مرکزی صفحہ » تاریخ » سلطان محمد بن محمود غزنوی لقب جلال الدولہ

سلطان محمد بن محمود غزنوی لقب جلال الدولہ

ازا منتخب التواریخ

مذکورہ سن421ھ میں اپنے باپ کی وصیت کے مطابق اور اسی کے ایک رشتہ دار ابن ارسلان کی رائے سے غزنی میں تخت سلطنت پر جلوہ افروز ہوا۔ ابھی ڈیڑھ ماہ ہی گزرا تھا کہ امیر ایاز نے بعض دوسرے ملازمین کے ساتھ مل کر سازش کی اور وہ سب کے سب شاہی اصطبل کے گھوڑوں پر سوار ہو کر شہاب الدین مسعود کے پاس ملازمت کی غرض سے روانہ ہوگئے۔ شہاب الدین مسعود اصفہان میں تھا جہاں پہنچنے کے لیے انھوں نے نبط کا راستہ اختیار کیا۔ امیر محمد نے سوندھی رائے نامی ایک ہندو کو بے شمار لشکر کے ساتھ ان کے تعاقب میں بھیجا، مگر امیر ایاز جنگ میں اس پر غالب آیا۔ اس نے سوندھی رائے کو ہندؤوں کی ایک کثیر جماعت کے ساتھ قتل کردیا۔ ان کے سرکاٹ کر امیر محمد کے پاس بھیج دیے اور خود نیشا پور میں امیر مسعود کے ساتھ جاملا۔چار ماہ بعد امیر محمد نے اپنے خیموں کو بسط کی جانب منتقل کردیا اور پوری جمعیت کے ساتھ اپنے بھائی کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے نکلا۔ جب تگین آباد پہنچا تو تمام امراء اسی سے برگشتہ ہوگئے اور اسے اندھا کرکے ججرستان کے علاقے کے قلعہ بجؔ میں ڈال دیا۔ اس کے بعد تمام جوانوں اور خزانوں کے ساتھ وہ ہرات میں امیر مسعود کے ساتھ جا ملے۔ اندھے سلطان محمد نے صرف پانچ ماہ حکومت کی مگر بقول قاضی بیضاوی 14سال کی، جس میں سے نو سال اس نے قید میں گزارے، واللہ اعلم۔

صاحب لُب التواریخ لکھتا ہے کہ محمد ابن محمود نے پہلے پہل اپنے باپ کی زندگی میں چار سال بادشاہی کی تھی اس کے بعد نو سال قید میں رہا اور اپنے بھائی مسعود کے قتل کے بعد اس نے ایک سال اور حکومت کی۔ اس کے بعد اس کا انتقال ہوگیا:

امیری راکہ بر قدمش ہزاران پاسبان بینی

کنون برقُبّہ گورش کلاغان پاسبان بینی

سرِ اسپ ارسلان دیدی زرفعت رفتہ برگردون

بہ مرو آقا بخاک اندر تن اسپ ارسلان بینی

شہاب الدولہ سلطان مسعود بن محمود غزنوی

سلطان محمود کے امیروں اور وزیروں کی متفقہ رائے سے وہ تخت نشین ہوا اور ہرات سے بلخ جا کر اس نے موسم سرما گزارا۔ احمد ابن حسن میمندی کو سلطان محمود نے قلعہ کالنجر میں قید کر رکھا تھا، اسے بلا کر اپنا وزیر بنایا۔ پھر بلخ سے غزنی واپس آیا اور وہاں سے اصفہان اور رے کی جانب کوچ کا حکم دیا۔ جب ہرات پہنچا تو ترکمان سے مقابلہ ہوگیا، ان سے شکست کھائی اور غزنی واپس چلا گیا ۔ اس کی کمزوری کے باعث ترکمان روز بروز دلیر ہوتے گئے، ان کے حوصلے حد سے زیادہ بڑھ گئے جس کا ثبوت آئندہ کے واقعات سے ملے گا۔

423ھ؍1032ء میں احمد بن حسن میمندی کا انتقال ہوگیا اور 424ھ1033/ء میں سلطان مسعود ہندستان کی تسخیر کے عزم سے براستہ قلعہ سرستی روانہ ہوا۔ یہ قلعہ کشمیر میں واقع ہے۔ سب سے پہلے اس نے اس کا محاصرہ کیا اور اسے فتح کرلیا۔ کثیر مال غنیمت ہاتھ آیا جسے لے کر وہ غزنی لوٹ گیا425ھ؍1034ء میں سلطان مسعود نے آمل 26؎اور ساری 27؎کو تسخیر کیااور کالنجر اور طبرستان تک اپنے قاصد بھیجے تاکہ ہر جگہ اس کے نام کا خطبہ پڑھا جائے اور اسی کا سکہ رواں ہو۔ تغدی بیگ اور حسین ابن علی ابن میکائل کو ایک بڑے لشکر کے ساتھ نیشاپور سے بھیجا تاکہ وہ ترکمان کی سرکوبی کریں۔ فریقین میں سخت جنگ ہوئی۔ حسین قید ہوگیا اور تغدی بیگ بھاگ گیا اور سلطان مسعود کے پاس پہنچ گیا۔

امیر احمد نہال 28؎تگین، خازن سلطان محمود کو کسی قصور میں سزا دی گئی تھی، اسے بلا کر ہندستان بھیجا مگر یہاں آکر اس نے عَلم بغاوت بلند کردیا۔ سلطان مسعود نے ایک ہندو جرنیل 29؎ ناہر کو اس کے مقابلہ کے لیے نامزد کیا۔ امیر احمد مقابلے کی تاب نہ لاکر میدان جنگ سے بھاگ کر منصورہ 30؎ سندھ پہنچا اور غرقاب ہوگیا۔اس کا سر کاٹ کر غزنی بھیج دیا گیا۔

427ھ؍1036ء میں ایک نیا محل تعمیر ہوا جس میں جواہرات سے جڑے تخت لگائے گئے تھے، اس پر ایک جواہر جڑا تاج بھی لگا تھا۔ سلطان مسعود اس تخت پر جلوہ افروز ہوا، سر پر وہی تاج پہنا اور رعایا کو باریابی بخشی۔ اسی سال اس نے اپنے فرزند امیر مجدود کو طبل وعَلم کے اعزاز کے ساتھ بلخ بھیجا اور خود ہندستان کی جانب روانہ ہوا۔ سب سے پہلے قلعہ ہانسی31؎ فتح کیا پھرقلعہ سون پت32؎ پہنچا جہاں کا حاکم دیپال بھاگ کر جنگل میں جا چھپا اور قلعہ بغیر کسی دقت کے فتح ہوگیا۔یہاں سے کثیر مال غنیمت ہاتھ آیا اور دیپال کی فوج کی ایک بڑی تعداد مسعودی عساکر کے ہاتھوں قتل ہوئی۔ پھر سلطان مسعود آگے بڑھا تو وادیٔ رام میں داخل ہوا، جہاں کے حاکم رام نے بہت سازو مال نذرانے کے طور پر بھیجا، ساتھ ہی ایک عرضداشت کے ذریعہ اپنی غیر حاضری کی معذرت بھی کی۔ امیر مسعود نے اس کی معذرت قبول کرلی۔ اس کے بعد اس نے اپنے فرزند امیر مودود کو طبل وعَلم کے اعزاز کے ساتھ لاہور بھیجا اور خود غزنی کی طرف مراجعت کی۔

428ھ؍1037ء میں سلطان مسعود اس ارادے سے بلخ روانہ ہوا کہ ترکمانوں کو قرار واقعی سزادے۔ جب ترکمانوں نے اسکی آمد کی خبر سنی تو وہ بلخ چھوڑ کر اس کے اطراف ونواح میں پناہ گزین ہوگئے اور سلطان مسعود دریائے جیحون سے گزر کر تمام ماوراء النہر پر مسلط ہوگیا۔ داؤد ترکمان جس نے تغدی بیگ اور امیر حسین کو اس سے قبل شکست دی تھی پوری جمعیت کے ساتھ بلخ کی جانب روانہ ہوا۔ اس درمیان میں سلطان مسعود بھی وہاں پہنچ گیا۔ داؤد ترکمان ابھی مرو میں تھا کہ یہ اطلاع آئی کہ تغدی بیگ نے گورگان کے نواح میں ظلم وستم برپا کررکھا ہے۔ سلطان مسعود نے جب یہ دیکھا تو حکم دیا کہ اسے پھانسی کے تختے پر لٹکا دیا جائے۔ سلطان مسعود نے اس قبیلہ کے سردار بیغو ترکمان سے بھی اس امر کا عہد لیا کہ آئندہ وہ کسی قسم کی ناشائستہ حرکات کا مرتکب نہیں ہوگا اور اس کے لیے مناسب حدود مقرر کرکے سلطان مسعودہرات چلاگیا۔ راستے میں ترکمان کی ایک جماعت اس پر حملہ آور ہوئی، اس نے سلطان مسعود کے ہمراہیوں میںسے چند ایک کو قتل کردیا اورسامان لوٹ لیا۔ سلطان مسعود نے اس کا بدلہ لینے کے لیے جن لشکریوں کو نامزد کیاانھوں نے ترکمان کی اس جماعت کو تہ تیغ کردیا اور ان کے اہل وعیال کو مقتولین کے کٹے ہوئے سروں کے ساتھ سلطان مسعود کے حضور میں پیش کیا۔ سلطان نے ان سروں کو گدھے پر لدواکربیغو ترکمان کے پاس بھیجا اوربیغو نے معذرت خواہی کی ۔ اتفاق کی بات ہے کہ یہ وہی بیغو ہے جس کی مدح میں ایران کے ایک شاعر ضیائی33؎ نے قصیدے لکھے ہیں۔

ترکمان کی سرکوبی کے بعد سلطان مسعود ہرات نیشا پور اور پھر طوس پہنچا۔ ترکمان کی ایک جماعت راستہ میں اس کے ساتھ جنگ آزماہوئی مگر جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔بادرد کے باشندے اپنا شہر ترکمانوں کے حوالے کر چکے تھے سلطان مسعود نے ان کے قلعہ پر قبضہ کرکے سب کو مروا ڈالا اور اس کے بعد موسم سرما نیشاپور میں گزارا۔

430ھ1038/ء میں ترکمان طغرل کا سرکچلنے کے لیے سلطان مسعود روانہ ہوا۔ اس نے بادرد میں عَلم بغاوت بلند کیا تھا۔ جب طغر ل بھاگ گیا تو سلطان مسعود وہاں سے لوٹ کر مہنہ 34؎کے راستہ سرخس35 ؎ پہنچا۔ اس نے مہنہ کے قلعہ کو زمین دوز کردینے کا حکم دیا اور وہاں کی رعایا میں سے بعضوں کو مروا ڈالا اور اکثروں کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے۔ وہاں سے وہ زیر قان36؎ کی طرف بڑھاجہاں ترکمانوں نے ایک لشکر عظیم کے ساتھ سلطان مسعود کا مقابلہ کیا۔ اس معرکہ میں غزنی کے اکثر سپہ سالار برگشتہ ہوکر دشمن سے جا ملے اور سلطان تن تنہا میدان میں رہ گیا اور آخر کار بہ ہزار جدوجہد اس معرکہ سے صحیح وسلامت نکل آیا۔ یہ واقعہ 431ھ1039/ء میں پیش آیا تھا۔ اس کے بعد سلطان مسعود مروؔ پہنچا۔ اس کے اطراف کے کچھ لشکری اس کے ارد گرد جمع ہوگئے اور وہ غور کے راستہ غزنی پہنچا اور جو سردار بغیر جنگ کیے میدان سے بھاگ نکلے تھے ان کو سزائیں دیں اور بعض کو مثلاً علی دایہ، حاجب بزرگ اور تغدی وغیرہ کو ہندستان بھیج کر قلعوں میں بند کردیا اور وہ سب قید میں مر گئے۔

ترکمانوں کی سرکوبی کے لیے سلطان مسعود نے طے کر لیا کہ پہلے وہ ہندستان جا کر اپنی طاقت میں اضافہ کرے۔ یہاں سے ایک بڑا لشکر لے کر واپس آئے اور ترکمانوں پر چڑھائی کر کے سزا دے۔ چنانچہ اس نے امارت بلخ امیرمودود کے سپر د کی اور خواجہ محمد بن عبداللہ کو اس کا وزیر مقرر کیا۔اس کے بعد اپنے بیٹے امیر مجدود کو دوہزار سپاہیوں کے ساتھ ملتان روانہ کیا۔ اپنے دوسرے بیٹے امیر ایزدیار کو غزنی کے پہاڑوں کے دامن میں متعین کردیا تاکہ دوسرے ضلع کے افغانوں کی روک تھام کرے، جنھوں نے ہنگامہ اورسرکشی برپا کر رکھی تھی۔اس انتظام کے بعد وہ اپنے باپ سلطان محمود کے ان خزانوں کو اونٹوں پر لاد کر ہندستان روانہ ہوگیا جو غزنی اور اس کے نواح کے قلعوںمیں محفوظ تھے اور راستے ہی میں اپنے اندھے بھائی امیر محمد کو لانے کے لیے کسی کو اس کے پاس بھیجا۔ وہ قلعہ بزغند37؎میں قید تھا۔ سلطان مسعود ابھی ماریکلہ38؎ کے سرحدی قلعہ تک پہنچا تھا کہ اس کے اپنے ہی ملازموں نے وہ تمام مال ودولت لوٹ لیا جو اس کے ہمراہ تھا۔

اسی دوران امیر محمد بھی پہنچ گیا چنانچہ سلطان مسعود کے مظالم کا خاتمہ کرنے کے لیے وہ امیر محمد کے پاس گئے اور اس کی بادشاہت کا اعلان کردیا۔ اس کے بعد بغاوت کا جھنڈا بلند کرکے وہ سلطان مسعود کو قلعہ سے باہر نکال کرلے آئے اور قیدی بنا کر اسے قلعہ کیری میں بند کردیا یہاں تک کہ جمادی الاول 432ھ1040/ء میں ایک جھوٹا حکم امیر محمد کے نام سے اس قلعہ کے کو توال کے پاس پہنچا کہ وہ سلطان مسعود کا سرکاٹ کر بھیج دے۔کوتوال نے اس کی تعمیل کی اور سلطان مسعود کا سرکاٹ کر بھجوا دیا۔قطعہ:

زحادثات زمانم ہمین پسند آمد

کہ خوب و زشت وبدونیک در گزر دارم

کسی کہ تاج مرصع بسرنہاد صباح

نماز شام در اخشت زیر سر دارم

یہ تفصیل، کتاب نظامی کے مطابق ہے مگر قاضی بیضاوی نے اس سے اختلاف کیا ہے اور اس کے نزدیک سلطان مسعود 432ھ1040/ء میں سلجوقیوں سے شکست کھا کر ابھی غزنی پہنچا تھا کہ امیر محمد نے اسے گرفتار کرلیا جو اس کی غیر حاضری میں اپنی پوزیشن کافی مضبوط کرچکا تھا۔ گرفتاری کے بعد اس نے اسے قلعہ میں بند کردیا تھا جہاں امیر محمد کے بیٹے نے جاکر اسے قتل کردیا۔

سلطان مسعود کی حکومت گیارہ سال رہی، مگر یہ امر قابل غورہے کہ قاضی بیضاوی نے اس کی وفات کا سال433ھ1041/ء لکھا ہے۔ ان تمام شاعروں میں سے جنھوں نے سلطان مسعودکے عہد حکومت میں نشو ونما پائی ایک شاعر منوچہری بھی تھا جس نے اس کے وزیرکی مدح میں ایک قصیدہ لکھا۔ اس کا ایک شعر ملاحظہ ہو:

ھمی نازد بہ عدلش شاہ مسعود

چو پیغمبر بہ نوشیروان عادل

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

معزالدین کیقباد

از منتخب التواریخ سلطان بلبن نے خسرو خان کو اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے