مرکزی صفحہ » سلطان مودود بن مسعود بن محمود غزنوی

سلطان مودود بن مسعود بن محمود غزنوی

از منتخب التواریخ

بامیان میں اپنے باپ کے قتل کے بعد سلطان مودود وزیروں اور امیروں کی متفقہ رائے سے تخت نشین ہوا۔ باپ کے قتل کا انتقام لینے کے لیے اس نے ماریکلہ کی جانب کوچ کرنے کا ارادہ کیا مگر ابونصراحمد بن محمد بن عبد الصمد نے اسے اس کام سے باز رکھا اور غزنی سے لے گیا۔ یہاںسے ایک بڑے لشکر کے ساتھ سلطان مودود، اپنے اندھے چچا امیر محمد پر چڑھائی کرنے کے لیے نکلا۔ وہ ابھی دیپور کے قریب تھا کہ امیر محمد سے اس کا سامنا ہوگیا۔جس نے آخر خونریز جنگ کی صورت اختیار کرلی۔دن بھر لڑائی ہوتی رہی، رات ہونے پر فریقین اپنی اپنی جگہوں پر واپس چلے گئے۔ دوسرے دن جب جنگ شروع ہوئی تو سلطان مودود نے امیر محمد کے ایک معتبر جرنیل کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ امیر محمد اور اس کا لڑکا احمد دونوں گرفتار ہوگئے اور انھیں قتل کردیا گیا۔ سلطان مودود نے اس مقام پر ایک شہر آباد کیا جس کا نام فتح آباد رکھا، یہ فتح اسے ماہ شعبان 432ھ1040/ء میں ملی ایک دوسرے قول کے مطابق 433ھ1041/ء میں ملی۔

چونکہ سلطان مودود خواجہ احمد بن عبد الصمد سے ناراض تھا اس لیے اس نے اسے غزنی میں قید کردیا۔ جہاں آخر کار وہ مرگیا۔ اسی سال اس نے ابونصر محمد بن احمد کو ہندستان بھیجا تاکہ نامی ابن محمد کے ساتھ جنگ کرے۔ نامیؔ اس جنگ میں مارا گیا۔

434ھ1042/ء میں سلطان مودود کے حکم سے ارتگین کو ایک جمعیت کے ساتھ طبرستان کی جانب روانہ کیا گیا تاکہ وہ داؤد ترکمان کے ساتھ جنگ کرے۔ اس جنگ میں اس کے بہت سے آدمی کام آئے۔ ارتگین پھر بلخ کی طرف بڑھا اوروہاں اس نے سلطان مودود کے نام کا خطبہ پڑھوایا اور اسی کے نام کا سکہ بھی جاری کیا۔ ارتگین کو وہاں زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ ترکمانوں نے پوری طاقت کے ساتھ اس پر چڑھائی کردی۔ وہ ان کے مقابلے میں نہ ٹھہر سکا اس لیے واپس غزنی چلا آیا۔ 435ھ1043/ء میں سلطان مودودنے غزنی کے کوتوال ابو علی کو قید کرلیا مگر چند روز کے بعد پھر اس کی رہائی کا حکم بھی جاری ہوگیا اور کوتوال غزنی کے علاوہ اسے دیوان مملکت بھی بنادیا گیا اور اس کے بجائے یسوری بن ایمغور دیوان کو قید خانے میں ڈال دیا جو وہیں مرگیا۔ سلطان مودود نے ارتگین کو بھی بغیر سزا دیے نہ چھوڑا۔

436ھ1044/ء میں جب خواجہ ظاہر نے جسے خواجہ احمد کے بعد وزیر مقرر کیا گیا تھا انتقال کیا تو خواجہ امام ابوالفتح عبدالرزاق کو اس کی جگہ وزیر مقرر کیا گیا۔ اسی سال طغرل حاجب کوبسط کی جانب بھیجا جو زنگی ابو منصور کے بھائی ابوالفضل کو گرفتار کرکے غزنی لایا۔ پھر سیستان چلا گیا۔ رباط امیر کے مقام پر ترکمانوں کے ساتھ اس کی خونریز جنگ ہوئی۔ طغرل حاجب اس جنگ میں فتح یاب ہوا۔ اس کے بعد وہ گرم سیرؔ پہنچا اور اس علاقہ کے ترکمانوں کو جنھیں سرخ کلاہ 39؎کہا جاتا تھا۔تلوار کے گھاٹ اُتارا اور ان کی کافی بڑی تعداد کو گرفتار کر کے غزنی لے آیا۔ سلطان مودود نے طغرل حاجب کو 438ھ1046/میں تکیناؔ باد بھیجا جہاں پہنچ کر ا س نے بغاوت کردی۔ جب سلطان مودود کو اس کی اطلاع ملی تو اس نے علی بن ربیع کو اس کی سر کوبی کے لیے نامزد کیا۔ طغرل حاجب ڈر کے مارے اپنے چند ہمراہیوں کے ساتھ بھاگ گیا۔ علی بن ربیع نے اس کی فوج کو غارت کیا اور کچھ سپاہیوں کو گرفتار کرکے غزنی بھیج دیا۔

439ھ1047/ء میں امیر قصدار نے بغاوت کی، اور جب اس نے حاجب بزرگ ارتگین کے ہاتھوں سے شکست کھائی تو اطاعت قبول کرلی۔ 440ھ1048/ء میں سلطان مودود نے اپنے فرزندان ابوالقاسم محمود اور منصور کو بیک وقت خلعت اعزاز اور طبل و علم عطا کیا۔ ان میں سے ایک کو ہندستان بھیجا اور دوسرے کو پُر شور40؎ اس کے علاوہ ابو علی حسن کوتوال غزنی کو بھی ہندستان روانہ کیا تاکہ وہ جا کر سرکشوں کو گستاخی کے مطابق سزادے اور جب وہ خدمت بجالانے کے بعد غزنی واپس ہوا تو اسے میرک بن وکیل کے سپرد کردیا گیا۔ جس نے اسے قید کردیا اور قید خانہ ہی میں مروا ڈالا۔ چونکہ میرک بن وکیل نے ابو علی حسن کو سلطان کے حکم کے بغیر مرواڈالا تھا اور وہ اسے پردہ میں رکھنا چاہتا تھا۔ اس لیے اس نے سلطان مودود کو کابل جانے پر اُکسایا۔مگر جب سلطان مودود سیالکوٹ کے قلعے کے پاس پہنچا اور درد قولنج 41؎ میں مبتلا ہوگیا جس کے باعث اسے غزنی واپس جانا پڑا اس نے غزنی واپس پہنچنے پر میرک کو حکم دیا کہ ابو علی کو توال کوفوراً رہا کردیا جائے مگر میرک نے ایک ہفتہ کی مہلت مانگی۔ اسی اثناء میں 24؍رجب 441ھ1049/ء کو سلطان مودود نے اس دنیا سے رخت سفر باندھ لیا۔ اسکی مدت حکومت 9سال تھی لُب التواریخ میں لکھا ہے کہ سلطان مودود نے چغزبیگ کی لڑکی سے شادی کی تھی اور اس سے ایک لڑکا بھی پیدا ہوا تھا۔ جس کانام مسعود رکھا گیا۔ اس نے سات سال حکومت کی۔ ماہ رجب 441ھ1049/ء میں سلطان مودود چغزبیگ سے ملاقات کے لیے خراسان سے روانہ ہوا، مگر راستہ ہی میں درد قولنج سے انتقال کر گیا۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

مجھے الجھا دیا دانش کدوں نے صرف خوابوں میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے