مرکزی صفحہ » سلطان معزّ الدین بہرام بن شمس الدین التمش

سلطان معزّ الدین بہرام بن شمس الدین التمش

از منتخب التواریخ

سلطان رضیہ کے بعد سلطان معزّالدین بہرام تخت نشین ہوا اور دہلی پہنچا۔ اس وقت ملک اختیار الدین التونیہ حاکم تبرہندہ نے سلطان رضیہ کے ساتھ عقد کر کے تمام زمینداروں، جاٹوں اور کھوکھروں کی جماعت اور ان کے امراء میں سے چند ایک کو اپنا ہم نوا بنالیا تھا اور ان کی مدد اور اعانت سے دہلی کی جانب فوجی مہم شروع کر دی تھی۔ سلطان معزا لدین بہرام نے ملک بلبن خورد کو جو بعد میں سلطان غیاث الدین بلبن کے نام سے مشہور ہوا۔ ملک اختیار الدین التونیہ کے مقابلے میں بھیجا۔رضیہ بھی ملک التونیہ کے ساتھ تھی۔ جب چھوٹے بلبن کی فوج میدان جنگ میں آئی۔ رضیہ کی فوج میں انتشار پیدا ہوگیا اور وہ تبرہندہ واپس چلی گئی مگر چند روز کے بعد پھر فوج کو جمع کر کے دہلی کی فتح کے خیال سے دوبارہ روانہ ہوئی، اور قصبہ کیتھل 89؎ پہنچی، مگر اس باربھی چھوٹے بلبن کے مقابلے کی وہ تاب نہ لاسکی اور شکست کھا کر بھاگ نکلی۔ راستہ میں التونیہ اور رضیہ دونوں کواروں 90؎ کے ہاتھ آگئے اور سلطان معز الدین بہرام کے حکم سے انھیں قتل کردیا گیا۔ یہ واقعہ 637ھ1238/ء کا تھا۔91؎

سلطان رضیہ کی حکومت 3 سال 6 ماہ اور 6 روز تھی:

سری راکہ گردن برآرد بلند

ھمش بارد گردن آرد کمند

جب سلطنت کی باگ ڈور سلطان بہرام شاہ کے ہاتھ آئی تو ملک اختیار الدین اتگین جو پہلے حاجب تھا اور سلطان کی ہمشیرہ ا س کے نکاح میں تھی اور نظام  الملک مہذب الدین کی تائید وحمایت سے مملکت کے جملہ امور پر وہ حاوی تھا اور ہمیشہ ایک بہت بڑا ہاتھی بادشاہوں کی طرح اپنے دروازے پر باندھے رکھتا تھا۔ 638ھ1239/ء میں اسے اور نظام الملک مہذب الدین وزیر دونوں کو چند فدائیوں92؎ نے سلطان کے اشارہ پر قتل کر دیا۔ اسی سال سلطان کے امرائ، اکابر، اعیان، صدور اور قاضیوں کی ایک جماعت کو جو درپردہ یہ سازشیں کرتی تھی کہ کسی طرح سلطان کو تبدیل کرکے اس کی جگہ کسی دوسرے کو بٹھایا جائے، انھیں برباد کیا، اور ان میں سے بعضوں کو قتل کردیا گیا اور کچھ کو جیسے بدرالدین سنقر، امیر حاجب وغیرہ کو بدایوں کا قاضی مقرر کردیا اور قاضی شمس الدین قاضی مارہرہ 93؎کو ہاتھی کے پاؤں کے نیچے روند ڈالا گیا۔

639ھ1241/ء میں مغل چنگیز خان کی فوج نے آکر لاہور کا گھیرا ڈالا اور ملک قراقش حاکم لاہور آدھی رات کو بھاگ کر دہلی چلا گیا اور سلطان کو حالات کی اطلاع دی۔ سلطان نے مناسب سمجھا کہ ایسے نازک وقت میں امراء سے از سر نو بیعت کی جائے، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور ان سب کے مشورے سے نظام الملک وزیر کو مغلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پنجاب بھیجا۔ نظام الملک کا دل پہلے ہی سے سلطان کی طرف سے صاف نہیں تھا چنانچہ اس نے مکر و فریب سے سلطان کو ایک خط لکھا، جس میں اپنے ہمراہی امراء کی شکایت کی اور سلطان سے درخواست کی کہ وہ بنفس نفیس تشریف لائیں، خط کے مضمون سے سلطان نے فوراً اندازہ لگا لیاکہ کچھ گڑبڑ ہے اس لیے اس نے بڑے سادہ لفظوں میں نظام الملک کو ایک فرمان کے ذریعہ اطلاع دی کہ منافق اُمراء اپنے وقت پر اس کی سزا پائیں گے مگر نظام الملک کویہ لازم ہے کہ اس وقت ان کے ساتھ خاطر ومدارات سے پیش آئے۔ نظام الملک نے سلطان کا یہ فرمان امراء کے سامنے رکھ دیا اور انھیں اپنا طرفدار بنا لیا۔ سلطان معزا لدین بہرام شاہ نے شیخ الاسلام خواجگان قطب الدین بختیار کاکی اوشی قدس سرہ العزیز کو نظام الملک کے امیروں کے پاس بھیجا کہ وہ انھیں سمجھائیں بجھائیں اور صورت حال کو بہتر بنانے میں اس کی مدد کریں مگر سبھی کوششیں ضائع گئیں۔ شیخ الاسلام دہلی واپس تشریف لے آئے اور ان کے پیچھے پیچھے نظام الملک اور دوسرے امراء بھی پہنچ گئے اور انھوں نے دہلی کو اپنے گھیرے میں لے لیا94؎ سلطان کو گرفتار کر کے قید کرلیا اور چند روز میں اسے مار دیا اور اس کی جگہ پردوسرے کو بادشاہ بنا دیا:

زمانہ دیر شد کین رسم دارد

کزین بستاند وباآن سپارد

اس نے 2سال ایک مہینہ اور15دن حکومت کی۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

مجھے الجھا دیا دانش کدوں نے صرف خوابوں میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے