مرکزی صفحہ » سلطان شمس الدین التمش

سلطان شمس الدین التمش

از منتخب التواریخ

607ھ1210/ء میں دہلی کے تخت پر جلوہ افروز ہوا۔ التمش76؎ کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس کی پیدائش چاند گرھن کی شب کو ہوئی اور تُرک ایسے بچہ کو التمش کہتے ہیں۔ اس کا باپ قبائل ترکستان کا سردار تھا۔ اس کے رشتہ دار ایک روز التمش کو سیر کے بہانے باغ میں لے گئے اور حضرت یوسف کی طرح ایک تاجر کے ہاتھ فروخت کردیا جہاں سے وہ بخارا اور اس کے بعد سلطان محمد سام کے عہد حکومت میں غزنی آیا۔ عین اس وقت قطب الدین ایبک نہروالہ اور گجرات کی مہم کے بعد غزنی پہنچا تھا، چونکہ بغیر حکم سلطان سام کے کوئی شخص التمش کو خرید نہیں سکتا تھا اس لیے اس نے سلطان سے اجازت طلب کی۔ سلطان محمد سام نے اس کے جواب میں کہلا بھیجا کہ چونکہ وہ حکم دے چکے ہیں کہ غزنی میں اسے کوئی نہ خریدے اس لیے اسے دہلی لا کر فروخت کیا جا سکتا ہے،چنانچہ قطب الدین ایبک دہلی واپس آیا اور یہاں آکر اس نے ایک لاکھ تنگہ میں دو غلام خریدے۔ ایک اس کا ہم نام ایبک تھا اور دوسرا یہ التمش۔ ایبک غلام کا نام امیر مغاج رکھا اور اسے تبرہندہ کا امیر مقرر کر کے بھیج دیا۔ جب قطب الدین ایبک کی جنگ تاج الدین یلدوز سے ہوئی تو یہ ایبک غلام شربت فنا سے آشنا ہوا۔ اس کے بعد التمش کو اس نے اپنا منظور نظر بنایا اور گوالیار کی فتح کے بعد وہاں کی وزارت اس کے سپر د کردی۔ اس کے بعد برن77؎ اور اس کے علاقے کو اس کے سپر د کردیا۔ جب اس کی قابلیت اور پروان چڑھی تو بدایوں علاقہ بھی اس کے ماتحت کر دیا۔ کھوکھروں کی جنگ میں التمش ایک بڑا لشکر لے کر سلطان معز الدین کی مدد کے لیے گیا تھا اور اپنے مسلح گھوڑوں کو دریا میں ڈال کر اس نے ان کے ساتھ مردانہ وار جنگ آزمائی کی تھی جس کے صلے میں سلطان نے اسے القابات ِ خسروانہ اور شایان شان خلعتوں سے نوازا تھا۔ملک قطب الدین نے اس کی بہت سفارش کی تھی اور اس کی تربیت کی تعریف کی تھی۔ اسی دن قطب الدین نے اسے آزادی کا پروانہ عطا کیا، پھر رفتہ رفتہ اسے امیر الامراء کے منصب پر فایز کردیا یہاں تک کہ وہ اس عالی مرتبہ تک پہنچ گیا جہاں تک اسے پہنچنا تھا۔ اس کے عہد حکومت کے ابتدائی ایام میں معزّی اور قطبی امراء میں سے بعض نے بغاوت کی، ان کی سر کوبی کی گئی اوروہ سزا کا مستحق ہوا۔ جب ملک تاج الدین یلدوز خوارزم کے لشکر سے شکست کھا کر لاہو پر قابض ہوا تو التمش دہلی سے اس کے استقبال کے لیے لاہور روانہ ہوا 612ھ1215/ء میں ترائن جو تراوڑی کی سرائے کے نام سے مشہور ہے اس کی حدود میں دونوں کی فوجیں ایک دوسرے کے بالمقابل صف آرا ہوئیں اور خونریز جنگ ہوئی جس میں ملک تاج الدین یلدوز نے شکست کھائی اور گرفتار ہوا۔ اسے بدایوں بھیج دیا گیا جہاں اس کی موت واقع ہوئی اور اسی شہر میں اسے دفن کردیا گیا۔

612ھ1215/ء میں سلطان ناصرا لدین قباچہ سے سلطان التمش کی جنگ ہوئی۔78؎ قباچہ نے سلطان قطب الدین ایبک کی دو بیٹیوں کے ساتھ یکے بعد دیگرے شادی کی تھی۔ اس مہم میں بھی سلطان التمش کو فتح نصیب ہوئی۔ تیسری مرتبہ پھر اس کا مقابلہ سلطان ناصرالدین قباچہ سے ہوا۔ وہ حصارِ اُچہ کو مستحکم کرکے خود قلعہ بہنکر کی جانب چلا گیا۔ نظام الملک وزیر جنیدی نے اس کا پیچھا کیا اسی عرصے میں التمش نے قلعہ اُچہ فتح کرلیا۔ جب اس کی خبر سلطان ناصرالدین قباچہ کو ملی تو اس نے اپنے بیٹے بہرام شاہ کو سلطان التمش کی خدمت میں بھیجا اور صلح کی درخواست کی، بعد میں قلعہ بہنگر بھی قبضہ میں آگیا۔

615ھ1218/ء میں ناصر الدین پنجاب میں فوت ہوا اس کے مرنے کی وجہ سیلاب تھی۔ اس لیے سلطان التمش دہلی واپس آگیا 618ھ1221ء میں اس نے سلطان جلال الدین منکبرتی نے79؎ خوارزم شاہ پر لشکر کشی کی جو چنگیز خاں سے شکست کھاکرتاج الدین یلدوز کے بعد غزنی پہنچا تھا۔ پھر وہاں سے بھی خائف ہو کر اپنے متعلقین کے ساتھ لاہور آگیا تھا۔ سلطان جلال الدین اس کے مقابلے کی تاب نہ لا کر سندھ اور سیستان کی جانب چلا گیا، وہاں سے کچھّ اور مکران کے راستہ کِرمانؔ اور عراق پہنچا۔

622ھ1225/ء میں سلطان التمش نے بہار اور لکھنوتی کا رُخ کیا اور سلطان غیاث الدین خلجی جس کا ذکر آچکا ہے تحفہ قبول کر نے کے بعد اس کے نام کا خطبہ پڑھوایا اور اپنا سکہ جاری کیا۔ ا س نے اپنے بڑے بیٹے کو سلطان ناصر الدین محمد کا خطاب دے کر ولی عہد مقرر کیا اور وہ علاقہ اس کے سپرُد کر کے خود دہلی واپس آگیا، بعد میں سلطان ناصرالدین محمد اور غیاث الدین خلجی کے درمیان جنگ چھڑ گئی، جس میںسلطان غیاث الدین خلجی کو شکست ہوئی اور وہ سلطان ناصرالدین محمود کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس معرکے میں لوٹ مار کا جو سامان سلطان ناصر الدین محمود کو ملا اس نے اسے کئی حصوں میں تقسیم کیا اور امرائے دہلی میں سے ہر ایک کو بطور ہدیہ الگ الگ حصہ بھیجا۔

کہتے ہیں کہ ناصر علی نامی ایک شاعر دہلی سے خواجہ قطب الدین اوشی80؎ قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کو بتایا کہ اس نے ایک قصیدہ سلطان التمش کی مدح میں کہا ہے۔ اس نے حضرت قدس سرہ سے درخواست کی کہ وہ فاتحہ خوانی کریں تاکہ اسے ثواب ملے، چنانچہ انھوں نے فاتحہ خوانی کی اس کے بعد وہ سلطان التمش کی مجلس میں آیا اوریہ مطلع پڑھا:

ای فتنہ از نہیب تو زنہار خواستہ

تیغ تو مال و فیل ز کفار خواستہ

ایک ہی بار پڑھنے سے یہ مصرعہ سلطان التمش کو ازبر ہوگیا اور اس پر اثر ہوا۔ اس کے بعد جب شاعر نے پورا قصیدہ سنایا تو سلطان نے دریافت کیا کہ کل  کتنے شعرہوئے؟جب شاعرنے بتایا کہ 53 شعر ہوئے، تو سلطان نے حکم دیا کہ 53 ہزار تنگہ سفید ناصری شاعر کو بطور انعام دیاجائے۔

623ھ1226/ء میں سلطان التمش نے رنتھنبور کا ارادہ کیا اور اسے فتح کیا۔ اس کے بعد ایک لشکر لے کر 624ھ1227/میں مندر کے قلعہ کی فتح کے لیے بھیجا جو شوالک کی پہاڑی کے فتح کے درمیان میں پیش آیا اور وہ دہلی واپس آگیا۔ اسی سال امیر روحانی جس کا شمار فاضل روز گار اور دانشمندوں میں ہوتا تھا چنگیز خان کے ہاتھوں پریشان ہو کر دہلی میں وارد ہوا۔ اس نے ان فتوحات کی خوشی کے موقعے پر قصائد لکھے۔

626ھ؍1229ء میں کچھ عرب سفیر اس لیے القاب اور خلعت مصر81؎ سے لے کر آئے اس خوشی میں شہر کو خوب سجایاگیا خوب صورت محرابیں بنائی گئیں اور جشن کی محفل اور خوشیوں کا جلسہ منعقد کیا گیا۔اسی سال اسے اطلاع ملی کہ اس کا بڑا لڑکا سلطان ناصرالدین محمد لکھنوتی میں انتقال کر گیا ہے، غم سے فراغت کے بعد سلطان نے اپنے چھوٹے لڑکے کا نام ناصرالدین رکھ دیا۔ کتاب طبقات ناصری اسی کے نام سے موسوم ہے۔ 627ھ1230/ء میں وہ خود لکھنوتی پہنچا اور وہاں کے فتنے کو زیر پا کیا اور حکومت عزالملک علاء الدین خانی کے سپرد کرکے خود پایہ تخت کو واپس چلا گیا۔ 629ھ1232/ء میں اس نے گوالیار کے قلعے کو فتح کیا اور دبیر مملکت تا ج الدین یلدوز نے اس قلعے کی گھیرا بندی کے موقعے پر ذیل کی رباعی کہی جسے پتھر پر کندہ کر دیا گیا:

ہر قلعہ کہ سلطان سلاطین بگرفت

از عون خدا نصرت دین بگرفت

آن قلعہ کالیور وآن حصن حصین

درستمأیۃ سن 82؎ثلثین بگرفت

ظاہراً یہ تاریخ محاصرہ ہے جو ایک سال پہلے کہی گئی تھی، قلعہ ایک سال کے بعد قبضے میں آیا 631ھ1233/ء میں اس نے صوبہ مالوہ کی طرف یورش کی، بھیلسا83؎ کو فتح کیا۔ اس کے بعد شہراجین کی طرف بڑھا اور اس پر بھی قبضہ کیا۔ اس میں ایک بت خانہ تھا جس کا نام مہاکال تھا، اس کی تعمیر ہوئے چھ سوسال ہو چکے تھے اسے برباد کیا یہاں تک اس کی بنیادوں کو بھی اُکھاڑ پھینکا۔ راجہ بکرماجیت کا ایک مجسمہ بھی وہاں نصب تھا اسے بھی گرادیا۔ واضح رہے کہ یہی وہ بکرما جیت ہے جس کے نام سے ایک سن بھی جاری ہے اور راقم الحروف نے خلیفہ الرحمانی شہنشاہی ظل الہی کے حکم سے پہلے 972ھ اور دوبارہ1003 ھ؍1594 -1554ء میں ہندو پنڈتوں کی مدد سے اسی راجہ کے متعلق  32نادر اور عجیب وغریب کہانیوں کا ہندی زبان سے فارسی زبان میں ترجمہ کیا اور اس مجموعہ کا نام خرد افزا 84؎ رکھا۔ یہاں سے سلطان پیتل کے کچھ مجسمے بھی اپنے ہمراہ لے گیا جنھیں اس نے دہلی کی جامع مسجد کے دروازے کے پاس رکھ دیا اور حکم دیا کہ لوگ آتے جاتے انھیں پامال کریں۔ ایک بار پھر وہ بڑی فوج کے ساتھ ملتان پہنچا۔مگر بد قسمتی سے اسی سفر میں اسے ایک جسمانی مرض لاحق ہوگیا اور 633ھ1235/ء میں فوت ہوا۔اس نے 26سال حکومت کی تھی:

وز ان سردآمد این کاخ دلاویز

کہ چون جاگرم کردی گویدت خیز

عام طور پر یہ مشہورہے کہ سلطان التمش سرد مزاج تھا۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ایک بار اس کے دل میں آیا کہ کسی خوبصورت حسین کنیز کی صحبت سے لطف اندوز ہو مگر قوت مردی نے اس کا ساتھ نہ دیا اور کئی بار ایسا ہی ہوا۔ ایک دن جب کہ وہ کنیز سلطان کے سر میں تیل ڈال رہی تھی تو اس حسین کنیز کی آنکھوں سے آنسوؤں کے چند قطرے سلطان کے سر پر گر پڑے سلطان نے سر اٹھا کر دیکھا اور اس سے رونے کا سبب دریافت کیا۔ بڑے پس و پیش کے بعد آخر کنیز نے بتا یا کہ اس کا ایک بھائی تھا جس کاسر سلطان کی طرح گنجا تھا اس لیے سر میں تیل ڈالتے ہوے کنیز کے دل میں اپنے بھائی کی یاد تازہ ہو گئی اور آنکھوں سے بے اختیار آنسو ٹپک پڑے کنیز نے یہ بھی بتایا کہ اس کا بھائی ایک مرتبہ قید ہوچکا تھا۔ چونکہ سلطان بھی قید ہوا تھا اس لیے اسے یوں محسوس ہونے لگا کہ گویا کنیز مذکور اس کی بہن ہے اور حق سبحانہ تعالیٰ نے اس کنیز کو شاید اسی وجہ سے حرام کاری سے بچائے رکھا۔ راقم الحروف نے خلیفۂ آفاق یعنی اکبر شاہ خلد اللہ کی زبانی پہلے فتح پور اور اس کے بعد لاہور میں بھی ایک رات یہ بات سنی تھی جب کہ انھوں نے پایہ تخت کی خلوت گاہ میں بلا کر راقم الحروف کے ساتھ مختلف موضوعات پر باتیں کی تھیں۔ اس کے علاوہ سلطان غیاث الدین بلبن سے بھی یہی روایت منقول ہے۔ بلکہ اس نے تو یہاں تک کہا ہے کہ جب سلطان التمش نے ارادہ مباشرت کیا تھا تو کنیز کو حیض جاری ہوگیا تھا۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

مجھے الجھا دیا دانش کدوں نے صرف خوابوں میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے