مرکزی صفحہ » سلطان فرخ زادبن مسعود بن محمود غزنوی

سلطان فرخ زادبن مسعود بن محمود غزنوی

سلطان فرخ قید خانے سے رہائی کے بعد امراء کی رائے سے تخت نشین ہوا۔ جب سلجوقیوں کی ایک جماعت نے غزنی پر چڑھائی کی تو اس نے ان کی ایک کثیر تعداد کو قتل کرادیااور آخر ان پر غلبہ پالیا۔ جو سلجوقی گرفتار ہوئے انھیں غزنی بھجوا دیا۔ الپ ارسلان سلجوقی بادشاہ عراق اور خراسان سے فوج کشی کر کے غزنی پر چڑھ آیا۔ جب وہ جنگ میں کامیاب ہوا تو غزنی کے بہت سے سرداروں کو قید کرکے اس نے خراسان بھیج دیا، مگر جب دونوں میں صلح ہوگئی تو دونوں طرف کے قیدیوں کو رہا کردیا وہ اپنے اپنے ملکوں کو واپس چلے گئے۔ چونکہ جنگ کے سبب زابلستان پوری طرح سے برباد ہوگیا تھااس لیے سلطان فرخ زاد نے اس کا تاوان (ہرجانہ) معاف کردیا اور وہاں کے عوام کے ساتھ بطریق احسن پیش آیا۔ وہ تین ماہ تک مسلسل روزے رکھتا اور رات کازیادہ وقت نماز اور عبادت میں گزارتا۔ آخر وہ بھی درد قولنج میں مبتلا ہوا اور 450ھ1058/ء میں انتقال کرگیا۔ 43؎ اس نے چھ سال تک حکومت کی۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

دردؔ کا نظریۂ تصوّف اور اُن کی شاعری

دردؔ کی شاعری کا ذکر آئے تو جو اشعار اپنی طرف دامنِ دل کو کھینچتے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے