مرکزی صفحہ » تاریخ » غیاث الدین بلبن خورد

غیاث الدین بلبن خورد

از منتخب التواریخ

الغ خانی خطاب تھا 664 ھ/ 1265ء میں تمام امراء اور ملوک کی رائے سے قیصر سفید میں اس نے تخت سلطنت کو زینت بخشی۔ یہ سلطان التمش کے ان چالیس غلاموں میں سے تھا جن میںسے ہر ایک منصب امارت پر فائز ہوا۔جب کہ وہ ابھی الغ خاں تھا اور مملکت کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں تھی اس نے حکمرانی پر بخوبی قابو پالیا تھا۔ وہ رذیلوں کو کبھی اپنے حکمرانی اور دیگر معاملات میں مداخلت کا موقع نہیں دیتا تھا۔ کہتے ہیںکہ فخر نامی ایک رئیس سالہا سال تک اس کی ملازمت میں رہا ایک مرتبہ اس نے سلطان کے مقربین میں سے ایک تک کسی طرح رسائی پیدا کرلی اور اس سے یہ التجا کی کہ اگر اسے ایک بار سلطان غیاث الدین کے ساتھ بات کرنے کا موقع مل جائے تو وہ اپنی تمام قیمتی چیز خواہ وہ جاندار ہو یا بے جان اس کے بدلے میں دے دے گا۔ جب اس التجا کی خبر سلطان کے کانوں تک پہنچی تو اس نے اسے گوارہ نہیں کیا۔ اس نے یہ کہلا بھیجا کہ سفلوں اور رذیلوںکے ساتھ بات کرنا اس کی شان کے خلاف ہے وہ ظلم و تشدّد کے سخت خلاف تھا۔ ان میں سے ایک دو کو تو مدعیوں کے حوالے کر دیا گیا تاکہ وہ خود اُن سے قصاص لیں۔ جن امیروں نے زر قصاص ادا کر دیا وہ جب تک زندہ رہے شرم کے مارے اپنے گھر سے باہر نہ نکلے یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہوگیے:

نامداری بعدل و داد بود

ظلم و شاھی چراغ و باد بود

]اس کے عدل و انصاف و داد کی شہرت ایک مثال ہے کیونکہ بادشاہت اور ظلم میں وہی تعلق ہے جو چراغ اور ہوا میں ہوتا ہے۔[

اس کے تمام اوصاف حمیدہ کا اس سے اندازہ کیا جاتا ہے کہ وہ کبھی بے طہارت نہیں رہتا تھا اور مجالس وعظ میں بے حد گریہ و زاری کیا کرتا۔ مگر ان تمام باتوںکے ساتھ ہی وہ سرکشوں اور باغیوں کا سر کچلنے میں بڑی سختی کرتا تھا:

فِرّ کیخسروی ازین جاہ نواست

کہ جہان را بہ علم و عدل آراست

روز خلوت گلیم پوشیدی

ھم نازو نیاز کو شیدی

روی برریگ و دل چو دیگ بجوش

دل سخن گستر و زبان خاموش

تابدیدی دلش بدیدہ راز

دید پنہانی این نشیب و فراز

]اس کی عظمت اور بزرگی و بادشاہی کا شکوہ قابل بیان ہے کہ جس نے دنیا کو اپنے علم و انصاف سے سنوارا ہے جب وہ تنہائی میں ہوتا ہے تو گلیم (فقیری لباس) پہنتا ہے اور نازو نیاز میںمشغول رہتا ہے دل کو معاملات دنیا سے جدا اور دل کو دنیا سے بیزار اور جس طرح کہ کسی دیگ میں جوش آتا ہے اسی طرح سے خود کو الگ تھلگ کیے رہتا ہے دل سے وہ سب کچھ بیان کر دیتا ہے مگر زبان خاموش رہتی ہے تم جب تک اپنی آنکھوں سے اس کے دل تک پہنچوگے تو اس کے معاملات میں نشیب و فراز کی پوشیدگی پر تمہارری نظر پڑسکتی ہے۔[

اسی سال تاتار خاں جو ارسلان خاںکا لڑکا تھا، اُس نے لکھنوتی سے 63 ہاتھی بطور تحفہ بھیجے اور اسی سال نیپالی 8؎ اور کنپلہ 9؎ جاتے ہوئے بھوجپور 10؎، کچھ، نیپالی اور کنپلہ کے قلعے مسخر کیے۔ پانچ ہزار سوار کے ساتھ جود پہاڑ کی مہم کی تیاری کے بہانے اس نے دریائے گنگا عبور کیا۔ دہلی کی روانگی سے دو روز قبل وہ کا تیر 11؎ کے علاقے میں پہنچ گیا جہاں اس نے ہر مرد کو قتل کر دیا یہاں تک کہ آٹھ سال کے بچے کو بھی نہیں چھوڑا اور عورتوں کو قید کر دیا۔ اس علاقے کے باشندوں کو اس نے ایسی سزائیں دیں کہ جلال الدین کے عہد تک بدایوں اور امروہہ کی مملکت کایتھروں کے شر سے محفوظ رہی۔بہار، جونپور اور مشرقی ہندستان جانے والے تمام راستے جو پہلے بند تھے، اس نے ان سب کو کھول دیا نیز میوات کی مملکت جو دو آبہ کے درمیان واقع ہے اسے طاقتور سرداروں کے سپرد کیا اور ان کو حکم دیا کہ باغیوں کو قتل کر دیں۔ حکم کی تعمیل کی گئی اور کچھ باغیوں کو قید بھی کیا گیا اس کے بعد سلطان نے سنتور کی پہاڑی کے دامن میں آباد علاقے پر چڑھائی کی اور وہاں ایک قلعہ تعمیر کیا۔ سلطان معزالدین بہرام شاہ کے عہد حکومت میں یہ علاقہ مغلوں کے ہاتھوں بری طرح ویران ہوا تھا اور اس وقت تک اسی حالت میں برقرار تھا اور یہیں سلطان بیمار پڑ گیا۔ اس کی بیماری کی خبر جب لکھنوتی پہنچی تو طغرل خان جو نائب امین خان جسے شیرخان کے بعد وہاں کا حاکم مقرر کیا گیا تھا، سرکشی کی اور اپنے مالک امین خان کے خلاف بغاوت کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ امین خان نے اسے شکست دی اور اسے قید کرنے کے بعد شان و شوکت سے شاہی سازوسامان پر قبضہ کر لیا اور اس نے اپنا لقب سلطان معزالدین رکھا۔ سلطان غیاث الدین بھی طغرل کے خلاف فوج لے کر پہنچا تھا مگر وہ جاج نگر اور تارکیلہ کی جانب نکل گیا اس لیے ملک اختیارالدین برلاس کو اس کے تعاقب کا حکم دیا گیا۔ سنارگائوں کے راجہ دھنوجؔ نے سلطان کو یہ پیش کش کی کہ وہ طغرل اور ملک اختیارالدین کو پکڑ کر لائے گا۔ طغرل جنگل کی جانب بھاگ گیا تھا۔ ایک روز غفلت میں پا کر اس کا سر کاٹ دیا اور اسے سلطان کی خدمت میں بھیج دیا۔ سلطان نے وہ مملکت اپنے بڑے بیٹے بغرا خان، جو کہ سامانہ کا حاکم تھا اُس کو چتر اور عصائے اختیار کے ساتھ دے دی۔ بغراخان بعد میں سلطان ناصر الدین کے خطاب سے مشہور ہوا۔ اس کے بعد سلطان پایہ تخت کو واپس لوٹ گیا۔ چونکہ شیرخان کی وفات کے بعد مغلوں کی آمد و رفت کا راستہ کھل گیا تھا۔ واضح رہے کہ بغرا خاں شیر خان کا چچا زاد بھائی اور سلطان شمس الدین التمش کے چالیس غلاموں میں سے تھا۔ 12؎ اسے لاہور اور دیپال پور کا گورنر مقرر کیا گیا تھا اور اس نے غزنی میں سلطان ناصرالدین کے نام کا خطبہ بھی پڑھوایا تھا۔ اس کے عہد میں مغلوں کی اتنی جرأت نہ تھی کہ وہ ہندستان کا رخ کرتے مگر اس کی وفات کے بعد وہ بات قائم نہ رہ سکی اس لیے سلطان بلبن نے اس فتنے کے تدارک کے لیے اپنے بڑے بیٹے سلطان محمد کو جو خان شہید اور قآن ملک کے خطاب سے نوازا تھا۔ چتر، عصا و اختیار سلطنت کے دوسرے امتیازی نشانات اور ساز و سامان دے کر ولی عہد بنایااورسندھ اس کے سپرد کر کے ملتان بھیجا۔ ٹھٹھہ تک کا تمام علاقہ اور سمندری کنارہ اس کے قبضے میں تھا۔ امیر خسرو دہلوی اور امیر حسن دہلوی ملتان میں پانچ سال تک اس کی خدمت میں رہے اور ان کا شمار قریبی دوستوں کے زمرے میں ہوتا تھا۔ سلطان نے ملتان سے دو مرتبہ بے شمار سونے اور دوسرے قیمتی چیزیں شیراز بھیجیں اور شیخ سعدی سے آنے کی درخواست کی۔ شیخ نے پیرانہ سالی کا عذر کیا اور خط میں اس نے سلطان کو یہ مشورہ دیا کہ امیر خسرو کی اچھی طرح خاطر و مدارات کی جائے اس کے علاوہ امیر خسرو کی بہت تعریف کی اور اپنے ہاتھ سے تعریف کے اشعار لکھ کر بھیجے۔ سلطان محمد کا معمول تھا کہ ہر سال سلطان بلبن کو دیکھنے کے لیے دہلی آتا اور خلعت اور انعام واکرام سے مالا مال ہو کر واپس جاتا۔ آخری بار جب کہ ان کی آپس میں ملاقات ہوئی تھی سلطان نے خلوت میں سلطان محمد کو کچھ نصیحتیں کیں اور اسے لاہور روانگی کی اجازت دے کر ملتان روانہ کیا۔ اسی سال ایتمر مغل نے تیس ہزار سواروں کے ساتھ دریائے راوی کولاہور کے پُل کے ذریعہ عبور کیا اور اس شہر میں ایک بڑے فتنے کو انجام دیا۔ لاہور کے حاکم نے اس بات کی اطلاع خان شہید کو لکھ بھیجی مگر اس نے اپنی مجلس میں جب خط پڑھ کرسنایا تو بجائے تیس ہزار بڑی فوج لے کر تیزی سے سریر 13؎ پہنچا۔ جو راوی ندی پر تھا وہ کفر سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوا۔ یہ واقعہ ماہ ذی الحجہ 683 ھ/ 1283ء 14؎ میں رونما ہواتھا۔ اس سلسلے میں امیر حسن دہلوی 15؎ نے ایک مرثیہ میں لکھ کر دہلی بھیجا ۔

امیر خسرو کی گرفتاری

اس لڑائی میں امیر خسرو بھی سلطان محمد کے ساتھ تھے۔ انھیںایک مغل سردار کے غلام نے گرفتار کر لیا۔ وہ ظالم ان کے سر پر اپنے گھوڑے کے کھانے کا جھول اٹھوایاکرتا تھا۔ اس سارے واقعہ کو انھوں نے نہایت پر اثر انداز میں قلم بند کیا ہے۔ انھوں نے سلطان کی شہادت کے متعلق دو مرثیے بھی لکھے ہیں۔16؎ ان کی پہلی نظم کا مطلع ہے:

منکہ بر سر نمی نہادم گل

بار بر سر نہاد و گفتا جل

]میں نے سر پر کوئی پھول نہیںڈھویا ہے سچ بات تو یہ ہے کہ میںنے سر پر بوجھا اٹھایاہواتھاجس طرح سے گھوڑے اور گدھے جھول میں سامان ڈھوتے ہیں۔[

جب یہ دہلی پہنچا تو ایک مہینے تک لوگ انھیں مجلسوں میں پڑھتے اور اپنے ہلاک ہونے والے عزیزوں کویاد کرکے روتے رہے۔

بلبن کی وفات

جب سلطان بلبن کواس شکست اور سلطان محمد کی شہادت کی اطلاع ملی تو اسے بہت صدمہ ہوا اور بہت دنوں تک اس کے ماتم میں کھویا رہا۔ ان مراسم سے فراغت ہوئی تو اس نے اپنے دوسرے لڑکے بغرا خاں جسے ناصر الدین کاخطاب دے کر لکھنوتی کی حکومت عطاکی تھی خط لکھا کہ ’’تمہارا بھائی اس طرح مارا گیا اب تم ہی اس کے قائم مقام ہو اور اب تمہاری ہی صورت دیکھ دیکھ کر اس غم کو بھلانا چاہتا ہوں اس لیے تم فوراً ہی یہاں چلے آئو۔‘‘ بغراخاں کو لکھنوتی میںمستقل حکومت ملی ہوئی تھی اور وہاںاس کادل لگ گیاتھا اس لیے اس نے باپ کے بلانے پر پس وپیش کیا اور آنے میں کافی دیر کردی۔ بادشاہ نے اسے تاکیدی خطوط لکھے تووہ دل برداشتہ دہلی پہنچا لیکن حوصلہ آزمائی کی امنگ اورحکومت کی چاٹ ایسی لگی تھی کہ جب تک دہلی میںرہا اس کادل گھبرا تا ہی رہا۔ آخر ایک مرتبہ شکار کا بہانہ کرکے چند سرداروں اور مصاحبوںکے ساتھ شہر سے باہر آیا اور شکارگاہ سے سیدھا لکھنوتی چلاگیا۔

بیٹے کی موت نے بوڑھے بلبن کو بہت حد تک توڑدیا تھا اس کی عمر بھی اَسّی سے کچھ اوپر ہی ہوچکی تھی چنانچہ اس نے محمد خان شہید کے بیٹے کیخسرو کو خسروخاں کا خطاب اور تمام لوازمات سلطنت عطا کیے اور اپنا ولی عہد بنا لیا۔ ملتان کا علاقہ اسے بطور جاگیر کے دے دیا اور وصیت کی کہ بغراخاںکے بیٹے کیقباد کو اس کے باپ کے پاس لکھنوتی بھیج دیا جائے۔ اس سارے انتظامات سے فراغت کے بعد وہ صرف تین دن اور زندہ رہا اور بائیس سال چند ماہ کی حکمرانی کے بعد 686 ھ/ 1287ء میں عالم جاودانی کو کوچ کرگیا۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

معزالدین کیقباد

از منتخب التواریخ سلطان بلبن نے خسرو خان کو اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *