مرکزی صفحہ » تاریخ » شمس الدین کیکاؤس

شمس الدین کیکاؤس

از منتخب التواریخ

کیکاؤس برائے نام بادشاہ تھا۔ اسے کم سنی میں شائستہ خاں اور ملک چھجو کشلی خاں نے 689 ھ/ 1290ء میںتخت پر بیٹھایا تھا۔ ان دنوں شائستہ خاں کے چچا ملک حسین نے جو کیلوکھڑی میں معز الدین کا محافظ تھا کافی اثر ورسوخ پیدا کرلیا تھا۔ جب سارے انتظامات حسب مرضی طے پاگیے تو شائستہ خاں نے ملک چھجو کشلی خاں سے کہا کہ تم بادشاہ کے نائب کی حیثیت سے دارالخلافہ میں رہو۔ تبرہندہ اور دیپال پور کو میں اپنی جاگیر قرار دے کر یہاںسے رخصت ہوجاتا ہوں، ملک چھجو نے اس ذمے داری کو اپنے سر لینے سے انکار کردیا اور شائستہ خاں کا نائب رہنے کے لیے اصرار کرنے لگا اور اپنے لیے کڑہ علاقہ جاگیر میں دینے کی درخواست کی۔ ملک الامراء فخرالدین نے شائستہ خاں کو سمجھایا کہ چھجو کوجانے دو، وہ نکل گیا تو پھر سب کچھ تمہارا ہی ہے۔ چنانچہ شائستہ خاںنے ملک چھجو کی تجویز فوراً ہی قبول کرلی۔

شائستہ خاں کیکاؤس کو تخت پر بیٹھا کر تقریباً دو ماہ تک ملک کا نظم ونسق چلاتا رہا اس کے بعد وہ نو عمر بادشاہ کو سوار کراکے کیلوکھڑی لے آیا اور وہاں اسے قید کردیا، پھر چند دن بعد ہی اسے قتل کرادیا۔ سلطان شمس الدین کیکاؤس کی کل مدت حکومت تین مہینے اور کچھ دن ہے۔

خلجی خاندان — خلجی حکمراں

سلطان جلال الدین بن یغزش خلجی

سلطان جلال الدین کا اصلی نام ملک فیروز اور خطاب شائستہ خاں تھا۔ کیکاؤس کو قتل کرنے کے بعد وہ ملک چھجو خاں کی مدد کے باعث تخت پر بیٹھا۔ ’’تاریخ طبقات محمود شاہی‘‘ کے مصنف شہاب الدین حکیم کرمانی جونپوری نے سلطان جلال الدین اور سلطان محمود مالوی کو چنگیز خاں کے داماد قالج خاں کی اولاد بتایا ہے اور اس بارے میں ایک طویل قصہ بھی نقل کیا ہے۔ لیکن یہ غلط معلوم ہوتا ہے۔’’قالج‘‘ اور ’’خلج‘‘ میں کوئی مناسبت نہیں۔ ’’قالج‘‘ ترکی زبان کالفظ بھی نہیںہے، اگر ہو بھی تو اس لفظ کے معنی تلوار کے ہوںگے۔ دوسری بعض تاریخوں میں لکھا ہے کہ یافث بن نوح علیہ السلام کے کسی لڑکے کا نام ’’خلج‘‘ تھا اور خلجی اس کی طرف منسوب ہے۔

شہر نو کی تعمیر

سلطان جلال الدین نے تخت نشین ہونے کے بعد حکومت کے بڑے بڑے عہدے اپنے بھائیوں اور بیٹوں میں تقسیم کردیے۔ بڑے بیٹے کو خان خاناں اور منجھلے کو ارکلی خاں اور چھوٹے کو قدرخاں اور اپنے چچا ملک حسین کو ’’تاج الملک ‘‘کے خطابات سے نوازا۔ سلطان جلال الدین نے جمنا کے کنارے معزالدین کے محل کے مقابل ایک نئے شہر کی بنیاد رکھی، اس میںایک مضبوط قلعہ اور باغ بنوایا، جب شہر بن گیا تواس کانام ’’شہرنو‘‘ رکھا۔

ملک چھجو کی بغاوت

سلطان جلال الدین کی تخت نشینی کے بعد حسب قرار داد ملک چھجو کشلی خاں کڑہ کی جاگیر پر چلا گیا لیکن وہاں پہنچنے کے بعد اس نے تخت نشینی کے دوسرے ہی سال ماہ شعبان میںخود سری اختیار کی اور اس نواح کے اکثر جاگیر دار جو غیاث الدین کے امراء تھے اس سے مل گیے اور لشکر تیار کرکے یہ سب امیر اپنے اپنے مقام سے بدایوں میں آکر جمع ہوگیے۔گنگا کوبجلانہ کے گھاٹ سے عبور کرکے وہاں ملک چھجو کے انتظار میں رکے رہے تاکہ وہ آجائے تو پھر دہلی پر یورش کریں۔

سلطان جلال الدین کوجب اس شورش کی خبر ملی تو اس نے خان خاناں کو دہلی میں چھوڑا اور باغیوں کی سرکوبی کے لیے روانہ ہوگیا۔ اس نے اپنی فوج کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ ایک حصہ فوج کے ساتھ خود کول کے راستے سے بدایوںروانہ ہوا اور دوسرے حصہ کو ارکلی خاںکی قیادت میں ملک چھجو کے مقابلے کے امروہہ روانہ کردیا۔

ارکلی خاں رھب کے کنارے ملک چھجو کی فوج سے چند دن تک برسرپیکار رہا۔ اسی اثنا میں راجہ برم دیو کولہ نے اس کو کوئلہ بھی کہتے ہیں ملک چھجو کو اطلاع دی کہ ارکلی خاں کی مدد کے لیے سلطانی لشکر بھی آرہا ہے یہ سنتے ہی وہ ایساحواس باختہ ہوا کہ راتوںرات بھاگ گیا لیکن راستہ میںگنواروںنے گھیر کر اسے پکڑ لیا۔

ارکلی خاں نے رھب ندی کوعبور کرکے غنیم کی بھاگتی ہوئی فوج پر حملہ کیااور برم دیو کو قتل کردیا ۔ملک چھجواور دوسرے باغی امیروں کو حراست میںلے کر بہادری اور کسم کور (شمس آباد) کی طرف کوچ کیا۔

جب ملک چھجو اور بلبن کے وقت کے بہت سے امرا زنجیر میں گرفتار سلطان جلال الدین کی بارگاہ میں پیش کیے گیے تو انھیں دیکھ کر سلطان کو اپنا اور ان کا گزرا زمانہ یاد آگیا اور وہ اتنا متاثر ہوا کہ انھیں فوراً رہا کرکے حمام میں بھجوا دیا اور خلعتیں عطا کیں اور ان سب کے قصور کو معاف کر کے اپنا ہم نشین بنا لیا۔ ملک چھجو نے انھیں بڑے احترام اور عزت کیساتھ ملتان بھیج دیا اور کڑے پر اس کی جگہ اپنے بھتیجے اور داماد علاؤ الدین کو جو اس وقت بدایوں میں مامور تھا، روانہ کردیا۔ اس کے بھائی الماس بیگ کو آخور بیگی 24؎ کا عہدہ عطاکیا۔

اس دوران بڑے شاہزادے خان خاناںکاانتقال ہوگیا ،اس کی موت کا سلطان کو بہت رنج ہوا امیر خسرو نے ا س کا مرثیہ کہا ہے:

چہ روز است این کہ من خورشید تابان را نمی بینم

دگر شب چرا ماہ درخشان را نمی بینم

]یہ کون سادن ہے کہ میں چمکتے سورج کو بھی نہیں دیکھ پارہاہوں اور دن تو دن ہے رات کو بھی پتہ نہیں کیوں میں چمکتے چاند کی روشنی بھی دیکھنے سے قاصر ہوں (یعنی خسرو پر غٖم کی یہ کیفیت تھی کہ وہ دن رات دونوں میں بینائی سے محروم ہوگیے تھے۔[

دوسرے سال جب ارکلی خاں ملتان سے دہلی آیا تو بادشاہ نے اسے دہلی میں چھوڑ کر منداور کا رخ کیا۔ وہاں پہنچنے کے بعد اسے غدر کی اطلاعات ملیں اس کی فوج میں غیاثی امراء بھی شامل تھے۔ ان امیروں کی طرف سے اسے اندیشہ ہوا کہ کہیں غدر کی خبر سن کر یہ کوئی ساز ش نہ کریں ۔چنانچہ اس نے فوراً ہی ملک مغلتمی کو بدایوں، ملک مبارک کو تبرھندہ کی طرف رخصت کر دیا اور جب منداور کا قلعہ فتح ہوگیا تو بلاتاخیر شب و روز کوچ کرتا ہوا دہلی واپس آگیا۔ سلطان کو اطلاع ملی تھی کہ دہلی میں بغاوت کی تیاریاں ہورہی ہیں اور اس غدر کا بانی سیّدی مولہ ہے چنانچہ دہلی آکرا س نے سیدی مولہ اور ا س کے ساتھیوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

غیاث الدین بلبن خورد

از منتخب التواریخ الغ خانی خطاب تھا 664 ھ/ 1265ء میں تمام امراء اور ملوک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے