مرکزی صفحہ » تاریخ » سلطان علاؤالدین مسعود شاہ بن رکن الدین فیروز شاہ

سلطان علاؤالدین مسعود شاہ بن رکن الدین فیروز شاہ

اپنے چچا سلطان ناصر الدین محمد اور سلطان جلال الدین جو نسب میں سلطان شمس الدین التمش سے تھے ان سب کی رائے سے وہ تخت نشین ہوا۔ اگر چہ و ہ اس وقت قید خانہ میں تھا مگر عزالدین بلبن کے بڑے بیٹے نے اپنی ایک روز کی تخت نشینی کے دوران ہی اس کی رہائی کا اعلان کردیا تھا۔ مَلِکوں اور امیروں میں سے کوئی بھی عزالدین بلبن کی تخت نشینی پر خوش نہیں تھا اس لیے جب اس نے علاء الدین کے متعلق سناتو ہر ایک نے اس طرف غورو خوص کیا۔ ملک قطب الدین حسن کو نائب اور ملک مہذب الدین نظام الملک کو وزیر ممالک مقرر کیا گیا مگر 640ھ1242/ء میں سلطان علاء الدین مسعود شاہ کے امراء نے مہذب الدین نظام الملک کو قتل کرادیا۔

اب وزارت صدر الملک نجم الدین ابوبکر کے سپرد ہوئی۔ ملک غیاث الدین خورد جو پہلے الغ خان کے نام سے مشہور تھا اور بعد میں سلطانی کے منصب پر بحال ہوا تھا اسے امیر حاجب مقرر کیا گیا۔ ناگور، سندھ، اور اجمیر کی حکومت ملک عزالدین بلبن کے ہاتھ آئی اوربدایوں ملک تاج الدین یلدوز کو عطا کیا گیا۔ اسی سال طغاخاں نے جوآ گرہ 95؎ سے لکھنوتی کی جانب گیا تھا۔ شرف الملک اشعری کو ایک خط دے کر سلطان علاء الدین کی خدمت میں بھیجا اور سلطان نے چتر لعل اور خلعت خاص حاکم اودھ96؎ کے توسط سے نجف خان کے پاس لکھنوتی بھیجی اور اپنے مذکورہ صدر چچا کو قید سے رہا کرایا۔ ان میں سے قنوج کا علاقہ ملک جلال الدین کے سپرد کیا اور بہرائچ ملک ناصر الدین محمد کو حوالے کیا۔ ان دونوں علاقوں میں انھوں نے پسندیدہ کارنامے دکھائے۔ 642ھ1244/ء میں مغلوں کی فوج لکھنوتی پہنچ گئی۔ قیاس یہ ہے کہ مغل تبت اور خطا کے راستے آئے ہوں گے، چنانچہ سلطان علاء الدین نے تیمور خاں قرابیگ کو طغا خان کی مدد کے لیے بھیجا اگرچہ ان دونوں نے مل کر مغلوں کو شکست دی مگر ان میں آپس میں ان بن ہوگئی۔ طغاخان دہلی چلا آیا اور لکھنوتی میں تیمور خان برقرار رہا۔ اسی سال مغلوں کے لشکر نے اُچہ کے نواح میں لوٹ مارشروع کردی۔ سلطان کو جب معلوم ہوا تو وہ پوری تیزی کے ساتھ کوچ کرتاہوا دریائے بیاہ کے کنارے پہنچا۔ جب مغلوں کو اس کی خبر ملی تو وہ محاصرہ سے دستبردار ہو کر بھاگ گئے۔ اس کے بعد سلطان دہلی واپس آگیا اور اس نے گرفتاریوں اور خوں ریزی کا وہ بازار گرم کیا کہ اُمراء اور اکابر اس سے برگشتہ ہوگئے اور انھوں نے متفقہ رائے سے ملک ناصر الدین محمود کو بہرائچ سے بلا بھیجا۔ جب دہلی پہنچا تو 644ھ1246/ء میں انھوں نے سلطان علاء الدین مسعود کو گرفتار کرکے قید کردیا جہاں وہ مرگیا اور اس نے چار سال ایک ماہ حکومت کی۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

معزالدین کیقباد

از منتخب التواریخ سلطان بلبن نے خسرو خان کو اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے