مرکزی صفحہ » تاریخ » سلطان بہرام شاہ مسعود بن ابراہیم

سلطان بہرام شاہ مسعود بن ابراہیم

از منتخب التواریخ

سلطان بہرام شاہ جب تخت پر بیٹھا تو حکیم سنائی اس کا مداح تھا۔ کلیلہ ودمنہ اور بہت سی دوسری کتابیں اس کے عہد حکومت میں احاطۂ تحریر میں آئیں۔ اس کی تخت نشینی کے روز سید حسن غزنوی نے جو قصیدہ کہا تھا اس کا مطلع ہے:

ندائی بر آمد زہفت آسمان

کہ بہرام شاہ است شاہ جہان

اور ذیل کا قصیدہ مکہ معظمہ میں کہہ کر اس کی خدمت میں بھیجا  :

ہر گز بود کہ باز ببنیم لقائی شاہ

شکرانہ در دو دیدہ کشم خاک پائی شاہ

بہرام شاہ کہ جان سلاطین قداش باد

باشد ایشان باشد سزائی شاہ

سیّار گان چرخ در افتدچون شہاب

پاء از برون نہند زحد وفائی شاہ

حکیم سنائی نے اپنی مشہور تصنیف’’حدیقۃ الحقیۃ‘‘اپنے اسی ممدوح بہرام شاہ کے نام منسوب کی تھی ۔ حکیم سنائی کو قید وبند کی جو صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں اس کی وجہ غزنوی تعصب تھا۔ جب یہ تصنیف دارالخلافہ بغداد پہنچی اور اکابرین اور بزرگان دین کی نظر سے گزری توان سب نے حکیم سنائی کے معتقدات کی تائید کی اور اس سلسلہ میں ایک یادداشت بھی لکھی جس کی وجہ سے حکیم سنائی کو رہا کردیا گیا۔ رہائی کے بعد وہ زیادہ دن زندہ نہ رہے اور رحلت کر گئے۔ کہا جاتا ہے کہ جب شیخ مجدود نے اس تصنیف کی بنا پر حکیم سنائی پر رافضی ہونے کا الزام لگایا تو اس نے بہرام شاہ کو یہ خط لکھا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد لللہ رب العالمین والصلوٰۃ علی خیر خلقہ محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین۔ اما بعد بعض روایتوں میں آیا ہے کہ جو چیزیں عمر کی درازی، بارش کے برسنے اور درختوں کے اگنے کا باعث ہوتی ہیں وہ یہ ہیں: مظلوموں کی حمایت، ظالموں پر قہر، اس کی تائید میں حضرت محمدؐکا یہ قول شاہد اور عادل ہے کہ آسمان عدل کی وجہ سے اپنی جگہ پر قائم ہے اور عدل کی مثال اس پرندے کی سی ہے کہ جہاں کہیں وہ سایہ فگن ہو دولت میں فراوانی ہوتی ہے اور جہاں کہیں وہ آشیانہ بنائے اس کا آشیانہ استدامت کاقبلہ ہوتاہے اور بارش آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ظلم اور عدو ایسے پرندے کی طرح ہیں کہ جس طرف بھی وہ پرواز کریں قحط اور وبا عام ہوتی ہے اور انسانوں کے دل سے زندگی اور حیا معدوم ہونے لگتی ہے۔ میری دلی دعا ہے کہ حق سبحانہ و تعالیٰ سلطان اسلام وبادشاہ عادل بہرام شاہ بن مسعود شاہ بن ابراہیم شاہ بن مسعود شاہ بن محمود غزنوی کو جورو ظلم سے محفوظ اور مصئون رکھے۔ اگر تمام دنیا بھی جمع ہو جائے تو اس فقیر کے دل میں علم ومعرفت کا جو سرمایہ اور دولت ہے، اس کی حقیقت کے اظہار سے قاصر ہے اور جو درخت کے مالک الملک نے اسرار غیوب کا مشاہدہ کرنے کے لیے لگایاہے اور جبریل اور میکایل کو بھی اس کی تہہ تک رسائی نہیں، یہ امر یقینی ہے کہ عادل کے لیے وہ ہر حال میں موجب سعادت ہے اور جابر کے لیے باعث شقاوت، اور بدترین ظلم وہ ہے کہ کسی کتاب یا مضمون کو پڑھے مگر اس کے مفہوم اور معنی سے بے بہرہ رہے مگر اس کے باوجود وہ مغرور اور خودپسند ہو اور علماء کے خلاف زبان طعن وتشنیع کھولے۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ہمارے پیغمبرؐنے فرمایا: ارحموا ثلثا غنیا افتقوا وعزیز قوم ذل وعالما بین الجہال ترجمہ۔ تین آدمیوں پر رحم کھاؤ ایک وہ دولت مند جو غریب ہو جائے، دوسرے قبیلہ کا وہ بزرگ جو ذلیل ہو جائے، تیسرے وہ عالم جو جہلا میں پھنس گیا ہو۔

جو کتاب ارباب معرفت وکمال کی زبان میں لکھی گئی ہو، بایزید ؒ اور شبلی جیسے بنیادی عارف ہی اس میں کوئی تصرف کر سکتے ہیں مگر جن لوگوں کو مذہبی علوم اور دینیات سے دور کا بھی لگاؤ نہیں یہ بڑی نادانی اور حماقت ہو گی کہ وہ اس کتاب پر نکتہ چینی کریں۔ ان کی کورچشمی کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ وہ آل مردان کو قابل نفرت وشقاوت ٹھہراتے ہیں اور آل محمد ؐ کی بے حد تعریف کرتے ہیںاور امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ کو دوسرے صحابہ پر فضیلت دیتے ہیں، مگر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کا درجہ صدیقؓ، فاروقؓ اور ذی النورینؓ کے بعد رکھا گیا ہے اور آل مردان کے عیوب اور آل محمدصلعم کے مناقب کے بارے میں حضرت محمد صلعم کے ارشادات کافی ہیں اور ہمارے لیے وہی دلیل راہ ہیں۔

کلمہ حق یہ ہے کہ اے خدا تو دنیا کو ایسے عالموں کے وجود سے آراستہ کر جو تجھ سے ڈریں اور عوام سے شرم وحیا ملحوظ رکھیں اور تو ہمیں ایسے لوگوں کے رحم وکرم پر نہ چھوڑ جو تیری محبت کی راہ سے بھٹک گئے ہوں۔ ’’بفضلک وجودک وکرمک یا ارحم الراحمین‘‘ یہ شعر حدیقہ ہی کا ذیل میں لکھتا ہوں:

عرش گر بارگاہ را زیبد

شاہ بہرام شاہ را زیبد

سلطان بہرام شاہ نے ہندستان پر لشکر کشی کی اور ان مقامات کو فتح کیا جنھیں اس کے اسلاف فتح نہیں کرسکے تھے، وہ اپنے امرامیں سے ایک کو ہندستان میں چھوڑ کر واپس غزنی چلا گیا۔ اس امیرنے بغاوت کی، سلطان امیر کی سر کوبی کے لیے آیا، ملتان کے نواح میں زبردست جنگ ہوئی۔ امیر گرفتار ہو کر سلطان کے سامنے آیا، اسے قتل کر دیا گیا اور دوسری بار پھر ہندستان اس کے قبضے میں آگیا۔ جب علاؤ الدین حسن بن حسین غوری جو ملوکِ غور میں سے تھا اس نے اس کے خلاف بغاوت کی اور غزنی تک آپہنچا تو بہرام شاہ بھاگ گیا اور علاؤ الدین اپنے بھائی سیف الدین غوری کو غزنی میں چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا۔ بہرام شاہ نے واپس آکر غزنی پر قبضہ کرلیا اور سیف الدین کو گدھے پر سوار کر کے شہر میں ذلیل کیا اور پھر ذلت کے ساتھ اسے قتل کیا۔ جب علاؤالدین کو اس کی اطلاع ملی تو اسے بے حد رنج ہوا اور ایک بڑے لشکر کے ساتھ غزنی کے لیے چل پڑا، مگر اس کے غزنی پہنچنے سے پہلے بہرام شاہ ملک آخرت کا سفر اختیار کرچکا تھا۔ اس کے بجائے اس کا بیٹا تخت نشین تھا۔ علاؤ الدین نے اپنے بھائی کا سخت انتقام لیا اور غزنی کی خاک پر جو ہزاروں افراد کے قتل کے خون کی حامل تھی خون کی ندیاں بہادیں۔ بہرام شاہ 547ھ؍1156ء میں اس دنیا سے رخصت ہوا تھا اس کے نصیب میں 32سال کی حکمرانی لکھی تھی۔ مسعودسعدسلمان نے اس کی مدح میں یہ مسدّس کہا تھا:

بہرام شاہ خسرو گیتی کشائی گشت

خورشید دہر وسایۂ فرخدائی گشت

چترش کہ شد ھمایون فرہمائی گشت

اُو را خدای عزّو جلّ رہنمائی گشت

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

معزالدین کیقباد

از منتخب التواریخ سلطان بلبن نے خسرو خان کو اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *