مرکزی صفحہ » تاریخ » سلطان رضیہ بنت سلطان شمس الدین التمش

سلطان رضیہ بنت سلطان شمس الدین التمش

از منتخب التواریخ

634ھ1236/ء میں تخت پر بیٹھی اس نے اپنے پیش نظر عدالت وانصاف کا مدعا رکھا اور ان مشکل کاموں کو حل کرنے کی کوشش کی جس میں پیچیدگیاں پیدا ہوگئیں تھیں۔ کرم ورزی کا وہ طریق کار جو عورتوں کے لیے اسی طرح معیوب تھا جس طرح مردوں کے لیے بخل۔ سلطان رضیہ نے اس پر عمل کیا۔ اس نے نظام الملک جنیدی کو اپنا وزیر اعلی مقرر کیا۔ ا س کے امراء کے مابین بعض وجوہات کی بنا پر آپس میں مخالفانہ جذبات پیدا ہوگئے اور وہ اعلانیہ لڑنے جھگڑنے لگے۔سلطان رضیہ نے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان امیروں کے گروہ میں انتشار پیدا کردیا اور ان کی طاقت بکھر گئی۔ بعض موت کے گھاٹ اتار دیا گئے۔ نظام الملک سرؔمو چلاگیا اور اس نے نہا نخانہ عدم میں سکونت اختیار کرلی۔ خواجہ مہذب نائب اس کی جگہ وزیر اعلی مقرر ہوا۔ سلطان رضیہ کی حکومت بڑی طاقتور اور مستحکم ہوگئی۔ چنانچہ اس نے رنتھنبور فوج بھیجی اور سلطان التمش کی وفات کے بعد جن مسلمانوں کو ہندوؤں نے محصور کر رکھا تھا ان کو چھٹکارا دلوایا۔ جمال الدین یاقوت حبشی جو میر آخور 87؎ تھا وہ اس کا اس حدتک معتمد اور قابل اعتبار ہوگیا کہ سلطان رضیہ ہاتھی اور گھوڑے کی سواری کے وقت بازو یا کندھے پرتکیہ لگا کر بیٹھتی۔ جس کی وجہ سے دوسرے امراء کے دل میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی۔ سلطان رضیہ نے پر دہ نشینی بھی ترک کردی اور مردانہ لباس پہن لیا۔ وہ بڑی دلیری سے قبا پہنتی اور سر پر ٹوپ رکھ کر تخت شاہی پر جلوہ افروز ہوتی اور حکومت کے فرائض کو بخوبی انجام دیتی۔

637ھ1239/ء میں ملک عزالدین ایاز حاکم لاہور نے کھلے طورسے اس کی مخالفت شروع کردی۔ رضیہ نے وہاں پہنچ کر اس کے حلقے میں اضافہ کر کے ملتان بھی دے دیا۔ اسی سال اس نے تبرہندہ کی جانب بھی مہم چلائی۔ راستہ میں ترک امراء نے جب اس کی بعض ناشائستہ حرکات دیکھیں تو بغاوت کردی اور سلطان رضیہ اور جمال الدین یاقوت حبشی جو امیرالامراء کے منصب پر فائز تھا ان دونوں کو گرفتار کر کے قلعہ تبرہندہ میں بند کردیا۔88؎

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

معزالدین کیقباد

از منتخب التواریخ سلطان بلبن نے خسرو خان کو اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے