مرکزی صفحہ » فکشن » افسانے » زندگی کا سفر

زندگی کا سفر

قرۃ العین حیدر

’’میرے افسانے‘‘ ___ مجھ سے کہا گیا ہے کہ میں اپنے افسانوں کے متعلق بھی چند سطریں لکھوں اور مجھے یہ سوچ کر ہنسی آرہی ہے کہ میں اس قدر زبردست ادیب ہوں کہ مجھ سے اپنے افسانوں پر تبصرہ کروایا جارہا ہے ۔ کیونکہ میں نے اب تک گنتی کی چند کہانیاں لکھی ہیں اور کبھی یہ نہیں سوچا کہ کیوں لکھی ہیں اور کس طرح لکھی ہیں۔ میں انتظام سے افسانہ کا پلاٹ تیار نہیں کرسکتی___ کوئی پرانی یا زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتیں ایسے واقعات جو کبھی مجھے یا میرے جاننے والوں کو پیش آئے اور مجھے خیال ہوا کہ ان میں پڑھنے والوں کے لیے کوئی دلچسپی ہوگی___ میں جو کچھ لکھتی ہوں وہ میرے گردو پیش اور ماحول کی (جسے ’’ بورژوا‘‘ کہہ دیجئے) عکاسی ہوتی ہے۔ میں نے کبھی اپنی زندگی کے محدود دائرے سے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ میرے خیال میں ایسی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ مزدور و سرمایہ دار جنسیات اور نفسیاتی تجزیے وغیرہ کے (الٹرافیشن ایبل) موضوع میں نے اب تک بہت دور سے چھوئے ہیں___ رومانیت مجھے زیادہ پسند ہے۔ اسے فراریت سمجھ لیجئے۔ بہر کیف___ معلوم نہیں مجھے ترقی پسند کہا جاسکتا ہے یا نہیں۔ در اصل میں ابھی اپنی راہ کی تلاش میں ہوں___ ممکن ہے آگے چل کر اپنی موجودہ پگڈنڈی کو چھوڑنا پڑے___‘‘  (قرۃ العین حیدر)

______________

پائین کے درختوں کے لمبے لمبے سائے ایک دوسرے کا پیچھا کرتے دور پہاڑوں کے پیچھے جاکر چھپ چکے تھے۔ سرچ لائٹ کی تیز نیلگوں روشنی کی ایک چوڑی سی دھار سیاہ اور پرسکون آسمان کی وسعتوں کو کاٹتی ہوئی وادی کے اس سرے سے اس سرے تک پھیل گئی۔ بھیگتی رات کی خوشبوؤں سے بوجھل ہوائیں۔ درختوں میں جھلملاتے ہوئے قمقموں، جاپانی قندیلوں اور ریشمی پرچموں کو ہلائے جارہی تھیں۔ وہ رنگیں کپڑوں کے ٹکڑے___ نیلی سرخ سفید دھاریاں، اور ستارے، نارنجی سورج مکھی کے پھول سرخ ہتوڑے___ وہ سرسراتے ہوئے، انسان کی خود فریبی اور خود ستائی کے اشتہار جو اوڈین، بیڈنند، ہوٹل رائیل، ہر پھاٹک، ہر چھت پر لہرا رہے تھے۔ اُن کے نیچے، پریڈ کے وسیع سبزہ زاروں پر کلیمنٹ ٹاؤن کے کیمپوں کی دنیا میں، رقص گاہوں کی کھلی چھتوں کے اوپر ، نغموں اور قہقہوں کی موجیں لہریں مار رہی تھیں___ انسان کس قدر جلد پچھلی تمام مصیبتیں ساری تکلیفیں بھول کر قہقہے لگانے پر تیار ہوجاتا ہے۔

سرچ لائٹ کی سفید لکیریں آسمان میں تیرتی رہیں___ باہر سبزی پر رات کی دعوت کا انتظام ہو رہا تھا۔ تاروں کی دھیمی روشنی جو سرچ لائٹ کی جگمگاہٹ سے بالکل پھیکی پڑ چکی تھی۔ خاموشی سے آڑو کے شگوفوں اور خوابیدہ پھولوں پر اپنی کرنیں برساتی رہیں___ ناچے جاؤ دنیا والو ہم اپنی بلندی پر سے ایسی بہت سی راتوں کا نظارہ کر چکے ہیں۔ آج کی رات تم آسمانوں کے سارے چاند ستارے توڑ کر اپنے ایوانوں میں سجالو چیخ چیخ کر اتنا گاؤ اپنی ہم رقصوں کو مضبوطی سے پکڑ کر اتنا ناچو کہ رقص گاہوں کے فرش گھس جائیں۔ ارغوانی پانیوں کے سیلرز خشک ہوجائیں اور تم تھک کے چور چور ہوکے گر پڑو___ پر ہم یوں ہی جھلملاتے رہیں گے وہ اندھیری راتیں جب تم اپنے دریچوں پر سیاہ پردے گرا کے آتش دان کے پاس دھڑکتے دلوں سے سمندر پار کی باتیں کرتے تھے۔ جب تمہارے چاہنے والے اور چاہے جانے والے تمہاری مسہریوں کے سرہانے سے تمہاری سنگھار میزوں اور آتش دانوںکے اوپر سے اپنی تصویروں کے شیشوں میں سے جھانک کر خاموشی سے التجا کرتے تھے۔ ہمیں یاد کرتے ہوئے ہمارے لیے دعائیں مانگتے رہو، شاید ہم تمہارے پاس واپس آکر پرانی خوشیوں میں شریک ہوسکیں، پھر وہ لمحات، جن کی ہیبت ناک، گونجتی ہوئی تاریکی میں تمہارے دل خوف اور جذبات کی نامعلوم گہرائیوں میں ڈوب جاتے تھے۔ او بلند و برتر خدا وند ، ہماری مدد کو آ___ اور آج جبکہ تم ایک بے بنیاد اور نا پائیدار وقتی جذبے کے ریلے میں بہے جارہے ہو اور بڑے غرور سے اپنی مصنوعی روشنیاں ہماری طرف پھینک کر خوش ہو رہے ہو۔ ہم اسی طرح زندگی کے راستوں پر جھلملاتے رہیں گے۔

ممی بے حد مصروفیت سے کمر پہ ہاتھ رکھے سبزے سے باورچی خانے اور باورچی خانے سے کھانے کے کمرے تک ٹہل ٹہل کر نوکروں کو ہدایات دے رہی تھیں اور بلا چیخے جارہا تھا۔ ڈیش اِٹ اولڈ گرلز۔ چیخ ہی نہیں چکتیں___ خرگوشنیاں ___ افوہ___ ادھر اُدھر ٹہل کر اور چیخ چلا کر وہ پھر غسل خانے میں گھس گیا___ اور زبیدہ کپڑوں کا انبار قالین پر لگا کر کچھ فیصلہ نہ کرسکی کہ آخر کون سی ساڑی پہنے___ اُس نے میری طرف امداد طلب نگاہوں سے دیکھا ۔ میں خود پریشان تھی۔ بھئی میرا تو ارادہ سیاہ جالی والی ساڑی کا ہے وہی جس کی نقرئی پائیپنگ___ واہ جناب وہ تو میں پہنوں گی۔ میں نے بہت پہلے سے طے کر رکھا ہے۔ جہنم میں جاؤ تم___ ہم دونوں میں پھر جنگ شروع ہوگئی۔ بلا غسل خانے میں سے للکارا___ ٹروس ٹروس ___ میں فیصلہ کردوں بچیو۔ بھاگ جاؤ تم سے کون درخواست کر رہا ہے۔ ایک اپنا اکلوتا ڈریس سوٹ پہن کر اترائے جارہے ہیں وہ بھی پیا سے مانگا ہوا ___ زبیدہ نے الماری کا دروازہ زور سے بند کردیا گویا وہ اس زیر غور سیاہ ساڑی کو ضرور پہنے گی۔ میں اپنی آخری تنقید کے لیے آئینے پرجھک گئی، یعنی میں زبیدہ کے حق میں دستبردار ہوئی ہوں۔ وہ خوش ہوگئی اور اونچے سروں میں گنگنانے لگی۔ ایک بے حد فضول ساگیت جس کا مطلب تھا کہ ممّا سڑک کے کورنر پر تو پولس مین کھڑا ہے۔ بھلا میں ہال میں کیسے جاؤں، برف گر رہی ہے، اور روبن ریڈ بریسٹ اپنے گھونسلوں میں جا چھپے ہیں ممّا___ بھئی واللہ ___ زبیدہ ناچ گاکر ساڑی کا طویل آنچل فرش پر گراتی ہوئی باہر چلی گئی۔ برساتی اور سڑک کی بجری پر ٹائیروں کی رگڑ کی آوازیں آنی شروع ہوچکی تھیں۔ پلم اور لیچیوں کے جھنڈوں کے اس پار سیٹیاں بجاتے، گالیاں دیتے اور قسمیں کھاتے امریکن اور کینڈین دستے مارچ کرتے ہوئے پریڈ گراؤنڈ کی طرف بہتے چلے جارہے تھے کہیں دور ہائی لینڈرز کی ایک ٹولی اونچی آواز میں ’’ بونی اسکاٹ لینڈ‘‘ الاپ رہی تھی۔ اپنے گھروں سے دور ایک اجنبی سرزمین کی وادی میں جو ان کے بھاری بوٹوں کے تلے روندی جارہی تھی وہ اپنے محبوب گیت گائے بغیر اپنے جذبات کا اظہار کس طرح کرسکتے تھے، وہ گیت جو ان کے دادا پرداد ا ہر پلاسیؔ ہر واٹرلوؔ کے بعد یوں ہی گاتے چلے آئے تھے۔ ’’ بونی اسکاٹ لینڈ‘‘ اور ’’ ڈوئی کِن جون پیل‘‘ اور ’’ یانکی ڈو ڈل ڈینڈی‘‘___

کیونکہ یہ جشنِ فتح کی رات تھی___ وی۔ ای۔ ڈے! ___ یقینا ___!!

میں نے سنگھار میز کے سامنے سے ہٹ کر دریچے کا سہارا لے لیا___ سامنے، خوبانیوں کی دوسری جانب، کانونٹ والا پرانا راستہ تاروں کے دھندلکوں میں کتنا خاموش اور کتنا طویل معلوم ہو رہا تھا___ یہ چھ سال ___ یہ چھ سال___ میرے اللہ ___

میرے اللہ ___ اچانک ایک بے انتہا مضحکہ انگیز، حماقت آفریں بات معلوم ہوئی___ میری مسکراؔ سے سنواری ہوئی پلکیں بھیگی جارہی تھیں___ یوں ہی ___ یعنی بالکل خواہ مخواہ___ لیکن دیکھئے تو چھ سال کے اس ننھے سے عرصے میں زندگیوں میں، خیالات میں، دنیا میں کتنی ساری تبدیلیاں ہوئیں، کتنی بہت سی ایسی باتیں ہوگئیں جو اگر نہ ہوئی ہوتیں تو زیادہ اچھا رہتا___ بہت ہی اچھا رہتا___ یعنی، بھئی، اصل میں میں اپنے آپ کو ٹھیک سے ایکسپریس نہیں کر سکتی، انگریزی الفاظ کی اس ٹھونس ٹھانس کو آپ معاف فرمائیں گے___ میرا مطلب ہے کہ افوہ ڈکلی تم میں کتنا چینج ہوگیا ہے۔ مائی ڈیر ___ اولڈ اگلی ڈکلنگ ___ کتنی خوب صورت کتنی سمجھ دار کتنی لیڈی لائیک___ کاش میں بیس سال بعد پیدا ہوا ہوتا___ اکرم چچا جو بہت دنوں بعد اٹلی سے واپس آئے تھے۔ اس روز والتس کرتے ہوئے مجھ سے کہہ رہے تھے میں نے Blush کرنے کی کوشش کی تھی کہ واہ سمجھ دار تو ہمیشہ کی ہوں اور خوب صورت بھی۔

لیکن تبدیلی؟ واقعی اگر آپ مجھے دیکھیں تو قطعی نہ سمجھ سکیں گے کہ میں ڈکلی ہوں، یعنی۔ ڈک ___ لی___

اور پھر وہیں دریچے میں کھڑے کھڑے مجھے یاد آیا۔ اپنے برف جیسے بستر میں گھس کر سوتے وقت میں کس قدر سچے دل سے دعا مانگا کرتی تھی یا میرے اللہ تو ایک بڑا سا دیو ہی بھیج دے جو آکر ہم سب کو کھا جائے یا کم از کم ایک سبک اور لطیف سا زلزلہ یعنی کچھ تو ہو آخر۔ زندگی فربزیڈر کی پرسکون گھوں گھوں کی رفتار کے ساتھ یکسانیت سے گذرے چلی جارہی تھی۔ کچھ اس قدر سکون اور اطمینان برستا تھا ہمارے گھر پہ کہ کیا بتاؤں اور پھر میری وہ بھوری آنکھوں والی پھوپی زاد بہن حمیدہ خدا کی قسم کتنے ٹھاٹھ سے وہ صبح سے شام تک رولنگ چیئر پر جھول جھول کر قناعت کے ساتھ ’’ پکچر گوئر‘‘ پڑھتی رہتی تھی اور چاء کی میز پر بے حد معصومیت سے بالکل جیسے میڈونا کی تصویر میں جان پڑ جائے، وہ اپنی بڑی بڑی بھوری آنکھیں بچوں کی طرح گھما کر بلّے سے پوچھتی‘‘ اور ٹوس لو گے؟‘‘ اور پھر ایسے سرسری طریقے سے فیلڈ مارشل کی طرف پلیٹ سرکاتی ہوئی اپنی پیالی پر یوں مصروف ہوجاتی کہ مجھے اپنی کرسی پر بیٹھے بیٹھے دل میں بے انتہا احمق بننا پڑتا۔ (فیلڈ مارشل) اور بلّا دونوں میرے چھوٹے بھائی تھے بے چارے)

پھر جب میں بہت چھوٹی تھی، یعنی اتنی چھوٹی کہ بھائی جان کے رائیل ملٹری اکیڈمی اور علی گڑھ میں پڑھنے والے گورے گورے شور مچاتے ہوئے دوستوں کی آمد پر مجھے بلے اور فیلڈر مارشل سمیت کان پکڑ کر ڈرائنگ روم یا بھائی جان کے کمرے سے باہر نکال دیا جاتا تھا، ایک دن بھائی جان کے بہت سے بالکل نئے نئے دوست اخباروں اور کتابوں کے بیگ لیے ہوئے آئے۔ ان سب کے چہروں سے اتنی سنجیدگی اور قابلیت ٹپک رہی تھی کہ مجھے بے حد مرعوب ہوجانا پڑا۔ بھائی جان نے اُن کے لیے قہوہ تیار کروایا اور مجھ سے کہا جانتی بھی ہو ہم لوگ کمیونسٹ ہیں اور اس وقت ایک بے حد اہم خفیہ میٹنگ کرنے والے ہیں۔ اب تم بھاگو یہاں سے، پھر رات گئے تک ڈرائنگ روم کے دروازے بند کر کے اور فرش پر بیٹھ کر وہ اہم میٹنگ ہوتی رہی بلّے کی مدد سے میں نے باغ والی کھڑکی میں سے جھانک کر اندر دیکھا افوہ کس قدر تاریخی منظر تھا۔ میں بے حد خوش تھی کہ اب ضرور کوئی نہ کوئی نئی بات ہوگی۔ وہ لوگ بالکل جو یس سیرز اور بُروٹسؔ کے سے انداز سے کہہ رہے تھے ’’ ہم ملک کی قسمت کا فیصلہ کر دیں گے ہم اپنی تقدیریں بدل ڈالیں گے، ’’ انگارے‘‘ ہندوستان میں آگ لگا دیں گے کامریڈز ___ افوہ کس قدر اس وقت میرے دل میں اُن کے لیے عقیدت کا دریا لہریں مارنے لگا۔ مجھے یقین ہوگیا کہ اب کچھ نہ کچھ ہو کے رہے گا، اور پھر یہ لفظ کمیونسٹ مجھے بہت پسند آیا، کتنا اسمارٹ سا لفظ تھا۔

لیکن افسوس کہ میں بہت دنوں تک دنیا یا کم از کم اپنے ماحول میں کسی سخت تبدیلی کا انتظار کرتی رہی‘ پر کچھ بھی نہ ہوا۔ ہال کا گرینڈ فادر کلاک اسی طرح ٹک ٹک کرتا رہا۔ پائین اور لیچیوں کے درخت یوں ہی جھومتے رہے وکٹورین عہد کی تصویریں اور پیانو جو مجھ آفت کی ماری کو سکھانے کی غرض سے کسی زمانے میں نیلام میں سے خریدا گیا تھا روز ہمیشہ کی طرح جھاڑا پونچھا جاتا رہا۔ پھر ایک روز شام بھائی جان تھکے ہارے اور بے حد خفا اور رنجیدہ گھر آکر صوفے پر گر گئے اور کہنے لگے۔ ڈکلی’’ انگارے‘‘ ضبط کر لی گئی۔ میں نے قطعی کچھ نہ سمجھتے ہوئے بے انتہا افسوس کے لہجے میں کہا اچھا؟ چچ چچ چچ۔

اس کے چند سال بعد جنگ شروع ہوگئی۔ قوموں کی لڑائی ۔ ناتسیت اور فسطائیت ۔ امریکن لینڈ اینڈلیز۔ چھوٹے ملکوں کی آزادی، جمہوریت کے اصول۔ اٹلانٹک چارٹر۔ عالمگیر گرانی، قحط سالی اور جانے کیا کیا۔ لیکن یقین جانئے میری زندگی میں تو وہی یک رنگی چلی جارہی تھی۔ بس جانے کیسی کیسی سی ، سوائے اس کے بھائی جان محاذ پر چلے گئے۔ فیلڈ مارشل ہنبوی میں اور ساتھ کی بہت سی اینگلو اور انگریز لڑکیاں جو نیر کیمبرج سے اسکول چھوڑ چھوڑ کر عورتوں کے امدادی دستے میں شامل ہوگئیں۔ پھر وہی بوریت (دیکھئے Boudon کاہم نے ترجمہ کیا ہے)

خدا کی قسم کاش بمباری ہی ہوجاتی، ہم خندقوں میں گھستے، کیلوںپر گھاس کے میدانوں میں راتیں گزارتے، سینکڑوں میل کا پیدل سفر کرتے، خوب مزا آتا۔ ڈسٹرکٹ وار کمیٹی کی موٹی موٹی فارغ البال اور مطمئن انگریز اور ہندستانی خواتین نے ممّی سمیت اے۔ آر۔ پی کے زمانے میں ایٹ ہوم کے بعد ایک لمبی چوڑی انتظامات کی اسکیم بھی تو بنائی تھی۔

پھر جب عابدہ آپا کی منگنی ہوئی تو رات تک لڑکیاں ڈھولک بجاتی اور گاتی رہیں۔

مگر ان سب فضولیات کے باوجود ذرا دیکھئے تو کس قدر پر لطف بات ہوئی۔

خالو میاں کا تبادلہ ناگپور سے یہاں ہوگیا۔ ممّی بے حد خوش کہ دونوں بہنیں ایک جگہ رہیں گی۔ کچھ عرصہ خالو میاں ہمارے ساتھ رہے پھر ان کے لیے کوٹھی کی تلاش بڑے زوروںمیں شروع ہوگئی۔ دُنیا جہان میں کوٹھیاں ڈھونڈ ڈالی گئیں، ہر ممکن مقام پر پہنچ کر استفسار کیا جاتا، لیکن کہیں سے کوئی انگریز سیٹی بجاتا ہوا نکلتا کہیں سے کوئی سردار صاحب اپنے تازہ ترین ٹھیکے کا حساب جوڑتے بر آمد ہوتے اور جواب ایک ہی یعنی جناب افسوس ہے کہ ایک کمرہ بھی خالی نہیں۔

خالو میاں کی کوٹھی ایک مستقل پر وبلم بنتی جارہی تھی۔ کھانے کی میز پر، لیچیوں کے نیچے، شام کی چاء کے بعد ، گفتگوکا یہی ایک موضوع رہ گیا تھا، یعنی برمی پناہ گزینوں کی فراوانی ، کوٹھیوں اور نوکروں کی نایابی، شکر اور کوئلے کی گرانی، ممّی اور خالہ بیگم کے لیے اس سے زیادہ دلچسپ باتیں اور کیا ہوسکتی تھیں۔

ایک روز صبح صبح ہم بہن بھائی سائیکلیں لے کر کلیمنٹ ٹاؤن کی طرف نکل گئے۔ فیلڈ مارشل بھی رخصت پر گھر آیا ہوا تھا۔ کوٹھی کی تلاش میں ڈھلان پر چلے جارہے تھے بہتے ہوئے کہ جناب دور سے یوکلپٹس کے درختوں میں ایک سرخ چھت جھلکتی نظر آئی۔ طے ہوا کہ چلو اس پر دھاوا بولیں۔ ہم نے سائیکلیں اس یوکلپٹس والی سڑک پر ڈال دیں۔ قریب پہنچے تو اوفوہ پھاٹک کے ستون کے بورڈ پر پیتل کے بڑے بڑے حرفوں میں چمکتا ہوا آئی ۔ سی۔ ایس۔ خرمن ہوش پر بجلیاں گرانے لگا___ ارے بھائی اس میں تو کوئی آئی۔ سی ۔ ایس رہتا ہے بھاگو واپس ہم نے فی الفور پسپائی کی ٹھانی۔ در اصل آئی ۔ سی ۔ ایس کے متعلق ہمارا بہت ہی خوفناک تجربہ تھا۔ کیونکہ جتنے بھی ہمارے کزن اس امپیریل سروس میں شامل ہوئے تھے۔ ہر وقت خالص ولایتی قسم کی انگریزی بولنے ’’ اور کوئی ہے ‘‘ ٹائپ کی اُردو ۔ بونڈ اسٹریٹ ، مے مینٹر ، سو ہو، کر ا کا، ہمایوں کبیر وغیرہ کا تذکرہ اس طرح کرتے جیسے ہم آپ چاندنی چوک حضرت گنج، بھائی چھمّن یا منجھلے چچا کی باتیں کرتے ہیں۔ غرض کہ ہماری بہنوں کے قبیلے میں سے کوئی بھی ان لوگوں سے شادی کرنے پر تیار نہیں تھا۔ اس قدر بے تحاشا احساسِ برتری ان پر ٹپکتا ہے کہ کیا بتاؤں چنانچہ ایک بھائی نے ہماری ایک رشتے کی جرمن چچی فریڈاؔ کی صاحبزادی سے شادی کر لی۔ دوسرے نے منیکا کے ٹروپ کی ایک فن کار کو اپنا جیون ساتھی مقرر کیا، نہ معلوم اُن کا کیا انجام ہوا، سنا تھا کہ اونیلاؔ بھابی طلاق کی فکر میں ہیں۔

قصہ مختصر یہ کہ ہم نے بورڈ پڑھ کر فوراً اس بے حد رومینٹک باغ سے واپس بھاگنے کی فکر کی۔ حالانکہ ہمارے اپنے باغ میں اتنے اچھے یوکلپٹس موجود تھے، اونچے اونچے ، ہوا میں فلسفیوں کی طرح غور و فکر میں محو جھومتے ہوئے۔ مگر بھئی کیا بات تھی اس سرخ چھت والی چھوٹی سی کوٹھی کی۔ گویا راستہ بھول کر پریوں کے ملک میں پیٹرپینؔ کے چاکلیٹ سے بنے ہوئے کاٹج کے قریب آنکلے ہیں (یہ تشبیہ حمیدہ نے دی تھی اسی وقت جسے سب نے خاصا پسند کیا) اس سے پہلے کہ کوئی کتا باہر نکلے اور ہم واپس ہوں ( اور ایک کتا واقعی باہر نکلا جو ہمارے فیڈوؔ سے زیادہ مہذب اور لائق قطعی نہ تھا۔ لیکن حمیدہ نے کہا کہ وہ دنیا کا بہترین کتا ہے۔ فیلڈ مارشل بولا کہ آپا کیوں نہ اندر جاکر پوچھا جائے کہ اس کوٹھی کے خالی ہونے کا امکان ہوسکتا ہے؟ ممکن ہے کہ صاحب بہادر کا تبادلہ ہونے والا ہو، لہٰذا ہم سائیکلیں روش کے کنارے لٹا کر اندر بڑھے اور ہماری رفتار کی مناسبت سے اسی وقت ایک صاحب بہادر باہر نکلے جو قطعی آئی۔ سی۔ ایس لگ رہے تھے انہوں نے کہا ۔ غالباً آپ حضرات اس طرف پک نک کے لیے آئے ہیں۔ کوئی خدمت؟‘‘

ہم نے سوچا کہ او ہو یہ تو اُردو بولتے ہیں چنانچہ فیلڈ مارشل نے اردو میں کہا۔ جی نہیں ہم نے سنا تھا کہ یہ کوٹھی خالی ہونے والی ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ جی نہیں فی الحال تو خالی نہیں ہو رہی۔ پھر تھوڑی سی اسی قسم کی جنرل اور بے معنی باتیں ہوئیں اور یہاں تک سلسلہ پہنچا کہ موسم کس قدر خوشگوار ہے اور آپ نے چارلسؔ بوایر کا ’’ کارواںؔ‘‘ دیکھا ہرگز مس نہ کیجئے وغیرہ پھر دفعتاً انہوں نے بہت عمدہ لہجے کی انگریزی میں کہا کہ Dont you come in, young dadies ___ اور ہم نے اسی اخلاق سے جواب دیا کہ We must buzz now  غرض کہ تھوڑے سے تکلفات کے بعد ہم اندر گئے۔ کس قدر ٹیسٹ سے اس کا مختصر سا ڈرائنگ روم سج رہا تھا Posh بالکل ، ہم نے چاروں طرف نظر دوڑائی کہ اب خواب گاہ کے دروازے کا پردہ اُٹھے اور ایک سوئیٹ سی بیوی داخل ہو اور ہم اس کے مذاق کی تعریف کریں کہ آپ نے ضرور لیڈی ارون کالج میں پڑھا ہے، اپنے یہاں کی چائے کی دعوت دے ڈالیں، اپنے باغ کی لیچیاں اسے بھیجوائیں لیکن پردے ہوا سے یوں ہی ہلتے رہے اور کوئی بھی اندر نہ آیا۔ حمیدہ نے قدرے اطمینان کا سانس لیا۔ صاحب بہادر بولے ۔ ’’دیکھئے اگر آپ کے خالو جان کو تکلیف نہ ہو تو وہ بڑی خوشی سے یہاں آسکتے ہیں۔ ایک طرف کا موٹ بالکل خالی پڑا ہے۔‘‘

’’ لیکن آپ کی بیگم صاحبہ کو دقت تو نہ ہوگی___ ؟ بلّے نے پوچھا۔ ’’ بیگم ___؟ اوہ___ وہ آج کل چند ماہ کے لیے گھر گئی ہوئی ہیں۔ ‘‘ صاحب بہادر نے کہا، اور حمیدہ کی بھوری آنکھوں سے اطمینان کی جھلک فوراً رخصت ہوگئی۔

’’ دیکھئے جب تک بیگم آئیں گی غالباً میرا تبادلہ بھی یہاں سے ہوجائے گا اس وقت آپ کے خالو جان پوری کوٹھی لے سکتے ہیں‘‘ صاحب بہادر نے بہت اخلاق سے کہا ۔ ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور طے ہوا کہ وہ اگلے روز دفتر سے سیدھے ہمارے یہاں آئیں گے۔ وہ کلیمنٹ ٹاؤن میں اطالوی نظر بندوں کی کسی علت کے سلسلے میں تعینات تھے۔ ہم نے خوش خوش گھر پہنچ کر بتایا کہ خالو میاں کے لیے کوٹھی مل بھی گئی۔ ایں؟ سب اچھل پڑے کوٹھی؟ واقعی؟ کہاں؟ ہم نے بڑی بے نیازی سے پتہ بتایا اور یہ بھی کہ اس میں ایک آئی۔ سی۔ ایس رہتا ہے۔ آئی ۔ سی۔ ایس؟ یہ تم لوگ کہاں پہنچ گئے تھے؟ ہاں بالکل سچ مچ کا آئی۔ سی۔ ایس انور بھائی جیسا۔ وہ کل آئے گا ملنے۔

چنانچہ دوسرے روز سہ پہر کو کلیمنٹ ٹاؤن سے فون آیا کہ میں آرہا ہوں۔ اپنی کوٹھی کا نمبر تو آپ نے بتایا ہی نہیں تھا۔ راجپور روڈ پر کس طرف ہے۔ پریڈ گراؤنڈز سے آتے میں یا جاتے میں۔ تفصیل سے ان کو پتہ بتایا گیا اور کہا گیا کہ جلدی آئیے چاء پر آپ کا انتظار ہو رہا ہے۔

قصہ مختصر یہ کہ وہ بالکل لارنس اولیور کے ہم شکل صاحب تشریف لائے۔ انہوں نے ہمارے گرینڈ پیانو کو دیکھا دیواروں پر لٹکی ہوئی بڑی بڑی Paintings پر نظر کی فیلڈوؔ کی تہذیب و اخلاق کا غور سے مطالعہ کیا اور یقینا دل میں وہ مرعوب ہوگئے کہ بقول شخصے یہ بھی معقول لوگ ہیں۔ چائے کی میز پر باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ ارے یہ تو تارےؔ بھائی ہیں بڑے پرانے دوست نکلے۔ ہمارے ابّا اور ان کے ابا گورکھ پور، بنارس اور جانے کہاں کہاں ساتھ تھے ۔ جب ہمارے ابّا کلکٹر تھے تو ان کے ابّا ڈپٹی کلکٹر جب ہمارے ابّا ریٹائر ہوئے تو ان کے ابّا کلکٹر ہوگئے اور پھر مر گئے۔ اس کے بعد تارے بھائی ولایت جاکر آئی۔ سی۔ ایس بن گئے ۔ یہ دہرہ دون گروپ کے بقول ہمارے جاپانی آئی۔ سی۔ ایسوں میں سے نہیں تھے بلکہ خالص ولایت سے بن کر آئے تھے پھر جناب باتوں کا وہ سلسلہ شروع ہوا کہ ختم ہی ہونے میں نہ آیا۔ بچپن کی باتیں یاد کی گئیں۔ یوپی کے ان دور افتادہ ضلعوں کی ان خاموش دوپہروں کا ذرا رومانٹک طریقے سے ذکر کیا گیا جب بڑوں کی آنکھ بچا کے باغ میں جاکر ہری ہری کیریاں کھائی جاتی تھیں۔ پپیہا چلاتا تھا۔ آم کے کنجوں میں چھپی ہوئی کوئلیں برہا گاتی تھیں‘ مہوے کے درختوں کے نیچے نرم نرم زمین پر ریلوے اسٹیشن تیار کیے جاتے تھے اور سرنگیں کھودی جاتی تھی اور کس طرح تارے بھائی کی ٹرائیکل پر زبیدہ کے گڈے کی برات نکلی تھی اور کس طرح تارے بھائی نے حمیدہ کی اس بڑی سی گڑیا کے سنہری بال کتر ڈالے تھے جو چچی فریڈہ اس کے لیے برلن سے لائی تھیں۔ شام پڑے تک اسی قسم کی بے تکی باتیں ہوتی رہیں اور ہنسی آتی رہی۔ اور تارے بھائی جب چلنے لگے تو دونوں طرف سے بڑے زوروں میں یہ محسوس کیا گیا کہ ہم لوگ ایک دوسرے کے بہترین دوست ہیں اور خالو میاں قطعی اُن کی کوٹھی میں جاکر رہیں گے بلکہ اگر خالو میاں کو الگ سے کوٹھی مل بھی گئی تب بھی تارے بھائی انہیں کہیں اور نہ جانے دیں گے۔

کتنے دلچسپ نکلے تارے بھائی رات کو دنیا جہان کے مزے دار قصے اور لطیفے سنا رہے ہیں۔ پنگ پونگ کھیل رہے ہیں۔ میں تصویریں بناتی تو رنگوں کے متعلق مشورے دیتے رہتے۔ ہم بہنوں کو ہنگیرین اور اسپینش والز کے اسٹیپس سکھائے۔ بلّے سے بہت دوستی تھی۔ ٹینس میں حمیدہ یا مجھ سے مار جاتے لیکن اسپورٹنگ اتنے کہ ذرا بھی پرواہ نہیں ۔ دیکھنے والے کہتے طارق ڈوب جاؤ۔ لڑکیوں سے ہار رہے ہو۔ اور وہ ایک بھوں اونچی کر کے ذرا سنجیدگی سے مسکرا دیتے۔ بالکل ایسا لگتا کہ لارنس اولیوئیرؔ آکر جالی کے پاس کھڑا ہوگیا ہے۔

لیکن صرف تارے بھائی ہمارے گھر آتے تھے۔ ہم دو تین مرتبہ خالہ بی سے ملنے کے علاوہ کبھی خاص طور پر تارے بھائی کے وہاں نہیں گئے تھے۔ ہماری ممی کے اور بہت سے اصولوں میں سے ایک اصول یہ ہے کہ صرف اس شخص سے ملاقات کی جاتی ہے جو اپنی بیوی کو ہمارے گھر والوں سے ملواتا ہے۔ اور ویسے بھی یہ قاعدے کی بات ہے کہ عام طور پر غیر شادی شدہ لوگوں کے یہاں یا بیویوں کی غیر موجودگی میں خواتین ان کے پارٹیوں میں نہیں جاتیں بشرطیکہ کوئی اور خاتون رشتہ دار بطور میزبان موجود نہ ہو۔ اسی اصول کے ماتحت، جب تارے بھائی نے ہم لوگوں کی دعوت کی تو ممّی نے کہہ دیا کہ جب اللہ رکھے تمہاری دلہن میکے سے آجائیں گی، تب ہم آئیں گے تمہارے گھر‘ لڑکیوں کو بھی اس سے ملنے کا بہت شوق ہے تارے بھائی منہ لٹکا کر خاموش ہوگئے۔

پھر یہ ہوا کہ اتفاق سے دو تین مہینے بعد ہی خالو میاں کا تبادلہ راولپنڈی کا ہوگیا۔ تارے بھائی نے اپنے یوکلپٹس کے باغ میں اُن کے لیے ایک بڑا شان دار رخصتی بُغےؔ دیا۔ اس میں مسوری کا ایک خاندان بھی مدعو تھا جس کی لڑکیوں کے متعلق طرح طرح کی باتیں مشہور تھیں۔ اور وہ لڑکیاں واقعی تھیں بھی کچھ عجب سی بے تحاشا الڑاماڈرن ۔ الڑا ماڈرن تو خیر بھئی ہم بھی ہیں۔ لیکن ایک حد کے اندر ، یہ تھوڑا ہی ہے کہ بالکل ہی فاروٹؔ۔ مثلاً سنا گیا تھا کہ ایک بہن جتنے پرنس مسوری آتے ہیں ان کے ساتھ ہیک منیز میں نظر آتی ہے۔ دوسری ایک دفعہ گھر سے بھاگ چکی تھی اور اب دوسری بار لاہور جاکر فلم جوائن کرنے کی فکر میں تھی۔ ٹامیوں کے ساتھ بھی یہ لوگ گھومتی رہتی تھیں تو ان لوگوں کو اس وقت وہاں دیکھ کر ہم کو بے حد تعجب ہوا اور تھوڑا سا افسوس بھی کیا کہ تارے بھائی اس قسم کے ہیں۔ پھر جبکہ انہوں نے اپنی بیوی کو (جو یقینا بہت سوئیٹ سی ہوگی) میکے بھیج رکھا ہے۔ پھر جب میں اپنی پلیٹ میں کباب لینے کے لیے ایک میز کی طرف گئی تو تارے بھائی وہاں مل گئے جو ان ہی خان سسٹرز میں سے ایک کے لیے ان کی پلیٹ میں کچھ لے رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر ہمیشہ کی طرح انہوں نے کوئی دلچسپ بات شروع کرنی چاہی لیکن میں بالکل غیر ارادی طور پر ان کی طرف سے مڑ کر دوسری میز پر جھک گئی اور وجے شنکرؔ کو Help کرنے میں مصروف ہوگئی ۔ تارے بھائی نے شاید اس بات کو اچھی طرح محسوس کیا تھا۔ کھانے کے بعد Consequences کھیلنے کے لیے کاغذ پنسل تقسیم کرتے ہوئے وہ میرے قریب آئے۔ ڈکلیؔ بھئی ہماری پارٹنر بن جاؤ۔ انہوں نے کہا ’’ سوری تارے بھائی۔ وجے شنکر نے مجھ سے پہلے سے کہہ رکھا ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا ’’ اچھا‘‘ وہ منہ لٹکا کر آگے بڑھ گئے:

رات گئے گھر لوٹتے وقت جب میں نے انہیں‘ خان سسٹرز کو اپنی کار میں سوار کروا کے واپس آتے دیکھا تو میں نے سچ مچ جھنجھلا کر پو چھا ’’ آخر آپ بیگم طارق کو کیوں نہیں بلاتے۔‘‘ اس وقت میں نے محسوس کیا کہ یقینا مجھے تارے بھائی سے اتنی محبت نہیں ہے کہ میں لاڈ میں آکر ان کی بیوی کو ’’ بھابھی‘‘ کے رومانٹک نام سے یاد کروں۔ اُن کی بیوی کے متعلق اس اوّلین ملاقات کے بعد یہ پہلی گفتگو تھی اور تارے بھائی کی کالی آنکھوں میں ایک بے حد عجیب سا بھیگا بھیگا پن جھلملا اٹھا اور انہوں نے ایک بہت ہی خاص انداز سے کار کا دروازہ بند کرتے ہوئے جھک کر کہا ۔ ’’ اچھا شب بخیر۔ کل خالو میاں کو رخصت کرنے تم سب اسٹیشن آؤ گی نا۔‘‘

اس کے بعد بہت دنوں تک تارے بھائی سے ملنا نہ ہوسکا۔ ایک روز علی گڑھ سے ہمارے بہت سارے بہن بھائی آئے ہوئے تھے اور ہم سب ’’ اورینٹ ‘‘ میں ’’ واٹر لو برج‘‘ دیکھ رہے تھے۔ آؤ اس لڑکی کو چلائیں۔ ہماری سامنے کی نشستیں بالکل خالی پڑی تھیں اور کونے پر صرف ایک اینگلو انڈین لڑکی سگریٹ پی رہی تھی۔

ہم اپنے پیروں سے اگلی نشستوں کو آگے ڈھکیلنے کے پسندیدہ شغل میں مصروف ہوگئے (دہرہ دون کے سنیما ہاؤسوں میں کرسیاں فرش میں جڑی ہوئی نہیں ہوتی ہیں) انٹرویل کے بعد، سگریٹ لائیٹر کی روشنی بھڑکی اور میں نے تارے بھائی کو برابر والی کرسی پر بیٹھا پایا___ ’’ ارے ڈکلی___ تم تو بھئی اس وقت بہت متاثر نظر آرہی ہو، مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم اتنی نرم دل ہو‘‘___ انہوں نے کہا ۔ لیکن اس وقت ہم سب روبرٹ ٹائیلر کو ایڈمائر کرنے میں حد سے زیادہ مصروف تھے۔ میں خاموش رہی پھر جب روشنی ہوئی اور گوڈسیودی کنگ بجنے سے پہلے ہی ہمیشہ کی طرح ہم لوگ باہر نکل آئے تو میں نے حمیدہ کی بھوری آنکھوں میں پانی جگمگاتا دیکھا اور مجھے حیرت ہوئی کہ میں نے ایسا کیوں کیا۔ اس روز بھی اور آج بھی میں ضرور تارے بھائی سے اپنے اس رویے کی معافی مانگوں گی۔

کچھ عرصے بعد دسمبر میں ہمارے فائنل امتحان نازل ہوگئے۔

میں اس روز شام پڑے اپنے بستر میں کمبلوں میں ملفوف جغرافیہ کی تیاری کر رہی تھی اتنے میں دریچے کے راستے بلّا بے تحاشے تیزی سے بھاگا ہوا اندر آیا، اس کا سانس چڑھا ہوا تھا اور بال پیشانی پر بکھر گئے تھے۔ ڈکلی___ تارےؔ بھائی ___ ’’ وہ جیسے کوئی بے انتہا بری خبر سناتے سناتے رک کر صوفے پر گرگیا___ میرا دل لرز اٹھا___ ‘‘ تارے بھائی!___ کیا ہوا اُن کو ___‘‘

’’ڈکلی___ تارے بھائی___ اور  حمّی ___ بھگ ___ بھاگ گئے دونوں___ تارے بھائی  حمّی کو لے کر چلے گئے___ سچ مچ بھاگ گئے___‘‘

سچ بتائیے آپ میری جگہ اس وقت ہوتے تو آپ کا رد عمل کیا ہوتا۔

’’ حمّی اوپر دریچے میںکھڑی تھی۔ نیچے تارے بھائی اس وقت کلیمنٹ ٹاؤن سے چلے آرہے تھے۔ بیگم ارشاد اللہ کے ہاں ___ اور نجانے کیسے  حمّیکسی دھکے کی وجہ سے ___ اپنا وزن نہ سنبھال سکی___ اور گر پڑی___ تارے بھائی نے اُسے سنبھال لیا___ اور سیدھے گئے اپنی___ موٹر کی طرف___ بلّا صوفے پر پڑے پڑے کہہ رہا تھا۔ زبیدہ ششدر رہ گئی___

ہمارے گھر پر سکوت چھا گیا۔

ڈنکرکؔ کے بعد فیلڈ مارشل زخمی ہو کر ہندستان واپس بھیج دیا گیا تھا ۔ بمبئی سے صحت یاب ہونے کے بعد وہ گھر آیا ___ اس وقت وہ کیسا اچھا کتنا پیارا معلوم ہو رہا تھا ’’  حمّیکہاں ہے؟‘’ اس نے چاروں طرف دیکھ کر پوچھا۔ ’’ مر گئی تمہاری حمّی‘‘ ممی نے چائے بناتے ہوئے اتنے رنج اتنے صدمے کو ضبط کرتے ہوئے کہا ___ پھر ایک اور، اس سے بھی زیادہ عجیب بات ہوئی___ فیلڈ مارشل میرے صوفے پر بیٹھا۔ ڈنکرک کی لڑائی کی تصویریں دکھا رہا تھا۔ ایک دم سے میں نے محسوس کیا کہ اس کی آنکھیں گرم گرم اور بھیگی جارہی ہیں’’ ہش احمق مت بنو‘‘ میں نے آہستہ سے اس کو ڈانٹا۔‘‘ ڈکلی ___ حمّی جانتی ہے، تمہیں بھی معلوم ہے اور زبیدہ کو بھی، کہ مجھے ___ اس سے کتنی شدید محبت تھی___ میں نے دور اُن سیاہ چیختے ہوئے سمندروں میں، جلتے ہوئے جہازوں ، پھٹتی ہوئی سرنگوں پر ہسپتال میں، ہر جگہ ، ہر لحظہ موت کا کس امید پر مقابلہ کیا کن خوابوں کے سہارے لڑا___ اور ___ اب ___ اور اب ___ میرا پیار ا چھوٹا بھائی بچوں کی طرح رونے لگا___ باہر اندھیرا بڑھتا جارہا تھا۔

امتحانات ختم ہونے کے بعد ہم بہت ہی خاموش رہنے لگے۔ سمجھ میں ہی نہیں آتا تھا کہ کیا کریں، فیلڈ مارشل بمبئی واپس جاچکا تھا۔ ممّی ہمیں الموڑے بھیج دو، دسمبر سے لے کر جولائی میں کالج کے داخلے تک کا جو لمبا وقفہ ہے کیوں نہ اسے کلچر سنٹر میں رقص کر کے کار آمد بنا لیا جائے۔ سینئر کیمبرج کے امتحان کے فوراً بعد صرف آخری ٹرم کے لیے فرسٹ ایر میں داخل ہونے کے ہم قائل نہ تھے۔ ممّی مان گئیں۔

لیکن سوسائٹی کی دوسری خواتین___ ان کی دماغی صلاحیتوں نے اس خبر کی اصلیت کو قبول کرنے سے قطعی انکار کر دیا کہ بیگم اعجاز کی لڑکیاں ناچ سیکھنے کے لیے الموڑے جارہی ہیں حمیدہ کے سنسنی خیز واقعے کو ابھی اچھی طرح فراموش بھی نہیں کیا جاچکا تھا کہ ان کے Gossip کے لیے ایک اور موضوع تیار ہوگیا۔ کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ٹی پارٹیوں اور دوسرے سوشل مجمعوں میں جن اہم باتوں پر تبادلہ خیالات کیا جاتا ہے وہ کس قدر بے معنی ہوتی ہیںارے بہن تم نے کچھ اور بھی سنا زہرہ نے کسی ہندو سے شادی کر لی___ ہو نہہ اور وہ ذکیہ جو میاں کے مرنے کے ایک سال کے اندر ہی کسی موئے انگریز سے بیاہ رچا کر بیٹھی ہیں تو انہیں کیا نتیجہ ملا___ شاہدہ کو تو طلاق مل ہی گئی آخر___ شاہدہ کا تو پتہ نہیں لیکن زہرہ تو کب کی طلاق دے چکی اپنے میاں کو___ ہاجرہ نے بھی بھئی خوب مزاچکھایا بے چارے کو___ سچ نہ جانے دنیا کہاں جارہی ہے___ اور یہ بیگم اعجاز کے میاں کی بھانجی ابھی سب کو آزادی کا اچھا سبق پڑھا چکی ہیں لیکن پھر بھی انہوں نے ناچ گانا سیکھنے کے لیے بھیج دیا لڑکیوں کو اپنی___ شابش ہے بھئی___ اور سنا مسز بھنڈاری نے کیا حرکت کی___

ممی نے یہ پسند نہیں کیا تھا کہ ہم سنٹر کے ہوسٹل میں رہیں کیونکہ وہاں ہندوستان بھر کے بھانت بھانت کے بنگالی، مدراسی، مرہٹے لڑکے اور لڑکیاں موجود تھیں کم از کم ہمیں اس ماحول سے مانوس ہونے میں بڑی مشکل پڑتی۔ چنانچہ ممّی کی دور دراز کے رشتے کی بہن تحقیق کر کے دریافت کی گئیں۔ بہنوئی ایک بہت بڑے ملٹری کنٹریکٹر۔ خالہ جان، خدا انہیں سمجھے اپنے چھوٹے بچوں کی تعلیم کی وجہ سے وہاں رہتی تھیں۔ نلنی ہوسٹل میں چلی گئی اور ہم دونوں بہنیں خالہ جان کے گھر ۔ افوہ کتنا بے تحاشا روپیہ اُن کے یہاں بہہ رہا تھا۔ اس قدر دنیا جہان کے  ٹھیکے ان کے پاس تھے۔ نینی تال کے جنگی نظر بندوں کے کیمپ کا کنٹریکٹ ، چھاؤنیوں کا کنٹریکٹ ، فوجی بارکوں کا کنٹریکٹ ‘ زمین کا کنٹریکٹ آسمان کا کنٹریکٹ۔ ان کے یہاں رہ کر مجھے پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ موجودہ جنگ کی Boon کے کیا معنی ہیں۔ اس وقت محسوس ہوا کہ یہ طرح طرح کی نئی نئی بے تکی نظمیں اور افسانے جو اضطرابؔ نیا ادبؔ اور ادب لطیف وغیرہ میں چھپتی تھیں جو راتوں کو آتش داں میں روشن ہیڈ کے سامنے بیٹھ کر پڑھتے ہوئے بے حد مضحکہ خیز اور اپنی زندگی سے دور اور بے معنی معلوم ہوا کرتے تھے، واقعی کس قدر وزن رکھتے ہیں۔ ذرا جذباتی طریقے سے یہ باتیں سوچتے ہوئے میں نے اپنے کمرے کے دریچے سے باہر دیکھا___ ایک نیلی سی چٹان کے کنارے لالہ کے پھول اورنیلو فر کے پودے ہوا میں جھوم رہے تھے___ مجھے یاد آیا___ تارے بھائی کہا کرتے تھے ڈکلی مجھے لالہ کے پھولوں سے عشق ہے۔ میرے چاروں طرف لالہ کے پھول ہوں اور فضا میں موزارٹ کے نغمے، پھر مجھے زندگی میں کسی چیز کی خواہش نہ رہے___ موسیقی اور کتابیں اور پھول ___ اور___ اور ___ میں جیسے کسی نرم نرم گھاس سے چھپی ہوئی پگڈنڈی پر چلتے چلتے الجھ کر گر پڑی___ تارے بھائی اتنے دور ہوچکے تھے___ اتنے دور___

ارے ڈکلی یہ تو آوا گڑھ ہاؤس ہے___ زبیدہ اُچھل پڑی ___ ہا آواگڑھ ہاؤس___ گیلری میں جاکر میں نے اِدھر اُدھر دیکھا___ خوشی کی ایک ہلکی سی چیخ میرے منہ سے نکل گئی۔ جب ابّا الموڑے میں تعینات تھے تو ہم اس کوٹھی میں رہا کرتے تھے___ برسوں پہلے ___ دیکھو ڈکلی وہ سیڑھیاں جہاں ہم نے اسنو مین بنایا تھا اور وہ الائچی کا درخت، دیکھنا انگور کی بیلیں اب بھی باقی ہیں یاجل جلا گئیں۔ اور ہم اپنا تکلف اور اجنبیت چھوڑ چھاڑ کر بچوں کی طرح سارے میں بھاگنے دوڑنے لگے ۔ جیسے ہمیں فردوس گمشدہ مل گئی تھی۔ چلو وہ کمرہ ڈھونڈیں جس میں فیلڈ مارشل کو بند کیا تھا___ اور ہم اچھلتے کودتے گیلری کے سرے والے پہاڑی سے ملے ہوئے شیشے کے کمرے میں جا پہنچے___ اور ___ او ہو___ واللہ___ ہلّو___ السلام علیکم ___ بہت خوش نظر آتی ہیں آپ‘‘___ ’’ہلو ___ وعلیکم السلام___ ‘‘ ہم نے اپنی آواز اتنی مری ہوئی پائی کہ یقین ہوگیا کہ اب اس سرائے فانی سے عالم جاودانی کی طرف سفر آخرت کرنے والے ہیں۔

مجھے آپ سے اپنا تعارف کرواتے ہوئے یقین فرمائیے بے حد مسرت ہو رہی ہے۔ میں ہو ں آپ کا مخلص حمید الرحمن ___ ریل میں وہ چاء میں نے آپ کو قطعی نہیں بھیجوائی تھی۔ بیرہ غلطی سے دے آیا تھا۔

یہ صاحب اپنے بڑے بھائی کے ساتھ کاروبار کے سلسلے میں نینی تال ، دہلی شملے وغیرہ چلے جایا کرتے اور گھر پر بھی اپنے دفتر کے کمرے میں حد سے زیادہ مصروف۔

اس روز شام کو اپنے کمرے کے فرش پہ ان نئے Steps کی مشق کرتے کرتے تھک کر جو اسی دن سیکھے تھے، میں پلنگ کے کنارے پر بیٹھ کر تسنیم کا خط دوبارہ پڑھنے لگی۔ اُس نے لکھا تھا ڈکلی امید ہے کلچر سنٹر تم خوب Enjoy کر رہی ہوگی اور میرا یہ خط تمہیں بشاش پائے گا آج کل یہاں بھی خاصی دلچسپ Date rights اور Dances رہتے ہیں۔ میں بہت خوش ہوں___ ہاں تم کو شاید یہ معلوم نہیں کہ عارف نے امینہ سے شادی کر لی___ شاید تم میرے خیال سے سنجیدہ ہوجاؤ لیکن بھئی میں تو بہت خوش ہوں___ اس دنیا میں بعض باتیں کتنی عجیب سی ہوجاتی ہیں نا___ ’’ واقعی میں سوچتی رہی، عارف شملے میں تسنیم سے ملا تھا اور اس وقت سے وہ دونوں کتنی ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے تھے۔ عارف فلائنگ آفیسر تھا اور بے حد شرمیلا۔ دوستوں کی موجودگی میں دونوں اوروں سے خوب باتیں کرتے تھے اور جہاں تنہائی ہوئی اور بالکل خاموش بس چپ چاپ بیٹھے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں اور شرمائے جارہے ہیں۔ جب تسنیم کے والد کا تبادلہ کوئٹہ کا ہوگیا تب بھی عارف اور تسنیم میں خط و کتابت رہی، وہ بے حد دلچسپ خطوط لکھا کرتا تھا۔ شادی کی تاریخ بھی طے ہوگئی تھی___ اور اب ___ یا اللہ دنیا کتنی عجیب ہے___کس قدر عجیب ___ اسے کیا کہئے ___ سلیم جہانگیر تصویر کے شیشے میں آکر پھر کھڑا ہوگیا___ دوسری منزل پر اس شام پیانو پر Base کے سروں میں کوئی غمگین سا گیت گایا جارہا تھا۔ آنے جانے والوں کے خاموش اور مدھم سے سائے گیلریوں میں ادھر سے اُدھر حرکت کر رہے تھے اور میں امرتا شیر گل کی ایک تصویر کے سامنے کھڑے ہو کر نلنی پر اپنی قابلیت کا رعب ڈالنے میں مصروف تھی کہ تم کیا جانو بے چاری۔ ان لکیروں اور ان سیاہ سفید دھبوں کے معنی تو صرف فن کار ہی سمجھ سکتے ہیں اب مثلاً یہ امپریشن اور ایکسپریشن ___ فش___ نلنی اتنی دیر تک تصویروں کے نقوش پر میرا عالمانہ تبصرہ سنتے سنتے عاجز آکر دوسری طرف مڑ گئی___ اوہو___ میں نے غصہ میں آکر اُسے ڈھکیل دیا___ اوہو ___ ہلو___ آداب عرض ___ ستون کے پیچھے سلیم جہانگیر کھڑا تھا ہمیشہ کی طرح اُس کی لمبی لمبی پتلی اور بے چین سی انگلیوں میں اٹکے ہوئے سگریٹ کے دھویں کی دوبار یک سی لکیریں بل کھاتی ہوئی اوپر کو اُٹھ رہی تھیں وہ انگلیاں جن کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا تھا کہ بس اب وہ کائنات کی ساری خوب صورتی اور ساری لطافتیں اپنی طرف کھینچ کر کینوس پر بکھیر دیں گی___ وہ ذرا لمبے سے بے پرواہی سے پیچھے کوالٹے ہوئے بال جن میں اماوس کی کالی راتوں کی سیاہی بھی تھی۔ اور ہمالیہ کی برفانی چوٹیوں پر جھلملانے والی کرنوں کا سنہرا پن بھی___ پھر وہ آنکھیں___ سمندروں کی طرح گہری اور نیلی ___ کتنا ایکسپریشن تھا۔ ان آنکھوں میں___ ایک عجیب Vacant سالک معصوم اور گھبرایا گھبرایا سا۔ جیسے اونچے قرمزی بادلوں سے پرے پرواز کرنے والے کسی فرشتے کو دنیا کی پستیوں میں ڈھکیل دیا گیا ہو۔ اور وہ اپنا گردو پیش دیکھ دیکھ کر پریشان ہو رہا ہو۔

معاف فرمائیے گا۔ جب کبھی سلیم جہانگیر تصور میں آکر کھڑا ہوتا ہے تو میں ضرورت سے زیادہ شاعر ی کرنے لگتی ہوں۔ مصیبت یہ ہے کہ آپ لوگ تو اپنی ہیروئن کو (Describe) کرنے کے لیے دنیا جہاں کے اچھے اچھے الفاظ استعمال کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی لڑکی کسی آدمی کا ذرا خوب صورت طریقے سے ذکر کرنا چاہے تو بڑا Awkward سا لگتا ہے۔

’’آپ دونوں کیوں لڑ رہی تھیں؟‘‘ اس نے وہیں کھڑے کھڑے پوچھا۔ جب وہ بات کرتا تھا تو اُس کی نظریں جانے کہاں ہوتی تھیں دیواروں پر دریچے سے باہر، پہاڑوں سے پرے۔ بعض مرتبہ تو بڑی الجھن ہونے لگتی تھی۔ یعنی آپ کتنا ہی سوئیٹ ایکسپریشن بنائیں بات کرتے میں۔ لیکن وہ خدا کا بندہ آپ کے چہرے ہی کو نہیں دیکھے گا۔ ویسے اس کی نگاہیں ساری فضا میں تیرتی پھریں گی۔ سمندروں کی نیلی موجوں کی طرح___

’’ یہ ڈکلی مجھ پر شان جھاڑ رہی تھی۔ ’’ نلنی نے کہا۔ سگریٹ کا دھواں اُسی طرح اوپر کو لہراتا رہا۔ جب کوئی خاص بات کرنے کو نہ ہو اور ایٹی کیٹ کا تقاضا ہو کہ کوئی بات ضرور کی جائے، تو وہ وقت بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے۔

کورس ختم کرنے کے بعد آپ کا ارادہ ۔ ٹروپ میں شامل ہونے کا ہے؟ ۔ ’’ اس نے یوں ہی پوچھا۔‘‘ ٹروپ میں؟ نہیں تو ۔ ہم تو صرف جولائی تک رہیں گے۔ پھر لکھنؤ چلے جائیں گے ۔ ’’ اور نلنی نے بالکل بلا ضرورت محض اخلاقاً ہنسنا شروع کردیا۔ بھلا ہنسی کی کیا بات تھی۔

’’ امریتا شیر گل آپ کو کیسی لگتی ہے۔ ’’ پھر نلنی نے بڑے تنقیدی لہجے میں ایسا احمقانہ سوال کیا جیسے وہ بڑی ماہر نقاد ہے امریتا شیر گل کی ۔ سلیم جہانگیر ایسی گہری شیریں آواز میں اتنی مختصر باتیں کرتا تھا جیسے آپ اور ینج اسکوائش آہستہ آہستہ پی رہی ہوں۔ اتنے میں اوپر سے راجندر بھائی صاحب آگئے۔ نلنی کے بڑے بھائی ۔ انہوں نے آتے ہی زور سے کہا، چلو تسی اوپرچل کے کچھ ٹی ٹُوپی لو۔ کچھ ٹھنڈا پانی شانیسلیم جہانگیر سے انہوں نے پھر کہا آپ بھی کچھ چائے سائیہمارے ساتھ پیوجی۔ اور ہم سب دوسری منزل پر چلے گئے۔

اسی رات کھانے کی میز پر میرے مقابل میں بیٹھے ہوئے رحمان بھائی نے زبیدہ کو دیکھا۔

’’ آج ہم ہوٹل ریجنٹ میں ایک خالص بوہیمین قسم کے آرٹسٹ سے ملے ۔ ’’ زبیدہ نے جھک کر کہا۔‘‘

’’ کون وہ سلیم جہانگیر؟ جانتا ہوں اُسے ۔ ’’ رحمان بھائی نے بے پرواہی سے جواب دیا۔ اور ابّا سے اپنے تازہ کنٹریکٹ کے متعلق باتوں میں مصروف ہوگئے۔

انہیں دنوں زبیدہ کے سامنے ایک فضول سی تجویز پیش کی گئی کہ کیوں نہ تم بھائی عبد الرحمن سے کرلو شادی۔ رات کو زبیدہ مجھ سے خوب لڑی اور صبح تک اتنا غصہ سوار رہا کہ ہم پف آستینوں کی بلاؤزیں پہنے پہنے سنٹر چلے گئے۔ بالکل یاد نہ رہا کہ دادا اس قسم کی پھولی پھولی آستینوں کو سخت نا پسند کرتے ہیں۔ کیونکہ اُن کی وجہ سے رقص میں شانوں کی صحیح موومنٹ کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔

کیا بات ہے ایرانی بلیو ___ ؟ ‘‘ نلنی نے پریشان ہو کر پوچھا۔ کلاس شروع ہو چکی تھی۔ لکڑی کے فرش پر اُکھڑے اُکھڑے نپے تُلے قدم رکھے جانے لگے۔

دوسری صبح میں پہاڑی پر سے ذرا تیزی کے ساتھ نیچے مآل کی طرف اتر رہی تھی۔ دور سے سلیم جہانگیر اوپر آتا نظر آیا۔ قریب پہنچ کر اخلاقاً مجھے اپنی چھتری نیچی کر لینی پڑی۔ اُس نے میرے ہاتھ سے پار سلیں اور پیکٹ جو میں پوسٹ کرنے کے لیے لے جارہی تھی لینے چاہے۔ ‘‘ افوہ‘‘ شکریہ۔ لیکن مجھے بہت جلدی ہے ۔ ’’ میں نے زیادہ تیزی سے نیچے اُترنا شروع کر دیا۔ پھر میں نے محسوس کیا کہ میں بہت خاصی تر ش روئی سے پیش آئی ہوں۔ اُس نے آہستہ آہستہ قدم رکھتے ہوئے بہت رنجیدہ ہو کر کہا ۔ ’’ میں نے تو سنا تھا کہ آپ بہت خلیق ہیں۔‘‘

’’ بالکل غلط سنا تھا۔ آپ نے ۔‘‘

واپس اپنے لان کی سیڑھیوں پر پہنچ کر میں نے دیکھا کہ سلیم جہانگیر اور رحمن بھائی بر آمدے میں ٹہل ٹہل کر باتیں کر رہے ہیں۔ زبیدہ اپنے کمرے میں سنگھار میز کے بلور پر جھکی ہوئی ناخنوں پر بادامی پولش کر رہی تھی۔ ’’فرمائیے جناب‘‘ اس نے سر اٹھا کے اپنی لمبی لمبی آنکھیں چیرتے ہوئے یوں ہی بے معنی سی کوئی بات شروع کرنی چاہی۔ ’’ اخوہ اترا کتنا گئیں ۔ ’’ میں نے جل کر کہا۔ شام کو بسنت کا جشن منانے کے لیے جو ٹیلبو ہو رہا تھا اُس کی ہیروین کے لیے ’’املا‘‘ دیدی نے زبیدہ کو منتخب کیا تھا۔ کیونکہ انہیںلمبی لمبی نوکیلی اور ترچھی سی چغتائی آرٹ کی قسم کی آنکھوں والی زرد رو لڑکی کی ضرورت تھی۔ اور ایسی آنکھیں سارے سنٹر میں سوائے زبیدہ کے اور کسی کی نہ تھیں۔ حالانکہ میں یقین دلاتی ہوں آپ کو کہ میں اس پارٹ کو کہیں بہتر طریقے سے ادا کرسکتی تھی۔ کیونکہ مجھے مانی پوری اسٹائل اس وقت تک بہت اچھی طرح سے آگیا تھا۔

ہئی۔ چوئنگ گم کھاؤ۔ راستے میں کیا۔ سلیم جہانگیر ملا تھا؟ مبارک ہو ۔

’’ شیطان کی پر نانی___ ‘‘ میں نے خود کو رونے پر آمادہ پایا ’’ اچھا نہیں ۔ کیا باتیں ہوئیں۔‘‘ آرٹ اور زندگی وغیرہ۔‘‘

’’ہیں میں نے ضرورت سے زیادہ Rudely behave کیا۔

’’ فون پر معذرت کر لینا اور رات کے جشن پر مدعو بھی۔

دوپہر کو میں نے ہوٹل ریجنٹ کا نمبر ڈائیل کرکے ذرا جھجھکتے ہوئے ریسیور اٹھایا ’’ ہلو‘‘___ کیا آوا گڈھ ہاؤس سے بول رہے ہیں۔ کیا رحمان صاحب ؟ ‘‘

’’ جی نہیں میں___ ڈکلی___ آئی مین___‘‘

اوہو ڈگ___ بی ___ مس اعجاز ___‘‘

جی ہاں___ سلیم صاحب مجھے بے حد افسوس ہے کہ صبح میں اتنی یعنی ذرا Hurt سی ہو رہی تھی___ اُمید ہے آپ Rude نہیں ہوئے ہوں گے۔

’’ Hurt جی قطعی نہیں ___ میں ایسی باتیں بہت جلد بھلا دیا کرتا ہوں___ کوئی خدمت ؟ ‘‘ اس کا مطلب تھا کہ اب فون بند کر دیجئے تو کیسا رہے ؟ کمبخت ایکسچینج والا بیچ میں نہایت بدتمیزی سے بول اٹھا Be brief please یہ گدھا شاید میری اور زبیدہ کی آواز پہچان گیا تھا۔ اور ہمیشہ اسی طرح ٹپک پڑتا تھا۔ ریسیور زور سے پٹخ کر میں نے ارادہ کر لیا کہ غسل خانے میں جاکر خوب روؤں گی___ اُسی وقت رحمان بھائی گیلری میں آگئے۔ ان کے ہاتھ میں تازہ اخبار تھا۔ ارے بھئی ڈکلی کوئی طارق احمد سید تمہارے کزن تھے___ یا اسی قسم کی کوئی چیز ___ آئی مین وہی جنہوں نے تمہارے ایک کزن سے ذرا دلچسپ طریقے سے شادی وادی کر لی تھی___ بڑا لمبا ہاتھ مارا میرے یار نے ___ برطانوی سفارت خانے کا اتاشی ہو کر ایران پہنچ گیا۔

یعنی تارے بھائی پہلے تو حمّی کو لے کر بھاگے، کس صفائی سے اور پھر ___ یا اللہ میں زبیدہ کو یہ زبردست خبر سنانے کے لیے تیرکی طرح بھاگی۔ وہ غسل خانے میں تھی میں اپنے دریچے کے قریب جاکر ٹھٹھک گئی اور اس وقت مجھے بے انتہا شدت، حد سے زیادہ تلخی کے ساتھ یہ احساس ہوا کہ ___ یہ ساری باتیں___ یہ تمام حماقتیں کس قدر فضول ہیں___ باہر پہاڑیوں پر بہار کے پہلے بادل بکھر رہے تھے۔ غسل خانے میں سے زور زور سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی۔ زبیدہ نہاتے ہوئے ۔ سردی کو کم کرنے کے لیے بالکل مجاز کے انداز میں گا رہی تھی___ جوانی کی اندھیری رات ہے___ سوں سوں___ مگر میں اپنی منزل___ سوں___  کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں___ میں ذرا ___ فلسفیانہ طریقے سے سوچنے لگی کہ ہم سب آخر کس چیز کی تلاش میں اتنے سرگرداں ہیں۔ اتنے پریشان۔ میں نے دریچے کی سفید چوکھٹ پر اپنا سر ٹیک کر اپنی چھوٹی سی ناک ٹھنڈے برف جیسے شیشوں سے چپکادی۔ ہلکے ہلکے بادل بسنت کی ہواؤںمیں اڑتے پھر رہے تھے___ میں سوچتی رہی کہ بھئی آخر ان سب باتوں کے معنی کیا ہیں؟ (بڑا پرانا اور احمقانہ سا سوال ہے) اور اس وقت نہ جانے کہاں سے میرے سر میں یہ خیال آگیا کہ اگر سلیم جہانگیر ‘ وہ جس نے اس روکھے پن سے فون بند کر دیا تھا‘ اس دریچے میں میرے قریب کھڑا ہوتا اور اس کی مخروطی بچپن سی انگلیاں تیزی سے کاغذوں پر سامنے کا منظر اُتارنے میں مصروف ہوتیں۔ پھر میں اُسے بتاتی کہ دیکھو واقعئی دنیا کتنی خوب صورت ہے‘ اور زندگی اور اس کا احساس‘ کس قدر شیریں کیسا سکون بخش___ پائن کے درختوں کے پیچھے سے کرنیں پھینکتا ہوا گرم، روشن آفتاب، نیلے پتھروں پر گرنے والے پر شور نالے‘ خوبانی کی جھکی جھکی ڈالیاں، چائے دانی کی بھاپ خنک ہوائیں___ سلیم جہانگیر کاش تم ان بظاہر بالکل معمولی اور بے معنی لذتوں کو میرے ساتھ ساتھ محسوس کرسکتے۔ جن کے سہارے میں زندگی کو دلچسپ سمجھنے پر مجبور تھی___ لیکن اگر ایسا ہو بھی جاتا تو کیا ہوتا کچھ بھی تو نہیں___ یہ بے کار تخیل پرستیاں۔

ہوا کے ایک جھونکے سے لالہ کے پھول تیزی سے جھولنے لگے___ تارے بھائی___ غلط ___ سلیم جہانگیر___ شاید یہ بھی غلط___ پر کیا کہئے اسے ___ زبیدہ چلائے جارہی تھی___ ’’ بڑھتا ہی جاتا ہوں___ مگر میں اجی اپنی منزل کی طرف ___ پانی گرتا رہا۔ ہوائیں اڑتی رہیں___ تو کیا تارے بھائی کو اپنی منزل مل گئی تھی___ اور حمیدہ کو ___ میرے تصور میں یونی ورسٹی کے لڑکوں کے وہ جلوس آکھڑے ہوئے جو حضرت گنج کی چمکیلی سڑک ’’ پرسیاسی قیدی آزاد کرو‘ ہم اپنا حق لے کر رہیں گے؟ مزدور ایک ہوجاؤ کے نعرے لگاتے ہوئے ہجوم کی وجہ سے ہماری کار کو رکنے پر مجبور کر دیتے تھے___ پھر وہ لوگ جو کافی ہاؤس میں ‘ یونیورسٹی یونین کی اسٹیج پر‘ آم کے درختوں کے نیچے ہر جگہ‘ ہمیشہ‘ ایک ہی قسم کی باتیں کرتے رہتے تھے۔ عجیب عجیب باتیں ۔ ہنسی آتی تھی۔ ان بے چاروں پر___ اکثر رشیدہ آپا اپنے کھدر پوش رفیقوں کے ہمراہ امین آباد کی گنجان سڑکوں پر پیدل جاتی نظر آتی تھیں۔ حیرت ہوتی تھی کہ کیا ہوگیا ہے گڈّو رشید آپا کو کون جانے اُن کا سفر کب ختم ہوگا کب منزل ملے گی۔ اُنہیں___ سلیم جہانگیر کہاں تک یوں ہی اپنا تصویروں کا بیگ اُٹھائے مارا مارا پھرے گا۔

مگر یہ چاند اور ستارے اور یہ قرمزی بادل بکھرے بکھرے‘ الگ الگ ہی اچھے لگتے ہیں اور یہ گاتے ہوئے جھرنے___ پھر مجھے بڑے زور کی ہنسی آگئی۔

سب غلط ، بالکل غلط یہ ساری باتیں ایک بہت ہی دلچسپ، بے انتہا حماقت انگیز‘ حد سے زیادہ فضول اور بے کار جھوٹ تھیں___ بڑا ہی زبردست اور عظیم الشان جھوٹ___ کبھی آپ نے سوڈا بائی کا رب کی تلخ بے مزگی کا احساس کیا ہے؟ رازؔ بھائی اپنا ایک پسندیدہ شعر اکثر گنگنایا کرتے تھے___ عشق وفا کی موت ہے تکمیل آرزو___ اور جانے کیا___ بڑی سادہ اور معمولی سی بات ہے لیکن کس قدر صحیح۔

میں سوچتی رہی___ نفاست سے جھوٹ بولنا‘ سمجھنا اور اُس کو Appreciate کرنا دو سال پہلے مسوری میں ہیک  منیزسے اُترتے ہوئے ___ ایک شام مجھے یکایک بے حد عمدہ طریقے سے آگیا تھا___ ہم دونوں اس وقت اچھی طرح سمجھ رہے تھے کہ دونوں صاف جھوٹ بول رہی ہیں۔ لیکن اس احساس کے اظہار کی قطعی ضرورت نہ تھی۔ اُس کا خاندان ، لارنس ٹیریس پر ٹھیرا ہوا تھا۔ ہم لوگ اس سال گلنؔ مائیر میں تھے۔ رنک جاتے ہوئے راستے میں اُس سے ٹکر ہوجاتی۔ وہ کہتا گڈ گوڈ ڈکلی رانی رات پھر مجھے تمہارا ہی خیال رہا۔ یقین جانو اب تمہارا زکام کیسا ہے۔ پکچرز چلتی ہو___؟ میں فوراً اس سے بھی زیادہ شیرینی سے جواب دیتی So Sweet of you سچ مچ اس وقت تو میں تم کو ہی یاد کر رہی تھی___ رینک نہیں چلو گے؟ موسم کتنا بہترین ہو رہا ہے___ ’’ بہت بہترین___ واقعی ___ ’’ پھر دونوں اپنے اپنے راستے چلے جاتے کیونکہ دونوں کو معلوم تھا کہ بادام پولوا کے یہاں جینٹ سسٹرز آئی ہوئی ہیں اور رینک میں آج روبن سے ملنا زیادہ ضروری ہے___ نیچے جاتے وقت اُس نے کہا یقین جانو ڈکلی مسوری میں تمہارے ساتھ بہترین وقت گزرا Exactly یہی میں تم سے کہنے والی تھی۔ یہ لمحات مجھے کبھی نہ بھول سکیں گے___ کبھی نہیں___ اچھا بائی بائی ڈکلی___ ٹی ڈل اُو ___ اولڈ بوائے___ یہ زندگی اس طرح گزرتی ہے۔

پھر مجھے خیال آیا ۔ لکھنؤ کی چاندنی راتوں میں جب ہم سب کار کی چھت اُتار کر سکندر باغ یا دلکشا کی خاموش سڑکوں پر سفیدے کے درختوں کے نیچے نیچے ڈرائیو کو جایا کرتے تھے اس وقت باتیں کرتے کرتے یک لخت ایک عجیب حساس سی خاموشی چھا جاتی تھی___ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے چاند، ستارے ، ہوائیں، ساری کائنات اپنی جگہ پر رُک کر کچھ سوچنے کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہمیں معلوم ہوتا کہ ہمارے دلوں میں جانے کیسے کیسے، انوکھے خیالات تیزی سے رقصاں ہیں۔ جن کا اظہار کرتے اپنی کمزوری اور حماقت کا احساس ہوگا۔ پھر ہم سب جھوٹ بولنا شروع کر دیتے۔ گویا مقابلہ ہوتا کہ دیکھو ہمیں تم سے زیادہ صفائی اور خوب صورتی سے فریب دینا آتا ہے ۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ تم بھی اس فن میں ماہر ہو اور پھر اُس وقت وہ سفیدے کے اونچے اونچے درخت وہ محمد باغ کلب سے آتی ہوئی پیانو کی آواز___ وہ چاند کے نیچے بہتی ہوئی چمکیلی اور خاموش پیکارڈ ___ یہ سب ایک بہت ہی مضحکہ انگیز دھوکا اور جھوٹ معلوم ہوتا تھا۔

پھر ایک دن زبیدہ نے چہک کر بتایا۔ ڈکلی میں تو سلیم جہانگیر سے شادی کر رہی ہوں۔ ’’ لیکن ابھی وہ اُسے اپنے ارادے سے مطلع بھی نہ کر پائی تھی کہ وہ الموڑے سے چلا گیا___ جانے کہاں کو___ شاید اپنی منزل کی تلاش میں___

یہ منزلیں___ یہ راستے___ کبھی نہ ختم ہونے والے ___ اجنبی___ اکیلے ___ بہت دن گزر گئے۔ زندگی پر کہرہ چھا رہا تھا۔ مدھم کہرہ اور اندھیری وادیوں پر برستی ہوئی غروبِ آفتاب کی خاموشی۔

شام ہوچکی تھی ۔ دور‘ دور دھندلکوں میں چھپی ہوئی سرخ اور زرد روشنیاں جھلملائے جارہی تھیں۔ ٹرین۔ دیودار کے جنگلوں اور اونچے پہاڑوں میں گونجنے والی طویل سرنگوں کو پیچھے چھوڑتی ہوئی سبز ہ زاروں میں نکل آئی۔ برابر کے کمپارٹمنٹ میں کچھ شوقین کسی فلم کی نقل میں گا رہے تھے۔ ’’ سانجھ کی بیرا___ یہ پنچھی اکیلا۔ پنچھی اکیلا میں نے پیچھے کی طرف دیکھا___ یہ چھ سال ___ جو زندگی کی پگڈنڈی پر سے گرتے پڑتے گزر چکے تھے___ یہ پنچھی ___ ٹوٹے ہوئے پروں والے ___ جنہوں نے اپنی اپنی جگہ سے پرواز کرنا چاہی تھی۔ اپنے خول چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہتے تھے فیلڈ مارشل جو دور سمندروں کی لڑائی میں اپنے خوابوں کی کشتی کھیتے کھیتے مارا گیا تھا___ سلیم جہانگیر جسے حیدر آباد میں بے حد عزت کی نوکری مل گئی تھی۔ زبیدہ جو بیگم حمید الرحمن کی حیثیت سے گلمن مائیر کے ڈیکوریشن میں تندھی سے مصروف تھی___ اور میں جو جرنلزم کی اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کا Passage حاصل کر کے بمبئی سے واپس آرہی تھی۔

شمال کے ایک چھوٹے سے خاموش اسٹیشن پر مجھے ٹرین تبدیل کرنی تھی۔ کہرا گہرا ہو چکا تھا۔ مجھے یاد آیا حمّی کہر آلود راتیں کس قدر پسند کرتی تھی___ کاش حمّی اس وقت میرے ساتھ ہوتی۔ حمّی ___ تارے بھائی ___ کہرے میں نہاتے ہوئے لالہ کے پھول ___ یا اللہ___ میں اسکارف سے بالوں کو اچھی طرح لپیٹ کر تیزی سے سنسان پلیٹ فارم طے کر کے دوسری جانب کھڑے ہوئے اُس ڈبّے کی طرف بڑھی جس پر میرے نام کا کارڈ لگا ہوا تھا۔ میں نے آہستہ سے دروازہ کھولا___ اندر بیڈ لائیٹ جل رہی تھی۔ کوئی اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے ایک برتھ پر لیٹا تھا___ معاف کیجئے گا آپ روشنی Mind تو نہیں کریں گے؟ روشنی جگمگا اٹھی ۔ لیمپ کا رخ آپ کی طرف کردوں ___ یہ برتھ باہر کھینچ دی جائے___ یا آپ اوپر سونا زیادہ پسند کریں گی___ یہ تارے بھائی تھے۔ ہمیشہ کی طرح اخلاق اور شیرینی کا مجسمہ۔

پھر ہم دونوں اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے اور اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے۔ گویا کبھی کچھ ہوا ہی نہ تھا___ کیونکہ ہم دونوں نے جھوٹ کے مصنوعی چہرے لگا رکھّے تھے___ ’’ مجھے یہ معلوم کر کے بڑی خوشی ہوئی کہ آپ کو Passage مل گیا۔ کمال ہے۔‘‘ واقعی آپ کو ایران کیسا لگتا ہے؟ بے حد دلچسپ ___؟ ‘‘

’’ بے حد ___ ‘‘

’’ افوہ کس قدر غضب کا کہرہ پڑ رہا ہے___ اب سونا چاہئے ہیں نا؟‘‘

’’ میرا بھی یہی خیال ہے ۔ روشنی بجھا دوں۔ آپ Mind کریں گی؟‘‘

’’ یقینا نہیں___ اچھا شب بخیر___ ‘‘

’’ شب بخیر ڈک لیؔ‘‘

اور پھر صبح کے کہر آلود دھندلکے میں ٹرین اپنی چنگھاڑتی گرجتی ہوئی رفتار مدھم کر کے ایک بڑے جنکشن میں داخل ہو رہی تھی۔ میں نے کھڑکی میں سے باہر دیکھا___ دور دور حد نظر تک ریل کی خاموش اور طویل پٹریاں بل کھاتی ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی دھند میں گم ہوتی جارہی تھیں۔ کمپارٹمنٹ رات کی سبز روشنی میں چپ چاپ سورہا تھا تارے بھائی رات ہی میں کہیں اُتر چکے تھے___ پھر ٹرین پلیٹ فارم میں داخل ہوئی۔ دوسری گاڑی کے انتظار میں مجھے وہاں کچھ دیر ٹھہرنا تھا۔ ویٹنگ روم تک جانا طوالت تھی۔ میں وہیں ٹہلتی رہی۔ کچھ فاصلے پر___ ایک لوہے کے ستون کے قریب بجلی کی دھندلی روشنی کے نیچے چند لوگ کمبلوں میں لیٹے پائپ کا دھواں اڑا رہے تھے۔ اسٹیشن کے گونجتے ہوئے سناٹے میں ان کی آوازیں بہت مدھم اور بہت صاف معلوم ہو رہی تھیں شاید یہ پھر بھی زندگی کے اجنبی، نا معلوم راستے کے مسافر تھے___ اور خود کو خوش محسوس کرنے کی کوشش کر رہے تھے___ میں خاموشی سے ٹہلتی رہی___ کامریڈ ہتھی چند ۔

ہاں بھئی

ابھی صبح نہیں ہوئی___؟

نہیں

ارے ___ دیکھو___ وہ کون ہے___؟

یہ کون آج آیا سویرے سویرے

ایک عورت

یہاں کیا کر رہی ہے___ اس وقت___؟

کسی امریکن کا انتظار

ہنہ ___ ذلیل سرمایہ دار___ فرسٹ کلاس ویٹنگ روم کے سامنے ٹہل رہی ہے___ جب کہ ہم یہاں بیٹھے ہیں___ اس ٹھنڈے کھمبے کے نیچے۔

اسے یہاں بلاؤ ۔ غریب بہت افسردہ معلوم ہوتی ہے۔ ہم اسے چائے پلائیں گے___ اور ’’ ہمارا لینن‘ کی ایک کاپی پڑھنے کو دیں گے۔

اور اُس کے ساتھ مل کر گائیں گے۔ ’’ یہ جنگ ہے جنگِ آزادی۔‘‘

پھر سب یہی آہستہ آہستہ گنگنانے لگے۔

یہ اڑوسن پڑوسن کہے جو کہے۔ میں تو چھورے کو بھرتی کرائی آئی رے۔

ہاہ ___ تم نے سنا قومی جنگ پر Banہوگیا

ہاہ___ ہائے ___ تیرہ ہزار

ارے تیرہ ہزار کو بھول جاؤ ___ سامنے دیکھو

بنتِ مہتاب ہو

تیزی سے آنے والی ٹرین کے گونجتے ہوئے شور میں یہ آوازیں آہستہ آہستہ ڈوبتی چلی گئیں۔

یہ زندگی کا سفر___!

پھر اس گہرے کہرے کو چیرتا نیا سورج نکلا اور فتح کے دن پر جگمگانے لگا۔ اور پھر جشن کی شام آئی۔

پائن کے درختوں کے سائے اورطویل ہوگئے۔

______________________________________________

یہ افسانہ ’’شاعر آگرہ‘‘ افسانہ نمبر ’’اکتوبر ۔نومبر ۱۹۴۵‘‘ میں شائع ہوا ہے۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

آسماں بھی ہے ستم ایجاد کیا!

قرۃالعین حیدر جولائی ۴۴ء کی ایک ابر آلود سہ پہر جب وادیوں اور مکانوں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے