مرکزی صفحہ » فکشن » افسانے » سر را ہے

سر را ہے

قرۃالعین حیدر

موسم گرما کے چاند کی کرنیں دور دور تک سفیداور بھوری چٹانوں پر بکھر گئی تھیں۔ اور ہواؤں میں رات کے پھولوں کی تیز مہک اڑ رہی تھی۔ اور دیواروں کے پرے ہوٹل کونٹی نینٹل میں شومین کا ’’ کارینول ‘‘ بج رہا تھا۔ اور چنار کے درختوں کے نیچے رسپنا کا نقرئی پانی نیلگوں سنگریزوں پر سے آہستہ آہستہ شور کرتا ہوا گزر رہا تھا اور اس وقت پرانی کشتیوں کے پل پر چلتے چلتے دفعتاً رک کر اس نے کہا ’’ تمہارے خیال میں کیا یہ ایسی مکمل رات نہیں جس میں خود کشی کر لی جائے۔‘‘

پھر وہ خاموش ہوگئی اور وہ سوچ رہی تھی کہ وہ خوب ہنسے گا۔ کتنا عجیب خیال ہے۔ وہ جونارنجی بالوں اور گہری سبز آنکھوں والی ایک گڑیا تھی جو ہنس اینڈ رسن کی کہانیوں میں سے نکل کر دنیا میں آگئی تھی۔ اور رانی راپزل اور روز ریڈ کی طرح اس نے صنوبروں کے جنگل میں پلم کیک کا ایک گڑیا گھر بنایا تھا جس میں صرف چوکولیٹ کریم سے بنے ہوئے لوگ رہ سکتے تھے۔ بالکل جیسے ’’ ایلس ان ونڈر لینڈ‘‘ والے خرگوش کا چھوٹا سا سفید گھر تھا اور اس کے دریچے میں ایک گلابی چونچ والا کا کا توا بیٹھا اپنے پروں سے اپنی چونچ صاف کرتا رہتا تھا۔ اور اس گھر کی سرخ چھت پر ایک بڑی سی سفید ایرانی بلی بھی بیٹھی رہتی تھی۔ یہ سب اس نے خود ہی سوچ رکھا تھا۔ ظاہر ہے اور ہنس اینڈر سن کی کہانیوں والی سوتی جاگتی گڑیاں عجیب باتیں ہرگز نہیں سوچ سکتیں۔ وہ صرف اپنی بڑی بڑی آنکھیں جھپکا کر ’’ ممی ممی ‘‘ کہہ سکتی ہیں۔

اور اس لیے یہ سب سن کر دنیا کے چھوٹے چھوٹے انسانوں نے اپنی اپنی ناکیں اوپر اٹھالیں۔

اور میں زرین تاج جو‘ ان چھوٹے چھوٹے انسانوں میں سے ایک ہوں میں نے بھی اپنی چھوٹی سی ناک اوپر اٹھا لی۔

اور اس سے کہنا شروع کیا ’’اسے کہ تم صرف ایک چینی کی بڑی سی نہایت احمق گڑیا ہو‘‘___ لیکن وہ خاموش رہی___’’ ہوٹل کو نیٹینٹیل کی موسیقی بھی دور اپنے سروں پر ٹھہر گئی اور فضا پر ایسا سکوت طاری ہوگیا جیسا آندھی آنے سے پہلے ہوتا ہے۔

اور ایسا ہوا کہ ہم دونوں اپنے کمرے کے دریچے میں بیٹھے کچھ نہ کرنے میں مصروف رہے یعنی وہ اور میں۔ ہمارے باغ کے نشیب میں سیب کے شگوفوں کے نیچے چھوٹی چھوٹی پریاں رہتی ہیں۔ ایک دفعہ بارش کے بعد سفید برساتی مشروم جمع کرتے ہوئے میں نے اسے پریوں کا پتہ بتایا تھا۔ اس وقت دریچے میں بیٹھ کر کچھ نہ کرتے ہوئے شدت سے میرا جی چاہا کہ میں پریوں سے ملوں۔

’’ بڑی گڑ بڑ ہے بھئی۔‘‘ بے حد اکتا کر اس نے دفعتاً کہا۔

’’ ہاں بڑی گڑ بڑ ہے پریاں کہیں نہیں ملتیں‘‘ میں نے کہا۔

’’ سخت انتشار کا عالم ‘‘ اس نے دوبارہ کہا۔

’’ بہت سخت انتشار کا عالم‘‘ میں نے دوبارہ جواب دیا۔

’’ سکون مفقود ‘‘ اس نے رائے ظاہر کی۔

’’قطعی مفقود‘‘ میں نے اس کی رائے سے اتفاق کیا۔

’’ تمہیں وہ خود رو سفید پھول یاد ہیں۔‘‘

’’ خود رو سفید کیا؟‘‘

’’ میں اپنے ساتھ سفید جنگلی پھول لے کر تمہارے پاس آؤں گا۔ اور ان پھولوں کی پنکھڑیاں بہار کی گرم شام کے نقرئی جھونکوں سے گھبرا کر نہ گر سکیں گی۔

کیوں کہ ہمارے خوابوں کی طرح ہیں۔ جو ان جانی ہواؤں کے ساتھ بھٹکتے پھریں۔ اندھیرے کے سایوں میں چھپی ہوئی تمہاری سیاہ آنکھوں کو دیکھنے کی مجھ میں ہمت نہیں۔

ان کی گہرائیوں میں کہیں حقیقت نظر نہ آجائے۔

لیکن میرے سفید خود رو پھولوں کو یاد رکھنا۔

رات گزرنے کے بعد تم جاگ اٹھو گی۔

’’ لیکن یہ خود رو کلیاں خوابوں کے اندھیارے میں ہمیشہ جگمگاتی رہیں گی۔‘‘

اور فضا پر مکمل سکوت چھا گیا۔ اور پیانو پر رکھے ہوئے جاپانی واز کا اکیلا سفید پھول اپنے ڈنٹھل سے الگ ہو کر نیچے پیانو کے پردوں پر گر پڑا۔ پردہ اتنا چھوٹا اور اتنا ہلکا تھا کہ اس کے گرنے سے پردوں میں سے ذرا سی آواز بھی پیدا نہ ہوئی۔

’’ پر ایسا کبھی ہو نہیں سکتا‘‘ اس نے کہا۔

اور پھر یہ ہوا کہ بڑے زور کی آندھی اٹھی۔ اور آگ جیسا سرخ چاند اندھیرے میں پہاڑیوں کی سیاہ چوٹیوں سے ٹکرا گیا۔ اور طوفان کے بہاؤ میں پھولوں کے سارے ہرے پودے جھک گئے اورنئے درختوں کی ساری پتلی ٹہنیاں ٹوٹ ٹوٹ کر روشوں پر گر پڑیں اوراس نے سب دریچے بند کردیئے اور پھر وہ اپنے آپ سے اور بھی زیادہ اکتا کر فان میر کی اس تصویر کی طرف غور سے دیکھنے لگی جو میں یعنی زریں تاج نے روغنی رنگوں میں پینٹ کر کے موسیقی کے ٹرنٹی کالج کا امتحان پاس کرنے پر اسے تحفے میں دی تھی۔ اور اسے ندی پار کے صنوبروں کے جنگل والے چوکولیٹ کے مکان کا خیال آیا (کچھ یوں جیسے سڑک کی دوسری طرف خوبانیوں اور لیچیوں کے جھنڈ کے پیچھے ریاست رام پور کے صاحبزادہ سعید الظفر خان کی ایلزیبتھن وضع کی دو منزلہ کوٹھی ہے) جس کی دیواروں پر آیوئی چمٹی ہوئی تھی اور جس کے ایک دریچے میں گلابی چونچ والا کاکا توا بیٹھا تھا اور جب جھکڑ کا زور کم ہوا اور سرخ چاند مدھم پڑ کے نیلگوں پہاڑوں کے پیچھے چھپ گیا۔ اور صبح کا دھند لکا وادی کے راستوں پر بکھرنے لگا تو شور مچاتے ہوئے پہاڑی نالے کے پرے جیزس اینڈ میریز کے اداس سرمئی رنگت والے عبادت خانے میں سے شکرانے کی نماز کے گھنٹوں کی آواز بلند ہوئی کہ خدا وند ہمارے خدا نے ہمیں ایک اور طوفان سے بچا لیا۔

اور جب صبح کے آفتاب کی روشن کرنیں دریچے میں سے اندر داخل ہوئیں اور میری چھوٹی سی ناک کی کافی خوب صورت نوک سردی سے محفوظ ہوگئی‘ تو ابا میاں کے لیے انڈے کا پوچ تیار کرتے کرتے میری نظریں فان میر کے اس شاہکار پر پڑ گئیں جسے میں نے ووڈ اسٹاک میں اوریجنل سے ری پروڈیوس کیا تھا۔

’’اللہ بھئی کیوں اتنی گڑ بڑ ہے‘‘ گڑیا مار ملیڈ بھی کھاتی جارہی تھی۔

’’ ہم‘‘ صنوبروں کے جھنڈ اور شومین کے نغمے مجھے یاد آگئے۔

’’ رات اتنی بڑی آندھی آئی تھی‘‘ گڈو نے بتایا۔

پھر گڑیا شفتالو اور چیری کے پھولوں والی اپنی جاپانی چھتری اٹھا کر پہاڑی نالے کے اس پار اپنی موسیقی کی کلاس لینے چلی گئی۔

اور بگولے کی سی تیزی کے ساتھ پنٹو واپس آیا جو سیب کے شگوفوں تلے بسنے والے چھوٹے چھوٹے معصوم انسانوں میں سے ایک تھا۔

’’ گڑیا کہاں ہے؟ ‘‘ اس نے چاروں طرف دیکھ کر پوچھا اور پھر اس نے آہستہ سے کہا کہ ’’’ اب اس کا دماغ ٹھیک ہے نا؟ ‘‘

میں زریں تاج چپ چاپ پوچ تیار کرتی رہی۔

تو پھر میں ممی سے کہہ دوں نا؟ اور پنٹو جواب کا انتظار کیے بغیر بگولے کی سی تیز رفتاری سے غائب ہوگیا۔

پیانو پر جاپانی واز کے قریب رکھی ہوئی تصویر کی ڈچ لڑکی‘ اپنی بڑی بڑی نیلی آنکھیں جھپکتی رہ گئی۔

اور پھر ابا میاں کو پوچ کھلا دینے کے بعد گلابی آنکھوں والے اپنے سفید خرگوشوں کو دیکھنے کے لیے باہر آئی۔

پنٹو جھکی ہوئی خوبانیوں کے نیچے ایک نیلے پتھر پر بیٹھا ہاتھوں پر ٹھوڑی رکھے سخت غورو فکر میں مصروف تھا اور ’’ عبد اللہ‘‘ پی رہا تھا۔ مجھے خرگوشوں کی طرف جاتے دیکھ کر اس نے نہایت بے فکری سے سیٹی بجانی شروع کردی ٹارا لارا ٹارا لارا…

اوراس وقت وہ اتنا ہی معصوم اور شریر نظر آیا جتنا معصوم اور شریر وہ اپنے اسکول کے دنوں میں لگا کرتا تھا۔ اور سینٹ جار جزرائل اکیڈمی سے چھٹیوں میں گھر آکر شور مچاتا تھا۔

’’ گڑیا اسکول چلی گئی؟ ‘‘ اس نے دوسرا سگرٹ جلایا۔

’’ پتہ نہیں… ہنہ … ‘‘

’’ تم دونوں بلیاں آج پھر لڑی ہو؟ ‘‘

’’ جناب میں بلی ہرگز نہیں ہوں۔ تم خود ہو اس قدر کے لڑاکا بلے‘‘

’’ فوہ‘‘

’’ بلکہ لڑاکا مرغے‘‘

’’ فوہ… فوہ… ‘‘

’’ یا اللہ تو فرخندہ آپا کو آج ہی پہلے ’’ گیٹ سے ‘‘ بھیج دے ۔‘‘

’’ ہم ___عرض یہ ہے کہ پہلے ’’ گیٹ‘‘ سے انور آرہا ہے۔‘‘

’’ ایں؟ ‘‘

’’ ہم ‘‘

پھر پنٹو اس پتھر پر سے اٹھ کر اپنی نیلی اسپورٹس کار صاف کروانے کے لیے سیٹی بجاتا اور سگریٹ پیتا ہوا گیرج کی طرف چلا گیا۔ اور روش کی اودی اور سفید اور سرمئی بجری پر اس کے بوٹوں کی رگڑ سے دیر تک شور ہوا کیا اور سردی کے مارے اس کو بڑے زوروں کا زکام ہوگیا تھا۔

اور اپنا صبح کا ناشتہ ختم کرنے کے بعد میرے سارے خرگوش جھاڑیوں میں بھاگ گئے۔ اور مالیوں نے رات کی آندھی سے باغ کے پامال شدہ حصوں کی صفائی شروع کردی۔ بدلتے موسم میں آندھیاں بالکل اچانک اور بڑے زور شور سے آتی ہیں۔

پھر کپٹن انور اور فرخندہ آپا آئیں۔ اور فرخندہ آپا کے پاس ایک نہایت خلیق میزبان کی حیثیت سے برآمدے کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر ان کو البم دکھایا گیا۔ تاکہ سہ پہر کی چائے سے لے کر شام کے کھانے تک کے وقفے کی بوریت میں کچھ کمی پیدا کی جا سکے۔اور نپٹو کپٹن انور کی جائے قیام پر راجپور گیا ہوا تھا اور پہاڑی نالے کے پرے کانونٹ کے پرانے میوزک روم میں بے کار لڑکیوں کے ساتھ ای فلیٹ میجر اور اے مائیز پر سر کھپانے کے بعد واپس آکر گڑیا انتہائی اکتاہٹ سے آم کی آئس کریم بنانے میں مشغول تھی اور دنیا بے حد فضول اور غیر دل چسپ جگہ معلوم ہو رہی تھی۔

کہ فرخندہ آپا البم کے ایک صفحے پر رک گئیں۔

…؟

’’ فرخندہ آپا‘ یہ گڑیا کا بھائی ہے بے چارہ‘‘

…؟

’’جی گڑیا‘ یعنی نادر کا بڑا بھائی‘‘                ’’ او… لیکن نادر کا تو…‘‘

’’ جی ہاں فرخندہ آپا در اصل گڑیا کی دو ممی ہیں‘ اور دو ابا میاں ہیں اور ایک بھائی ہے یعنی  نپٹو‘‘

’’ ایں؟‘‘

’’ ہم ۔ گڑیا کی ممی تو اس کی اپنی ممی ہیں اور خالہ بیگم نے اس کو متبنی بنا کر رکھا ہے اور خالہ بیگم نپٹو کی ممی ہیں اتنے طویل رشتے سمجھاتے سمجھاتے میں فوراً اور بھی زیادہ بور ہوگئی‘‘

اور گڑیا بے تعلقی سے پنٹری کے دروازے میں بیٹھی ایک حماقت زدہ ککری بک پڑھ رہی تھی۔

پھر خالہ بیگم نے پچھلے برآمدے میں سے نماز کے تخت پر سے سلام پھیر کر اترتے ہوئے آواز دی: تم سب لڑکیاں آج شام کو گھر پر نہ رہو اور جاؤ باور چی خانہ صاف کرو۔

اور گڑیا کا جی مرنے کو نہیں چاہا کیوں کہ ایسے موقعوں پر مرنے کی خواہش بے حد عام اور بے وقعت چیز ہے اور میں زریں تاج جو زندگی کے متعلق ایک نہایت صحت مند نظریہ رکھتی ہوں‘ میں نے اس وقت بوریت کو کم کرنے کے لیے اس سے اپنی خاص فرنچ یا فارسی شروع کرنی چاہی لیکن وہ فوراً پینڑی کی الماری میں سے ایک اور ککری بک نکال لائی اور باورچی خانے کے پچھلے باغ میں کھلنے والے نیچے دریچے میں بیٹھ کر ایک اطالوی یا جاپانی یا شاید ترکستانی پڈنگ کی ترکیب پر غور کرنے میں مصروف ہوگئی ۔ پھر اسی وقت اپنے قبیلے کی ایک اور فرد‘ فرحت کافون آیا جسے صبح پتہ چل گیا تھا کہ بے حد اہم مہمان آرہے ہیں۔

’’ پتنگ آگئی۔ کیا نام ہے ان کا ؟ ‘‘

’’ ہاں بھئی آگئی۔ تمہارے منہ میں شکر گھی اور ٹافی‘‘

’’ کون آگئی؟ ‘‘ خالہ بیگم نے پچھلے برآمدے سے دریافت کیا اور اس لیے اپنی فارسی شروع کی گئی۔

بلے ونام اوں مرد مومن خپتون دکتور انور است… ‘‘ فارسی کے دریا اور بہائے جاتے لیکن ڈرائنگ روم نہ ٹھیک کرنے کے سلسلے میں خالہ بیگم کی تیسری ڈانٹ سنائی دی۔

اور ریسور رکھا ہی تھا کہ دوبارہ گھنٹی بجی ۔ خیال ہوا کہ بے چاری فرحت بات ختم کرنی چاہتی ہے۔ فارسی کی رو میں بغیر اچھی طرح سنے جلدی جلدی جواب دیئے گئے۔

’’ عارف صاحب تشریف رکھتے ہیں۔‘‘

’’ بلے ؟‘‘

’’ ہلو۔ عارف صاحب ہلو‘‘

’’ نمی دانم‘‘

’’جی‘‘

’’ من نمی دانم کہ اوں…‘‘ وقفہ

’’ ہلو… ‘‘ پھر دوسرے سرے پر قطعی طور پر جھنجھلاہٹ کے ساتھ ریسیور رکھ دیا گیا۔

پھر شام کو ڈاکٹر انور کے آنے سے ذرا پہلے پنٹو نے آکر کہا: ارے بھئی دوپہر انور نے راج پور سے فون کیا تھا‘ یہاں سے کوئی جواب ہی نہیں ملا۔ نہ جانے کس زبان میں بات کی جارہی تھی۔ اس نے سوچا ۔ شاید اس نے غلط نمبر ڈائل کیا ہوگا۔ اور تقریباً ہارٹ فیل ہوگیا۔ اپنی ہونے والی منگیتر کی بہن صاحبہ کا کس قدر نفیس امپریشن پڑا ہوگا۔ فون پر کیا فارسی بولتی ہیں‘‘

اور رات کے کھانے پر فرخندہ آپا پہلی بار پنٹو سے ملیں۔ فرخندہ آپ جو سلیکس پہنتی تھیں اور سرپر جارجٹ کے اسکارف کی ٹربن لپیٹتی تھیں۔ اور کسی آئی۔ سی۔ ایس کے لیے منتظر ہو بیٹھی تھیں۔

اورکھانے کے بعد برساتی سے لے کر پھاٹک تک کے راستے میں حسب ذیل مکالمہ شروع ہوا۔

’’ مسٹر عارف ڈویوڈ آنس ؟‘‘ (ڈانس کا الف ذرا کھینچ کر پڑھیئے)

’’ نو ‘‘

’’ اوہ آئی لوڈا نسنگ۔ اسپیشلی رمبا اینڈ ٹینگو‘‘

’’ مسٹر عارف ڈویو پلے ؟ ‘‘ (پلے کی یے کھینچنے)

’’ یس فرخندہ آپا‘‘

’’ ووٹ ؟ ‘‘ انتہائی شگفتگی سے سوال ہوا۔

’’ کرکٹ پنٹو نے مستعدی سے کہا۔‘‘

’’ اوہ‘ آئی مین اینی انسسٹرو مینٹس لائیک‘ وائیلن اور پیانو۔ آئی لوپیا نو (لو کے ل پر خوب زور دیجئے)

… خاموشی____

’’مسٹر عارف‘‘

(چھینکیں)… ‘‘ ار… فرخندہ آپا مجھے بڑا سخت زکام ہورہا ہے۔ کہیں آپ کو نہ لگ جائے‘‘

’’ اوہ نو … ‘‘

اورزیادہ چھینکیں…

اور سڑک پر پہنچ کر پنٹو ‘ انور کے ساتھ اپنی نیلی اسپوٹس کار میں بگولے کی سی تیزی سے بھاگا۔

پھر منگنی کے آفیشیل اناؤنس منٹ کے لیے ہوٹل کو نٹی نینٹل میں ڈنر دیا گیا۔ جہاں ڈاکٹر انور سے اچھی طرح باتیں کرنے کا موقع ملا۔ جو ایک بہت اچھا انسان تھا۔ سلجھے ہوئے خیالات‘ بے حد پر مذاق اور انتہائی ذہین بالکل جیسا پنٹو کے ایک دوست کو ہونا چاہئے تھا۔

اور بالکونی کے قریب بچھی ہوئی طویل سفید میز پر تیز سرخ گلاب کے پھولوں کے ڈھیر کی دوسری طرف گڑیا بے حد اخلاق سے انور سے باتیںکرتی رہی۔ بالکونی سے باہر دیودار اور صنوبروں کے پرے افق کی نیلگوں لکیر پر مسوری کی روشنیاں جھلملا رہی تھیں۔

اور رات کے آخری لمحوں تک وہ سوچتی رہی۔ ندی کے پار کے پلم کیک والے مکان کے نقرئی شمع دان شاید اب بھی روشن ہوں۔ مگر صنوبروں پر سے سرسراتا ہوا ایک خنک اور تیز جھونکا آیا۔ اور ایوان طعام کے دریچوںکے پٹ زور سے بند ہوگئے۔

فرحت نے مبارک باد کا گیت ختم کرنے کے بعد پیانو پر زور سے انگلیاں ٹپکیں۔ اور سارا مجمع میزوں پر سے کھڑا ہوگیا۔ رقص‘ لکڑی کے چھوٹے چھوٹے رنگین گھوڑوں کی ریس اور دوسرے خوب شور مچانے والے کھیلوں کے لیے گروہ بننے شروع ہوئے اور پنٹو فرداً فرداًسارے مہمانوں کو تفریحات میں حصہ لینے کے لیے بلاتا ہوا کیپٹن انور کے ساتھی مسٹر کاظمی کی طرف آیا۔ جو ابا میاں کو پنجاب کی یونینسٹ گورنمنٹ کی پالیسی کے نکات سمجھانے پر مصر تھے اور فرخندہ آپا کو دیکھتے جاتے تھے۔

’’ آپ رقص فرمائیں گے؟ ‘‘ نپٹو نے پوچھا۔

’’ لاحول ولا ۔ مسلمان پر لہو و لعب حرام ہے۔‘‘

’’ ار… اچھا‘ توآپ یہیں بیٹھے رہیں گے۔ کسی کھیل میں بھی شریک نہ ہوئیے گا۔‘‘

’’ ذی ہوش آدمیوں کا بچوں کی طرح لکڑی کے گھوڑوں اور کاغذی ٹوپیوں میں دل چسپی لینا سخت مضحکہ خیز حرکت ہے۔‘‘

ڈنر کی رات کے اختتام پر جب اس نے گھر واپس آکر پیانو پر رکھے ہوئے نقرئی شمع دان کی مدھم روشنی میں سونے کے لیے اپنی گہری سبز آنکھیں بند کیں توجھلملاتی شمعوں کے دھندلے سائے اس کے چاروں طرف پھیل گئے۔ جیسے ایک بار خوابوں کے ساحلوں سے اس نے ‘ اس دوسرے انسان نے آہستہ سے پکارا تھا۔

آسمان کا زرنگار فرش اگرمیرے پاس ہوتا۔ سیاہ اور نیلگوں رات کی نقرئی اورسنہری روشنیوں اور جھلملاتے دھندلکوں کا فرش‘ تو میں اسے تمہارے قدموں کے نیچے بچھا دیتا۔

لیکن میں غریب ہوں اور میرے پاس صرف خواب ہیں۔

اور میں نے اپنے خواب تمہارے راستے میں بچھا دیئے ہیں۔

آہستہ آہستہ قدم رکھو۔

کیوں کہ تم میرے خوابوں پر سے گزر رہی ہو۔

دور‘ صنوبروں کے پرے‘ ہوٹل کونٹی نینٹل کی گیلری میں وہ دو ایک ہیٹ ریک کے سہارے کھڑے رات کا آخری سگریٹ ختم کر رہے تھے۔

تم اس سے واقعی شادی کر رہے ہو۔ وہ لڑکی جس کے ساتھ ایک ماضی ہے‘‘

مسٹر کاظمی نے اپنے سگریٹ کی راکھ جھٹکی۔

ہر مردکے ساتھ اس کی شادی کے وقت اس کا ماضی نہیں ہوتا کیا؟

’’ ہوں‘‘

’’ اور اس کا ماضی کیا تھا؟‘‘

’’ ذو الفقار‘‘

’’ انور اس کا مستقبل ہوسکتا ہے‘‘

پھر وہ دو گیلری کی نارنجی روشنی میں سے گزر کر مر مریں پورچ میں اتر گئے۔ جہاں ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔

رات کے سائے طویل ہوگئے۔

ندی کے اس پار خوابوں کے ساحل پر ذو الفقار کے بالکل اپالو جیسے ہونٹوں پر تبسم بکھر گیا۔ ’’ تمہارے خیال میں یہ ایسی مکمل رات نہیں جس میں خودکشی کر لی جائے‘‘؟

پھر وہ سوتی جاگتی گڑیااپنے چھوٹے چھوٹے سفید ہاتھوں سے اپنی بچوں کی سی بڑی بڑی آنکھیں ملتے ہوئے جاگی۔ وہ سب سچ نہیں تھا۔ وہ سب سچ نہیں تھا! اس نے چپکے سے اپنے آپ کو بتایا۔ سفید خود رو جنگلی پھول اور سیب کے شگوفے اور شو مین کے نغمے۔

جب کہ میں زرین تاج نے اسے ان سب چیزوں کا یقین دلایا تھا۔ جب اپنی اور اس کی سال گرہ کی پارٹیوں پر سچ مچ کے چوکولیٹ کے چھوٹے چھوٹے قلعوں پر شمعیں روشن کی جاتی تھیں۔ جب دسمبر اور جنوری کے برفانی مہینوںمیں ابا میاں کے ساتھ ضلعوں کے دور دراز کے گاؤٔٔں کے دورے پر جاتے ہوئے رات کو خیموں میں آگ کے قریب بیٹھ کر بڑی بڑی رنگین تصویروں والی ایڈونچرز کی کہانیوں کی کتابیں پڑھی جاتی تھیں۔ اور باہر ہوا کے سرد جھونکوں کے ساتھ ساتھ آم کے باغوں کے کناروں پر پڑاؤ کے نزدیک ٹھہرے ہوئے عملے اور سامان کی بیل گاڑیوں کی گھنٹیاں بجتی رہتی تھیں۔ جب دور ارہر کے کھیتوں کی منڈیروں پر الاؤ کے گرد آلہا‘ اودل اور برہاکی تانیںبلند ہوتی تھیں۔ اور ہرے سنگھاڑوں اورکنول کے پتوں سے چھپے ہوئے تالابوں کے کنارے کنارے ہاتھیوں‘ رنگ برنگی اور منقش پالکیوں‘ چوپہلوں اور رتھوں پر انتہائی شوق کے ساتھ سواری کی جاتی تھی۔ جب اسکول میں پہلی برفباری کے بعد اسنو مین بنایا جاتا تھا۔ اور رات کو مدر سپیرئر کے کمرے میں آتش دان پر قہوہ اور ٹافی تیار کی جاتی تھی۔ زندگی کا یہ چھوٹا سا طلسم بالکل ٹھیک تھا اور پریوں کی جرمن کہانیوں کی طرح بالکل سچ۔ اور جرمنی سے تعلق رکھنے والی ہر بات بے حد مزیدار تھی۔

رائن کے نقرئی پانی اور شاہ بلوط کے جنگل اور پھر جرمن نام۔ میونخ‘ وی آنا‘ موزارٹ ‘ نٹشے‘ فاؤسٹ کی مار گریٹ‘ گوئٹے‘ پھر اقبال۔ اس کے الفاظ کا اتنا زبردست طلسم کہ جی چاہتا تھا بس مرجاؤ۔ مرد قلندراور شاہین قہستانی اور چراغ لالہ صحرا اور رومی و رازی اور بس جیسے بخارا‘ سمر قند‘ یا الحمراء یا قرطبہ کی قسم کا ایک شہر ہے جس کے چاروں طرف نقرئی صحرا اور سبز نخلستان پھیلے ہوئے ہیں۔ اور فصیل کے اس پار کاروانوں کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ اور دور عظیم الشان مسجدوں کے اونچے اونچے میناروں سے اذان کی لرزہ خیز آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ اور ایسے بازار ہیں جن پر چھتیس پڑی ہیں۔ (جیسے کچھ کچھ بمبئی کا کرافرڈ ماکریٹ یا پشاور کا بازار قصہ خوانی جو نام سے بے حد الف لیلوی لگتا ہے) اور جن کے راستوں میں قالین بچھے ہیں۔ اور بے انتہا تیزی سے دوڑتے ہوئے شان دار عربی گھوڑوں پر سوار مرد مومن سرپٹ چلے آرہے ہیں (جیسے ٹائرن پاور ’’ سوئیز‘‘ میں تھا) اور کچھ اس قسم کا رومان جو خالدہ ادیب خانم ‘ جمال الدین افغانی اور نامق کمال کے ناموں سے وابستہ ہے۔ اور نامق کمال کے ڈرامے اور با تصویر ترکی اخباروں کے وہ پلندے جو انقرہ‘ قسطنطنیہ اور قاہرہ سے آیا کرتے تھے۔

اور پھر گڑیا نے اپنی لمبی لمبی پلکیں پوری طرح ایسے جھپکائیں۔ گویا اب وہ قطعی طور پر مشین گن چلانے جارہی ہے۔ ’’سنا تم نے۔ میں نے اب فیصلہ کر لیا ہے۔‘‘

’’ فیصلہ! آپ بھلا کیا فیصلہ کریں گی‘‘ مجھے بے حد ہنسی آئی۔

اور وہ بہت سخت خفا ہو گئی ۔ اور خفا ہوتے وقت وہ محض اتنی بڑی اسکول کی لڑکی نظر آئی جس نے ابھی جونیئر کیمبرج نہ کیا ہو۔ نیلے رنگ کا ٹیونگ پہنے اور سیدھے طریقے سے بالوں کی دو چوٹیاں ربن سے باندھنے والی باسکٹ بال کھیلنے اور ڈرامے اسٹیج کرنے کی شوقین‘ جو پہلی بار شا اور ویلز پڑھ کر سخت متحیر اور مرعوب ہوجائے‘ جو زندگی سے خائف ہو۔

’’ گڑیا آؤ۔ خرگوشوں کو صبح کا ناشتہ کرائیں‘‘ میں نے اسے آواز دی۔

’’ ہنہ‘‘

’’ تو چلو پیانو بجائیں گے‘‘

’’ فوں‘‘

’’ اچھا تو لو یہ اپنی ککری بک پڑھو‘‘

’’ فون فوہ‘‘

’’ در اصل قصہ یہ ہے گڑیا کہ تم کو زندگی سے صلح کر لینی چاہئے۔‘‘

’’ جی‘ آپ فراری ہیں بالکل ___شکست خوردہ___ذہنیت ہے آپ کی ‘‘ اس نے تقریباً چلا کر کہا۔

’’ واقعہ یہ ہے ‘‘ میںنے کھنکار کے بڑے عالمانہ انداز میں کہنا شروع کیا ’’ نادرہ بیگم آپ ابھی سخت امیچیور ہیں۔ اور ہرا میچیور دماغ پر اس عمر میں فلسفے کا دورہ پڑتا ہے۔

بس ایک آدھ سال کی بات اور ہے۔ جب تم بڑی ہوجاؤ گی اور یہ سب سوچ کر اپنا وقت خراب نہیں کیا کرو گی‘‘

وہ اور بھی خفا ہو گئی۔

اور پھر مجھے انور کا خیال آیا۔ جو خوابوں کے ساحل کے اسی طرف کھڑا تھا۔ اور خود رو سفیدجنگلی پھولوں والے ذو الفقار کا اور فرخندہ آپا اور پنٹو کا اور میں نے اس سے کہا:

’’ گڑیا۔ انور سے سنجیدگی کے ساتھ شادی کر لو۔ ذو الفقار تم تو جانتی ہو کیسا نالائق ہے۔ خرافات ہے بالکل۔ بلکہ اس کو دیکھ کر تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ ابھی جانے کیا کربیٹھے گا۔ الٹا لٹک جائے گا‘ یا کیا باؤلا سا‘‘

اور ذو الفقار مجھے پسند نہیں تھا۔ اس کی موجود گی یقین دلاتی تھی کہ آپ کچھ بھی نہیں ہیں۔ اور وہ سب کچھ ہے ۔ وہ سب کچھ جو آپ سوچ سکتی ہیں۔ بلکہ سوچ بھی نہیں سکتیں۔ وہ ان سب چیزوں کے متعلق باتیں کرسکتا تھا جن کو آپ بالکل نہیں جانتیں۔ وہ جہاں کہیں بھی موجود ہوتا کمرے میں یا سڑک پر یا ٹینس کورٹ پر ایسا محسوس ہوتا کہ فضا اور ماحول میں اس کی وجہ سے ایک ٹھیک قسم کا ’’ ٹون‘‘ پیدا ہوگیا ہے۔ اس کو دیکھ کر خیال آتا تھا کہ کمرہ خوب گرم اور روشن ہے۔ اور چاروں طرف ریشمی کشن بکھرے ہوئے ہیں اور لیمپ کے رنگین شیڈ مدھم مدھم روشنی بکھیر رہے ہیں۔ اور آگ پر قہوے کی بھاپ اٹھ رہی ہے۔ پنٹو اور انور چوکو لیٹ کریم ہیرو نہیں تھے۔ ذوالفقار چوکو لیٹ کریم ہیرو تھا۔ یعنی وہ کچھ ایسا تھا جیسے موسم گرما کی طویل دوپہر کی حدت۔ جب باغ میں شہد کی رنگین مکھیاں بھنبھنا رہی ہوں۔ اور وہ ایک اونچے سے مرمرین ستوں پر چڑھا بیٹھا تھا۔ اور نادرہ کی زندگی کے سائے اس ستون کے نیچے لرز رہے تھے۔

’’ دیو داسی کے ناچ کی طرح ہمیں چاکولیٹ کریم ہیرو نہیں چاہییں اور نہ دیواسی کے ناچ۔ اور اس نے اپنے تیار کیے نغمے سنائے تھے اور اپنی کتابیں دکھائی تھیں۔ وہ کیا پڑھتی ہے کیا سوچتی ہے کیا کرتی ہے اس کی زندگی ایسی کیوں ہے اور اس کا ماحول اور اس کے عزیز۔ اسے اپنی زندگی سے بہت سی شکایتیں تھیں۔ وہ سکون چاہتی تھی۔ لیکن کیا عجیب دنیا تھی۔ ہر طرف چیخ پکار اور مستقبل کی باتیں۔ خالہ بیگم اور ممی اور ان کے ملنے والیاں سب مل کر ہر وقت باتیں کرتیں ۔ نوکر باتیں کرتے۔ پنٹو اور اس کے دوست شور مچاتے۔ زریں تاج جو دنیاکی ہر چیز میں اپنی ٹانگ اڑانے کی شوقین تھی اور اس کی انتہائی بکواس سہیلیاں بالکل بے تکی باتوں پر متواتر ہنستی رہتیں۔ یہ سب چیزیں زرین تاج کے نزدیک زندگی کی صحت مندی کی علامت تھیں۔ لیکن اس نے کہا: وہ ایسی پہلوانی زندگی نہیں چاہتی ۔ وہ خزاں کی چاندنی کی ایسی خاموشی پسند کرتی ہے۔ پھر اس نے کہا ’’ میرا کالج جس کے عظیم الشان یونانی ستون اور نیویارک کے اسکائی اسکر یپر طرز کی طویل عمارتیں دیکھ کر تم کو بالکل پتہ نہیں چلے گا کہ تم ہندوستان میں ہو۔ جہاں تم چاروں طرف امریکن لہجے کی انگریزی سنو گے‘ جس کے مرمریں اور نیلگوں سوئمنگ پول کے کناروں پر تمہیں خیال آئے گا کہ شاید تم کیلی فورنیا کے ساحل پر کھڑے ہو۔ اور زرین تاج‘ جو تمہارا مذاق اڑائے گی‘ کیوں کہ اس کے خیال میں تم بھی بہت امیچیور ہوگے ۔ وہ کسی چیز کو سنجیدگی کی نظر سے نہیں دیکھ سکتی۔ وہ تم کو بتائے گی کہ تم ایک pseudo دنیامیں رہتے ہو۔ وہ اپنے آپ کو ایک ’’ واقعہ‘‘ کہتی ہے۔ وہ تم کو نہیں سمجھ سکے گی۔ وہ مجھ کو بھی نہیں سمجھ سکتی اور پنٹو میرا بھائی۔ میں اس کو نہیں جانتی ۔ ہم سب ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں اور اوپر سے ہم کتنا بنتے ہیں۔

یہ سب باتیں اس نے ذو الفقار سے کہی تھیں۔

پھر آندھیوں کا موسم ختم ہوگیا ۔ اور پت جھڑ اور خزاں کی خشک ہواؤں کا۔

اور خاموشی سے برف گرنے لگی۔ جیسے کوئی دل ہی دل میں رو رہا ہو۔

اور پنٹو بنگلور واپس چلا گیا۔ اور میجر انور بھی۔

اور اپنے کمرے کے دریچے میں کچھ نہ کرتے ہوئے میں نے سوچا کہ اگر ہم سب بیٹھے بیٹھے تحلیل ہوجائیں برف کی طرح‘ توافوہ کتنا مزا آئے۔ ہم سب کے سب پنٹو اور انور اور میں یعنی زرین تاج اور گڑیا اور فرخندہ آپا جیسے اسکول میں دھوپ نکلنے کے بعد اسنومین پگھل جایا کرتے تھے۔

لیکن کوئی بھی نہیں پگھلا اور فرخندہ آپا اندر آئیں۔ جو نئی حکومت کے کسی نئے محکمے میں ایک نازک سا عہدہ سنبھال کر کہیں جانے والی تھیں۔ اور انہیں دیکھ کر وہ ساری باتیں یاد آگئیں‘ اسپیشلی رمبا اینڈ ٹینگو اور ان کی ساری پتنگیں۔ ان کی وہ مسوری والی پتنگ کہاں ہے؟ فرحت نے چپکے سے پوچھا۔

’’ اور گڑیا کی پہلی والی پتنگ۔ وہ تو اڑ گئی‘‘ میں نے بتایا۔

اور فرخندہ آپا نے پوچھا ’’ زریں تاج! آج کل کیا کر رہی ہو۔‘‘

’’ فرخندہ آپا! میں نے فی الحال فلسفہ اور روحانیت سے رجوع کیا ہے‘‘ میں نے سوچ کر جواب دیا۔

’’ لیکن یہ پتنگوں وغیرہ کا تذکرہ جو تم کر رہی تھیں؟ ‘‘ انہوں نے پوچھا۔ ’’ جی ہاں فرخندہ آپا۔ یہ جو مختلف انواع و اقسام کی رنگا رنگ پتنگیں آسمان پر اڑتی نظر آتی ہیں‘بالکل میٹا فزیکل پتنگیں‘ فرخندہ آپا‘‘

اور پھر اسی رات ریڈیو پر خبر آئی کہ آئی سی ایس اور آئی پی ختم۔ بالکل اوس پڑ گئی۔ اب کیا ہوگا فرخندہ آپا۔ یاد آئے وہ دن جب کرسمس کے زمانے میں صاحب لوگ کے انداز میں ترائی کے جنگلوں میں کیمپ لگائے جاتے تھے۔ ایک خیمے میں بابا لوگ کی نرسری‘ ایک میں نشست‘ ایک میں طعام ‘ ہاتھی اور شکار‘ ہائے کیا کیا زمانے تھے جو گزر گئے ۔ قریب تھا کہ وہ رو پڑیں۔ میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ دنیا کی بے ثباتی کا نقشہ نظروں کے سامنے پھر گیا۔ کیا کیا بہاریں تھیں۔ جوان آنکھوں نے دیکھ لیں۔ پر آپا اب تو صبر شکر کر کے قناعت سے بیٹھنا ہے۔ میرا جی چاہا کہ اس سانحے کے غم میں خوب اپنی فارسی بولوں۔

لیکن گڑیا خاموشی سے ککری بک پڑھتی رہی اور برف گر رہی تھی اور چوکولیٹ کے گڑیا گھر کے باہر دنیا کا انتشار بڑھتا جارہا تھا۔ اور کاظمی صاحب نے ڈاکٹر انور کو رائے دی تھی کہ تعلق داری ختم کی جارہی ہے۔ اب نادرہ بیگم سے شادی کرنے کا کیا فائدہ‘ جہیز میں وعدے کے مطابق ماسٹر بیوک نہیں مل سکے گی۔

اور پھر آخری روز ذو الفقار اس کے پاس آیا۔ وہ نئی حکومت کی طرف سے بھیجے جانے والے سفارت خانے کے ساتھ قاہرہ جارہا تھا۔ اور اس نے افسوس ظاہر کیا کہ وہ اس کے ساتھ نہیں جاسکتی۔ جیسا کہ پہلے انہوں نے پروگرام بنایا تھا ۔ حالات کچھ ایسے ہی ہیں لیکن امید ہے کہ وہ اسے نہیں بھولے گی۔ اور وہ ہمیشہ بہترین دوست رہیں گے اور یہ بھی کہ اس کی بہترین خواہشیں ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں گی۔

اوربرف زیادہ تیزی سے پرنے لگی اور گلابی چونچ والا کاکا توا سردی کی شدت کی وجہ سے گڑیا کے گھر کے دریچے میں بیٹھے بیٹھے مر گیا۔ اور پھر بہت تیزی سے بارش کا ایک ریلا آیا جیسے ساری دنیا کو بہا لے جائے گا۔

اور جب میجر انور نے کار اسٹارٹ کی تو وہ تھک کر پچھلی سیٹ کے کشنوں پر سوچکی تھی۔

اور پھر ایک نہایت بے انتہا‘ بہت ہی عجیب بات ہوئی۔ وہ یہ کہ جھکی ہوئی خوبانیوں کے نیچے ایک نیلے پتھر پر بیٹھ کر پنٹو پھر غور و فکر میں مصروف ہوگیا۔ پنٹو جو سارے فیشن ایبل مشغلوں میں دل چسپی لیتا۔ ٹھیک قسم کے خیالات سوچتا‘ سیب کے شگوفوں تلے بسنے والوں کی طرح خوش گوار باتیں کرتا اور ایک دم جانے کیا ہوا کہ قطعی اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ اب کیا کرے۔

اور ایک بار اس نے ذو الفقار سے پوچھا تھا ’’ تم یہ سب باتیں کیسے کر لیتے ہو؟‘‘ اور ذوالفقار نے کہا تھا ’’ بس ایسے ہی‘ ذرا تفریح آتی ہے‘‘

اور پنٹو کا جی چاہا کہ خوب تفریح کرے لیکن اب اسے کوئی تفریح موزوں نظر نہیں آئی اور وہ بہت جلد یہ سوچ کر پریشان ہوگیا کہ لوگ اتنی آسانی سے خوش کیسے ہولیتے ہیں۔ پنٹو جو لکڑی کے رنگین گھوڑوں کی ریس میں ’’ بکی‘‘ بن کر خوب شور مچاتا تھا اور جس کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ زن سے نکل جانے والی ایک سپر قسم کی اسپورٹس کا رمیں بیٹھ کر بگولے کی طرح اڑتا پھرے۔

اور جب گلابی آنکھوں والے میرے سفید خرگوش اپنا شام کا کھانا ختم کر کے ادھر ادھر جھاڑیوں میں بھاگ گئے تو میں اس کے قریب آئی اور وہ معصومیت اور شرارت کے ساتھ سیٹی بجا رہا تھا۔

اور اس سے قبل کہ میں زرین تاج اسے ایک چھوٹا سا‘ نفیس سا لیکچر پلاؤں اس نے تقریباً چلا کر کہا ’’ میں امیچیور نہیں ہوں‘‘ میں قطعی امیچیور نہیں ہوں‘‘ اور وہ نیلے پتھر پر سے اٹھ کر باغ کے نشیب کی طرف چلاگیا۔ جہاں سیب کے درخت کے نیچے چھوٹی چھوٹی پریاں رہتی تھیں۔

پھر شدت سے میرا جی چاہا کہ کاش یہاں پر صرف پریاں ہوتیں اور خرگوش اور گلابی چونچ والے کاکا توے۔

لیکن میں نے دیکھا کہ چاروں طرف دنیا کے راستوں کے کناروں پر صرف چھوٹے چھوٹے انسان بیٹھے سستا رہے تھے۔ اتنے بہت سارے پنٹو اور انور اور ذو الفقار اور پھر ایسے لوگ جو محض پروفیشنل طور پر انسان بن کر زندہ رہے تھے۔ ان کی چھوٹی چھوٹی دل چسپیاں‘ خیالات‘ ہمدردیاں‘ فیصلے ‘ رائیں‘ جن کی یہ ذرا ذرا سی ٹریجک شخصیتیں اور ہستیاں کائنات کے اس بہت بڑے جھمیلے میں تھوڑی سی بھی اہمیت نہیں رکھتیں ۔ اتنے ڈھیروں کاظمی صاحب اتنی بے شمار فرخندہ آپائیں۔

اور پنٹو کہہ رہا تھا ۔ آدم کے بیٹوں کو کیا ملتا ہے ۔ خواہشیں‘ ان کے بدلے قناعت کی تلقین اور پھر شکر بجا لانے کا حکم اور برف بڑی آہستگی سے گر رہی تھی۔ جیسے کوئی چپکے چپکے‘ دل ہی دل میں روتا ہو۔

پھر برف باری کے بعد پہاڑی نالے کے پرے جنیز س اینڈ میریز کے گھنٹے بجنے شروع ہوگئے کہ خدا وندہمارے خدا نے جس نے ہم سے اپنی آسمانی بادشاہت کا وعدہ کر رکھا ہے‘ ہمیں برف اور طوفان کی بجلیوں کی آگ اور دنیا کی دوسری مصیبتوں سے بچایا۔ اور میںزریں تاج جو زندگی کے متعلق ایک نہایت بشاش صحت مند نظریہ رکھتی ہوں‘ میں نے پنٹو سے کہا’’ کیا تم وہ ساری حمدیں بھول گئے ۔ جو سینٹ جارجز کے لڑکوں کے ساتھ ماس میں دوزانو جھک کر گایا کرتے تھے۔ اور مولوی صاحب کا وہ ڈنڈا اور اہدنا الصراط المستقیم۔ صراط المستقیم پر چلو میرے بھائی۔

اور پھر ایسا ہوا کہ یکایک پنٹونے دوبارہ صراط المستقیم پر چلنا شروع کیا۔ اسے ہر چیز میں تفریح ’’ آنے‘‘ لگی۔ وہ اپنا طیارہ بعض مرتبہ اس قدر اونچا لے گیا کہ مرتے مرتے بچا۔ وہ رات رات بھر بال روم میں رقص کرتا رہا‘‘ اسپیشلی رمبا اینڈ ٹینگو‘‘ اس نے فرخندہ آپا سے شادی کر لی اور چار مہینے بعد انہیں طلاق دے دی۔ اس کی نیلی اسپورٹس کا ر ہر وقت سڑک پر رہنے لگی۔

دیوداروں کے پرے ہوٹل کونٹی نینٹل میں شومین کا ’’ کارنیول‘‘ پہلے سے زیادہ تیزی سے بجتا رہا۔

______________________________________________

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

انت بھئے رت بسنت میرو

قرۃالعین حیدر لکڑی کا چھوٹا سا سفید پھاٹک کھول کر ٹونی پنیزی کی کیاری میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے