تھا۔ لیکن میں نے تکلفاً ذرا بننے کی کوشش کی۔ ‘‘آق قی قی۔ یہ کیوں۔ قی قی قی۔ کس قدر گندی بات___ توبہ توبہ ‘‘۔ دریچے میں جاکر میں نے زور سے تھوکا آئس کریم ہی تو کھلائی جائے گی آپ کو۔ اللہ کرے آپ کو کرنل کا بھوت پکڑ کر لے جائے___ خی خی خو___ ‘‘ میرے منھ کا مزا اب تک ٹھیک نہیں ہوا___ اوق___‘‘

’’کرنل تو تم جیسی خودسر لڑکیوں کو پکڑ تا ہے۔ شادی بیاہ کے معاملوں میں کیسی پٹاپٹ بول رہی ہو۔ ارے ذرا تو شرمایا ہوتا اچھا چلو کیرم کھیلنے ورنہ کرتا ہوں شادی اگلے ہی مہینے۔ امتحان بھی نہیں دے پائوگی‘‘۔

یہ بات میں نے مان لی اور ہم دونوں دریچے میں سے باہرکود کر ملو کے کمرے میں داخل ہوگئے۔ شہد کی مکھیاں اسی طرح بھنبھنائے جارہی تھیں اور لالہ کے پھول دھوپ میں سرجھکائے کھرے اونگھ رہے تھے۔

چلو بھائی کی رخصت ختم ہوگئی اور اس کے کچھ عرصہ بعد ہمارے امتحانات بھی۔ جون کے خاموش اورغیر دل چسپ دن۔ کسی بات میں دل نہیں لگتا تھا۔ گرمیوں کی سست اور طویل دوپہر میں سبزبانس کی لمبی لمبی شاخیں جھیل کے اوپر جھولتی رہتیں۔ نرم نرم ہوا کی لپٹوں کے ساتھ دور سے بھنوروں اور سبز چمک دار مکھیوں کی تیز بھنبھناہٹ کی آوازیں تیرتی ہوئی آتیں اور گھنے پتوں میں چھپی ہوئی سرخ سرخ لیچیاں ٹپ ٹپ گھاس پر گرنے لگتیں۔ آلوچے اور نارنگی کی ڈالیوں کے سائے میں بہتے ہوئے پانی کے ہلکے ہلکے شور سے نیند آنے لگتی تھی۔ کیسا برا موسم تھا۔

یونی ورسٹی بند ہونے سے ایک روز قبل ہم سب ایک گھنے سرو کے نیچے بیٹھے دنیا جہان کے مسائل حل کررہے تھے۔ کہ اگر سچ مچ میکس فکٹرلپ اسٹک کا بھی راشن ہو گیا تو کیا ہوگا۔ مایاؔ کیوں اب وکٹر کے بجائے ایڈمنڈ کے ساتھ روشن آرا میں نظر آتی ہے اور اس کااثر اب مالینی پر کیا پڑے گا۔ وغیرہ۔ اتنے میں ہمارے سروں پر سے ایک امریکن بمبار گڑگڑاتا ہوا گزرا۔ اس کے انجن کے شور نے ہمیں متوجہ کرلیا۔ ویسے بھی ہوائی جہاز ہے مزے کی چیز ۔ خصوصاً جب اسے کوئی خوب صورت ساپائلٹ اڑا رہا ہو۔ خیر تو وہ طیارہ تو دور پہاڑیوں کے پیچھے قرمزی بادلوں میں غائب ہوکر نظروں سے اوجھل ہوگیا اور ہم سب زیادہ دل چسپ قسم کی بکواس میں مشغول ہوگئے۔ ‘‘ بے چارے ختم بھی تو ہوجاتے ہیںاتنی جلدی‘‘۔ مالینی نے گھاس کا ایک تنکا توڑ کر کہا۔’’نیوی والے بھئی نسبتاً زیادہ محفوظ ہوتے ہیں۔ اور اسمارٹ کے اسمارٹ۔ ‘‘ شاہدہ نے اس سلسلے میں اپنی معلومات سے ہمیں مستفید فرمایا۔

’’ہونھ کیا ٹسٹ ہے آپ کا۔ ہر بندرگاہ میں تو ان کی ایک دوست موجود ہوتی ہے‘‘۔ ایلا کچھ عرصے سے آر۔ اے ایف کے کینٹین میں کام کرنے لگی تھی۔ بہت دیر تک اس مضمون پر بحث ہوتی رہی۔

’’چج چچ۔ کس قدر سطحی ہو تم لوگ__ہر وقت یہی باتیں۔‘‘ رفیعہ انتہائی۔ بے زاری کے ساتھ بولیں ۔ وہ اب تک چپ چاپ بیٹھی آسمانوں کو تک رہی تھیں۔

’’جی آپ کے خیالات اور فلسفے کی گہرائی اندازاً کے ہزار فٹ ہوگی۔ ‘‘ میں نے ذرا تیزی سے پوچھا۔ اور اس وقت کیا ہم راجہ جی  ؎۱ کے فارمولا پر بحث کرتے ؟ تھوڑی دیر میں قرمزی بادل پہلے اودی اور پھر سرمئی رنگت اختیار کرکے سارے آسمان پر چھاگئے اور بوندیں پڑنے لگیں۔ ہم سب ایک دوسرے کو جلدی جلدی خدا حافظ کہہ کر سائیکلوں کے شیڈ کی طرف بھاگے۔ بارش تیزی سے ہونے لگی۔

دوسرے دن بھی صبح سے ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی۔ چائے پینے کے بعد مجھے یاد آیا کہ ایلانے چند کتابیں منگوائی تھیںجو ڈرائنگ روم کے شیلف کے نچلے خانے میں بہت دنوں سے پڑی ہوئی تھیں۔ اسی وقت ایلا کا نوکر بھی آگیا۔ اور جب میں وہ کتابیں لینے کے لیے

۱؎  راج گوپال اچاریہ

ڈرائنگ روم کی طرف جانے لگی تو اس کے آدھے کھلے ہوئے دروازے میں سے ایک صاحب آرام کرسی پر دراز بڑے ٹھاٹھ سے اخبار پڑھتے نظر آئے۔ شاید گلو تھا۔ قریب جاکر یہ پتہ چلا کہ کوئی اور بزرگوار ہیں۔ میرے قدموں کی چاپ سن کر انھوں نے بڑی بے اعتنائی سے اخبار سامنے سے ہٹایا اور ازراہ کرم اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس انداز سے گویا مجھ پر بڑی مہربانی کر رہے ہیں۔ مجھے کمرے میں آکر ان کے آرام میں مخل ہونا ہی نہ چاہئے تھا۔

’’آئیے آئیے بیٹھئے۔ تشریف رکھیے۔ ‘‘انھوں نے اس طرح کہا جیسے یہ ان کا گھر ہے اور میں ان سے ملنے آئی ہوں۔ میں بغیر جواب دیئے شیلف کی طرف مڑگئی۔ نہ جان نہ پہچان۔ غصہ آنے کی بات ہی تھی۔

’’کہئے، کیسے پرچے کیے آپ نے ؟‘‘ پیچھے سے آواز آئی۔

’’یااللہ یہ کیسا عجیب انسان ہے‘‘۔ میں الماری پر جھک کر بڑی مصروفیت سے ایک ایسی کتاب تلاش کرنے لگی جو مجھے معلوم تھا کہ وہاں موجود نہیں ہے۔ اخبار کے کاغذوں کی کھرکھراہٹ برابر جاری تھی۔

’’موسم خاصہ پرلطف ہورہا ہے۔ کیاخیال ہے آپ کا۔‘‘

میں نے اب بھی کوئی جواب نہ دیا۔ کیسا بدتمیز آدمی ہے ایک تو بغیر اجازت کمرے میں آگھسا اور اب بکواس کیے چلا جارہا ہے اپنی مصروفیات ظاہر کرنے کے لیے بہت ساری کتابیں اٹھاکر میں جلدی سے گیلری کی طر ف بڑھی۔ آرام کرسی پر بیٹھتے ہوئے اس نے پھر کہا۔ذرا یہ دریچہ کیا نام اس کا بند کرتی جائیے۔ مجھے بڑے زور کا زکام ہورہا ہے‘‘۔ یہ کہہ کر اس نے ایک زوردار چھینک لی مجھے غصہ کے باوجود بے اختیار ہنسی آگئی اور میں نے مڑ کے دریچہ بند کردیا۔ واقعی ہوا بہت تیز تھی اور اس کے ساتھ نارنگی کی کلیوں کی لپٹیں اندر آرہی تھیں۔

’’اگر Mistol لاویں تو اور بھی عنایت ہوگی۔ شکر ہے کہ آپ کو ہنسی تو آگئی۔ مجھے تو فکر ہوگئی تھی کہ اگر میزبانوں کے مزاج کا یہی عالم رہا تو میں بے چارہ اس بارش میں اب اور کہا جائوں گا‘‘۔

’’میں تیزی سے کمرے کے باہر نکل گئی۔ پیچھے سے اس نے ذرا اونچی آواز میں کہا’’ اگر قہوہ یا چائے منگوالیجئے تو بھی مضائقہ نہیں۔ عام طور پر ایسے پیارے موسم میں قہوہ سب سے اچھا لگتا ہے۔‘‘

’’یہ ڈرائنگ روم میں کون گدھا بیٹھاہے۔؟‘‘ میں نے جو پہلا ملازم سامنے پڑا اس سے تقریبا ً چلاکر پوچھا۔

’’رانی بی بی پھاٹک تو بند ہے ۔ گدھا کیسے اندر آگیا۔‘‘مجید برتن صاف کر رہا تھا۔ میرے غصہ کی تیزی دیکھ کر گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ سے پلیٹیں چھوٹتے چھوٹتے رہ گئیں۔

’’ارے بھئی۔ تم نے کسی کو خبر کیوں نہیں کی کہ کوئی ملنے آیا ہے۔ جائو پوچھ کے آئو آپ کس سے ملنا چاہتے ہیں اور کہہ دینا کوئی گھر پر نہیں ہے‘‘۔

اپنے کمرے میں پہنچ کر یاد آیا کہ اس زبردستی کے مہمان گدھے نے حالانکہ وہ گدھا قطعی نہ تھا۔ بالکل ٹائرن پاور کا ہم شکل تھا؟ بے چارہ مِسٹو۱ل کی فرمائش کی تھی۔ سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کروں۔آخر میں غسل خانے میں جاکر بلاوجہ ہاتھ منھ دھونے لگی۔ تھوڑی دیر بعد باہر سے ٹائینی اور ملو کے قہقہوں کی آواز آئی۔ خدا کا شکر ، لیکن اب ٹائینی قہوہ تیار کرنے کا حکم چلائے گا۔ میں چپکے سے غسل خانہ سے نکل کر ایلا کے گھر چلی گئی۔ نشو نپٹتی رہے گی اپنے آپ ۔

اور رات کو بہت دیر تک نیند ہی نہ آئی۔ ناشپاتیوں کے باغ کے باہر سڑک پر کوئی خالی تانگہ گزر رہا تھا۔ اس کے گھوڑے کی ٹاپوں اور گھنٹیوں کی گونج خاموش اور بھیگی بھیگی فضا میں لرزتی رہی۔ میں نے روشنی بجھاکر آنکھیں بند کرلیں۔ جیسے کہیں بہت دور خوابوں کی وادی میں چاند کی کرنوں سے بنے ہوئے راستے پر سے گزرتے ہوئے سیاہ آنکھوں والے ہسپانوی خانہ بدوشوں کے کارواں کی نقرئی گھنٹیاں ایک ساتھ بج رہی ہوں ۔ باہر سیاہ آسمان پر چھوٹے چھوٹے ستارے تیزی سے چمک رہے تھے اور جھیل کے کنارے بانس کی سبزگھاس میں چھپا ہوا کوئی بوڑھا جھینگر تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد چلا اٹھتا تھا۔ ستارے بھی روز چمکتے تھے اور بوڑھا جھینگر بھی ہمیشہ یوںہی چیخا کرتا تھا۔ لیکن آج یہ چیزیں کچھ بہت خاص اور اچھی اچھی یا شاید بری بری سی معلوم ہورہی تھیں ۔ میں نے سونے کی بہت کوشش کی لیکن ستاروں کی بستی میں چاند ی کی وہ ننھی منی گھنٹیاں پھر بجنے لگیں۔ستارے اورشیفوںکے اڑتے ہوئے نقاب سمر قند وبخارا۔ ڈان جوان قرطبہ کا قاضی___ مسٹول کی شیشیاں۔ چاکلیٹ، شفتالو کے پھول___ اورچلوبھائی بہت دوردھندلکے میں کھوگئے۔

 صبح کو کھانے کے کمرے کی کھٹ پٹ نے جب جگایا تو دن کافی چڑھ گیا تھا ۔ سورج کتب خانے کی چمنی تک پہنچ چکا تھا اور بھورے پروں والی چڑیوں نے جھیل میں نہاکر فراغت پالی تھی۔ کھانے کے کمرے میں پلیٹوں، چھری کانٹوں اور چمچوں کے شور میں ملی جلی بہت سی آوازیں گونج رہی تھیں، امی کے احکام، آپا کی بچوں پر ڈانٹ ڈپٹ۔ ، ملو، گلو اور ٹائینی اور نشو کی ہنسی، لیکن آج روز کے اس خوش گوار سے شوروغل میں ایک نئے اور غیر مانوس سے قہقہے کا بھی اضافہ ہوگیا تھا۔ مجید کئی دفعہ جگانے کے لیے آچکا تھا۔ مجبوراً اٹھنا پڑا۔ منھ دھونے میں بہت دیر لگانے کے بعد کھانے کے کمرے میں گئی جہاں دودھ اوراولٹین ، زبردستی ٹھونسنا پڑتا تھا۔

’’پھاٹک تو بند تھا رانی بی بی ، لیکن گدھا کھانے کے کمرے تک میں کیسے گھس آیا۔؟ ‘‘ کمرے میں داخل ہوتے ہی نیلوفر کے پھولوں کے پیچھے سے کسی نے کہا۔

ایک زوردار قہقہہ پڑا۔ میں نے گھبراکر میز کے دوسری طرف دیکھا۔ ایک توتھا ہی ٹائرن پاور۔ اس وقت شیشوں میں سے چھنتی ہوئی دھوپ میں اور بھی زیادہ ٹائرن پاور لگ رہا تھا۔

’’می چی‘‘۔ ملو نے تعارف کرایا۔

’’بہت خوشی ہوئی آپ سے مل کر___‘‘ اور امی کی نظر بچا کے ٹی کوزی کے آڑ میں سے میں اس کااچھی طرح جائزہ لینے لگی۔

’’یہ بے چاری چائے دانی اتفاق سے شفاف نہیں ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنے سامنے سے چائے دانی ہٹا دی۔ اتنے میں ٹائینی اخبار لے کر اندر آگیا۔ ’’رانی! آج تمہارا نتیجہ نکلنے والا تھا‘‘۔ اس نے پوچھا۔ میں تندہی سے  بسکٹ پر مکھن لگانے میں مصروف تھی۔

’’اوہو، ارے ہاں خوب۔ آپ نے امتحان بھی تو دیا ہے___ کاہے کا؟___ میٹرک؟‘‘

’’جی نہیں، بی اے آنرز___ ‘‘ میں نے جھلا کر جواب دیا۔ کیا کہنے ہیں جیسے میں میٹرک پاس لگتی ہوں شکل سے___

’’ارے باپ رے باپ! یہ لڑکیاں اتنا پڑھ کر کیا کرتی ہیں؟

اس نے گویا ڈر کر کرسی پیچھے کو سرکالی۔ پنجاب سے کیا ہوگا غالباً۔

یہ اس نے اور بے عزتی کی۔ جان جل کر رہ گئی۔

’’جناب عالی! میں نے الٰہ آباد سے کیا ہے بی اے___‘‘

میں نے ذرا رعب سے کہا۔

’’اوفوّہ! کس قدر خوف ناک بات۔ الٰہ آباد سے۔ ذرا خیال تو کیجئے، ہیں بھئی، ہمیں تو یقین ہی نہیں آتا۔ افوہ‘‘! وہ بولا۔

’’ میں تو س پلیٹ میں چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔

’’ارے رے رے نہیں۔ بگڑئیے مت بھئی ہم تو اتنی دور سے آپ کے یہاں آئے ہیں اور آپ ہیں کہ بس جنگ پر تلی بیٹھی ہیں‘‘ وہ ہنستے ہوئے خود بھی کھڑا ہوگیا۔ میں ٹائینی کے ہاتھ سے اخبار لے کر اس پر جھک گئی۔

’’رزلٹ نہیں نکلا آپ کا؟‘‘ اس نے پہلی مرتبہ سنجیدگی سے بات کی۔

’’جی نہیں، کل پرسوں تک آجائے گا شاید‘‘۔ میں نے بھی صلح کرلینی مناسب سمجھی۔ امی جنس نکلوانے کے لیے پنیڑی کی طرف جاچکی تھیں اور ملو، گلو، ٹائینی اور نشو حسب معمول گیلری میں کھڑے کسی فضول سی بات پر الجھ رہے تھے۔

’’آپ ہیں کون آخر؟ ‘‘ میں نے اخبار پرے پھینکتے ہوئے بہت شرافت کے ساتھ دریافت کیا۔

’’میں…؟ ایک پردیسی ہوں بے چارہ۔ ادھر جنگل میں شکار کھیلنے آیا تھا۔ راستہ بھول گیا۔ یہاں سادھو کی کٹیا کے بجائے رات بسر کرنے کو ایک سجی سجائی کوٹھی مل گئی اور اس میں ایک پریوں کی شہزادی___‘‘

اس نے بالکل کلارک گیبل کی طرح ایک بھوں اوپر اٹھاکر سگریٹ کا دھواں چھوڑتے ہوئے کہا ۔ اور مجھے فوراً یاد آگیا کہ آج اتوار ہے۔ دھوبی کو کپڑے دینے ہیں اور میں تیر کی طرح کھانے کے کمرے سے نکل کر دوسری طرف بھاگ گئی۔

اور جون کی بارش کی رو پہلی پھواروں میں نرگس ولالہ کے نرم ونازک پودے جھومتے رہے۔ گلابی بادلوں میں ڈوبتے ہوئے سورج کی ترچھی رنگ برنگی کرنیں دریچوں کے شیشوں پر جھلملاتی رہیں اور ذرا سی ٹھیس سے آلوچہ سے لدی ہوئی شاخوںپر سے پانی کے بڑے بڑے قطرے ٹپ ٹپ نیچے برس جاتے ۔ موسم اچھا معلوم ہونے لگا تھا۔ محاذ پر سے چلو بھائی کے لمبے لمبے اور بے حد مزے دار خط ہرہفتے آتے تھے۔ میرے بے چارے چلو بھائی‘‘۔!!

ایلاؔ ان دنوں بڑی مصروف نظر آرہی تھی۔ ایک روز میں نے تنگ آکر دعا مانگی کہ ’’خدا کرے ایلا جو بھی تمہارا تازہ ترین دوست ہے اس کا کل ہی تبادلہ ہوجائے‘‘۔ کوئی بات بھی، یہ آر۔ اے ایف نہ ہو ا مصیبت ہوگئی۔‘‘

’’بھئی یہ مت کہو۔ ابھی تو بے چارہ آیا ہے۔ اس نے بگڑ کر کہا

’’کون ہے وہ بے چارا۔ اللہ رحم کرے اس پر ‘‘۔ رفیعہ ٹھیک تو کہتی تھی۔ لڑکیاں ہیں کہ مری جارہی ہیں ۔ خواہ مخواہ۔ بھلا دیکھو تو ۔

چلو بھائی نے لکھا تھا کہ میرا دوست امید ہے تم لوگوں کو پسند آیا ہوگا۔ بہت پرلطف شخص ہے۔‘‘ اور واقعی می چی بہت باتونی تھا۔ دوپہر کو جھیل کے کنارے سبز گھاس پر اوندھے لیٹ کر دنیا بھر کے بے سرو پا قصے سنایا کرتا۔ چاکلیٹ اور امرود کی جیلی کاتو جانی دشمن تھا۔ ادھر تیار کرو اور کہیں بھی چھپاکر رکھو اور ادھر وہ آپ سے آپ غائب۔کیرم کھیلتے تو ضد تھی کہ طرح طرح سے بے ایمانیاں کرکے ہمیں ہرادے اور خود کسی حالت میں بھی ہار ماننے پر تیار نہ ہوتا۔ مجھ سے تو اس نے کبھی دوستی کی ہی نہیں جو بات میں کروں گی اس کی مخالفت کرنے کے لیے موجود۔ مجھے ڈائنا ڈربن کے گیتوں سے عشق تھا۔ آپ کہیں سے نرائن رائو ویاس کے سارے ریکارڈ اٹھالائے۔ ’’ہی ہی، آپ فرشتوں کی غلطی سے ہندوستان میں کیوں پیدا ہوگئیں۔اور وہ ریکارڈ میرے غسل خانے کے برابر والے کمرے میں صبح سے شام تک بجائے جاتے!

جس روز ہمارا نتیجہ نکلا می چی گھر پر نہ تھا۔ بہت جی چاہا کہ کسی طرح فوراً اس کو بتا دیا جائے کہ میں نشو، ایلا، گلو سب پاس ہوگئے ہیں۔ لیکن نہ معلوم کیوں تین دفعہ فون کی میز کے قریب جاکر میں پھر واپس آگئی۔ شام کو اپنے دفترسے اس نے خود رنگ کیا۔ ’’ہر میجسٹی پاس ہوگئیں؟‘‘ اس نے ٹائینی سے دریافت کیا لیکن جب اس کو پتہ چلا کہ میں بھی فون کے پاس کھڑی ہوں تو وہ فوراً لہجہ بدل کر کہنے لگا۔

’’سیکنڈ ڈویژن…؟ کل؟ وہ توکہہ رہی تھیں کہ یونی ورسٹی میں ٹاپ کرنے جارہی ہیں۔ چلو خیر، یہ بھی اچھا ہوا بھئی۔میری طرف سے دلی مبارک باد عرض کردینا۔

دوسرے دن ہم نے پاس ہونے کی خوشی میں ایک زبردست مون لائٹ پکنک کا پروگرام بنایا۔ پارٹی کے بعد شام کا اندھیراچھاتے ہی ہم سب ٹہلتے ہوئے سروکے درختوں کے اس پار کالی پہاڑی کی طرف نکل گئے جہاں فرانسیسی ریزیڈنٹ کے قلعہ کے باغ میں آنکھ مچولی کھیلنے کی صلاح کی گئی تھی۔ پام کے اونچے اونچے سیاہ پتوں میں سے بڑاسازرد چاند نیچے جھانک رہاتھا، اور پہاڑی کی ڈھلان پر بنی ہوئی کرنل کی کوٹھی سنسان رات کے سناٹے کو اور بھی زیادہ ہیبت ناک بنا رہی تھی۔ کبھی کبھی اس کی کھڑکیوں میں سے ایک مدھم سی روشنی چمک کر غائب ہوجاتی۔ ہم ڈرتے ڈرتے بل کھاتی ہوئی پگڈنڈی پر قدم رکھتے ہوئے پہاڑی کی جانب بڑھ رہے تھے۔ لڑکے بہت آگے جاچکے تھے۔’’ارے بھئی سواریاں کہاں رہ گئیں؟ تیزی سے چلوجی۔ ایلا تم تومیڈیکل مشن کے ساتھ چین جانے کو تیار تھیں۔ یہ تو فقط رات کے نوبجے قلعے کے باغ تک پہنچنے کا مرحلہ ہے۔بہت دور اندھیرے میں سے شاید ملو نے للکار کر کہا۔ اور ایلا آگے نکل گئی۔

’’اسی ہمت پر مردوں سے برابری کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

اچھا ہے بھئی، میری ہونے والی بیوی تو صرف پنجاب کا میٹرک پاس ہے‘‘۔ یہ می چی کی آواز تھی۔ قہقہوں اورسیٹیوں کا شور اور تیز ہوگیا۔ اب ہم کرنل کی کوٹھی کے بالکل پاس سے گزر رہے تھے۔ چاندپام کے جھنڈ کے پیچھے چھپ چکا تھا۔ کوٹھی کے احاطے میں ایک طرف ان انگریز فوجیوں کی چند بھوری بھوری شکستہ قبریں بنی ہوئی تھیں جو غدر میں اس مقام پر مارے گئے تھے۔ ہماری تو اس طرف نظر ڈالنے کی بھی ہمت نہ پڑی۔ می چی ایسے ایسے عجیب قصے سنا چکا تھا۔

’’قوم کا اگر کوئی بہادر فرد اس بیچ والی کرنل کی قبر پر ماچس کی یہ ڈبیا رکھ آئے تو میں پورا ایک آنہ دینے کو تیار ہوں۔ می چی نے آگے جاتے جاتے پیچھے مڑ کر اعلان کیا۔

’’اوئی۔ ہی ۔ ہی ۔ ‘‘ لڑکیوں نے بن بن کر ڈرنا شروع کیا اور پھر پگڈنڈی کا راستہ چھوڑ کر سب لڑکے باری باری احاطے کی ٹوٹی ہوئی دیوار پر سے ہوتے ہوئے قبروں پر سے چھلانگ لگاکر دوسری طرف کود گئے۔ ہائیں نہیں ادھر سے مت جائو بھئی۔‘‘ لڑکیاں بے اختیار چلائیں۔ مجھے بھی خوف ہوا کہ کہیں اندھیرے میں می چی کا پیر نہ رپٹ جائے یا اس کو کرنل کا بھوت نہ پکڑلے لیکن وہ چپ چاپ ٹفن باسکٹ اٹھائے پگڈنڈی پر چلتی رہی۔ لڑکے جانتے تھے کہ ہم لوگ جان جان کر ڈرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹارچ کی روشنی کوٹھی پر ڈالتے ہوئے می چی اونچی آواز میں اپنے ساتھیوں سے کہہ رہا تھا…’’ہاں تو بھئی پھر کیا ہوا کہ میں رات کو بارہ بجے میکس سے واپس آرہا تھا۔ کیادیکھتا ہوں کہ جناب وہ سب سے اونچی چمنی پر چڑھا بیٹھا حقہ پی رہا ہے۔ اور اس کی ٹانگیں ۔؟ بس کچھ مت پوچھو اتنی لمبی تھیں کہ دوسری منزل سے زمین تک پہنچ رہی تھیں۔‘‘

’’اوئی۔ افوہ۔ ’’لڑکیوں نے تیزی سے لمبی لمبی گھاس کا میدان طے کرنا شروع کیا۔‘‘ٹہلتے ہوئے وہ ہمارے پاس سے اس طر ح گزر جاتا تھا کہ اس کی باتیں ہم اچھی طرح سن سکیں۔ پھر اس گورے نے کہا۔ Halt Hho Comes Where? میں نے سوچا کہ بھیا بھاگو یہاں سے۔ ایک تو اندھیر ی رات اور اوپر سے لگنے لگا ڈر___ تیزی سے سائیکل جو چلائی تو وہی گورا سامنے آکر چلا چلاکر مکھن توس کی فرمائش کرنے لگا۔ پھر کیا دیکھتا ہوں جناب عالی کہ ایک صاحب بہادر گھوڑے پر سوار اس پولو کے میدان کا چکر لگائے جارہے ہیں۔ غور کرنے پر پتہ چلا کہ صاحب بہادر کا سر ہی غائب تھا۔ یعنی ذرا خیال تو فرمائیے کہ ان کا سر تھا ہی نہیں ایک سرے سے اور وہ چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے۔

God bless the Queen where is my head ?

اوفوہ___ اور اسی وقت پولو گرائونڈ کی طرف سے درختوں کے جھنڈ میں کوئی سفیدسفید سی چیز ہلتی نظر آئی۔ ہماراتو ہارٹ فیل ہوتے ہوتے رہ گیا۔ ڈر کے مارے تیزی سے چلایابھی نہیں جارہا تھا۔ لڑکے زور زور سے  he is a Jolly good Fellow For  گاتے ہوئے برج پر چڑھنے لگے۔ لڑکیوں نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ قلعے کے باغ میں پہنچ کر طرح طرح کے بے تکے کھیل ہوئے۔ ’’سزائیں‘‘۔ ”Opinions”

’’آج کی رات بہت دنوں تک یاد رہے گی نا؟___ ’’می چی نے کھیلتے کھیلتے دفعتاً بہت سنجیدگی سے کہا۔ اور وہ بھی مجھ سے بڑے میلو ڈریمٹک انداز سے___ مجھے ہنسی آگئی، پھر وہ کچھ نہیں بولا۔

کھانے پینے کے بعد کیرم شروع ہوا اور اس میں ہمیشہ کی طرح اس نے سب کو ہرایا۔ لیکن کوئین تو چلو بھائی کی قسمت میں لکھی تھی۔

ایک ایک کرکے دن یوں ہی ختم ہوتے گئے۔ خوابوں کی وادی میں نقرئی گھنٹیوں والا کارواں چاند کی کرنوں پر سے بنے ہوئے راستے پر سے گزرتا ہوا اپنی نامعلوم منزل کی طرف بڑھتا جارہا تھا۔

پھر سفید اور نیلے پھولوں کا موسم بھی گزرگیا ، زرد گلاب کی جھاڑیوں میں چھپی ہوئی شہد کی مکھیوں نے بھنبھنانا چھوڑ دیا۔ اور ہوائوں میںبکھرے ہوئے خشک پتے تیرنے لگے۔ ’’می چی کل جارہا ہے ۔‘‘ ٹائینی اور گلو تقریباً روپڑے___ می چی آیا ہی کیوں تھا؟ بھلا!

اور می چی واقعی چلا گیا۔ اسے صبح منھ اندھیرے پر واز کرنا تھا۔ اس لیے وہ رات ہی کو ’’ایروڈروم ‘‘روانہ ہورہا تھا۔ کھانے کے بعد ہم سب اس کو پہنچانے کے لیے گئے۔ کار سرو کے جھنڈ میں چھوڑ کر باقی کا راستہ ہم نے پیدل طے کرنا شروع کیا۔ ایروڈوروم کی سرخ روشنیاں دھندلکے میں دور سے جھلملا تی ہوئی نظر آنے لگی تھیں۔ می چی، گلو، ملو، ٹائینی بھاری بھاری قدم رکھتے ہوئے آگے جارہے تھے۔ خاموش اور سحر آلود چاندنی میں … I Promisel I   always   Pray For You کے آخری الفاظ دیر تک گونجتے رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا گویا اس گیت سے مجھے ازلی نفرت تھی۔ می چی چلا گیااور چاند کی ایک لرزتی ہوئی کرن بھیگی ہوئی آنکھوں میں تیرنے لگی۔ اورنرگس پر پڑے ہوئے بہت سے شبنم کے قطرے ایک ساتھ جگمگا اٹھے۔

اور پھر___وہی سفید اور نیلی کلیوں کا موسم تھا۔ اور وہی شفتالو کے پھولوں سے گھرے ہوئے راستے۔ چھوٹے چھوٹے زرد گلابوں کے گچھے، زرد قالین ، زرد دیواریں اور زرد پتے، یہ رنگ ان کو پسند تھا۔ وہ صبح سے دورے پر گئے ہوئے تھے۔ برساتی میں کار کی سفید روشنی کا سیلاب سا آگیا اور پھر دروازہ زور سے کھلا۔ می چی آیا تھا۔ وہی چاکلیٹ چرانے اور پھوتوں کی کہانیاں سنانے والا ۔ می چی، اس میں ذرا سا بھی فر ق نہ آیا تھا۔

وہ آتش دان کے شعلوں کو بہت دیر تک دیکھتا رہا۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا بات کروں۔’’قہوہ منگوائوں یا چائے‘‘ میں بے چینی سے دعا مانگ رہی تھی کہ وہ جلدی سے آجائیں۔

’’عام طور پر ایسے پیارے موسم میں قہوہ زیادہ اچھا لگتا ہے۔‘‘ لیکن اس نے تو صرف یہی کہا’’جوآپ منگوادیں۔‘‘ اور میں بلاضرورت اون کو ادھیڑ کر پھر سے بننے لگی۔

’’آپ ایران سے کب آئے؟‘‘

’’گزشتہ ماہ‘‘۔

’’کتنے دنوں کے لیے؟‘‘

’’دومہینے کی چھٹی لی ہے۔‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’ایلا کی طبیعت خراب ہوگئی تھی۔ اسے اور بچی کو امی کے پاس پہنچانا ہے۔‘‘

’’اچھا___‘‘ میں سلائیوں پر زیادہ انہماک سے جھک گئی۔

وہ Onlooker کی ورق گردانی کرتا رہا۔ اتنے میں دروازہ کھلا اور وہ اندر آگئے۔ بے چارے دورے سے تھکے تھکائے آئے تھے۔ میں جلدی سے اٹھ کے دوسرے کمرے میں جاکے قہوہ تیار کرنے میں مصروف ہوگئی۔

___ ’’یہ جو آپ نے اپنے خیال میں بڑا شاہکار افسانہ لکھا ہے قطعی فضول ہے۔ نہ ٹھکانے کا پلاٹ نہ ڈیولپمنٹ نہ کلائمکس۔ اور یہ کہ آپ ضرورت سے زیادہ جذباتی اور بے وقوف ہیں۔ ایک گدھے صاحب آتے ہیںاور چند روز آپ کے یہاں رہ کر تشریف لے جاتے ہیں۔ یعنی روزمرہ کی زندگی کا ایک بے حد معمولی اور غیر اہم واقعہ۔ جس کی وجہ سے آپ اس قدر میلوڈریمٹک بن جاتی ہیں۔ کہ خدا کی پناہ، اور یہ ’’میری گلی میں ایک پردیسی‘‘___ قسم کے گیت آپ کو قطعی نہیں سننے چاہئیں۔‘‘

اورنشو ریڈیو بند کرکے پھر سے کیرم کی گوٹیں ترتیب سے رکھنے لگی۔

کہانی واقعی ختم ہوچکی تھی___!!

______________________________________________

یہ افسانہ ’’عالم گیر‘‘ لاہور۔ خاص نمبر،جنوری، فروری 1945 میں شائع ہوا۔ کسی مجموعے میں شامل نہیں ہے۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

آسماں بھی ہے ستم ایجاد کیا!

قرۃالعین حیدر جولائی ۴۴ء کی ایک ابر آلود سہ پہر جب وادیوں اور مکانوں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے