مرکزی صفحہ » تاریخ » سلطان رکن الدین فیروز شاہ بن شمس الدین التمش

سلطان رکن الدین فیروز شاہ بن شمس الدین التمش

از منتخب التواریخ

اپنے والد کے عہد حکومت میں سطان رکن الدین فیروز شاہ چند مرتبہ بدایوں کے اضلاع کا مختار رہا تھا۔ اس کے بعد چتر شاہی اور عصائے اختیارات بھی حاصل کیا تھا اور جب لاہور کے سیاہ و سفید کا مالک تھا تو اس کی حیثیت ولی عہد کی تھی۔ سلطان التمش کے انتقال کے بعد تمام امراء کی متفقہ رائے سے 633ھ1235/ء میں تخت نشین ہوا۔ اس کے دبیر ملک تاج الدین یلدوز نے اس تقریب سعید میں ایک تہنیتی قصیدہ کہا تھا :

مبارک باد ملک جاودانی

کلک راخاصہ درعہد جوانی

یمین الدولہ رکن الدین کہ آمد

درش از یمن چون رکن ایمانی

جب تخت نشین ہوا تو شاہی خزانوں کے منھ کھول کر اس نے خوب داد عیش و عشرت دی اور اپنے اوقات گرامی طوائفوں اور رزیلوں کی صحبت میں صرف کیے:

دل چوبمی خانہ گرایدترا

جزمغ ومطرب کہ ستاید ترا

اس کی والدہ ترکان خاتون، ایک ترکی کنیز تھی۔ وہ حرم کی دوسری خواتین کوبہت تنگ کرتی۔ سلطان کا بڑا لڑکا قطب الدین دوسرے کے بطن سے تھا۔ اس نے اسے بھی قتل کروا دیا تھا۔ سلطان رکن الدین کی عیش کوشی اور غفلت شعاری کے سبب خزانہ خالی ہوتا جارہا تھا۔ اس کے چھوٹے بھائی ملک غیاث الدین محمد شاہ جو اودھ کا حاکم تھا جب اس نے یہ حالت دیکھی تو بغاوت کردی۔ ساتھ ہی اس نے عزالدین وکبیر خان سلطانی والئی ملتان اور ملک سیف الدین ضابطہ ہانسی کو بھی خطوط لکھے اور انھیں آمادہ کیا کہ سلطان کی مخالفت کریں۔ سلطان رکن الدین کو جب اس بات کا علم ہوا تو فتنے کو دبانے کی غرض سے منصور پور اور ترائن کے حوالی میں پہنچ گیا۔ اس واقعہ سے پہلے نظام الملک جنیدی وزیر ووکیل ممالک ہندستان کے ڈر سے کیلو کھڑی کی راہِ فرار اختیار کر کے کول میں ملک عزالدین محمد سالاری سے جا ملا تھا۔ لشکر کے دوسرے باقی ماندہ معتبر امراء منصور پور کے علاقے سے واپس دہلی چلے گئے اور وہاں رضیہ خاتون سے بیعت کرلی جو سلطان التمش کی بڑی لڑکی تھی اور اپنے والد کی وصیت کے مطابق اسی کو حق ولی عہدی پہنچتا تھا۔ وہ شجاعت، سخاوت اور فراست جیسی پسندیدہ خصلتوں کی حامل تھی۔

انھوں نے اسے تخت سلطنت پر بیٹھایا اور ترکان خاتون85؎ کو قید کردیا۔ جب سلطان واپس ہوا اور ابھی کیلو کھڑی پہنچا تھا، توسلطان رضیہ اس کے استقبال کے لیے بڑے لشکر کے ساتھ دہلی سے باہر نکلی اور بغیر جنگ کیے اسے گرفتار کر کے قید کردیا۔ وہ قید کی حالت میں ۸۱ ربیع الاول 1236/634ء کو انتقال کرگیا۔ اس نے چھ ماہ سے کچھ زیادہ عرصے تک حکومت کی تھی۔

سلطان رکن الدین کے ہم عصر شعراء اور اساتذہ میں سے ایک شہاب الدین مہمرہ 86؎ بدایونی تھا۔ امیر خسروؒ نے اپنے ایک قصیدے میں اس کا ذکر کیا ہے:

دربدایون مہمرہ سرمست برخیزد زخواب

گر بر آید غلغلہ مرغانِ دہلی زین توا

ملک الکلام توکلی نے اسے استادی کے الفاظ سے یا دکیا ہے۔ چنانچہ استاد الشعراء شہاب مہمرہ بدایونی کے ایک قصیدے کا انتخاب ذیل ہے۔ اس لیے درج کیا جا رہا ہے کہ احباب کے دلوں میں اس کی یا د تازہ ہو اور راقم الحروف کا حق ہم شہری ادا ہو:

از زبان گرچہ شگافم مولیٰ ھنگام بیان

ورثنائی حق زحیرت ھمچو مورم بی زبان

درپی زنجیر مویان پر پرواز ھوس

بستہ ام بسیار چون موران زدل جان برمیان

وزبرای مور چشمان شکرلب و زخیال

سفتہ ام موئی سخن صدرہ ز روی آسمان

تا ذخیرہ باشدم چو مور اندر مدح او

مودونیمہ کردم ویک موندیدہ از کس نشان

بعد ازین چون موربندم بردبیچون کمر

وزبن ھرموی توفیقش کشایم صدزبان

یہ قصیدہ مہمرہ کے زور قلم کا نتیجہ ہے، مولیٰ اور مور کے التزام کے ساتھ توحید نعت ختمی پناہ صلعم کی تشریح کا حق ادا کیا ہے۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

معزالدین کیقباد

از منتخب التواریخ سلطان بلبن نے خسرو خان کو اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے