مرکزی صفحہ » تاریخ » معزالدین کیقباد

معزالدین کیقباد

از منتخب التواریخ

سلطان بلبن نے خسرو خان کو اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا لیکن ایک امیر ملک جسے ایتمر بھی کہتے تھے کچھ اور امراء کے ساتھ مل کر (جو خسرو خاں کے باپ شہید کے مخالف تھے)خسرو کے بجائے بغراخاںکے لڑکے معزالدین کیقباد کو تخت پر بیٹھا دیا۔ اس وقت کیقباد کی عمر صرف 18 سال کی تھی۔ تخت نشین ہونے کے بعد کیقباد نے سب سے پہلی کاروائی یہ کی کہ خسرو خاں اور اس کے متعلقین کو ملتان روانہ کردیا اور وہاں کی عملداری اس کے نام بحال رکھی۔ خسرو خاں کے جتنے ہوا خواہ اور حامی تھے سب کو جلاوطن کردیا۔ جب ملک کا نظم و نسق حسب مرضی ترتیب پاگیا تو کیقباد نے ملک قیام الدین کو ’’دادبیگی‘‘ اور ملک قیام الدین کو ’’وکیل‘‘ مقرر کیااور باقی امراء کو ان کے پُرانے عہدوں پرہی بحال رکھا۔

تخت نشینی کا دربار

چھ ماہ بعد سلطان کی سواری دہلی سے قصبہ کیلو کھڑی پہنچی۔ اس موقعے پر کیلو کھڑی کو خوب آراستہ کیا گیا تھا۔ سلطان نے یہاں اپنا پہلا دربار عام منعقد کیا۔ اسی دربار میں خواجہ خطیرالدین کو ’’خواجہ جہانی‘‘ اور ملک شاھک امیر حاجب کو ’’وزیر خانی‘‘ کے خطابات ملے۔ ملک نظام الدین 17؎ وزیر کے کہنے سے سلطان نے دربار میں نومسلم مغلوں کو پکڑ کر بلوایا اور ان سب میںسے اکثر کو قتل کروا دیا ۔

کیقباد نے ملک چھجو 18؎کی لڑکی سے شادی کی ملک چھجو کو صلے میں سامانہ کی جاگیر ملی۔ اسی سال ماہ ذی الحجہ کے آخر میں سلطان کو خبر ملی کہ تاتاریوںنے ایتمر کی قیادت میں ملتان اور لاہور کے علاقے میں فتنہ و فساد مچا رکھا ہے۔ بادشاہ نے شاھک باربک کو’’خان جہانی‘‘کاخطاب عطا کیا اور تین ہزار سوار دے کر تاتاریوں کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا۔ شاھک باربک نے تاتاریوں پر دلیر انہ حملے کیے اور ان کو بھگاکر جود کی پہاڑیوں تک پیچھا کیا بہت سے تاتاریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور ان کی ایک بڑی جماعت کو گرفتار کرکے دارالسلطنت میںلے آیا۔

کیقباد کی عیش پسندی

سلطان معزالدین کیقباد اپنے دادا کے زمانے میں معلموں اور اتالیقوں کی سخت نگرانی اور تربیت میں پرورش پاتارہا تھا، اب غیر متوقع طور پر عین عالم شباب میں ایک بہت بڑی سلطنت اس کے ہاتھ آگئی تھی، ملک میںچاروںطرف امن وامان تھا، فارغ البالی اور خوش حالی کی وجہ سے لوگ نہایت اطمینان اور چین کی زندگی بسر کررہے تھے۔ ان حالات میں نوجوان بادشاہ بہت جلد ہی عیش عشرت کا شکار ہوگیا اور اس کے اوقات رنگ رلیوںمیںبسر ہونے لگی، اس کے دادا کے عہد کے برخلاف بھانڈوں، قوالوں اور بازیگروں نے بادشاہ کے مزاج میںدخل پالیا اور علم و زھد کا رنگ پھیکا پڑگیا۔

بادشاہ کا یہ رنگ دیکھ کر ملک نظام الدین کی بن آئی وہ شاہی خاندان کو ختم کرکے اپنی سلطنت کے سنہرے خواب دیکھنے لگا۔ اس غرض کے لیے اس نے بادشاہ کو بہکا کر کئی فساد برپا کیے۔ پہلے تو اس نے بادشاہ کو خان شہید کے لڑکے کیخسرو کے قتل پر آمادہ کیا، چنانچہ سلطان نے خسرو کو ملتان سے بلوا کر قصبۂ روہتک میں شہید کرا دیا اس کے بعد خاںجہان پر جھوٹی تہمت لگوا کر اس کی بے عزتی کروائی اور ان تمام امیروں کوجن کی نو مسلم مغلو ں سے قرابت داری تھی قید کر کے دور دراز کے قلعوں میں بند کروا دیا۔ بادشاہ کی ان حرکتوںکی وجہ سے دربار کی وہ رونق و سطوت نہیں رہی جو بلبن کے زمانہ میں تھی۔

باپ اور بیٹے کی ملاقات

جب بغرا خاں ناصرالدین نے لکھنوتی میں اپنے بیٹے کا یہ حال سنا تو اس نے ایک نصیحت آمیز خط لکھا اور اشارتاً نظام الملک کی شرارت کی طرف اسے توجہ دلائی لیکن وہ بادۂ جوانی کے سرمستیوں میں ایسا سرشار تھاکہ باپ کی ایک نہ سنی، آخر کار طویل مراسلت کے بعد طے پایا کہ باپ بیٹا دونوں اودھ میں ملاقات کریں19؎۔

یہ ملاقات کافی دیر تک چلی اور دونوںنے تفصیلی طور پر آپس میں مشور ے کیے۔ ناصرالدین بادشاہ سے مل کر اپنے خیمہ میں آیا تو اس نے لکھنوتی کے نفیس تحفے بیٹے کے پاس بطور پیش کش روانہ کیے۔ معزالدین نے بھی باپ کی نذر کے لیے عراقی گھوڑے اور طرح طرح کا عمدہ اسباب روانہ کیا۔ اس وقت دونوں طرف کے لشکروں نے بڑی خوشیاں منائیں اور ان کے افسر بھی ایک دوسرے کی ملاقات کے لیے آتے جاتے رہے۔ امیر خسرو نے ’’قران السعدین‘‘ میں ان صحبتوں کا پورا پورا نقشہ کھینچا ہے:

زھی ملک خوش چون روسلطان یکی شد

زھی عہدش جود و پیمان یکی شد

]سلطان کے چہرے سے ملک کی خوشحالی اور بھلائی ہویدا تھی وہ عہد تھا کہ جس میں جود و پیمان ایک ہونے کے مصداق تھے۔[

اس نظم کا ایک شعر ہے۔

سلطان معزالدین وابن کیقباد بادشاہ

یک دیدہ دو مردمک چاربادشاہ

]سلطان معزالدین بن کیقباد بادشاہ کہنے کو ایک مرد کی آنکھ جس میں دو پتلیاں اور چار بادشاہ بستے تھے۔[

آخری نصیحت

دوسرے دن سلطان ناصرالدین الوداعی ملاقات کے لیے بادشاہ کے پاس آیا۔ نظام الملک اور قوام الملک دونوں سرداروں کے سامنے بادشاہ کو بڑی نصیحتیں کیں اور کثرت شراب نوشی، عیاشی، نظم ونسق سے بے پروائی، بعض پُرانے سرداروں اور کیخسرو کے قتل پر اسے سرزنش کی اور نماز، روزہ، زہد و تقوی کی طرف رغبت دلائی اور جہاں بانی کے قاعدوں اور ضابطوںسے آگاہ کیا۔ بغل گیر ہوتے وقت چپکے سے کان میں کہا کہ ’’نظام الملک کا قصہ جلد ختم کر دو۔ اگراس نے قابو پالیا تو تمہاری خیر نہیں۔‘‘ دونوں نے بڑے رنج اور افسوس کے ساتھ ایک دوسرے کو رخصت کیا20؎ معزالدین چند دنوںکے لیے اپنے باپ کی نصیحتوں پر کاربند رہا آخر کار حسین و جمیل لڑکیوں، خوب صورت مطربوں (بجانے والے) اور بازی گروں نے بادشاہ کو اپنی عشوہ گری کے جال میں پھنسا لیا اور نوجوان بادشاہ کی توبہ شیشۂ نازک کی طرح چور چور ہوگئی۔

چنانچہ چند ہی منزل آگے بڑھا تھا کہ وہ اس طرح رنگ رلیوں21؎ میں مصروف ہوگیا۔ دہلی تک یہ سارا سفر اسی عیش و عشرت میں کٹ گیا۔ دہلی میں سلطان کی واپسی 689 ھ/ 1289ء میں ہوئی۔

بادشاہ کایہ حال دیکھ کر بعض سردار بددل ہوکرپہاڑی علاقوںمیںچلے گیے۔ ان میں سے شیر خان پشیمان ہوکر بعد میں لوٹ آیا تھا لیکن بادشاہ نے اسے قید کردیا اور وہ اسی قید میں مرگیا۔ بادشاہ نے فیروزخان یغزش خلجی کے بیٹے کو شائستہ خاں22؎ کا لقب دے کر برن (بلند شہر) کے علاقے پر مامور کیا۔

شمس الدین کی تخت نشینی

ملک ایتمر نے بادشاہ کے قتل کی سازش کی تھی۔ سلطان نے اسے بڑی حکمت عملی سے گرفتار کرواکے قتل کر ڈالا۔ باپ کی فرمائش کے مطابق اس نے نظام الملک کی بھی فکرکی اور اس کو ملتان جانے کا حکم دیا مگر نظام الملک سلطان کے ارادے کو بھانپ گیا اور وہاں جانے میں پس و پیش کرنے لگا۔ اس دوران بادشاہ نے خفیہ طور پر زہر دلواکر اس کا بھی قصہ ختم کردیا۔ نظام الملک کی ہلاکت کے بعد نظم و نسق میں کافی انتشار پیدا ہوگیا تھا۔ ادھر بادشاہ کا یہ حال تھا کہ شب و روز حالت مستی میں گزارتے تھے اور شراب و معشوق کے سوا اسے کسی بات کی فکر نہ تھی۔ چنانچہ عیاشی کی وجہ سے وہ لقوہ کے عارضے میں مبتلا ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے نہایت ضعیف اور کمزور ہوگیا اس کے قویٰ اور اعصاب بالکل ناکارہ ہو چکے تھے۔ سلطنت کا کاروبار بری طرح درھم برھم ہو چلا تھا۔ یہ حال دیکھ کر چند خیر خواہ امیروں نے اس کے ایک کم عمر لڑکے کیکائوس کوشمس الدین کا خطاب دے کر تخت پر بیٹھا دیا۔

شائستہ خان کی بغاوت

688 ھ/ 1289 ء میں شائستہ خان خلجی نے بہت سے امراء کواپنے ساتھ ملا لیا اور اپنی عملداری ’’برن‘‘سے ایک بڑی فوج لے کر دہلی پر چڑھائی کردی۔ بادشاہی امراء بھی فوجی تیاریاں کر کے مقابلے پر روانہ ہوئے اور سلطان معز الدین کو جو بیماری اور کمزوری کی وجہ سے ایک بے جان تصویر بن کر رہ گیا تھا قصر کیلوکھڑی کی چھت پر چتر شاہی کے نیچے بٹھادیا۔ ملک چھجو غیاث الدین کے بھتیجے نے بلند آواز کے ساتھ اعلان کیاکہ ہم چاہتے ہیں معزالدین کو کشتی میں سوار کر کے لکھنوتی میںاس کے باپ کے پاس بھیجوا دیں اور سلطان شمس الدین کیکاؤس کی خدمت میںحاضر رہیں۔ اس اعلان پر دہلی والے شمس الدین کیکاؤس کی حمایت کے لیے شائستہ خاںکے مقابلے پر تیار ہوگیے اور بدایونی دروازہ کے سامنے جمع ہوگیے۔

کیقباد کا انجام

لڑائی کا فیصلہ شائستہ خاں کی جانب رہا۔ ملک الامراء فخرالدین کوتوال کے لڑکے قید کر لیے گیے اور ملک ایتمر سرخہ جس نے شائستہ خاں کے قتل کا وعدہ کیاتھا شائستہ خاں کے بیٹے اختیار الدین کے ہاتھ مارا گیا۔ ملک الامرا نے جب اپنے آپ کو مقابلے سے عاجز پایا تو اپنی جمعیت کو پیچھے ہٹالیا اور فاتح سپاہیوںنے شمس الدین کیکاؤس کو تخت سے اٹھاکر شائستہ خاں کے پاس بہادر پور روانہ کردیا۔ شائستہ خاں نے ایک شخص کو جس کے والد کو معزالدین نے قتل کردیا تھا قصر کیلوکھڑی پرقبضہ کے لیے بھیجا۔ وہ جب اس بدنصیب سلطان کے پاس پہنچا تو اس کاحال یہ تھا کہ وہ گم سم بیٹھا تھا اور بس اس کی سانس ہی باقی رہ گئی تھی۔ اس شخص نے دو تین لاتیں مار کر اسے جمنا 23؎ میں ڈھکیل دیا۔ یہ واقعہ نصف ماہ محرم 689ھ/ 1260ء میں پیش آیا۔ سلطان معزالدین نے تین سال چند ماہ تک حکومت کی اور اس پر خاندانِ غلامان غوری یعنی غیاث الدین کے خاندان کا خاتمہ ہوگیا۔ اس مہم میں شائستہ خاں خلجی کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی تھی اس نے ایتمر سرخہ کی ہلاکت اور دہلی والوںکے فتنے کو ختم کرنے کے بعد شاہزادہ کیکاؤس کو تخت پربیٹھاکر مملکت کا انتظام ہاتھ میںلے لیا۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

غیاث الدین بلبن خورد

از منتخب التواریخ الغ خانی خطاب تھا 664 ھ/ 1265ء میں تمام امراء اور ملوک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے