مرکزی صفحہ » سلطان معزّالدین محمدسام المعروف بہ سلطان شہاب الدین محمد غوری

سلطان معزّالدین محمدسام المعروف بہ سلطان شہاب الدین محمد غوری

از منتخب التواریخ

معز الدین کا بڑا بھائی سلطان غیاث الدین غوری، عراق اور خراسان کا بادشاہ تھا۔ سلطان شہاب الدین غوری اسی کے نائب السلطنت ہونے کی حیثیت سے غزنی میں تخت نشین ہوا۔ اپنے نام کا خطبہ پڑھوایا اور سکہّ جاری کیا نیزاپنے بڑے بھائی کے حکم سے ہندستان پر لشکر کشی کی اورنعرۂ غزوہ اور جہاد بلند کیا۔ اسی کے عہد حکومت میں دلی فتح ہوئی تھی، اس پر انھوں نے اسلامی پر چم لہرایا تھا اور انھوںنے مستقبل میں ہندستان میں اسلامی حکومت کی بنیاد ڈالی تھی۔سلطان غیاث الدین نے تگین آباد پر جو گر مسیر کے توابع میں سے تھا، قبضہ کر کے سلطان شہاب الدین کو وہاں کا گورنر مقرر کردیا اور خود غزنی پر لگاتار حملہ کرتا رہا یہاں تک کہ اسی سال اُس نے اس ملک کو اپنے دائرہ فتوحات میں لے لیا۔ اس نے غزنی سے قبیلہ غزان کو بھی نکال باہر کیا جو سلطان سنجر کی گرفتاری کے بعد اس پر قابض ہوگیا اور معز الدین کو سلطان شہاب الدین کا لقب دیا۔ سلطان شہاب الدین نے اپنے بڑے بھائی کی نیابت کے پہلے سال کے دوران ہی 570ھ؍1174ء میں گردیز کو فتح کرلیا اور پھر اچہ 45؎ اور ملتان پر قبضہ کرلیا اور قرامطیوں کے طائفوں کو وہاں سے نکال دیا۔ قبیلہ بہتیہ46؎ نے اپنے آپ کو قلعہ بند کر رکھا تھا ان کا بھی قلع قمع کیا اور اس کے بعد یہ پورا علاقہ علی کرمانی کے سپر د کر کے غزنی لوٹ گیا۔

574ھ1178/ء میں سلطان شہاب الدین اپنی فوج کے ساتھ گجرات پہنچا۔اس علاقے کے حکمران بھیم دیو کے ہاتھ سے شکست کھائی اور بڑی مشکل سے غزنی پہنچا۔ 575ھ1179/ء میں اس نے پُر شور 47؎ فتح کیا اور580ھ میں لاہور کی طرف روانہ ہوا۔ سلطان خسرو شاہ کو جو غزنوی خاندان کا آخری بادشاہ تھا۔ خبر ملتے ہی لاہور کے قلعے کو بند کرکے بیٹھ گیا کافی خط وکتابت کے بعد اس نے اپنے بیٹے کو ایک ہاتھی کے ساتھ بطور نذرانہ بھیجا تو سلطان شہاب الدین نے اس کی عرض داشت صلح قبول کرلی۔ اسی موقع پر اس نے قصبۂ سیا لکوٹ کی بنیاد ڈالی اور وہاں اپنا ایک نائب مقرر کر کے غزنی چلا گیا۔ 581ھ1185/ء میں وہ دیول 48؎کی جانب بڑھا۔اور بحر شور کے ساحلی شہروں کو تہس نہس کر کے آدھے سے زیادہ مال و اسباب لوٹ لیا۔

582ھ1186/ء میں پھر وہ لاہور آیا اس کے گرد و نواح کو تاخت و تاراج کیا اور حسین کو قلعہ سیالکوٹ کا نگراں مقررکر کے واپس چلا گیا۔ تاریخ نظامی جو اس منتخب التواریخ کا ماخذ ہے اس کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ سیالکوٹ 49؎کی بنیاداسی سال ڈالی گئی تھی۔ یہ مبارک شاہی کے اس خیال سے مختلف ہے کہ اس کی بنیاد اس سے دوسال قبل ڈالی گئی تھی، واللہ اعلم۔ چونکہ تاریخ بھی خانہ خواب اور دوسری چیزوں کی طرح خراب ہے اس لیے اختلاف کی عذرخواھی ظاہر ہے اور اسی سال خسروملک کھوکھروں کی مدد سے ایک مدت تک حصار سیالکوٹ کا محاصرہ کیے رہا مگر ناکام واپس ہوا۔ اسی سال سلطان شہاب الدین نے دوبارہ لاہور پر چڑھائی  کی خسرو ملک قلعہ بندہوکر بیٹھ گیا مگر کب تک؟ آخر مجبور ہوکر اسے سلطان شہاب الدین کے حضور آنا پڑا۔ سلطان اسے اپنے ہمراہ لے گیا اور اپنے بھائی سلطان غیاث الدین کے سپر د کردیا جس نے اسے فیروز کوہ میں بند کردیا۔ جہاںاسی حالت میںوہ مرگیا۔ فیروز کوہ گرجستان کے قلعوں میں سے ایک ہے۔ اس تاریخ سے حکومت بلا خوف وخطر غوریوں کے پاس چلی گئی۔

اسی سال سلطان شہاب الدین نے حاکم ملتان علی کرمانی کو لاہور میں اپنا نائب السلطنت مقرر کیا اور587ھ1191/میں پھر غزنی سے روانہ ہو کر قلعہ تبر ہندہ کو سر کیا۔ یہ مقام ہندستان کے بڑے بڑے راجاؤں کا پایہ تخت رہ چکا تھا۔ ملک ضیاء الدین توکلی کو ایک ہزار اوربیس چنے ہوئے سواروں کو لے کر اس قلعے میں چھوڑا اس نے واپسی کا ارادہ کیا مگر حاکم اجمیر رائے پتھورا اور اس کے بھائی کھندی رائے دونوں کے ساتھ اس کا مقابلہ ہوا۔ کھندی رائے پہلے دلّی کا حاکم تھا وہ ایک بڑی فوج کے ساتھ موضع ترائن پہنچا جو دریائے سرسوتی 50؎ کے کنارے واقع ہے اور دہلی سے سات کوس کے فاصلے پر ہے اور آج کل تراوڑی کے نام سے مشہور ہے۔ اسلامی فوج نے اس معرکے میں مات کھائی اس لڑائی میں سلطان نے بڑی پھرتی دکھائی اس نے کھندی رائے پر جو ہاتھی پر سوار ہوکر لشکر کے آگے آگے تھا جھپٹ کر حملہ کردیا جس سے اس کا چہرہ زخمی ہو گیا کھندی رائے نے بھی جوابی حملہ کیا اور سلطان پر نیزہ سے وار کیا جس سے سلطان کا بازو زخمی ہوگیا مگر دونوں کی جان سلامت رہی۔ سلطان گھوڑے سے اُترا آیا اور اپنے بیٹے خلجی کے پیچھے گھوڑے پر بیٹھ گیا۔ خلجی نے گھوڑے کو تیز دوڑایااور دونوںباپ بیٹے میدان جنگ سے صحیح سلامت باہر نکل آئے رائے۔ پتھورا نے قلعہ بتر ہندہ کا ایک سال اور ایک ماہ تک محاصرہ کیا اور آخرصلح و صفائی کے بعد اس پر قابض ہوگیا۔

588ھ1191/ء میں سلطان شہاب الدین غوری چالیس ہزار نامور سواروں کے ساتھ پھر ہندستان آیا اس نے اپنی فوج کو چارحصوں میں تقسیم کیا اور سلطان نے ہانسی اور سرستی کے قلعوں پر چڑھائی کی اور ان پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد اجمیر کی جانب بڑھا یہ شہر رائے پتھورا کا  دارالسلطنت تھا اس پر قبضہ کرلیا۔ ا س کے ا رد گرد کے نواح کوخوب تاخت و تاراج کیا بڑی تعداد میں عوام وسپاہی گرفت میں آئے۔ دوسرے ذریعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت خواجہ خواجگان معین الدین چشتی اجمیری قدس اللہ سرہ العزیز جو دیار ہند کے مشائخ عظام کا سرچشمہ ہیں اور جن کا مزار متبرک اجمیر میں ہے۔ اس معرکہ میں سلطان شہاب الدین غوری کے ساتھ تھے اور یہ فتح اسی قطب ربانی کے فیوض و برکات کے طفیل تھی۔

اسی سال سلطان اپنے غلام، متبنیٰ اور جانشین ملک قطب الدین ایبک کو قصبۂ کہرام 51؎ میں چھوڑ کر خودکوہ سوالک کے راستہ غزنی پہنچا۔ بعدمیں قطب الدین ایبک نے دہلی کو مسّخر کیا اور رائے پتھورا اور کھندی رائے کے اقربا کے ہاتھ سے چھین لیا۔

589ھ1192/ء میں سلطان شہاب الدین نے چند وار اور اٹاوہ کے حدود میں راجہ جے چند حاکم قنوج کے ساتھ جنگ کی اور اسے مار ڈالا۔ اس کے بعد غزنی روانہ ہوگیا اور قلعہ کول52؎ قطب الدین ایبک کے قبضے میں آیا۔ اس نے دہلی کو پایہ تخت بنایا اور اس کی اطراف ونواح میں شاہی نظم ونسق قائم کردیا۔ اس دن سے دہلی سلاطین اسلام کا دارالسلطنت قرارپایا اور مینار اور دوسری عمارتیں اور مسجد وغیرہ سلطان شمس الدین التمش کے عہد میں تعمیر ہوئیں۔ چنانچہ ان سب کا ذکر اپنی اپنی جگہ کیا جائے گا۔

591ھ1194/ء میں سلطان شہاب الدین غوری نے قلعہ بہنگرام اور بداؤں (بدایوں) پر قبضہ کیا اور 593ھ1196/ء میں گجرات فتح کر کے نہروالہ یعنی پتن کی جانب بڑھا۔بھیم رائے دیو سے بہت سامال غنیمت سلطان کے ہاتھ آیا جسے وہ اپنے ساتھ لے کر واپس چلا گیا۔ اسی سال سلطان غیاث الدین کا انتقال ہوگیا۔ سلطان شہاب الدین کو جب اس کی خبر ملی تو وہ طوس اور سرخس کی حدوں میں تھا وہ فوراً باد غیس کی جانب روانہ ہوگیا وہاں پہنچ کر مراسم عزاداری ادا کیے اور پھر اپنے بھائی کی ملکیت کو رشتہ داروں میں تقسیم کرکے غزنی روانہ ہوگیا۔ پھر خوارزم پر چڑھائی کی۔ سلطان محمد خوارزم کے ساتھ جنگ ہوئی اور غوریوں کی کافی تعداد اس چڑھائی میں کام آئی مگر اس کے باوجود سلطان خوارزم غوریوں پر فتح نہ پاسکا۔ اسی دوران ترکستان کے تمام بادشاہوں کی طرف سے محمد خوارزم کو مدد پہنچ گئی اور سلطان شہاب الدین کو اس لشکرکا مقابلہ کرنا پڑا۔ بڑی سخت لڑائی ہوئی جس میں سلطان نے شکست کھائی اور ایک ہزار سوار فوج کے ساتھ وہ اندؔخود کے قلعے میں بند ہوگیا۔ امان پانے کے بعد وہاں سے غزنی واپس آیا۔

اس درمیان میں نواحی لاہور کے کھوکھروں کے ایک گروہ نے سر اٹھایا تھا۔ سلطان شہاب الدین نے ان پر چڑھائی کردی اورمدد کے لیے قطب الدین ایبک کو بھی دہلی سے بلوا بھیجا۔ دونوں نے مل کر کھوکھروں کی خوب گوشمالی کی۔ اس کے بعد سلطان غزنی لوٹ گیا ۔ اور راستے میں ابھی توابع غزنی کے ایک مقام دَمیک پہنچا تھا کہ ایک فدائی کھوکھرنے موقع پا کر اسے شہید کردیا۔ اس کی وفات سے متعلق یہ قطعۂ تاریخ ہے:

شہادت ملک بحروبر شہاب الدین

کزابتدائی جہان ھمچو اُو نیامدیک

سوم زعزّہ شعبان سال شس صد بود

فتادہ در رہ غزنین بمنزل دَمیک53؎

اس نے 32سال تک حکومت کی۔ اس کے پس ماندگان میں سے اسکی وارث صرف ایک لڑکی تھی۔ اس نے سونے چاندی اور جواہرات کے بے بہا خزانے اپنے پیچھے چھوڑے تھے ان میں سے ایک خزانہ پانچ سو من الماس54؎ کا تھا۔الماس کا شمار نفیس ترین جواہرات میں ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے دوسرے خزانوں کا بھی اندازہ لگا یا جاسکتا ہے۔ ا س نے نومرتبہ ہندستان کا سفر کیا تھا۔ دو مرتبہ معرکوں میں شکست کھائی تھی اور سات مرتبہ فتح حاصل کی تھی:

معزالدین محمد سام رادیدی کہ درھیجا

قوی تربود بازو ودل از سام ونریمانش

میسر گشت چون محمود از فیلان ہندستان

سیاست ہای ساسان وولایت ھای سامانش

گذشت از عالم وگویند وبر راوی بود عہدہ

کہ پانصدمن فزون الماس ماند از گنج سامانش

اس کے عہد حکومت میں علماء اور فضلاء کی ایک کثیر تعداد نے شہرت پائی تھی۔ ان میں سے ایک امام فخرالدین رازیؒ بھی تھے جنھوںنے ’’لطائف غیاثی‘‘ اور دیگر کتب لکھیں اورسلطان شہاب الدین کے بھائی سلطان غیاث الدین ابوالفتح کے نام سے منسوب کیں۔ امام موصوف کا قیام معّز الدین المعروف بہ سلطان شہاب الدین غوری کے لشکر میں تھا۔ وہ ہفتہ میں ایک بار وعظ فرمایا کرتے۔ وعظ کے خاتمے پر سلطان پر رقت طاری ہو جاتی۔ چونکہ امام رازی ؒ اس دوامی سلسلہ ملازمت سے دل برداشتہ ہوگئے تھے، ایک روز جب وہ منبر پر کھڑے ہوئے تو سلطان کو مخاطب کر کے انھوں نے کہا کہ اے سلطان معز الدین کچھ عرصہ کے بعد نہ تیری یہ عظمت وشان باقی رہے گی اور نہ رازی کا یہ تملق اورنفاق یہ قطعہ بھی انہی کا ہے:

اگر دشمن نسازد باتوای دوست

تراباید کہ بادشمن بسازی

وگر نہ چند روزی صبر فرما

نہ او ماند نہ تو نہ فخررازی

سلطان کے قتل کے بعد بعض فتنہ انگیزوں نے حسد کی بنا پر امام رازیؒ پر یہ الزام لگایا کہ ان کا تعلق فدائیوں55؎ سے ہے اور وہ ان کے ارادے سے بخوبی واقف ہیں۔ فتنہ پردازوں نے جب امام رازیؒ کی جان لینے کا قصد کیا تو انھوں نے موئد الملک سجزی جو سلطان کے معتمد امراء میں سے تھے ان سے حفاظت جان کی التجا کی۔ کسی شاعر نے سلطان کی تعریف میں قصیدہ کہا جس کے دو شعر ہیں:

سلطان معّز الدین شاہ غازی کہ در جہان

تیغش چو ذوالفقار علی مرتضی شدست

سلطانِ حق محمد سام آن کہ خلق را

مہرش چومہر دوستی مصطفی شدست

سلطان قطب الدین ایبک

سلطان معّز الدین المعروف بہ شہاب الدین غوری کے خاص بر گزیدہ اور معتبر  غلاموں میں سے تھا، چونکہ چاند گرہن کے وقت اس کی چھوٹی انگلی ٹوٹ گئی تھی اس لیے اس کے نام کے ساتھ ایبک 56؎ کا اضافہ ہوگیا۔اسے قطب الدین لکھ بخش بھی کہتے تھے۔ ہندستان کے امراء کی رائے سے دہلی کے استحکام وحفاظت کے لیے اس نے یہاں مستقل اقامت اختیار کرلی۔ سلطان معز الدین کی شہادت کے بعد اس کے بھائی کا لڑکا غیاث الدین محمود نے فیروز کوہ سے چتراور خلعت بادشاہی دونوں چیزیں ملک قطب الدین کو بھیجیں اورسلطان کے نام سے مخاطب کیا۔ سلطان غیاث الدین محمود کی مدح میں یہ شعر کہا گیا تھا:

سلطان مشرقین، جہاندار مغربین

محمود بن محمد بن سام بن حسین

سلطان قطب الدین ایبک 602ھ1206ء میں دہلی سے لاہور جا کر بروز منگل 16؍ماہ ذی قعدہ کو تخت سلطنت پر جلوہ افروز ہوا۔ وہ جود و سخا میں اپنی مثال آپ تھا اور مستحقین کو حوصلے سے بڑھ چڑھ کر انعام واکرام سے نواز تا تھا۔ لکھ بخشی کے طریقہ کا بانی بھی وہی تھا۔ فضلائے عصر میں سے فاضل بہاء الدین اوشی57؎ نے یہ اشعار اسی کی مدح میں لکھے تھے:

اے بخشش لک تو در جہان آوردہ

کان را کف تو کار بجان آوردہ

از رشک کف توخون گرفتہ دل کان

وز لعل بہانہ درمیان آوردہ

زیادہ وقفہ نہیں گزرا ہوگا کہ سلطان قطب الدین ایبک اور تاج الدین یلدوز کے باہمی تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ تاج الدین یلدوز سلطان فخرالدین کے بندگان خاص میں سے تھا۔ اس نے غزنی میں اپنے نام کا خطبہ بھی پڑھوایا اور لاہور پر بھی چڑھائی کردی۔چنانچہ پنجاب کی حدود میں جنگ کی آگ بھڑک اٹھی جس میں تاج الدین یلدوز نے شکست کھائی اور اپنے مستقل مستقر کرمان کی جانب بھاگ نکلا۔ سلطان قطب الدین اس کے بعد رفتہ رفتہ غزنی پر بھی قابض ہو گیا اور چالیس روز وہاں مقیم رہا۔ اس دوران اس نے اپنے اوقات خوب لہو ولعب اور عیش پرستی میں گزارے، یہاں تک کہ غزنی کے باشندے اس سے عاجز ہوگئے انھوں نے خفیہ طور پر تاج الدین یلدوز سے سازبازکی اور اسے بلوا بھیجا۔ وہ اس انتظار میں بیٹھا تھا چنانچہ فوراً آپہنچا۔ سلطان قطب الدین اس کے مقابلے کی تاب نہ لاکر سنگ سوراخ58؎ کے راستہ لاہور چلا آیا:

چوسلطان سر انداز باشد بمی

فتد بی خبر از سرش تاج کی

ابھی اس کی حکومت کو زیادہ مدت نہیں ہوئی تھی کہ 617ھ؍1220ء میں جب کہ وہ لاہور میں چوگان کھیلنے میں مصروف تھا گھوڑے سے گر کر مر گیا اور اسی شہرمیں دفن کردیا گیا۔ اس کی قبر پر آج بھی لوگ زیارت کے لیے جاتے ہیں۔ وہ پہلا ہندستان کا مسلمان فاتح تھا۔ 59؎ جس کی کل مدت،حکمرانی بیس سال پر مبنی ہے مگر اس بیس سال کے عرصے میں وہ بحیثیت سلطان صرف چار سال ہی حکومت کرسکا۔

گردن گردان شکست این کہنہ چرخ چنبری

ناتوانی دل مِنہ بر مہر و ماہ ومشتری

سلطان معزالدین کے دوسرے امیروں اور غلاموں میں سے سات نے ہندستان کے مختلف صوبوں جیسے بنگال، لاہوراور غزنی وغیرہ میں حکومت کی تھی اور ان کے حالات اپنی اپنی جگہ مذکور ہیں۔ اس میں سے ایک تاج الدین یلدوز تھا جو ترائن عرف تراوڑی کی حدود میں سلطان شمس الدین التمش کے خلاف جنگ کرتا ہوا گرفتار ہوا۔ دوسرا سلطان ناصر الدین قباچہ جس نے تا ج الدین یلدوز کی ایک بیٹی سے شادی کی تھی اور اس کی دوسری بیٹی سلطان قطب الدین ایبک سے بیاہی گئی تھی سلطان معّز الدین نے اپنی زندگی ہی میں سلطان ناصرالدین قباچہ کو اُچہ60؎ اور ملتان عطا کردیا تھا 61؎۔ سلطان قطب الدین ایبک کی وفات کے بعد اس نے اپنی حدود حکمرانی میں توسیع کی، سرسوتی اور کہرام تک کے علاقے کو بھی قبضے میں لے آیا نیز لاہور پر بھی قابض ہوگیا۔ ملک تاج الدین یلدوز کا جو لشکر غزنی سے مؤید الملک سجزی کی قیادت میں آرہا تھا سلطان ناصرالدین قباچہ نے اس کے ساتھ بھی جنگ کی مگر ہار گیا اور سندھ کی جانب چلا گیا جہاں اس نے دوبارہ اپنی قوت بحال کی۔

611ھ1214/ء 62؎ میں مغلوں کے لشکر نے چالیس روز تک ملتان کامحاصرہ کیا۔ سلطان ناصرالدین قباچہ نے خزانہ شاہی کے دروازے عوام پر کھول دیے اور اتنی بہادری دکھائی کہ مغلوں کے بڑھتے ہوئے قدم رُک گئے آخر کار 22سال کی حکومت کے بعد وہ سلطان شمس الدین التمش کے ہاتھ گرفتار ہوا اور مارا گیا۔63؎

سلطان ناصر الدین قباچہ کے علاوہ سلطان معز الدین کے امیروں اور غلاموں میں ایک اور شخص کا بھی شمار ہوتا تھا اور وہ ملک بہاء الدین طغرل ہے۔ جب سلطان معّز الدین نے قلعہ بہنگر64؎فتح کیا تو اسے اسی ملک طغرل کے حوالے کردیا جس نے بھیسانہ کے علاقے میں تعینات کیا اور وہیں مستقل رہائش اختیار کرلی۔

وہ ہمیشہ گوالیار کے نواح کو تاخت وتاراج کرتا تھا۔ سلطان معّزا لدین نے جب گوالیار سے مراجعت کی تھی تو اس نے اسی وقت وعدہ کیا تھا کہ یہ قلعہ بھی ملک بہاء الدین طغرل کو دے دیا جائے گا۔ وہ گوالیار سے تین چار میل کے فاصلہ پربڑی مضبوطی سے جم کر بیٹھا تھا۔

اس نے قلعہ کے اندر موجود لوگوں کو خوف زدہ کر رکھا تھا یہاں تک کہ اسی حالت میں ایک سال گزر گیا۔ آخر کار قلعہ والوں نے پیغامات اور تحائف بھیج کر سلطان قطب الدین ابیک کو بلوایا اور قلعہ اس کے حوالہ کردیا۔ اس بات پر قطب الدین ابیک اور ملک بہاء الدین طغرل کے بیچ اختلاف ہوگیا۔ جس نے آخر کار سخت عداوت کی صورت اختیار کرلی، مگر بہاء الدین طغرل کی عمرنے وفانہ کی اور تھوڑے عرصے کے اندر وہ انتقال کرگیا۔

سلطان معز الدین کے سلسلۂ امراء میں ایک شخص ملک محمد بختیار65؎ غوری بھی تھا جو بلادِ غور اور گرمسیر کے اکابر میں سے تھا ۔ وہ جملہ اوصاف حمیدہ کا مالک تھا سلطان معز الدین کے عہد حکومت میں وہ پہلے غزنی آیا پھر ہندستان پہنچا مگر یہاں پہنچ کر اس نے اسے پسند نہ کیا کہ سلطان قطب الدین کے ساتھ لاہور میں مقیم رہے۔ اس لیے وہ حسام الدین اوغلبیک کے پاس گیا جودو آبہ اور دریائے گنگا کے اس پار کے علاقے کا حاکم تھا اور کنیلا 66؎ اور پٹیالی اسے بطور انعام ملے تھے۔ ملک محمد بختیار غوری وہاں سے اودھ کو روانہ ہوا، اسے فتح کیا۔ اس کے بعد بہارؔ اور منیرؔ 67؎کی جانب بڑھا اور اسے جیتا، جہاں انواع و اقسام کا مالِ غنیمت اس کے ہاتھ آیا۔ سلطان قطب الدین ایبک کو جب اس کی روز افزوں فتوحات کی اطلاع ملی تو ملک محمد بختیار غوری کی عزت افزائی کے واسطے خلعت شاہی اور لوائے سلطنت بھیجا۔ ملک محمد بختیار غوری نے بھی اس کے عوض بے شمار تحائف سلطان کی خدمت میں بھیجے اور مزید انعام واکرام سے مالامال کیا بارگاہ سلطانی کے امراء نے جب ملک محمد بختیار غوری کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھی اور اپنے آپ کو اس کے مقابلے میں بالکل بے بس پایا تو حسد اور جلن سے انھوںنے اس کے خلاف سلطان کے کان بھر نے شروع کیے یہاں تک کہ سلطان ان کی باتوں میں آگیا اور اس نے ملک محمد بختیار غوری کو مست ہاتھی سے لڑنے کا حکم دے دیا۔ جب لڑائی شروع ہوئی تو ملک غوری نے ہاتھی کے خرطوم پر ایک بھاری گرزسے اتنی کاری ضرب ماری کہ وہ چکرا کر میدان سے بھاگ نکلا سلطان اس واقعے سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے ملک غوری کے لیے لکھنوتی 68؎کے تمام علاقے کا فرمان جاری کردیا۔ اس کے  دوسرے سال ملک غوری اپنے لشکر کے ساتھ لکھنوتی سے ندیا69؎ پہنچا۔ یہ شہر آج ویران اور بُرے حال میں ہے۔ ا س کا حاکم رائے لکھیہ تھا جس نے ملک محمد بختیار غوری اور اس کی طاقت کے متعلق پہلے ہی بخومیوں سے سُن رکھا تھا، چنانچہ اس کی آمد کی خبر پاتے ہیں وہ کامروپ کی جانب فرار ہوگیا اوربے شمار دولت مسلمانوں کے ہاتھ آئی۔ محمد بختیار نے معبدوں اور بُت خانوں کو مسمار اور ویران کیا، ان کی جگہ مسجدیں اور مکتب تعمیر کیے۔ اس نے دارالسلطنت کی بنیاد ڈالی اور اپنے نام کی مناسبت سے اس کا نام گور 70؎ (غور) رکھا:

آنجا کہ بود نعرہ وغوغائی مشرکان

اکنون خروش وغلغل اللہ اکبر است

اپنے نام کا خطبہ پڑھوانے اور سکہّ جاری کرنے کے بعد ملک بختیار غوری نے تبّت اور ترکستان کے ممالک فتح کرنے کا ارادہ کیا اور ایک بڑی جمعیت کے ساتھ اُدھر روانہ ہوا جو امیر علی 71؎ مسیح کی کمان میں تھی۔ اس کے مقابلے کے لیے بارہ سرتاپا مسلح سوار بردھن شہر پہنچ گئے۔ ملک غوری کے راستہ میں دریائے برہم پُتر پڑتا تھا جس کا دوسرا نام برہمکڑی تھا یہ دریائے گنگا سے تین چار گنابڑا ہے۔ شاہ گشتا سپ جب ادھر آیاتھا تو اس نے اس دریا پرایک پُل بنا یاتھا اور کامردپ کے پاس سے اسے عبور کرکے آگے بڑھا تھا، ملک بختیار نے بھی اسی پُل سے اسی مقام پر دریا کو عبور کیا۔ پل کی نگرانی اور راستے کی حفاظت کے لیے اس نے اپنے پیچھے چند قابل اعتماد جرنیلوں کو چھوڑا۔ پھر وہ تبّت پہنچا، دس روز پہاڑوں کے دشوار راستہ طے کرنے میں گزارے آخر اسے ایک صحرا دکھائی دیا جہاں ایک بے حدمستحکم قلعہ تھا۔ اہل قلعہ گشتا سپ کی نسل سے تھے اور اس قلعے کی بنیاد بھی گشتاسپ نے ڈالی تھی، چنانچہ اہل قلعہ جنگ کرنے کے لیے میدان میں نکل آئے اور شام تک لڑتے رہے۔ محمد بختیار کے بہت سے آدمی کام آئے، اس نے اس جگہ خیمے گاڑ دیے تو اسے خبر ملی کہ اس شہرسے سات آٹھ میل کے فاصلے پر ایک اور شہر ہے جہاں پچاس ہزار جنگجو ترک ہیں اور وہ اہل قلعہ کی امداد کو آئیں گے اس لیے دوسرے دن محمد بختیار نے وہاں ٹھہرنا خلاف مصلحت سمجھا۔ چونکہ اس میں مقابلے کی طاقت نہیں تھی اسی پُل پر واپس آگیا مگر اس کے پہنچنے سے قبل ہی جن جرنیلوں کو اس نے پل کا نگراں اور راستے کا محافظ مقرر کیا تھا کسی وجہ سے وہ آپس میں لڑ پڑے تھے جس کی وجہ سے کفار کو پُل کے دو طاق توڑنے کا موقعہ مل گیا۔ جب محمد بختیار پل کی جانب واپس آرہا تھا تو کفار اس کے تعاقب میں تھے چنانچہ اس نے پلٹ کر حملہ کیا۔ گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ اس مقام کے قریب ہی ایک مضبوط بُت خانہ تھا، محمد بختیار نے رات وہیں گزاری، صبح دریاپار کرنے کا سوال درپیش ہوا تو قریب ہی ایک جگہ دریا پایاب نظر آیا، اور اس کے چند آدمی وہاں سے گزر کر پار ہونے لگے ریت ریگ رواں بن گئی اور جہاں کہیں وہ پاؤں رکھتے ریت نیچے سے کھسک کر زمین میں دھنس جاتی اور اس کے بجائے پانی کا چشمہ ابُل پڑتا۔ چنانچہ محمد بختیار کے اکثر لشکری اس بحر فنا میں غرق ہوگئے اور جو بچ گئے وہ تیغ کفار کا لقمہ بنے اور جام شہادت نوش کیا۔ اتنے ہزار آدمیوں میں سے محمد بختیار صرف چار سو کے ساتھ دیو کوٹ پہنچا اور رنج و اندوہ کے باعث بیماری نے مرض دق کی صورت اختیار کرلی۔ اس حالت میں وہ اکثر کہتا کہ شاید سلطان معزالدین سام کو جو حادثہ پیش آیا تھا اس کی وجہ سے دولت اس سے برگشتہ ہوگئی ہے۔ روز بروز اس کی حالت گرتی جارہی تھی۔ یہاں تک کہ اس کے امراء میں سے ایک بڑے امیر علی مردان نے جو نارنول 72؎ کے علاقے سے دیو کوٹ پہنچا تھا۔ جب محمد بختیار کو صاحب فراش دیکھا تو اس کے چہرے سے چادر ہٹا کر خنجر سے اس کا کام تمام کردیا۔ یہ واقعہ 603ھ1206/ء کو رونما ہوا۔ جب کہ سلطان معز الدین سام وفات پا چکا تھا۔ اسی علی مردان نے سلطان قطب الدین کی وفات کے بعد بھی بڑی حکمت عملی سے عنان حکومت چھین لی تھی۔ لکھنوتی میں اپنے نام کا خطبہ پڑھوایا تھا، اپنا ہی سکہ جاری کیا تھا اور سلطان علاء الدین کے نام کی آڑ میںاپنی بادشاہت کا اعلان کردیاتھا۔ چونکہ وہ بڑے درجے کا کمینہ، مغرور اور بیہودہ تھا اس لیے لکھنوتی میں بیٹھا اپنے آدمیوں میں ممالک ایران وتوران کی تقسیم کرتا رہتا اور کسی کو اس سے یہ دریافت کرنے کی جرأت نہ ہوتی کہ وہ ممالک تو مابدولت کے احاطہ تصرف سے باہر ہیں۔ اس لیے ان کی تقسیم یہاں کے آدمیوں میں کیسے کی جا سکتی ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک مصیبت زدہ تاجر نے سلطان علاء الدین سے اپنے افلاس اور غربت کی شکایت کی۔ چنانچہ اس سے دریافت کیا گیا کہ وہ کہاں کا رہنے والا ہے؟ اس نے اصفہان کا نام بتایا۔ یہ سنتے ہی اس نے حکم دیا کہ ایک فرمان حاکم اصفہان کے نام جاری کردیا جائے کہ وہاں کی زمین کا ایک قطعہ گزارے کے لیے تاجر مذکور کو دے دیا جائے۔ تاجر نے اس قسم کا فرمان لے جانے سے انکار کردیا، مگر وزیروں میں سے کسی کو اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ سلطان کو اس امر کی اطلاع دیتا۔ ایک مرتبہ سلطان سے یہ کہا گیا کہ حاکم اصفہان کو نظم وضبط بحال کرنے کے لیے خرچ کی ضرورت ہے اس پر اس نے حکم دیا کہ اسے ایک خطیر رقم بھیج دی جائے جو توقعات سے کہیں زیادہ تھی۔جب اس کے مظالم حد سے زیادہ بڑھ گئے تو امرائے خلیج نے متحد ومتفق ہو کر اسے قتل کرڈالا اور اس کی جگہ ملک حسام الدین کو تخت پر بٹھا دیا جو قبخ اور گرمسیر کے امراء اور محمد بختیار کے خدمت گزاروں میں سے تھا۔ علی مردان کی حکومت کی مدت 32سال تھی ۔ ملک حسام الدین تخت نشین ہوتے ہی ترہٹؔ، بنگال، جاج نگراور کامروپ کے تمام علاقوں پر قابض ہوگیا۔ اس نے سلطان غیاث الدین لقب اختیار کیا۔ 622ھ1225/ء میں اس نے سلطان شمس الدین التمش کو 38ہاتھی اور ستر ہزار تنگہ 73؎ علاوہ سونے چاندی کے بطور نذرانہ بھیجا اور ان کے نام کا خطبہ پڑھوایا اور سکہّ جاری کیا چنانچہ اس کا تذکرہ انشاء اللہ آئندہ صفحات میں آئے گا۔

624ھ1227/ء میں ملک ناصرالدین محمد بن سلطان شمس الدین التمش اپنے بعض امیروں کے ورغلانے اور اکسانے پر اودھ سے لکھنوتی روانہ ہوا۔ غیاث الدین اس وقت فوج کے ساتھ کامروپ گیا ہوا تھا۔ یہ بات اسے پتہ چلی تو وہ واپس آگیا اور ملک ناصرالدین محمد کے ساتھ اس کی خونریز جنگ ہوئی مگر وہ اپنے امراء کی ایک کثیر تعداد کے ساتھ گرفتار ہوگیا اور بعد میں ان سب کو قتل کردیا گیا۔ انھوںنے دوسال تک حکومت کی۔

ہندستان کے ان چند مسلمان بادشاہوں کا ذکر دہلی کے سلاطین بزرگ کے سلسلے میں ضروری اور مناسب تھا اور باقی ملوک معزی کے حالات میں جو ملتان اور دوسرے مقامات پر قابض رہے دوسری جگہ درج ہے۔

سلطان آرام شاہ بن قطب الدین ایبک

باپ کے بعد اس کا جانشین ہوا:

جہان را نماند بی کد خدائی

یکی گر رود دیگر آید بجائی

ھمین است رسمِ سرای فریب

پدر رفت وپائی پسر در رکیب

امراء کے اتفاق رائے سے آرام شاہ نے لاہور سے دہلی کی جانب کوچ کیا۔ اس اثناء میں سپہ سالار علی اسمٰعیل کی استدعا پر ملک شمس الدین التمش ہردوار اور بدایوں سے آکر دہلی پر قابض ہوگیا۔ واضح رہے کہ ملک شمس الدین التمش سلطان قطب الدین کا غلام، منھ بولا بیٹا اور داماد تھا۔  ملک ناصرالدین قباچہ کے ساتھ بھی ا س کے باج گزارانہ تعلقات تھے۔ جب آرام شاہ نواح دہلی میں پہنچا تو ملک شمس الدین التمش اس کے مقابلے کے لیے ایک بڑی فوج کے ساتھ آگے بڑھا اوردہلی کی سرحد پر صف آرا ہوا۔اس جنگ میں آرام شاہ نے شکست کھائی اس طرح کل ملا کر آرام شاہ 74؎ کا عہد حکومت ایک سال یا اس سے کچھ کم وقت تھا۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

مجھے الجھا دیا دانش کدوں نے صرف خوابوں میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے