مرکزی صفحہ » تنقید » فکرِ غالب اور اردو تنقید

فکرِ غالب اور اردو تنقید

از وحید اختر

غالبؔ نے دعا کی تھی کہ

’’یا رب میرے بعد ایک ایسا انسان پیدا کر، جو میر ی ہی طرح گفتار کا گرویدہ ہو تا کہ وہ پہچانے کہ میری شاعری کے ایوان کی دیوار کتنی بلند ہے اور میری کمندِ خیالی کا سلسلہ کس مقام تک رسا ہے   ؎

ذوقیست ہمدمی بہ فغاں بگذرم ز رشک

خارِ رہت بہ پاے عزیزاں خلیدہ باد

غالبؔ کے بعد، ان کی راہ کے کانٹے چننے کی کوشش تو بہت سے رہ نوردانِ شوق نے کی، مگر ان کی خلش کی لذت سے آشنا ہونے والوں کی تعداد اب بھی بہت کم ہے۔ حالیؔ نے غالب آشنائی کی راہ کھولی، بجنوری نے اس زمین کو آسماں سے ملانے کی کوشش کی، انھیں دیوانِ غالبؔ میں وید مقدس کی الہامی کیفیت و شان دکھائی دی۔ ڈاکٹر عبد اللطیف نے بجنوری کا رد لکھنے کے زور میں غالبؔ نافہمی کی اس روایت کا سلسلہ دراز کیا جس کی بنا محمدحسین آزادؔ ڈال گئے تھے۔غالبؔ کی راہ کے کانٹے چننے اور انھیں آنکھوں سے لگانے والوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی ان میں عبدالحق، نیازفتح پوری، جوش ملسیانی، عبدالستار صدیقی، مہیش پرشاد، طباطبائی، سہا،حسرت، شوکت میرٹھی، ناطق، غلام رسول مہر، شیخ اکرام، عرشی، مالک رام، رشید احمد صدیقی، حمید احمد خاں، سالک، آل احمد سرور، مجنوں گورکھپوری، احتشام حسین، مختارالدین، خورشید الاسلام،  ظ ۔ انصاری، ممتاز حسین، سردار جعفری، خلیفہ عبد الحکیم، عبد المالک آروی، شوکت سبزواری، قاضی عبدالودود، قدرت نقوی، نذیر احمد اور اِن کے علاوہ سینکڑوں راہ پیما ملتے ہیں۔ ہر اک نے بقدر ظرف دادِ شوق دی۔ کچھ نے جواہر کو پہچانا اور پرکھا، کچھ نے سنگریزوں کو حاصل سمجھا، کچھ نے خاکِ راہ کو سرمہ بنایا، بہت کم نے ان کانٹوں کی خلش کو رگِ جاں میں محسوس کیا جو غالبؔکے تخلیقی کرب اور ذہنی کیفیت سے عبارت ہیں۔ تنقید نے غالبؔ کا حق کم ادا کیا، تحقیق نے ضرورت سے زیادہ غالبؔ شناسی کی، جس کے نتیجے کے طور پر غالبؔ کے خاندان، مذہب، تلامذہ، قیام گاہوں، ادبی مناقشوں، ان کے مخاطبوں، دوستوں، رشتہ داروں، خطوط، ممدوحوں، ملازموں، سفروں، مقدموں اور دشمنوں کے متعلق اتنی ضروری، غیرضروری، کم ضروری معلومات جمع ہوگئیں کہ اس رطب و یابس کے ڈھیر میں غالبؔ کو ڈھونڈنا، پانا اور پہچاننا مشکل ہوگیا۔

تحقیق کا اصل کام ضروری اور متعلقہ مواد فراہم کرنا ہے جو ادب و شعر کی تفہیم و تفسیر و تنقید میں معاون ہو، تحقیق گورکنی اور مردہ فروشی نہیں کہ اپنی دکان چمکانے کے لیے جس کے ہاتھ کفن کا جو ٹکڑا لگ گیا وہ لے بھاگا اور اسی کی تشہیر و نمائش سے ادیبوں کی صف میں اپنے لیے کہیں نہ کہیں کوئی جگہ نکال لی۔ یہ غالبؔ کی عظمت کی دلیل بھی ہے اور ساتھ ہی بدقسمتی بھی کہ آج اُن کے حاشیہ نشینوں کو بھی عظمت کا دعویٰ ہو چلا ہے۔ غالبؔ پر تحقیق کرنے والوں میں ایسے ’’حریفانِ مے مرد افگنِ عشق‘‘ بھی ہیں جو غالبؔ کی کم علمی، فارسی زبان اور لغت سے عدم واقفیت، اُن کی کمزوریوں اور خود نوشت اعمالنامے (خطوط) کے داغوں کی تشہیر سے ہی اپنے احساسِ کمتری کو تسکین دیتے رہتے ہیں اور ایسے بھی جو آج تلک غالبؔ کے کردار کو قتل کر کے اُن کے خون سے ذوقؔ یا دوسرے کم اہم شاعروں کی عظمت کی مدھم تصویروں میں رنگ بھرتے ہیں۔ ایسے محققوں کی رسائی غالبؔ کے ایوانِ سخن کی بلندی تک تو کیا ہوتی اُن کے لیے اس ایوان کے در و دیوار اور دیوار و در بن گئے (’’کہ بن گئے میرے دیوار و در ، درو دیوار‘‘) اس طرح بظاہر تو غالبؔ پر بہت کام ہوا، غالبؔ صدی تقاریب کے شوروغل نے تو غالبؔ کی طرف اتنے اہلِ قلم کو متوجہ کردیا کہ مزار غالبؔ پر مضامین، کتابوں، تحقیقات کا انبار لگ گیا مگر گہری نظر سے جائزہ لیا جائے تو بہت حیرت اور افسوس کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تک غالبؔ کے فکر وفن کا تعلق ہے اِسے بیشتر لکھنے والوں نے بھاری پتھر سمجھ کر چوما اور چھوڑ دیا۔ فکروفن پر جتنا بھی اور جیسا بھی کام ہوا ہے، وہ تشنہ ہے۔ دراصل ہوا یہ کہ غالبؔ کو ہم نے اپنا ہیرو تو بنا لیا مگر اُن کے ظاہر ہی کو دیکھتے رہے، روح تک پہنچنے کی بہت کم کوشش کی گئی۔

غالبؔ کو جن شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے اس کے آگے خداے سخن میرؔ کی خدائی بھی ماند پڑگئی، بجنوری کی مبالغہ آمیز، تاثراتی طرز تحریر نے غالبؔ کا رشتہ آسمان سے ملادیا، انھیں ہومر، ورجل، شکسپیر، مِلٹن، ڈانٹے، فردوسی، کالیداس سے ٹکراکر ہر ایک کو غالبؔ سے فروتر ثابت کیا۔ صرف ایک گوئٹے کو بخشا اور انھیں غالبؔکا ہم سر مانا۔ غالبؔ کا میدان غزل، قصیدہ اور مثنوی ہے۔ اِن اصناف کے حدود اور دائرۂ کار مغربی اصنافِ سخن بالخصوص رزمیہ اور ڈرامے سے اس قدر مختلف ہیں کہ اِن اصناف کے عظیم المرتبت عالمی شعرا سے غالبؔ کا موازنہ ہی بذاتِ خود غلط ہے۔غالبؔ کی عظمت اِس میں نہیں کہ وہ ان تمام شعرا سے بہتر اور برتر ہیں بلکہ غالبؔ کی عظمت اِس میں ہے کہ وہ اِن سب کے باوجود عظیم ہیں اور اپنی شاعری کے مخصوص و محدود دائرے میں رہ کر بھی اس بلندی تک پہنچ گئے ہیں جہاں تک دنیا کے عظیم شعرا نے رسائی حاصل کی — غالبؔ کی عظمت کا ایک اور راز ہے، وہ یہ کہ غالبؔ کی صدسالہ برسی منائے جانے کے باوجود غالبؔ آج بھی زندہ اور آج بھی جدید ہیں۔ یہ شرف اُن کے معاصرین کیا، اُن کے بعد کے شاعروں میں بھی شاید ہی کسی کو حاصل ہو۔ اس کے علاوہ یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ اردو کے عظیم اساتذہ میرؔ، سوداؔ، نظیرؔ، انیسؔ اور اقبال کو بڑا ماننے سے بھی غالبؔ کی عظمت پر حرف نہیں آتا۔ غالبؔ اِن شعرا کے مخصوص میدانوں میں اِن سے الگ الگ بازی نہیں لے جاسکے، پھر بھی وہ اپنے ذہن اور رویّے، اپنے طرز اظہار اور بیان کی جرات کے ساتھ بحیثیت مجموعی اِن سے آگے نکل جاتے ہیں۔ غالبؔ کی تنقید میں عام طور پر اِن حدود کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ بجنوری نے موازنہ و مقابلہ کی حدود کے توڑنے میں سب پر سبقت کی تھی اور آج تک ان کی تنقید کی کمزوریوں کے باوجود، ان کا اثر ہماری تنقید پر گہرا ہے۔

حالیؔ اور بجنوری کے بعد غالبؔ پر کام کرنے والوں کا ایک پورا گروہ سامنے آیا۔ محققین میں عرشی نے بنیادی کام کیا، اُن کا سارا کلام، منسوخ اور متداول، اکٹھا کردیا۔ مہیش پرشاد اور غلام رسول مہر نے خطوط کی ازسرنو تدوین و ترتیب کی، مالک رام اور قاضی عبد الودود نے ضروری مواد مہیّا کیا۔ لیکن جہاں تک غالبؔ شناسی کا سوال ہے شیخ اکرام کی ’’غالب نامہ‘‘ یادگار اور محاسن کے بعد پہلی کتاب ہے جس نے غالبؔ کی شخصیت کو ان کی شاعری کی روشنی میں اور شاعری کو شخصیت کی نفسیات سے سمجھنے کی قابل قدر کو شش کی۔ غالبؔ کے شارحین میں طباطبائی، حسرتؔ اور سُہاکی شرحیں غالبؔ شناسی کی ایسی کوششیں ہیں جو بہت سی دشواریوں کو آسان کرتی اور راہ کے بہت سے کانٹے ہٹاتی ہیں۔خلیفہ عبد الحکیم کی کتاب ’’افکارِ غالب‘ بھی ایک طرح کی شرح ہے۔ خلیفہ عبدالحکیم نے بہت سے قدیم اور جدید فلسفوں کو غالبؔ کی فکر میں تلاش کرنے اور غالب کے اشعار کو ان فلسفوں کی قبا پہنانے کی جو کوشش کی ہے وہ ہر جگہ یکساں طور پر کامیاب نہیں۔ پھر بھی یہ کتاب اسی طرز کی دوسری کتاب ’’فلسفۂ غالب‘‘ (شوکت سبزواری) سے زیادہ وقیع اور مفید ہے۔ رشید احمد صدیقی، آل احمد سرور، اور احتشام حسین کے چند مضامین، سردار جعفری کا ’’مقدمۂ دیوانِ غالب‘‘ اُن گنتی کی چند تنقیدوں میں شمار کیے جاسکتے ہیں جن سے غالبؔ کے فکروفن کی قدر متعین کرنے کے کام کا صحیح سمت میں آغاز ہوتا ہے۔ مستقل کتابوں میں خورشیدالاسلام کی ’’غالب‘‘ ابتدائی دور کے کلام اور ان کے مآخذ پر اور ظ ۔ انصاری کی ’’غالب شناسی‘‘ غالبؔ کے بعض اہم پہلوؤں پر مفید اور مستند کتابیں ہیں۔ قدرت نقوی کے مضامین (مطبوعہ ماہِ نو) کے علاوہ عالم خوند میری اور خلیل الرحمن اعظمی نے بھی غالبؔ پر اچھے مضامین لکھے ہیں۔ ان مضامین میں کچھ اور نقادوں کے ناموں اور مضامین کا اضافہ کرلیجیے تب بھی فہرست مایوس کن ہی رہے گی۔

دراصل غالبؔ پر کام کرنے کی راہ آج زیادہ ہموار اور روشن ہے اس لیے کہ ہم تحقیق سے ضروری مواد چُن کر الگ کرسکتے ہیں اور اگلوں کی افراط و تفریط پر نظر رکھ کر غالبؔ تک پہنچنے کی صحیح سمت اختیار کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

میرے اس مقالے کا اصل موضوع ’فکرِ غالب اور اردو تنقید‘ کاجائزہ لینا ہے اور اسی سلسلے میں غالبؔ کی فکر کے اہم سرچشموں کا سراغ لگانا بھی ہے۔ اس کام کے لیے بنیادی مواد تو غالب کی خود اپنی شاعری فراہم کرسکتی ہے، لیکن ان کے ساتھ اُن کے مکاتیب، حالاتِ زندگی، ماحول اور مطالعے کے اُن پہلوؤں کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے جنھوں نے غالبؔ کے مخصوص فکری رویوں کی تشکیل میں نمایاں حصّہ لیا ہے، انہی مآخذوں سے ان اثرات کا سراغ بھی مِل سکتا ہے جو غالب کے مخصوص طرز فکر پر اثرانداز ہوتے رہتے ہیں۔مجموعی طور پر تو یہ کہاجاسکتا ہے کہ ہندوستان کی ہند، ایرانی تہذیب کا ورثہ ہی غالبؔ کا اصلی فکری سرچشمہ ہے۔ لیکن اِس مشترکہ تہذیب میں اُن عناصر کا کھوجنا ضروری ہے جو بطورِ خاص غالبؔ کی فکر میں روشن نظر آتے ہیں۔ غالب کی شاعری کو رشیداحمد صدیقی نے بجا طور پر مغل تہذیب کا ایسا بیش بہا نمونہ قرار دیا ہے جسے تاج محل کے برابر قابلِ قدر مانا جاسکتا ہے۔ مغل سلطنت کا دور ہند ایرانی تہذیب کے عروج کا دور ہے اور غالبؔ اس دور کا وہ نقطۂ عروج پیش کرتے ہیں جس سے آگے جانا قرون وسطیٰ کی اس جاگیردارانہ تہذیب کے لیے ممکن بھی نہ تھا۔ مگر خود غالبؔ اِس تہذیب کے نمائندے ہونے کے ساتھ آنے والی نئی تہذیب اور ابھرتی ہوئی نئی اقدار کے نقیب بھی ہیں۔ مغل تہذیب جس نقطے پر آکر انحطاط کا شکار ہوگئی غالبؔ کی نظر اُس سے آگے تک گئی۔ وہ قدیم دور کے نمائندے اور جدید دور کے نقیب ہیں، اسی لیے شیخ اکرام کا یہ خیال کہ ’’غالبؔ قدیم و جدید کو ملانے والی اہم کڑی ہیں‘‘ حقائق پر مبنی ہے۔

غالبؔ کے فکری رویّوں، زندگی اور شخصیت میں ہمیں جاگیردارانہ تہذیب کی اچھی اور بُری خصوصیات کے ساتھ اس ذہن کی کارفرمائی بھی ملتی ہے جو اپنے زمانے اور ماحول کے حدود کو توڑ کر آئندہ زمانوں کے امکانات اور ان کی توانائی کو محسوس کررہا تھا۔ اُن کے یہاں قدیم اور جدید کا تصادم بھی ملتا ہے اور اس تصادم کے نتیجے میں تذبذب اور تشکیک بھی، لیکن اِس کشمکش میں اُن کا میلان کعبے کی بجاے کلیسا کی طرف اور ’’پیچھے کے بجاے آگے‘‘ کی طرف واضح طور پر محسوس کیاجاسکتا ہے۔ غالبؔ کے ناقد کے لیے کعبہ اور کلیسا ’آگے اور پیچھے‘ کی علامتوں کو سمجھنا اور ان کی تفسیر کرنا بھی ضروری ہے اور ان مخصوص رویّوں کی نشاندہی کرنا بھی لازم ہے جن سے غالبؔ کی انفرادیت بنتی ہے۔

غالبؔ سے پہلے بھی اردو شاعری میں فکری عناصر ملتے ہیں مگر ہماری شاعری پر بحیثیت مجموعی غلبہ جذبے اور احساس کی شاعری ہی کا رہا ہے اس لیے آل احمد سرور کے الفاظ میں یہ ماننا کہ ’’غالبؔ نے اردو شاعری کو سوچنے والا ذہن دیا‘‘ غلط نہ ہوگا۔ غالبؔ کی شاعری، دوسرے شعرا کے مقابلے میں ذہن کی شاعری ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ ان کی شاعری جذبے اور احساس سے عاری ہے، صحیح نہ ہوگا۔ شاعری اور ادب کے عناصرِ ترکیبی میں خیال یا فکر پر جذبے اور احساس اور تخیل کو اولیت حاصل ہے۔ صناعی بھی شاعری کی ایک لازمی شرط ہے اس لیے کسی اچھے شاعر سے بحث کرتے ہوئے ہم یہ مان کر چلتے ہیں کہ اس کی اچھائی اور بُرائی کا دارو مدار ان لازمی اجزاے ترکیبی کے متناسب امتزاج ہی پر ہے۔ غالبؔ کے یہاں جذبہ اور احساس بھی ہے اور صنّاعی بھی۔ غالبؔ کی فکر پر زور دینے کا مقصد دوسرے شاعروں کے مقابلے میں اُن کی انفرادیت کی نشاندہی کرنا ہے، جذبے احساس اور صناعی کی نفی کرنا نہیں۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ غالب کی شاعری ذہن کی شاعری ہے،تو ہمارا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اُن کے یہاں وہ ذہنی توانائی اور فکری شان ملتی ہے جو اُن کے علاوہ دوسروں کو کم میسر آئی۔ اسی طرح جب ہم یہ کہیں کہ میرؔ کی شاعری جذبے کی شاعری ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اُن کے یہاں سوچنے والے ذہن کی کارفرمائی نہیں۔ میرؔ کے یہاں ایسے فکر انگیز اشعار قابلِ لحاظ تعداد میں نکالے جاسکتے ہیں جو غالب کے منتخب فکری اشعار کے پہلو بہ پہلو رکھ دیے جائیں تو میرؔ کا پلہ ہلکا نہ ہوگا۔ اس کے باوجود میرؔ کی شاعری کا غالب عنصر جذبہ ہے اور جذبے پر زور دے کر ہم میرؔ کی انفرادیت کا تعین کرنے میں مدد لیتے ہیں۔ اسی نقطۂ نظر سے غالبؔ کے یہاں جذبے کے ایسے چمکتے ہوئے نشتر ڈھونڈنا مشکل نہیں جو اردو کے اس قبیل کے بہترین اشعار کے ہم پایہ ہوں، پھر بھی غالب کی انفرادیت ان کے فکری اشعار سے جتنی نمایاں ہوتی ہے، ان اشعار سے نہیں ہوتی۔ میرؔ اور غالبؔ کے اس فرق کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ میرؔ کے یہاں فکر بھی جذبہ بن جاتی ہے اور غالبؔ کے یہاں جذبے میں بھی فکر کی پرچھائیاں نظر آتی ہیں۔

ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ کا یہ بیان کہ ’’شاعری میں فکر نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی بلکہ گہرا اور قطعی جذبہ ہی فکر کا روپ دھارلیتا ہے‘‘ ایک حد تک صحیح ہے۔ شاعری اور فلسفے میں بنیادی فرق یہی ہے کہ فلسفہ عقل کی پیداوار ہے اور شاعری جذبے کا نتیجہ ۔ بڑا شاعر یادوسرے الفاظ میں مفکر شاعر، جذبے اور فکر کی دوئی کو مٹا دیتا ہے اُس کے یہاں جذبہ فکر اور فکر جذبہ بن جاتا ہے۔ میرؔ اور غالبؔ دونوں کے یہاں تفکر ہے مگر میرؔ کی فکر کا سرچشمہ جذبہ ہے اور غالبؔ کی فکر جذبے سے ماورا ایک غیرجذباتی سطح سے پھوٹتی ہے۔ اس لیے غالبؔ فلسفی نہ ہونے کے باوجود شاعری میں فلسفیانہ ذہن کے نمائندے بن جاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ اگر ہم جذبے اور احساس کے اس فرق کو بھی تسلیم کرلیں کہ ایک محدود مفہوم میں جذبے کا رُخ داخل کی طرف ہوتا ہے اور احساس کا خارجی دُنیا کی طرف تو ہم دیکھیں گے کہ غالبؔ کا طرز احساس میرؔ کے مقابلے میں خارج کی حقیقتوں، رنگوں اور خوشبوؤں کو اپنے اندر سمیٹنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے اور میرؔ کا طرزِ احساس جذبے کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے خارج کے مطابق رنگوں اور خوشبوؤں کا جو اثر قبول کرتا ہے وہ محض گریزاں ہے۔ یہ کہنا تو نفسیاتی حقیقت کے خلاف ہوگا کہ جذبہ موضوعی ہوتا ہے اور احساس معروضی۔ کیونکہ جذبہ اور احساس دونوں اپنی اصل داخلی حالتوں کے نام ہیں۔ دونوں کے محرکات خارج میں ہوتے ہیں، فرق یہ ہے کہ احساس جذبے کے بعد کی کیفیت ہے جس میں جذبے کی تشفّی کے راستوں اور تشفّی کے معروضات کا علم بھی ایک حد تک شامل ہوتا ہے۔ جذبے کی سطح پر عقل اور ادراک کا عمل بہت کمزور بلکہ ایک حد تک معدوم ہوجاتا ہے۔ احساس کی سطح پر عقل اور ادراک پھر بیدار ہونے لگتے ہیں اس لیے غالب کی شاعری جذبے سے زیادہ احساس کی شاعری ہے، اسی سطح کی شاعری جہاں عقل اور ادراک ازسرنو بروے کار آتے ہیں، اسی لیے غالبؔ کے یہاں جذبہ، شعور اور ادراک کے تابع نظر آتا ہے۔ شاعری میں فکر استدلالی نہیں بلکہ محسوسی فکر ہوتی ہے۔ غالبؔ کے یہاں احساس اور فکر دونوں شانہ بہ شانہ چلتے ہیں اور یہی چیز انھیں اپنے پیشرووں سے ممتاز کرتی ہے۔

غالبؔ کی فکر کا جائزہ لینے کے معنی یہ ہیں کہ ان کے حواس (جو ادراک کا ذریعہ ہیں) کی بیداری، شعور اور بصیرت کے ساتھ اُن کے مخصوص طرزِ احساس کا بھی تجزیہ کیا جائے۔ شاعری میں مجرد فکر یا فلسفہ و سائنس کی استدلالی عقل، جسے اقبالؔ کے الفاظ میں حضور کی دولت نصیب نہیں، کوئی مقام نہیں رکھتی۔ شاعری میں وجدان بھی ، جو حواس خمسہ کے علاوہ ایک اور ذریعۂ علم ہے، اہمیت رکھتا ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ غالبؔ وجدان کی سطح پر بھی کس حد تک عقل کے ہم نوا ہیں اور کس حد تک مخالفِ عقلیت (anti-intellectual) رجحانات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ غالبؔ کی فکر میں عقلی میلانات کے ساتھ ہر تخلیقی فنکار کی طرح ایسے مخالفِ عقل رویّے بھی ملتے ہیں جو بیسویں صدی کے بعض جدید مکاتیب فلسفہ سے انھیں قریب کررہے ہیں۔ غالبؔ کے اس خلافِ عقلیت رجحان کا سب سے بڑا باعث ان کا متصوفانہ میلان ہے جو آج کی فلسفیانہ اصطلاح میں وجودی تجربے (existential experience) کے مترادف قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں غالبؔ کا وحدت الوجودی تصورِ حیات و کائنات بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ غالبؔ کے فکری سرچشموں میں بنیادی حیثیت ان کے متصوفانہ طرزِ فکر و احساس کو حاصل ہے۔ تصوّف کے متعلق اُن کے مخصوص رویّوں کو سمجھے بغیر غالبؔ کی فکر کا تجزیہ ممکن نہیں۔ غالبؔ کی عقلیت اور تصوف میں ایک اندرونی ربط ہے اسی ربط کی وجہ سے اُن کے یہاں عقل و وجدان، یا عقل و خلافِ عقل (reason and unreason) اور عقلی اور غیرعقلی (rational and irrational) کا تضاد اور دوئی (dichotomy) ایک نامیاتی کل کے دو لاینفک اجزا بن کر تحلیل ہوجاتی ہے۔ یہ دو الگ رنگ نہیں رہتے، ایک ہی روشن انعکاس کے دو ایسے آئینے بن جاتے ہیں جو روبرو رکھّے ہوں۔

غالبؔ پر ابتداے عمر میں جو اثرات مرتب ہوئے اُن میں بیدلؔ کے علاوہ نظیریؔ، ظہوریؔ، عرفیؔ، فیضیؔ اور پھر صائب، غنی، ناصرعلی، شوکت، جلال اسیر کا فنّی رویہ نمایاں ہے۔ اردو شعرا میں وہ میرؔ کی استادی کے قائل ہیں، ناسخؔ نے بھی شاید انھیں اپنی مشکل پسندی کی وجہ سے بہت عارضی طور پر اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ انیسؔ کے میدان مرثیہ گوئی کو انھوں نے چند قدم چلنے کے بعد یہ سوچ کر چھوڑ دیا کہ   ؎

بھلا ترددِّ بے جا سے اس میں کیا حاصل

اٹھا چکے ہیں زمیندار جن زمینوں کو

قصیدے میں وہ سوداؔ اور ذوقؔ کے قدم بہ قدم چلے۔ مثنویات (فارسی) میں انھوں نے اپنے لیے اردو کی روایت سے ہٹ کر راہ نکالی ’’ابر گہربار‘‘ اور اس کا شاہکار حصہ ’’مغنّی نامہ‘‘ ان کے اجتہادِ فن و فکر کے شاندار کارنامے ہیں۔ اردو میں مثنوی کی روایت میرؔ سے ہوتی ہوئی میرحسن تک پہنچی تھی، یہ روایت عشقیہ شاعری کی تھی۔ غالبؔ نے مثنوی کو فکر کی گہرائی سے آشنا کیا اور عشق کے متصوفانہ تصورات سے آگے بڑھ کر عقل و خرد کی قصیدہ خوانی کی۔ ان اصناف سے قطع نظر غالبؔ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ غزل ایسی محدود تنگناے کو اپنے شوق کے بقدر وسعت دی اور اُسے جذبے کے ساتھ ذہن کی زبان میں بات کرنے پر بھی قادر کردیا۔

اردو کے جس شاعر پر عام طور سے، غالبؔ کے سلسلے کا سراغ لگانے میں، نظر نہیں رُکتی، وہ خواجہ میردردؔ ہیں۔ حالانکہ اگر دردؔ اور غالبؔ کی ہم طرح غزلوں اور تراکیب و الفاظ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ غالبؔ نے دردؔ سے گہرا اثر قبول کیا تھا۔اس کا سبب یہ ہے کہ اردو کے قدیم شعرا میں دردؔ بھی اکیلے شاعر ہیں جنھوں نے غزل سے ایک مشکل اور منضبط نظامِ تصوّف کی ترجمانی کا کام لینا چاہا تھا۔ اُن کی زبان میں بھی فکر کا بوجھ سہارنے کی قوت تھی۔ غالبؔ جو غزل کی زبان سے ذہن کی ترجمانی کا کام لینا چاہتے تھے، دردؔ سے غیرمتاثر نہیں رہ سکتے تھے۔ دردؔ کے اشعار میں ایسے مابعدالطبعیاتی مسائل بھی شعر کے قالب میں نظر آتے ہیں جنھیں دردؔ سے پہلے اور بعد بھی غزل کی زبان کا جامہ نہ پہنایا گیا تھا۔ دردؔ صوفی تھے، لیکن اُن کی شاعری کا حقیقی رنگ عشقیہ شاعری میں نمایاں ہوتا ہے۔ اُن کے متصوفانہ یا فلسفیانہ اشعار فنّی لحاظ سے کمزور ہیں اور تغزل کی کیفیت سے بڑی حد تک عاری۔ اس کے باوجود دردؔ کی یہ کوشش اپنی جگہ اہم تھی اور بعد میں اس کے راستے پر چلنے والوں کے لیے نقشِ قدم کی طرح رہنمائی کرنے کے لیے کافی تھی۔ غالبؔ نے دردؔ کے اِس تجربے سے پورا فائدہ اٹھایا۔ تفصیلات کو بعد کے لیے چھوڑکر اس جگہ میں اتنے اشارے پر اکتفا کروں گا۔

فارسی کے شاعروں میں ذہنی لحاظ سے غالبؔ پر دو شعرا کا اثر واضح ہے۔ ایک بیدلؔ ، جن کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے غالبؔ ایسے بُت شکن کی زبان نہیں تھکتی، دوسرے فیضیؔ، حالانکہ فیضیؔ کا ذکر غالبؔ نے شاید ہی ایک دو مقامات پر کیا ہو۔ لیکن غالبؔ کے یہاں روشن خیالی، وسیع النظری اور وسعتِ مشرب کے ساتھ تشکیک اور کفر کو ایمان بنانے کا حوصلہ رکھنے والی خصوصیات فیضیؔ کے ذہن کا پرتو معلوم ہوتی ہیں۔ فیضیؔ کا براہِ راست نہ سہی، پھر بھی غالبؔ کا اِن خصوصیات میں اگر کوئی اور شریک ہے تو وہ فیضیؔ ہی ہیں۔ شیخ اکرام نے تو فیضیؔ کا ذکر کیا ہے مگر غالبؔ کے کسی اور نقاد یا شارح نے فیضیؔ اور غالبؔ میں جو مشترک اقدار ہیں اُن کی طرف سرسری توجہ بھی نہیں کی۔

غالبؔ پر دوسرے شعرا کے اثرات کا کھوج لگانے کے معنی یہ نہیں کہ غالبؔ کی فکر ان سب سے مستعار ہے۔ غالبؔ نے ہر پڑھے لکھے ذہن اور سوچنے والے انسان کی طرح اپنے عملی، تہذیبی اور شعری ورثے سے استفادہ کیا ہے۔ اُن کے چراغ میں کئی چراغوں کی لویں محفوظ ہیں۔ مگر اس چراغ کی روشنی کا حقیقی مصدر غالبؔ کا اپنا ذہن ہے، جو اپنے تمام پیشرووں سے زیادہ وسیع، دُوربیں اور کشادہ تھا۔ بیدلؔ، فیضی،ؔ میرؔ، دردؔ سب اپنے زمانے اور حالات کے حصار میں محصور رہے جب کہ غالبؔ نے زماں اور مکاں کی حدود کو توڑ کر آفاقیت کی حدود کو چھُولیا۔ غالبؔ کا تصوّرِ حیات و کائنات آئندہ زمانوں کی پیش بینی میں اپنے تمام ماخذوں سے زیادہ لچکدار اور وسیع تھا۔ اسی لیے ان کے پیشرو، جن سے خود غالبؔ نے اثر قبول کیا قدیم کی حدوں میں ہی رہے مگر غالب جدید کی دہلیز تک پہنچے اور آئندہ امکانات کی آہٹوں کو سننے میں کامیابی حاصل کی۔

غالبؔ کی فکر کے جن اجزا کو میں اہمیت دیتا ہوں اُن کی ترتیب یہ ہوگی:

1۔غالب کی متصوفانہ فکر

2 ۔ غالب کی عقلیت اور تشکیک

3 ۔ غالب کا تصوّرِ حیات، جس میں اُن کی لذت کوشی اور حقیقت پسندی realismکو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اس کے نتیجے کے طور پر

4 ۔ غالب کے یہاں جدید ذہن کی پیش بینی کی صلاحیت

ان اجزا کو سمجھنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہر عنوان کے تحت اُن فکری سرچشموں کا بھی سُراغ لگایا جائے جن کے اثر سے غالبؔ کے مخصوص ذہنی رویّوں کی تشکیل و تعمیر ہوئی ہے۔ اِس ذیل میں علمی اور تہذیبی ورثے کو بھی بنیاد بنانا مناسب ہے، مختلف پیش رو شعرا کے اثرات کا ذکر بھی اس ذیل میں کیاجاسکتا ہے۔

اِس فکری جائزے کے اپنے حدود ہیں، اس لیے میں غالبؔ کے فنی کمالات کا ذکر محض ضمنی طور پر کروں گا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہ لینا چاہیے کہ کسی شاعر کے یہاں فن اور فکر کو دو الگ الگ خانوں میں تقسیم کر کے سمجھا جاسکتا ہے۔ فن اور فکر دونوں ایک دوسرے سے وہی مناسبت رکھتے ہیں جو مادّے اور صورت (content and form) کے درمیان ہیں۔ مادّے کا تصوّر بغیر صورت کے اور صورت کا وجود بغیر مادے کے ممکن ہی نہیں۔ ہم اِن میں سے ہر ایک کو دوسرے کی وساطت سے بھی دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ مجھے اپنے موضوع کے حدود کو ملحوظ رکھنے کے لیے فنی پہلوؤں کو نظرانداز کرنا پڑا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کسی شاعر کی فکر کی اہمیت محض اس لیے ہوتی ہے کہ وہ اول و آخر شاعر ہے۔ اس لیے شاعر کی فکری عظمت کا سب سے بڑا راز اس کی فنکارانہ خلاّقی میں مضمر ہے۔ جو باتیں تصورات اور مسائل نثر کی سیدھی سادی استدلالی زبان میں عامۃ الورود معلوم ہوتی ہیں فن کی کسوٹی پر کس کر، جذبے کی آگ میں تپ کر اور شاعر کے خوابوں کا رنگ پاکر پیمبرانہ بصیرت کی حامل بن جاتی ہیں۔ غالبؔ کا کمال یہی ہے کہ انھوں نے اپنی بصارت کو بصیرت اور اپنی لذت کوشی کو ابدی مسرّت کا خزینہ بنادیا۔ وہ ہمارے لیے بھی اتنے ہی اہم ہیں، جتنے اپنے زمانے کے لیے تھے۔ اسی لیے اُن کی فکر جو ’’گرمیِ نشاطِ تصوّر‘‘ کا نغمہ ہے ان کی زندگی تک ناآفریدہ زمانوں کے لیے زیادہ کشش رکھتی ہے۔ غالبؔ شناسی کا حقیقی کام بیسویں صدی میں ہوا ہے اور غالبؔ کو پہچاننے میں اُن نئے معیاروں اور اقدار نے مدد دی ہے جو غالبؔ کے لیے ناآفریدہ تھے اور ہمارے لیے عہد آفریں ہیں۔

غالبؔ کی شاعری میں اُن کی فکر کو بنیادی اہمیت دینے کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ یہی خصوصیت انھیں اردو اور فارسی کے دوسرے شعرا سے ممتاز کرتی ہے۔ جہاں تک فنّی درو بست کا سوال ہے میر،سودا، میرحسن، انیس ہی نہیں، بلکہ آتش، ناسخ، مصحفی اور انشا بھی فن کے قواعد کا علم غالبؔ کے برابر ہی رکھتے تھے اور انھیں برتنے میں بھی قادر تھے۔ جہاں تک زبان کے صرف کا سوال ہے غالبؔ کی زبان آج بھی اُن سے کم درجے کے شعرا آتش، ناسخ، ذوق، مومن ہی نہیں بلکہ داغ اور امیر مینائی کے مقابلے میں سند کے طور پر پیش نہیں کی جاسکتی۔ غالب کے یہاں زبان کے مقام ہی نہیں بلکہ ایسے اشکال بھی ہیں جو شعر کو چیستاں بنادیتے ہیں اور ابتدائی دور کے بعض اشعار پر تو اہمال کا بھی گمان گزرتا ہے۔ اس کے باوجود غالب ان سب سے اہم ہیں اور اِس کا راز یہی ہے کہ اُن کی فکر اِن تمام شعرا سے زیادہ بسیط، وسیع اور گہری تھی۔ غالب کے یہاں زبان کا وہ جامد تصوّر نہیں ملتا جو شاعری کو محض لفظی شعبدہ بازی اور قافیہ پیمائی بنا دیتی ہے۔ غالب کی زبان کو روایت پرست زباں داں سند نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ غالب نے اردو شاعری کو جو زبان دی وہ اپنی دشواریوں کے باوجود، اردو شاعری کی نئی سمتوں میں توسیع کرنے کی، دوسرے شاعروں کی زبان سے زیادہ صلاحیت رکھتی تھی۔ اس میں بوجھ اٹھانے کی وہ توانائی تھی کہ اقبال ایسے فلسفی کو بھی غالب سے زبان مستعار مانگنی پڑی۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اردو شاعرانہ خصوصیات میں تو غالب کے شریک مل جائیں گے مگر فکر کی حد تک غالب آج بھی اردو شاعری میں شریکِ غالب ہی نظر آتے ہیں۔ غالب کو اِس معاملے میں اقبال پر بھی اِس لحاظ سے فوقیت حاصل ہے کہ غالب کا ذہن نابستہ non-conformist اور اقبال کا بستہ conformist ہے۔ غالب کی یہ خصوصیات انھیں ہمارے زمانے کے لیے اقبال کے مقابلے میں بھی زیادہ قابلِ قبول بنادیتی ہے۔ اقبال کی شاعری اور فکر کا بڑا حصّہ آج رد کیاجاسکتا ہے اِس لیے کہ اُن کے تصورات ایک مخصوص و محدود نظامِ فلسفہ کے پابند ہوگئے تھے۔ مگر غالب آج بھی کُل کے کُل قابلِ قبول ہیں۔ غالب قدما میں آخری قدیم ہیں اور جدیدوں میں پہلے جدید۔ اِس لیے اُن کی فکر کا مطالعہ کیے بغیر نہ تو قدیم کا عرفان مکمل ہوسکتا ہے نہ جدید کو سمجھا جاسکتا ہے۔ وہ جدید اور قدیم کو ملانے والی ایسی کڑی ہیں جو قدیم اور جدید کے صحت مند رشتے کو سمجھاتے ہیں اور جدید کے لیے قدیم سے انحراف کے علاوہ حدود متعین کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ غالب کو اپنی اِس حیثیت کا احساس تھا اس لیے انھوں نے جو دعویٰ کیا تھا اُس کی صداقت آج ہم پر روشن ہورہی ہے   ؎

گر شعر و سخن بدہر آئیں بودے

دیوان مرا شہرتِ پرویں بودے

غالبؔ اگر ایں فنِّ سخن دیں بودے

آں دین را ایزدی کتاب ایں بودے

اردو شاعری اور ہندوستانی تہذیب کے نشاۃ الثانیہ پر اگر ایمان لانا ہے تو غالبؔ کا دیوان ہی اِس کا سچا وسیلہ ہوسکتا ہے۔ اُن ہی کی فکر نے حالیؔ اور سرسیّد کی مقصدی تحریک، اقبال کے فنّی اجتہاد، ترقی پسند تحریک کی بغاوت اور جدید ادب کی انحراف پسندی کو یہ نکتہ سمجھایا اور ہر نئے تجربے کے لیے جواز فراہم کیا   ؎

با من میاویز اے پدر، فرزندِ آذر را نگر

آں کس کہ شد صاحب نظر دینِ بزرگان خوش نہ کرد

ہمارے بارے میں admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے