مرکزی صفحہ » تاریخ » سیدی مولہ درویش

سیدی مولہ درویش

از منتخب تواریخ

سیدی مولہ نہایت عابد و زاہد اور صاحب کرامات بزرگ تھے وہ عجم سے ہندستان آئے اور پہلے اجودھن میں حضرت قطب الاولیاء مخدوم شیخ فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں رہے پھر ان سے رخصت ہوکر ہندستان کے شہروں کی سیر کرتے ہوئے، دہلی آکر قیام کیا۔ شیخ فرید نے رخصت ہوتے وقت ان کو وصیت کی تھی کہ ’’لوگوں کے ہجوم اور امراء وملوک کی صحبت سے بچتے رہنا۔‘‘ دہلی میں سیدی مولہ نے بہت جلد شہرت عام حاصل کر لی اور بڑے بڑے امراء ان کے مریدوں میں شامل ہوگیے۔ یہاں تک کہ سلطان کا بڑا لڑکا شاہزادہ خان خاناں مرحوم بھی ان کا عقیدت مند تھا۔ بلبن کے عہد کے اکثر معزول امراء بھی ان کے یہاں آتے رہتے تھے کہ دونوں وقت اس کے دسترخوان پر بہت سے امیر حاضر رہتے تھے۔ ان کی خانقاہ میں روزانہ ہزار من میدہ اور پانچ سو من گوشت اور تین سو من شکر خرچ ہوتی تھی۔ امیر و غریب سب کے لیے ان کا دستر خوان عام تھا۔ محتاجوں کو لنگر بٹا کرتا تھا۔ وہ کبھی کسی سے کوئی تحفہ یا معاوضہ قبول نہیں کرتے تھے۔ اس خرچ پر لوگ گمان کرتے تھے کہ وہ کیمیا 25؎ بناتے ہیں۔ سیدی مولہ نماز روزہ کے نہایت پابند تھے لیکن جمعہ 26؎ میں حاضر نہیں ہوتے تھے کہ جو بڑے بڑے لوگ ان کی خدمت میں حاضر رہتے تھے ان میں قاضی جلال الدین کاشانی اور قاضی لشکر بھی شامل تھے۔

سیّدی مولہ کی شہادت

سلطان کو جب اس قسم کی اطلاعات ملیںکہ سیدی مولہ کی خانقاہ میں بغاوت کی سازشیں ہوتی ہیں تو ایک دن وہ خود بھیس بدل کر خانقاہ میں گیا اور جیسا سنا تھا اس سے زیادہ لوگوں کو سید کا معتقد پایا اور اس کے شبہات قوی ہوگیے۔ چنانچہ اس نے دوسرے دن صبح ایک بڑی مجلس منعقد کی اور بے گناہ سیّد ان کے معتقد امیروں اور قاضی کو پابہ زنجیر حاضری کا حکم دیا۔ ان کو بڑی بے عزتی کے ساتھ دربار میں لایا گیا اور ان پر سلطنت سے دغا اور بغاوت کا الزام لگایا گیا۔ سلطان نے ہر ایک سے ان کی تحقیق کی۔ سیدی مولہ نے انکار کیا اور قسم بھی کھائی۔ قاضی جلال الدین کو بھی سلطان نے بہت اذیتیں دیں لیکن اس نے بھی اس الزام سے انکار کیا۔ سلطان نے ان کو دہلی کے عہدۂ قضاء سے معزول کر کے بدایوں تبادلہ کر دیا۔ سیدی مولہ کا امتحان لینے کے لیے نمرود کی طرح بہت سی آگ جلوائی، ان کو مع ساتھیوں کے اس آگ میں جھونک دینے کا حکم دیا مگر حق گو علماء نے فتویٰ دیاکہ ’’یہ شرعا جائز نہیں، آگ ہر چیز کو جلا دیتی ہے۔ اس طرح کے امتحان کا کوئی اعتبار نہیں‘‘ اس فتویٰ کی وجہ سے سلطان اس وحشیانہ حرکت سے باز رہا۔ اسی مجلس میں سید کے معتقد اکثر امیروں کو سزا دی اور بعض کو جلاوطن کردیا۔ سلطان نے خود بالمشافہ سیدی مولہ سے مباحثہ کیا اور سخت جرح کی۔ سید نے ہر بات کا معقول جواب دیا اور سلطان ان پر کسی شرعی الزام کو ثابت نہ کر سکا۔ بیزار ہوکر اس نے ابو بکر طوسی کو جو آزاد قلندروں کا سرغنہ تھا مخاطب کرکے کہا ’’فقیر تم ہی اس ظالم سے میرا انصاف لو‘‘ یہ سن کر ایک قلندر کود کر آگے آیا اور اس نے ان کو زخم لگائے، داڑھی مونڈلی اور سوئیاں چبھوئیں۔ اتنے میں ارکلی خاںکے اشارے پر ایک فیل بان نے مست ہاتھی ان پر چھوڑ دیا۔ غرض وہ حق پسند مرد درویش بڑی اذیتوں سے شہید ہوا۔مشہور ہے کہ سیدی مولہ اس حادثہ سے دو سال پہلے ہی سے اکثر یہ دو شعر پڑھ کر ہنسا کرتے تھے:

در مطبخ عشق جز نکورا نکشند

لاغر صفتان زشت خود را نکشند

گر عاشق صادقی زکشتن مگر یز

مردار بود ہر آنکہ اد را نکشند

]عشق کے مطبخ میں نیک لوگوں کے سوائے کسی اور کو نہیں مارا جاتا ہے جو کمزور صفت ہوتے ہیں انھیں اپنی بُرائی نظر نہیں آتی ہے اگر تو خود کو عاشق صادق سمجھتا ہے تو پھر مرنے سے کیوں ڈرتا ہے؟ تو خود کو زندہ سمجھ کیوںکہ مرے ہوئے لوگوں کو کوئی نہیں مارتا۔)

جس دن سیدی مولہ کو شہید کیا گیا اس دن بڑی سخت سیاہ آندھی27؎ آئی۔

اس سال بارش بھی نہیں ہوئی اور ایسا سخت قحط پڑا کہ دیہات اجڑ گیے اور دیہاتوں سے ہندو جوق در جوق شہر میں آگیے، فاقہ کی تاب نہ لاکر بیس بیس، تیس تیس آدمی ہاتھ میں ہاتھ دے کرجمنا میں کود کود کر خودکشی کرنے لگے۔ ہزاروں مسلمان بھی قحط سے بے حال ہوکر مر گیے۔ ان حادثوں سے لوگوں کو عام طور پر یقین ہوگیا تھا کہ یہ اس بے گناہ شہید پر ظلم28؎ کا وبال ہے لیکن یہ باتیں زیادہ قابل اعتبار نہیں۔ اتفاقی طورپر ایسے حادثے ہوتے ہی رہتے تھے۔ سیدی مولہ کے ساتھ بہت سے بے گناہ پکڑے گیے، ان میں سے بعض کو ارکلی خاں کی سفارش پر رہائی مل گئی۔

اسی سال سلطان نے دوبارہ رنتھمبور کا قصد کیا اور اس کے گرد ونواح کو تباہ و برباد کردیا اور وہاں کے بت خانوں کو بالکل نیست و نابود کردیا لیکن وہ قلعے کو فتح نہیں کرسکا اور ویسے ہی لوٹ آیا۔ اسی سال ارکلی خاں بادشاہ کی اطلاع و اجازت کے بغیر دہلی سے ملتان چلا گیا۔ شہزادے کی اس حرکت سے سلطان کو بہت رنج پہنچا۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

غیاث الدین بلبن خورد

از منتخب التواریخ الغ خانی خطاب تھا 664 ھ/ 1265ء میں تمام امراء اور ملوک …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *