مرکزی صفحہ » فکشن » افسانے » شیشے کے گھر جو ٹوٹ گئے

شیشے کے گھر جو ٹوٹ گئے

قرۃالعین حیدر

جب وہ پہلی بار وہاں گیا تو اس نے دیکھا تھا کہ ہر طرف آم کے باغ حد نظر تک پھیلے ہوئے تھے۔ اور ان کے درمیان سے گھاگھرا خاموشی سے بل کھاتی، لہراتی گزرتی تھی۔ اور ایک صاف شفاف کول تارکی چوڑی اور طویل سڑک تھی جس پر سے اکثر ٹن ٹن کرتے ایکے اور شورمچاتی لاریاں نکل جاتی تھیں۔ اور تمباکو اور ارہر کے کھیتوں کے پرے ایک نہر جو گھاگھرا میں سے نکالی گئی تھی، اور نہر کے پاس ہائیڈرو الیکٹرک کا چھوٹا سا پاور ہائوس ، نہر کے کنارے ایک پھونس کی چھت کا ڈاک بنگلہ بھی تھا جس میں کبھی کبھی سپرنٹنڈنٹ انجینئر آکر ٹھہرتا یا پکنک منانے والے منچلوں کی ٹولیاں یا یو ۔ ٹی ۔ سی کے دستے رک جاتے۔ پھر آم کے کنجوں کے چاروں طرف کچی منڈیروں کے ساتھ ساتھ ایکھ کے جھنڈ کھڑے تھے۔ وہاں پر خوب ہریالی تھی۔ اور ٹھنڈک اور سکون اور کیلے کے درختوں میں چھپے ہوئے ٹھاکر راجندر پرتاپ سنگھ کے پرانے مندر کا بدرنگ سا جھنڈا پروائی ہوا میں لہراتا رہتا تھا۔ مندر کے بڑے دروازے کا رخ ٹھاکر صاحب کی نئی کوٹھی کی طرف تھا۔ وہ شیوجی کا مندر تھا۔ اور مندر کی مورتی دن بھر ڈھیروں پانی میں نہاتی رہتی اور وہ پانی سیندور سے لپے پتے فرش پر سے بہہ بہہ کر مندر کے چبوترے کے نیچے گیندے اور گل ہزارہ کی کیاروں میں جذب ہوجاتا۔ اور گائے بھینس ۔ بھینس سنگھاڑے والی جھیل میں قیلولہ میں مصروف رہتیں۔ کبھی کبھی کسی بھینس کی پیٹھ پر ایک کالا بھتنا ایسا بچہ بیٹھا اسے لکڑی سے مارتا مارتا جھیل کی طرف جاتا نظر آتا۔ اور اکثر ٹھاکر راجندر پرتاپ سنگھ کی کوٹھی میں سے سنکھ اور کیرتن کی آواز بلند ہوتی۔ رگھوپتی راگھوراجہ رام ، پتی تے پاون سیتا رام ۔ کول تار والی سڑک پر سے تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد چھائونی کی طرف جاتے ہوئے بڑے بڑے کمانڈو اور جیپ اور ٹرک زناٹے سے گزر جاتے۔ اور اس سڑک سے ذرا ہٹ کر ایک ڈیڑھ فرلانگ بھر کا سرخ بجری والا راستہ تھا جو سول لائنز اور چھائونی کی آبادی شروع ہونے سے پہلے کول تار کی سڑک سے جدا ہوکر اس زرد دیواروں والی بہت بڑی اور بہت پرانی کوٹھی کی طرف جاتا تھا۔ جس کی برساتی میں ۱۹۳۹ء کے موڈل کی ایک سبز فورڈ کھڑی رہتی تھی اور جس کے باغ میں گلاب اور چنبیلی کی جھاڑیاں تھیں اور اس راستے کے شروع میں ایک جھکا ہوا شکستہ لکڑی کا بورڈ لگاتھا جس پر لکھا تھا ’’یہ عام راستہ نہیں‘‘۔ وہ راستہ بڑا ہی خوب صورت تھا۔ صاف ، سایہ دار اور خاموش۔

اور اس وقت آہستہ آہستہ قدم رکھتی ہوئی وہ اس راستے کے سرے پر آکر کھڑی ہوئی اور پرانی اینٹوں کی ایک شکستہ نیچی سی دیوار پر جھک کر سامنے کی طرف دیکھنے لگی۔ سامنے جدھر جھیل تھی اور آم کے جھرمٹ اور جوئی کے پھولوں پر بھنورے گونج رہے تھے اور جامنوں کے باغ میں کوئلیں شور مچا رہی تھیں۔

وہ بہت دیرتک اس جگہ کھڑی رہی ۔ یہاں تک کہ سورج مولسری اور چمپا اور جامنوں کے پرے، ندی کے گل رنگ پانیوں میں جاچھپا۔ پھر دو آدمی اس راستے کی جانب بڑھتے نظر آئے۔ اور اس شکستہ دیوار کے اختتام پر جو پرانے ستونوں والا پھاٹک تھا اس کے قریب پہنچ کر وہ رک گئے۔ وہ دونوں خاصے اسمارٹ تھے اورغالباً کسی ہمسایہ زمین داری کے رئیس کے لڑکے تھے اور رینکنؔ کے سلے ہوئے بہترین دھاری دار سوٹ اور چیختے چلاتے رنگوں کے اسکارف پہنتے تھے۔ وہ دیوار پر اسی طرح جھکی سامنے کی طرف دیکھتی رہی۔ وہ اس کے پاس پہنچے۔

’’تسلیمات عرض ہے لیلیٰؔ بیگم۔‘‘

’’آداب۔‘‘ اس نے مختصر سا جواب دیا۔

’’کیا ۔ کیا راجہ صاحب اس وقت اندر تشریف رکھتے ہیں؟‘‘

’’پتہ نہیں، آگے جاکر کسی سے معلوم کرلیجئے۔‘‘

’’آپ یہاں کب سے ہیں؟‘‘

’’کافی دنوں سے۔‘‘

’’جی ۔ جی ہاں۔ اس مرتبہ آپ کو نینی تال میں نہیں دیکھا تو خیال ہوا تھا کہ آپ یہاں تشریف لے آئی ہوں گی۔‘‘

’’جی ۔‘‘

زیادہ ہمت افزا جواب نہ پاکر وہ دونوں جھینپی سی ہنسی ہنستے ہوئے سرخ بجری والے راستے پر سے گزر کرکوٹھی کی طرف چلے گئے۔

’’ہونہہ‘‘۔ اس نے دور تک پھیلی ہوئی اکاس بیل کا ایک پتہ جھٹکے سے توڑا اور دیوار کی اینٹوں پر سے نیچے اتر آئی۔

’’آپا۔ آپا۔‘‘ کول تار کی سڑک پر ایک آسٹنؔ آن کر رکی اور ایک نوجوان اس کی سمت بھاگتا ہوا آیا۔

’’ہلو عباس میاں کب آئے۔‘‘

’’آپا میں ابھی آرہا ہوں۔ تم کیسی ہو۔ تم بہت زرد نظر آرہی ہو۔ تم نے ان دونوں گدھوں اکرم اور مظفر کو ادھر آتے دیکھا؟ وہ میرے ساتھ ہی ردولی تک آئے تھے۔

افوّہ۔ وہ ایک سانس میں یہ سب کہہ گیا اور پھر رومال سے پیشانی پوچھی۔

’’چلو اندر چلیں۔‘‘ اس نے بڑے سکون سے جواب دیا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر مکان کی طرف جانے لگی۔

اور اس خوب صورت راستے پر ساتھ ساتھ چلتے ہوئے وہ دونوں بہت اچھے معلوم ہوئے، وہ لڑکی جس کی چمپئی رنگت اور سیاہ لانبی لانبی پلکیں تھیں اور وہ خوب صورت اور شان دار نوجوان، دونوں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے کوٹھی کے پہلو والے برآمدے تک پہنچ گئے۔ اندر نشست کے کمرے میں زور زور سے باتیں ہورہی تھیں اور نقرئی پیچوان گڑگڑا ئے جارہے تھے۔

’’آپا بھائی صاحب کو چھٹی نہیں ملی۔ وہ سیدھے نینی تال سے پرتاپ گڈھ چلے گئے۔‘‘

’’اچھا۔‘‘ اس نے پیشانی پر سے بالوں کی لٹ ہٹائی۔ اس نے بھائی صاحب کے متعلق قطعی کچھ نہیں پوچھا تھا۔

خوب صورت نوجوان کہتا رہا۔’’آپا ۔ میں انٹرویومیں آگیا۔‘‘

’’اچھا ۔ بڑی خوشی کی بات ہے۔ ‘‘

’’آپا یہ دونوں گدھے کیوں آئے ہیں۔‘‘ اس نے پھر پوچھا۔

’’ مجھے کیا پتہ بھئی۔‘‘

’’اچھا میں ذرا ممانی اماں کے پاس ہو آئوں۔‘‘ وہ برآمدہ کی چک اٹھاکر اندر چلا گیا۔

وہ اپنے کمرے میں آگئی اور زور سے دروازہ بند کرکے ایک صوفے پر بیٹھ گئی۔ اور پھر یکایک کشنوں میں منھ چھپاکر رونے لگی۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور وہ نوجوان اندر داخل ہوا۔ اور چمپئی رنگت والی لڑکی کو روتا دیکھ کر وہ ششدر رہ گیا۔

’’آپا ۔ آپا۔ کیا بات ہے ۔ تم رو رہی ہو۔‘‘ اس نے پیشانی پر سے بالوں کی لٹیں ہٹائیں اور بچوں کی طرح آنکھوں پرانگلیاں پھیر کر آنسو خشک کرنے لگی۔

وہ دونوں شخص زور زور سے باتیں کرتے او ر قہقہے لگاتے گیلری میں سے نکل کر باہر چلے گئے۔ ’’سور کہیں کے۔‘‘ خوب صورت نوجوان بڑبڑایا۔’’میاں ان گدھوں کو منھ کیوں لگاتے ہیں۔ کیا ساملؔ پور والے مقدمے کا قصہ اب تک ختم نہیں ہوا؟‘‘

’’پتہ نہیں۔‘‘ لڑکی نے بے زاری اور اکتاہٹ سے جواب دیا۔ اس کی پلکوں پر آنسو کے قطرے اب بھی جھملا رہے تھے۔

’’آپا جب سے میں آیا ہوں تم پتہ نہیں اور معلوم نہیں کے علاوہ کچھ بولتی ہی نہیں جانے تم کو کیاہوگیا ہے۔ اگلے ہفتے میں ٹریننگ کے لیے آر ایم اے چلا جائو ں گا۔ بھائی صاحب جانے کب تک پرتاپ گڈھ سے واپس آئیں گے۔ یہاں تم منھ پھلائے بیٹھی ہو۔ میں ردولیؔ سے اتنا خوش خوش آیا تھا۔ میں تو وہاں دو دن بھی نہیں ٹھہرا کہ یہاں تم سب سے مل کر لکھنؤ واپس جاتے ہوئے وہاں ٹھہرتا جائوں گا۔ سب اتنا روک رہے تھے۔ سندیلے میں جو عطیہؔ آپا نہیں تھی ۔ عسکری چچا کی لڑکی ان کی شادی پچھلے مہینے ایک صاحب سے ہوئی ہے جو اپنے آپ کو بڑا لاٹ صاحب کا بچہ اور تمہارے چارلس بوائیر کے چھوٹا بھائی سمجھتے ہیں۔ اور بمبئی میں کسی بہت بڑے عہدے پر ہیں۔وہ بھی ردولیؔ آئے تھے۔ چغدترین انسان ہیں بالکل____‘‘

____آپا تم تو چپ ہی نہیں ہوتیں۔ واللہ بھئی عجیب آدمی ہو ۔ خدا کی قسم ۔‘‘

وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اور کشنوں کو اپنے بازوئوں میں سمیٹ کر چپ چاپ بیٹھ گئی۔

جب وہ پہلی بار وہاں گیاتو اس نے آس پاس کے خوب صورت مناظر کو دیکھا تھا اور مولسری اور چمپا کے درختوں کو، اور گھاگھرا کے ہرے بھرے ساحلو ں کو۔ اور آم کے کنجوں کو جن کی بور آئی ہوئی ڈالیوں پر کوئلیں شور مچاتی تھیں، لیکن اس چمپئی رنگت اور سیاہ لانبی پلکوں والی لڑکی کی طرف نظر بھر کردیکھنے کی اسے ہمت نہ ہوتی تھی۔ وہ سوچتا تھا کس قدر احمق ہوں میں۔ پھر اسے خیال آتا ۔ عباس نے ایک دفعہ بغیر یہ جانے ہوئے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، کہا تھا ۔’’لیلیٰ آپا کچھ ایسی ہیں۔ کچھ ایسی ہیں کہ انہیں دیکھ کر آپ سے آپ جی گھبرانے سا لگتا ہے۔‘‘

ا ور اس وقت لکھنؤ کے اس بلند پایہ کلب میں ریڈیو کے قریب لِس نر کی ورق گردانی کرتے ہوئے اسے محسوس ہورہا تھا کہ جیسے آس پاس کی سب چیزیں، صوفے،میزیں، برقی پنکھے، رقصاں جوڑے، گوانی، بیرے، سب کے سب تیزی سے گھوم رہے ہیں۔ چکر کھارہے ہیں۔ ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ وہ چند لمحے قبل اس کے قریب ایک صوفے پر سے اٹھ کر اپنی ایک دوست کے ساتھ ڈائننگ ہال کی طرف چلی گئی تھی۔ اور وہ بظاہر بڑی بے تکلفی اور بے پروائی سے اپنے خیالوں میں محولس نرکے صفحے پلٹ رہا تھا۔

’’یار یقینا تمہیں کوئی لڑکی جلٹ کرچکی ہے ورنہ ایسی حسینہ سے اس قدر بے رخی اور بے نیازی کے کیا معنی؟ یا آپ بھی Cynic بننے اور عورتوں سے نفرت کرنے کا پوز فرماتے ہیں۔؟‘‘ برابر کی کرسی پر بیٹھا دھاری دار سوٹ میں ملبوس ایک شخص اس سے کہہ رہا تھا۔

’’خدا کے لیے چپ رہو بھئی مظفرؔ۔‘‘ اس نے بے زاری سے کہا۔ ’’اچھا بھئی، بندے خاں تو جاتے ہیں۔ مگر یار بڑی ماسٹرپیس چیز ہے خدا کی قسم ۔ کسی کو لفٹ ہی نہیں دیتی۔ لیکن اگر بحث کرنے پر آتی ہے تو لگتا ہے کہ مشین گن چل گئی۔ خوب ناچتی ہے۔ فیض آباد والے راجہ صاحب نہیںہیں۔ راجہ شرافت احمد خاں تعلقہ دارسامل پور کی لڑکی ہے۔ یار کیا چیز ہے واللہ۔‘‘ پھر وہ دونوں دھاری دار سوٹوں والے آدمی بار کی طرف چلے گئے۔

وہ تھوڑی دیر تک بڑی بے چینی سے وہاں بیٹھا رہا۔ پھر اٹھ کر باہر آگیا۔ جہاں نسبتاً خنکی تھی اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ لان پر مولسری کے نیچے سبز بید کی کرسیوں پر مسٹر ہری ہر پال آئی سی ایس کی ۳۵ سالہ خوب صورت بیوی اندرا اور نواب زادہ اصغر امام باتوں میں مصروف تھے۔ ہلکے ہلکے قہقہے کوک ٹیل کے گلاسوں کی کھنکھناہٹ کے ساتھ فضا میں منتشر ہورہے تھے۔ وہ مولسری کے درخت کو پیچھے چھوڑتا ہوا ٹینس کورٹ کی سمت آگیا جہاں کلب میں آنے والوں کی موٹریں کھڑی تھیں۔ یک لخت کلب میں اندھیرا چھاگیا۔ موسیقی جاری رہی۔ خواتین کی ہلکی ہلکی ’’آہ‘‘ اور ’’اوہ‘‘ کی آواز یں اور مردوںکے ادھر ادھر بھاگنے کا شور زیادہ ہوگیا۔ کوئی بجلی گھر کو فون کرنے دوڑا جارہا تھا کوئی اندھیرے میں اپنے ساتھیوں کو پکار رہا تھا۔ اپنی کار تک پہنچ کر اسے اپنی ہیٹ کا خیال آیا جو لائونج میں پڑی تھی ۔ اندھیرے میں لان اور برآمدوںاور ہال کو عبور کرتا ہوا وہ واپس لائونج تک پہنچا۔ اور اس تاریکی میں اس نے محسوس کیا کہ ہال کے بڑے دریچے میں سے جو پچھلے باغ میں کھلتا تھا، کوئی ایک دھماکے کے ساتھ اندر کو دآیا ہے۔ باہر باغ میں قہقہوں کی آوازیںبلند ہورہی تھیں۔ ظاہرتھا کہ اندھیرے میں آنکھ مچولی کھیلی جارہی تھی۔ اس کے لائونج میں کود آنے سے ایک کرسی الٹ گئی اور وہ ایک میز سے ٹکرا گئی جس کے قریب وہ کھڑا تھا۔ جب اس کی آنکھیں اس گھپ اندھیرے سے مانوس ہوئیں تو اس نے چاروں طرف دیکھا اور گھبراکر بولی ۔’’اوہ۔ معاف کیجئے گا ۔‘‘ پام کے گملوں کے پرے ہال میں خوب شور مچ رہا تھا اور بیرے لیمپ اورموم بتیاں جلاتے پھر رہے تھے۔

’’بالکل ٹھیک ہے۔ میں آپ کی کیا مدد کرسکتا ہوں؟ ادھر آجائیے۔ اس طرف نسبتاً روشنی ہے۔‘‘ چاند پچھلے لان کے کنارے کنارے کھڑے ہوئے پام کے درختوں کے پیچھے سے آہستہ آہستہ طلوع ہورہا تھا ۔ ان کرنوں کی مدھم روشنی میں اس نے اس چمپئی رنگت والی لڑکی کو پہلی مرتبہ ہمت کرکے غور سے دیکھا۔

’’آپ۔ آپ ہی اس وقت ریڈیو سے شوق فرما رہے تھے؟‘‘

’’گھبرائو نہیں۔ تم میرے لیے اجنبی نہیں ہو۔ میں تم کو اچھی طرح جانتا ہوں۔‘‘ اس نے بالکل غیر متوقع طور پر اپنے آپ کو کہتے پایا۔

اور جب وہ باہر آرہے تھے تو لڑکی نے پوچھا ’’ارے آپ ہی کی شادی عسکری چچا کے یہاں ہوئی ہے نا؟‘‘

’’ہُم‘‘۔

’’عطیہؔ کہاں ہیں۔ آپ ان کو یہاں اپنے ساتھ نہیں لائے۔‘‘

’’عطیہؔ آج کل ردولی آئی ہوئی ہیں۔ تم ہماری شادی میں کیوں نہیں آئی تھیں؟‘‘

’’ارے ہم کو پتہ ہی نہیں تھا۔ میاں گئے ہوں گے۔ ہم تو نینی تال میں تھے۔‘‘ وہ موٹروں کی قطار تک پہنچ گئے۔

’’تم بہت چھوٹی سی تھیں یاد ہے جب آل سینٹس میں پڑھتی تھیں اور ٹٹو پر بیٹھ کر مال پر گھومنے جایا کرتی تھیں۔ اس کے بعد میں نے تم کو آج دیکھا ہے۔ یاد ہے؟‘‘

’’اوں ہنک‘‘۔ اس نے پیشانی پر سے بالوں کی ایک لٹ ہٹائی۔ ہمیں تو بالکل یاد نہیں۔ ارے ہاں ٹھیک ہے آپ شاید بھائی صاحب کے ساتھ نینی تال آئے تھے۔ اور شاید ایک بار ہمارے یہاں فیض آباد بھی آئے تھے نا۔ اب تو آپ کی ہم لوگوں سے رشتے داری بھی تو ہوگئی۔ عطیہ سے آپ پہلے کہاں ملے تھے؟‘‘

’’کہیں بھی نہیں۔‘‘

’’اچھا تو یہ Arranged شادی ہے عطیہ کی۔‘‘

’’بالکل ‘‘۔

اس نے ۱۹۳۹ء کے موڈل کی ایک سبز فورڈ کا دروازہ کھولا۔ڈرائیور جو پچھلی سیٹ پر پڑا سور ہا تھاہڑبڑاکر اٹھ بیٹھا۔ پھر وہ ’شب بخیر‘ کہہ کر اس فورڈ میں بیٹھ کر چلی گئی۔

ایک مرتبہ پھر اس نے سوچا ۔ کس قدر احمق ہوں میں۔ لیکن اس نے اپنے آپ کو فیض آباد کے اس خوب صورت ، سایہ دار اور پرسکون سرخ بجری والے راستے پر پایا۔ محض اس کو ایک بار پھر دیکھ لینے، اس کی آواز سننے ، اس کا قرب محسوس کرنے اور وہ پرانی اینٹوں والی شکستہ دیوار پر بیٹھی انتہائی اخلاق سے اس سے کہہ رہی تھی۔‘ ‘ آپ نے پہلے کبھی یہاں کی سیر نہیں کی؟ نواب بہو بیگم کا مقبرہ اور گلاب باری اور گھاگھرا کے خاموش ساحل ۔ اور گپتارگھاٹ جس کی سیڑھیوں پر سے دریا کی لہروں میں کود کر کرشن مہاراج ہمیشہ کے لیے گیتا ہوگئے تھے۔ اور اورنگ زیب کی مسجد اور اس کی دیوار کے سائے میں سیتا جی کی رسوائی۔ ہمارے یہاں کا کلب بھی بہت خوب صورت ہے ۔ اور ہمارے پاس ایک کشتی بھی ہے جو ہمارے باغ کی ڈھلوان پر امرود کے سائے میں پانی کے کنارے پر بندھی رہتی ہے لیکن آپ کو بھلا یہ سب کیا اچھا لگے گا ۔ اپنے بڑے بڑے شہروں کے مقابلے میں تو آپ کو یہ بالکل گائوں معلوم ہوتا ہوگا۔ اچھا آپ ہمارے ساتھ شکار کے لیے چلیے گا۔‘‘

وہ دیر تک اسی طرح باتیں کرتی رہی۔‘‘ میاں ردولی سے واپس آجائیں تو نیپال گنج کے جنگلوں میں چلیں گے۔ بہرائچ سے آگے۔ آپ کبھی اس طرف گئے ہیں۔؟ وہاں سے نیپال کی سرحد شروع ہوتی ہے اور وہاں ڈھیروںشکار ملتا ہے ۔ دیکھئے وہ جو برآمدے میں چیتے کی کھال بچھی ہے وہ پچھلے سال میاں نے مارا تھا۔ اور وہ بارہ سنگھا میں نے۔ پر میرا نشانہ تو بے حد خراب ہے۔ کم از کم میاں یہی کہتے ہیں، میاں میرے ساتھ اتنا سرکھپاتے ہیں لیکن مجھے شکار بالکل پسند نہیں۔ کیا تک ہے کہ بس ہونقوں کی طرح مچان پر چڑھے بیٹھے ہیں ، اچھا چلیے آپ کو اپنے زردگلاب دکھائیں ، ان کی قلمیں میاں نے ابھی غازی پور سے منگوائی ہیں۔‘‘

اور اس نے محسوس کیا کہ وہ ایک بہترین میزبان ثابت ہونے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ بھی کہ یہ ساری توجہ محض اس کے لیے ہی مخصوص نہیں۔ وہ جو کوئی بھی مہمان اس کے یہاں آئے گا وہ اس سے اسی طرح اسی اخلاق اور توجہ سے اس کی دل چسپی کے لیے باتیں کرے گی۔ اس سے گھاگھرا کے ساحلوں اور نیپال گنج کے جنگلوں اور بہو بیگم کے مقبرے کا ذکر کرے گی۔ اسے اپنے باغ کے زردگلاب دکھائے گی۔ وہ واقعی ایک مکمل میزبان تھی۔ خاطر تواضع کا فن اور میزبانی کے فرائص جو اس نے آل سنٹیسؔ اور لیڈی ارونؔ میں سیکھے تھے، ان کا استعمال وہ خوب جانتی تھی۔

بارش ہورہی تھی۔ اور باہر لان کی نکھری ہوئی ، تیز سبز گھاس میں کبھی کبھی سرخ سرخ مخملیں بیر بہوٹیاں رینگتی ہوئی نظر آجاتی تھیں اور جامن اور فالسے اور مولسری کے پیڑ بارش کی پھواروں سے بوجھل ہوائوں میں جھوم رہے تھے۔ اس کا جی گھبرانے سا لگا۔ اس نے محسوس کیا اور اسے پھر عباس کی بات کا خیال آگیا۔

برآمدے میں راجہ صاحب آرام کرسی پر نیم دراز نقرئی پیچوان گڑگڑارہے تھے۔ دوسری آرام کرسی پر ٹھاکرراجندر پرتاپ سنگھ پانیئر کے صفحات میں غرق، کنور سرجگدیش پرشاد کی تازہ اسمبلی کی تقریر پڑھنے میں مصروف تھے۔ بڑی پُرسکون ، مطمئن، قانع، کائنات تھی۔ پہلو کے برآمدے میں لڑکیوں نے ملہار شروع کردیا تھا۔ ڈھولک پِٹ رہی تھی۔ ساون اور کجریاں اور بارہ ماسے اور ڈھولک کے گیت الاپے جارہے تھے۔ طبلہ ٹھک رہا تھا۔ تان پورے کے تار چھیڑے جارہے تھے۔ وخدا… زندگی۔ زندگی اگر ایسی ہی آرام دہ، پُرکیف اورپرسکون ہے تو مجھے اس کی ایک جھلک پہلے کیوں نہ دکھا دی۔

ٹھاکر صاحب نے بے زاری کے ساتھ اخبار فرش پر ڈال دیا اور پیچوان منھ سے لگاکر اور آنکھیں بند کرکے زیر لب ’’ اوم شو سنکر شوشنکر‘‘ کا ورد کرنے میں مشغول ہوگئے۔ وہ جھکی اور فرش پر سے اخبار اٹھا لیا۔‘‘ہونہہ ہماری سب نروہیؔ اور ککرولیؔ کے گائوں ملاکر دس بارہ لاکھ کی مالیت کی زمینیں ہیں ۔ اور معاوضہ دینے کو کہتے ہیں۔ میز لی ساٹھ ہزار اور ٹھاکر چچا سیر کرے بھر کی زمین؟‘‘ غصے سے اپنے بالوں کی لٹیں جھٹک کر اس نے ٹھاکر صاحب کو دیکھا۔ ٹھاکر صاحب اور راجہ صاحب دونوں مراقبے میں مستغرق تھے۔

’’مسز پنڈت اور ان کی بڑی صاحبزادی سے تو تمہاری بہت گہری دوستی ہے۔ ان سے تم نے پوچھا؟ وہ کیا کہتی ہیں۔‘‘ اس نے پوچھا۔

’’ہنہ۔ وہ کیا کہتیں۔ جناب سرمایہ داری کے خلاف گرما گرم بحثیں اور تقریریں کرلینا آسان بات ہے لیکن جس کے پاس سے جاتا ہے اسی کو قدر وعافیت معلوم ہوتی ہے ۔

’’لیکن لیلیٰ کتنے بہت سے انسان ایسے بھی تو ہیں جنہوں نے کسی بڑے آئیڈیل کی خاطر اپنا سب کچھ تج دیا ہے‘‘۔ اس نے محض اس سے باتوں کا سلسلہ جاری رکھنے کی غرض سے کہا۔

’’آئیڈیل۔ ہنہ۔ میں اتنا مکمل انسان بننے کا دعویٰ نہیں کرتی۔ مجھے اپنی دولت اور وہ معیار جس کے مطابق زندگی بسر کرتی آئی ہوں چاہئے۔ آئیڈیلز ۔ یقینا۔!!‘‘

اور یہاں سے مکمل انسان کی بات چلی۔پہلو کے برآمدے میں کوئی لڑکی ’’چلی جائے موری نیّا کنارے کنارے۔‘‘ الاپ رہی تھی۔ بارش کی پھواریں لان کی اونچی اونچی گھاس کو دہرا کیے دے رہی تھیں، باغ کے سرے پر گھاگھرا کا پانی ڈھلان پر سے گزرتا ہوا جامن کے درختوں تک بڑھ آیا تھا۔ اور دور امرود کے نیچے بندھی ہوئی کشتی لہروں پر جھکولے کھا رہی تھی۔ اچانک اسے ایک خیال آیا۔ اس نے پوچھا ۔’’لیلیٰ۔ فرض کرو تمہیں ایک ایسا نوجوان پسند آجائے جو تمہارے لیے وہ سب آسائشیں مہیا نہ کرسکتا ہو جن کی تم عادی رہی ہو، تو کیا تم اس سے شادی کرنے کو تیار ہوجائوگی۔‘‘

’’فرض کیسے کرلو! ایسا آدمی پسند ہی کیسے آجائے گا۔ اور اگر پسند بھی آگیا تو اس کے ساتھ شادی ہی کیوں کرلی جائے گی؟‘‘ پھر وہ ہنس پڑی۔ شوک پہنچ گیا آپ کو۔ غالباً میں پہلی ہی ایسی لڑکی آپ سے ملی ہوں جس کے دماغ میں بڑی رومنٹیک قسم کے تخیل پر ستی نہیں!!‘‘ وہ چپ رہا۔ دوسرے برآمدے میں بیٹھی ہوئی لڑکیوں نے ’’ساون جھرلا گے ہو دھیرے دھیرے ‘‘ شروع کردیا تھا۔

اور جب آم کے وہ ہرے کنج اور گھاگھرا کے خاموش ساحل اور ٹھاکر صاحب کے مندر کے کلس اس کی نظروں سے اوجھل ہوئے تو اسے ایک نامعلوم ناقابل برداشت تکلیف سی محسوس ہوئی۔ ہر وہ چیز جس کا اس چمپئی رنگت والی لڑکی سے کوئی تعلق تھا اس کے لیے ایک مقناطیسی کشش رکھتی تھی۔ وہ شہر جہاں وہ رہتی تھی۔ وہ کلب جہاں وہ رولر اسکیٹنگ کرنے یا ٹینس کھیلنے جاتی تھی۔ وہ پولیٹکس جس پر وہ بحث کرتی تھی۔ اب تک اسے زمین داری کے خاتمے کی سرکاری تحریک سے قطعی کوئی دل چسپی یا سروکار نہیں تھا۔ لیکن اب وہ روزانہ بے حد انہماک اور توجہ سے اس سوال کے متعلق اسمبلی کے مباحثے اور دوسری خبریں پڑھنے لگا۔ انسان واقعی بعض مرتبہ خود کو کتنا احمق محسوس کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اسے وہ رینکن کے سلے ہوئے دھاری دار سوٹ پہننے والے ڈینڈی ایک آنکھ نہ بھاتے تھے لیکن اس وقت چھتر منزل کے عظیم الشان، منقش ستونوں والے ہال کے کنارے بلوریں میزوں کے گرد بیٹھے ہوئے ان کی اور ان کے ساتھیوں کی باتوں کی آواز نے اسے متوجہ کرلیا۔

’’قیامت آئے ، وہ آئیں یا انقلاب آئے۔‘‘ ان میں سے ایک نے بے حد اسٹائل سے ایک مصرع پڑھتے ہوئے سوئمنگ پول کی گیلری کی طرف دیکھا جدھر سے وہ بچوں کی طرح کھلکھلاکر ہنستی ہوئی راج کماری کروا ہا راج کے ساتھ گزر رہی تھی۔

اس کا دل پھر ڈوب سا گیا۔ ہال کے منقش ستون اور بلوریں میزیں اوررقصاں جوڑے پھر تیزی سے چکر کھانے لگے۔

وہ بے کار بے مصر ف امیر زادے جو کلبوں میں سگار کے دھوئیں اڑاتے اڑاتے کوک ٹیل کے گلاس خالی کرتے کرتے سوسائٹی کے اسکینڈلز اور Gossips پر زندہ رہتے ہوئے یوں ہی اپنی عمریں بتاتے ہیں، ان میں سے ایک کہہ رہا تھا ۔ ’’ وہ دوسری، سبز ساڑی والی سامل پور کی لڑکی ہے جانتے ہو؟‘‘

’’ہم۔ وہی اسے کون نہیں جانتا۔‘‘

’’سنا ہے آزاد بہت زیادہ ہے۔ مگر بھئی ہے بڑی فرسٹ کلاس لڑکی۔‘‘

’’سنئے جناب! لفظ ’’آزادی‘‘  ایک بہت ہی اضافی ٹرم ہے۔ بہت سی باتیں جو میرے نزدیک بالکل ٹھیک اور جائز ہیں آپ کے خیال میں آزادی میں داخل ہوں گی۔ اسی طرح جن چیزوں کو میں آزادی سمجھتا ہوں وہ اور بہت سے لوگوں کو بالکل مناسب معلوم ہوتی ہوں گی۔ اس طرح کا فیصلہ ۔‘‘ اس نے خود کو اپنے دوستوں سے سرگرمی کے ساتھ بحث میں مشغول پایا۔

’’صریحاً تمہارے لیے انگور بہت ترش ثابت ہوئے ہیں۔مظفرؔ میاں ۔‘‘ ایک نے کہا۔

’’ہلوفوکس۔ بڑے زوروں میں بحث ہورہی ہے۔‘‘ وہ ان کی میز کی طرف آتے ہوئے بولی۔ سب انتہائی اخلاق سے تعظیماً اٹھ کھڑے ہوئے۔

’’لیلیٰ بیگم عورت کی آزادی کا تذکرہ تھا۔‘‘ دوسرے نے کہا۔

’’افوہ۔ کس قدر، دل چسپ۔‘‘ اس نے برا سنا منہ بناتے ہوئے کہا۔

’’بھئی آپ لوگ تو عورت بے چاری کو ہر طرح ہی سے مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔‘‘ راج کماری کرواہا نے اسٹائل سے بات شروع کی۔

’’افوہ بھئی کس قدر پٹی ہوئی بحث لے بیٹھے آپ لوگ۔ ان چیزوں پر کچھ سوچنا ہی سخت حماقت ہے، آپ سب اسکیٹنگ کے لیے نہیں چل رہے؟‘‘ اس نے میز پر سے اٹھتے ہوئے کہا۔

’’اہم۔ حماقت تو ممکن ہے کہ ہو لیکن لیلیٰ بیگم آپ کیا یہ برداشت کرلیں گی کہ معاف کیجئے گا، آپ کا شوہر دوسری لڑکیوں میں دل چسپی لیتا پھرے اور … اور یہی سب کچھ جو ہماری اس ’’ہائی لائف‘‘ میں ہوتا ہے۔‘‘

’’اب تک تو میں شادی کی نعمت سے محروم ہوں اس لیے اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتی۔‘ ‘ پھر وہ اسی طرح بچوں کی سی شریر ہنسی ہنستی ہوئی اسکیٹنک کے ہال کی طرف چلی گئی۔

’’ہا۔ ہا۔ ہاہ‘‘۔ ان دوستوں نے اس کو دور گیلری میں جاتے ہوئے کہا۔ ’’ واقعہ یہ ہے کہ عورت کو کبھی ایک مقررہ حد سے آگے نہ بڑھنے دینا چاہئے ورنہ وہ بڑی گڑبڑ پھیلاتی ہے۔‘‘

’’لیکن یہ حد کس معیار کے مطابق مقرر کی جائے اور کون مقر رکرے؟ ارے میاں عورت تو جذبات پر زندہ رہتی ہے، منطق اور اصولوں پر نہیں۔ جذبات جو بیوی، ماں، بہن اور بیٹی کی محبت کا سرچشمہ ہیں۔‘‘

’’اور یہ اسٹریم لائنڈ بدمعاشیاں کن بلند ومقدس جذبات کی پیداوار ہیں۔‘‘

بڑا زبردست قہقہہ پڑا۔

لیکن ہم سے کسی کو بھی اپنے امپلسز پر قابو نہیں تو ہم محض عورت بے چاری ہی کو کیوں الزام دیتے ہیں۔‘‘ اس نے پھر کہا۔

’’اچھا بھئی اگر تمہیں کسی شادی شدہ عورت سے عشق ہوجائے تو کیا کروگے؟‘‘ ان میں سے ایک نے اس سے پوچھا۔

’’غالباً اسٹریم لائنڈ آوارگی۔‘‘ دوسرے نے جواب دیا۔ بڑا زور دار اور فرمائشی قہقہہ لگایا گیا۔ گویا کوئی بہت ہی پرلطف بات کہہ دی گئی تھی۔

’’ اوریا پھر ہم ایک دوسرے کی کمزوریوں کو درگزر کرنے لگیں یعنی وہی سمجھوتے کا راستہ۔‘‘

’’ وہ تو بہت مشکل ہے۔‘‘

’’ مشکل؟ قطعی نہیں۔ ہرجگہ ہوتا ہے۔ ہر زمانے میں ہوا ہے۔ ہر صورت حال میں ممکن ہے ۔ مسٹر ہری ہر پالؔ اور مسز شکنتلاؔ باجپئیؔ، مسز اندرا ہری ہر پالؔ اور نواب زادہ اصغرؔ امام ۔ بیگم سکینہ اصغرامام اور کرنل راجین باجپئی اس سنہری وایا میڈیا کی کہاں تک تشریح کی جائے۔ !‘‘

وہ گھبراکر وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا ، اسے یہ محسوس کرکے انتہائی تکلیف ہوئی کہ لیلیٰ ایسی گفتگو کا موضوع ہے۔ وہ منقش ستونوں کے پیچھے سے گزرتا ہوا گیلری میں آگیا، اسکیٹنگ کے ہال سے نکل کر وہ اسی گیلری میں آرہی تھی۔ وہ دونوں آہستہ آہستہ قدم رکھتے ہوئے سوئمنگ پول کے ہال میں داخل ہوئے۔ وہاں پر گہری سبز روشنی ہورہی تھی اور اس روشنی میں جھلملاتاہوا حوض کا پانی آنکھوں کو بہت ٹھنڈا اور اچھا معلوم ہورہا تھا۔ وہ بہت اکتاہٹ کے ساتھ کنارے کے مرمریں فرش پرپڑی ہوئی ایک چٹائی پر بیٹھ گئی اور کہنیوں کے بل جھک کر پانی دیکھنے لگی۔ وہ خاموش رہا۔ پھر وہ یک لخت بولی۔ ’’یہاں پر بہت گرمی ہے۔ باہر چلیے۔ وہ گیلریاں اور چبوترے طے کرتے ہوئے باہر آگئے۔ اور دریا میں اترنے والی سیڑھیوں پر بیٹھ گئے۔ سفید بے نور آنکھوں والی دو مرمریں عورتیں جو بڑے پراسرار اندازسے عمارت کی رکھوالی کرتی معلوم ہوتی تھیں، چاندنی میں بہت خوب صورت نظر آرہی تھیں۔ دریا کا پانی سرد تھا۔ چاروں طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔

اس نے پوچھا ’’لیلیٰ تمہیں ان لوگوں کی یہ غیر ذمہ دارانہ باتیں ناگوار تو نہیں معلوم ہوتیں۔‘‘

’’ناگوار۔ ان گدھوں کی باتیں۔ قطعی نہیں۔‘‘ پھر اس نے آہستہ آہستہ کہا:’’ فراخ دلی۔ فراخ دلی کہیں نہیں ہے، سب بڑے ہی تنگ نظر ہیں۔ سب کے بہت ہی گھٹیا خیالات ہیں۔ لیکن دوسروں کو الزام کیوں دیجئے۔ ہم تو ازن قائم نہیں رکھ سکتے۔ محبت کرتے ہیں تو بے تحاشا کرتے ہیں نفرت کرتے ہیں تو بے تحاشا کرتے ہیں۔ آزادی اختیار کرلیتے ہیں تو بے تحاشا آزاد ہوجاتے ہیں۔ آزاد نہیں ہوتے تو بالکل نہیں ہوتے اور صدیوں پرانی باتوں کو بیٹھے پیٹے جاتے ہیں۔ کیسی ٹریجڈی ہے۔‘‘

’’لیلیٰ ۔ تم کتنی قرینے کی، سمجھ داری کی باتیں کرتی ہو۔ اور پھر بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بچوں کی طرح رونے لگتی ہو۔‘‘

’’مثلاً …؟‘‘

’’مثلاً جب تم سے عباس کے بڑے بھائی سے شادی کے لیے کہا گیا تو سنا ہے تم خوب پھوٹ پھوٹ کر روئیں۔‘‘

’’  ہٹیئے…!‘‘

’’ہٹیئے کیا۔ یہ سچ نہیں ہے؟ ‘‘

’’بالکل سچ ہے۔‘‘

پھر وہ چپ ہوگئی۔ ندّی ان کے قدموں کے نیچے بڑے سکون سے بہہ رہی تھی۔ دور موتی محل برج پر سے کبھی کبھی کوئی موٹر پانی میں اپنی سرخ روشنیوں کا عکس پھینکتی ہوئی گزر جاتی تھی۔ پیچھے کلب کے ہال میںکوئی خوب صورت سا موسیقی کا ٹکڑا بار بار دہرایا جارہا تھا۔

’’ہم سب کی اپنی اپنی کمزوریاں ہیں۔ لیکن ہم سب خوب ہی پوز کرتے ہیں۔ بڑی کامیابی اور خوب صورتی سے دوسروں کو عمر بھر فریب اور دھوکے میں مبتلا رکھتے ہیں۔ کسی میں اخلاقی جرأت نہیں ۔ توازن نہیں ۔ ایک دوسرے پراعتماد نہیں۔‘‘

’’لیکن لیلیٰ مکمل انسان تو کوئی بھی نہیں بن سکتا۔ ایک بار تم ہی نے کہا تھا۔‘‘

’’ہاں مگر مکمل نظر آنے کا پوز کاہے کے لیے کیا جاتا ہے؟‘‘

’’ہاں ____ واقعی____ ‘‘

پھر اس نے یک لخت سوال کیا۔ ’’لیلیٰ کیا تم نے کبھی آج تک کسی قسم کا پوز نہیں کیا۔ کسی طرح کا خوب صورت دھوکا دینے کی کوشش نہیں کی۔ تم جو اپنے پولشڈ الفاظ کے ذریعہ دوسرے کو اپنی جگہ پر انتہائی احمق محسوس کرنے اور اریبین نائیٹس، ایسے خواب دیکھنے پر مجبور کردیتی ہو۔‘‘

وہ تھوڑی دیر خاموش رہی پھر کھلکھلاکر ہنس پڑی۔

’’افوہ سلیم بھائی۔‘‘ اس نے کہا ’’غالباً آپ متوقع ہوں گے کہ آپ کی ان سب باتوں کے جواب میں میں آنکھوں میں آنسو بھر کے بتائوں گی کہ مجھے اپنی اس فریب آلود زندگی سے سخت نفرت ہے اور مجبوراً مجھے یہ سب کرنا پڑتا ہے۔ پر یہ قطعی غلط ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مجھے یہ سب چیزیں بے حد پسند ہیں۔ میں اپنی اس زندگی کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ شاید آپ کو یہ کچھ کلوپیٹرا قسم کی بات معلوم ہو۔ یا جو کچھ بھی ہو ۔ لیکن میں ایک حد تک اپنے آپ سے خاصی مطمئن ہوں۔ کیونکہ میں نے مکمل انسان بن جانے کا کبھی دعویٰ نہیں کیا۔ مجھے معلوم ہے کہ مجھ میں کمز وریاں ہیں۔ کمزوریاں جن کی بدولت ہم اپنے آپ کو احمق محسوس کرتے ہیں ۔ اپنا مذاق اڑواتے ہیں ۔ دنیا کی نظروں میںگرجاتے ہیں۔ لیکن کچھ نہیں کرسکتے۔‘‘

پھر وہ خاموش ہوگئی۔ رات کا سناٹا گہرا ہوتا گیا۔

تھوڑی دیر بعد راج کماری کرواہا نے پیچھے سے اسے آواز دی اور وہ ان سیڑھیوں پر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس نے ہمیشہ کی طرح اخلاق سے اسے شب بخیر کہا اور اپنی ۱۹۳۹ء کے موڈل کی سبز فورڈ میں بیٹھ کر چلی گئی۔

بہت دن گذر گئے۔

اور اس وقت اس نے اس خوب صورت سفید ریشمی فیتے والے شادی کے دعوت نامے کو کئی بار الٹ پلٹ کر دیکھا۔ اس کے ایک کونے میں انگریزی میں لکھا تھا ’’ضرور آنے کی کوشش کیجئے گا۔‘‘ اس کی کنپٹیاں پھر جل اٹھیں۔ اس کا سر چکراگیا۔ اس کا خوب صورت اور آرام دہ چھوٹاسا ڈرائنگ روم، اندرکے کمرے میں تخت پر مشین سے کپڑے سیتی ہوئی عطیہ ، نیچے سڑک پر چلتے ہوئے لوگ، سب تیزی سے گھومنے لگے۔ اس کی بچی قالین پر لکڑی کے رنگین ٹکڑوں سے کھیل رہی تھی۔ گھاٹن گیلری کے فرش کو رگڑنے میں مصروف تھی۔ آیا طوطے کے پنجرے میں پانی ڈال رہی تھی۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے گھڑی پر نظر ڈالی۔ وہ خاموشی سے زینہ طے کرکے نیچے اپنے گیرج کی طرف گیا۔ اس نے کار نکالی، ڈرائیور کو ساتھ بٹھایا اور وکٹوریہ ٹرمنس پہنچ گیا۔ راستے میں اس نے سوچا کہ اسے کیا تحفہ لے جانا چاہئے۔ لیکن کوئی تحفہ اس کی سمجھ میں نہیں آیا۔ اس نے طے کیا کہ وہ ایک چیک لکھ دے گا۔ اسٹیشن پر بہت سارے چپراسی اور ڈرائیور موٹریں لیے ہوئے مہمانوں کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ سڑک پر کئی فرلانگ تک سرخ فرش بچھایا گیا تھا۔ جگہ جگہ اونچے اونچے پھاٹک بنائے گئے تھے۔ کوٹھی کے احاطے میں مہمانوں کے لیے خیمے لگ رہے تھے۔ سامنے کے بڑے لان پر بہت بڑا سرخ شامیانہ کھڑا تھاجس کی زرنگار چھت میں برقی قمقمے روشن کیے جارہے تھے۔ چاروں طرف لائوڈ اسپیکر شور مچارہے تھے اور مولسری کے نیچے ایک خیمے میں مائیکروفون پر نظمیں پڑھی جارہی تھیں، ریکارڈ بجائے جارہے تھے ، اور طرح طرح کے دل چسپ اعلان ہورہے تھے۔ وہاں گہما گہمی تھی اور تیز روشنی تھی۔ اور جگمگاہٹ تھی، رنگ برنگی موٹروں کی اور چمک دار ساڑیوں اور غراروں کی اور ہیروں کے زیورات کی۔ اور اس تیزر وشنی میں چاندی کے برتن جھلملا رہے تھے اور سفید براق کپڑوں والے بیرے ہاتھوں میں کشتیاں اور پلیٹیں اٹھائے ادھر ادھر آجارہے تھے۔ اور یہ ساری جگمگاہٹ ، یہ سارا بکھیڑا، یہ سارا ہنگامہ اسے گھومتا، چکرکھاتا معلوم ہوا۔ وہ اپنے چند دوستوں کے ساتھ شامیانے کے کنارے ایک صوفے پر بیٹھ گیا اور ریکارڈ چیختے رہے، اور شور ہوا کیا۔ اور پولیس بینڈ بجتا رہا اور پھر شور میں زیادتی ہوئی اور گورنمنٹ ہائوس کی سیاہ، طویل، شان دار کار جس کے سامنے انجن کے اوپر سرخ روشنی جل رہی تھی، آہستہ آہستہ پھاٹک کے اندر داخل ہوئی۔ سارا مجمع ہڑبڑاکر کھڑا ہوگیا۔ صوبے کا انگریزگورنرمع میم صاحب کے شامیانے میںداخل ہوا۔ کوک ٹیل سرو کیے گئے۔ تھوڑی دیر وسطی نشست  پر بیٹھنے کے بعد انہوں نے نئے جوڑے کے پاس جاکر مبارکباد دی اور اس سیاہ کار میں سوار ہوکر واپس چلے گئے۔ سب نے اطمینان کا سانس لیا۔ سب کی جان میں جان آئی۔ پھر باتیں شروع ہوئیں۔ پھر شور مچا ۔ اور پھر وہ چنبیلی، موتیا اور جوہی کے گجروں سے ڈھکی ہوئی پیکارڈ میں بیٹھ کر چلی گئی اور یک لخت شامیانے میں ایسا سناٹا چھایا جیسے کوئی مرگیا ہو۔

اور تیسرے دن جب وہ بمبئی واپس جارہا تھا تو اس نے نہایت شدت کے ساتھ محسوس کیا کہ وہ بے حد ، بے حد احمق ہے۔ بالکل ٹھیک ۔ وہ بہت ہی بے وقوف ہے۔ چغد ترین انسان ہے۔

چنانچہ یہ قصہ بھی ختم ہوا۔ اس نے سوچا۔

اور پھر آج، اتنے عرصے بعد، وہ اسے ورسوا کے ایک خوب صورت لکڑی کے بنگلے کے سامنے ریت میں ایک سن شیڈ کے نیچے بیٹھی نظر آئی۔’’ارے لیلیٰ تم یہاں کب آئیں؟‘‘

’’کافی دن ہوئے ۔‘‘ وہ بے پروائی سے میز پر اپنی چمپئی مخروطی انگلیوں سے گت توڑا بجاتی رہی۔

’’اورعباس کا بھائی کہاں ہے؟‘‘

’’پتہ نہیں۔‘‘ اس نے اسی لاپروائی سے جواب دیا۔ توگویا وہ سب باتیں۔ وہ ساری افواہیں بالکل سچ تھیں۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کا دل ڈوبا جارہا ہے۔ اس نے آہستہ آہستہ کہا۔ ’’ لیلیٰ تم مجھے اپنا مخلص اور ہمدرد دوست سمجھتی ہو؟‘‘

’’ایسا نہ سمجھنے کی کوئی وجہ تو نہیں۔‘‘

’’تو میرے ساتھ میرے گھر چلو۔ عطیہ تم سے مل کر بہت خوش ہوگی۔‘‘

’’آپ کی اس دعوت کا بہت بہت شکریہ ۔ لیکن میرا خیال ہے کہ میں یہاں پر بالکل ٹھیک ہو۔‘‘

’’تم یہاں کب تک رہوگی؟‘‘

’’پتہ نہیں۔‘‘

’’تو میں تمہارے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔؟‘‘

’’میرا خیال ہے کہ نہیں۔‘‘

اتنے میں بنگلے کی برساتی کی طرف سے ایک اسمارٹ، شان دار قسم کا نوجوان بڑے اسٹائل سے ہونٹوں میں پائپ دبائے ادھر  آتا نظر آیا۔ اور وہ اسے بڑے اخلاق سے خدا حافظ کہہ کر اپنے ساتھی کا اس سے تعارف کرائے بغیر ایک دوسرے سن شیڈ کی طرف چلی گئی جس کے سائے میں بہت سی شان دار قسم کی خواتین ہلکے ہلکے قہقہے لگا رہی تھیں اور جہاں چائے کا دور چل رہا تھا۔

عورتیں__عورتیں کیا واقعی ایسی ہوتی ہیں۔ اس شام چکراتے ہوئے سر اور جلتی ہوئی کنپٹیوں کے ساتھ میرین ڈرائیو کے اپنے خوب صورت اور آرام دہ فلیٹ پر واپس پہنچ کر اس نے بالکل غیرارادی طور پر عطیہؔ کو ایک لحظے کے لیے غور سے دیکھا ۔ وہ بڑے سکون سے تخت پر بیٹھی کھٹاکھٹ مشین چلا رہی تھی۔ وہ اس کے قریب جاکر بیٹھ گیا۔ ’’عطیہؔ__‘‘ اس نے کچھ کہنا چاہا۔ عطیہؔ نے خاموشی سے سر اٹھاکر اسے دیکھا۔‘‘ کیا بات ہے آپ نے اب تک چائے نہیں پی؟ پھر آپ کلب کس وقت جائیے گا۔‘‘ اور دوسرے لمحے تخت پر سے اٹھ کر چائے منگوانے کے لیے باورچی خانے کی گیلری کی طرف چلی گئی۔

باہر سناٹا تھا اور میرین ڈرائیوپر روشنیاں جگمگا رہی تھیں۔ اور دور سمندر کی موجیں مدھم سا شورکر رہی تھیں۔

______________________________________________

یہ افسانہ ’’ساقی‘‘ اکتوبر 1948 میں شائع ہوا تھا۔ کسی بھی افسانوی مجموعے میں شامل نہیں ہے۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

آسماں بھی ہے ستم ایجاد کیا!

قرۃالعین حیدر جولائی ۴۴ء کی ایک ابر آلود سہ پہر جب وادیوں اور مکانوں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے