مرکزی صفحہ » تاریخ » سلطان عبدالرشید ابن محمود غزنوی

سلطان عبدالرشید ابن محمود غزنوی

سلطان عبدالرشیدنے تخت نشین ہوتے ہی عبدالرزاق کے مشورے سے غزنی کا رخ کیا۔ علی ابن مسعود بغیر جنگ کیے بھاگ گیا اور طغرل حاجب جو سلطان محمود کا خانہ زاد غلام تھا سیستان فتح کرنے کے بعد غزنی کی جانب بڑھا۔ سلطان عبدالرشید نے ڈٹ کر مقابلہ کیا مگر 445ھ 1053/ء میں طغرل حاجب نے موقعہ پا کر اسے اور اس کے ساتھ سلطان محمود کے تمام وارثوں کو قتل کرڈالا۔ سلطان محمود کی لڑکی سے اس کی مرضی کے خلاف شادی کرلی۔ ایک روز جب کہ وہ تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ دلیر پہلوان کی ایک ٹولی کی رگِ حمیّت وغیرت پھڑک اٹھی اور انھوں نے جو ش میں آکر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے۔ سلطان عبدا لرشید کا عہد حکومت صرف چار سال رہا، مگر نظام التواریخ کے نزدیک سات سال اور لُب التواریخ میں لکھا ہے کہ اس کا انتقال 445ھ1053/ء میں ہوا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

معزالدین کیقباد

از منتخب التواریخ سلطان بلبن نے خسرو خان کو اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے