مرکزی صفحہ » فکشن » افسانے » دھندلکوں کے پیچھے

دھندلکوں کے پیچھے

لیکن اچھے دن تو بہت تیزی سے گزر جاتے ہیںنا۔ پھولوں کے موسم کی رنگین سی ہوا کے ایک ہلکے جھونکے کی طرح۔ جو آلوچے کی پتلی ٹہنیوں کو لہراتا ،پردوں کوہلاتااور بالوں کی لہریں الجھاتا ہوا دور سیب کے گھنے سایوں میں کھوجاتا ہے۔ سیب کی سفید کلیاں کھلتی ہیں اور دوپہر ڈھلتے زرد ہوکر زمین پر گرپڑتی ہیں۔ رات کی رانی مہکناجانتی ہے لیکن صبح ہوتے ہوتے اس کی سہانی خوشبوئیں خوابوں کے ساتھ ساتھ ناچتی نہ جانے کون سی انجانی بستی کوچلی جاتی ہیں۔ چاندنی کی ٹھنڈی موجیں تو صبح کا بھی انتظار نہیں کرتیں۔ یہ زرد اور بے حس چاند پتہ نہیں کس ان دیکھی دنیا کی وادیوں میں جاکر چھپ رہتا ہے جہاں سنا ہے کبھی گرم اور گرد آلودہوائیں نہیں چلتیں۔ بگولے نہیں اٹھتے اور انوکھے سپنوں کے نقرئی پُل چھوٹے چھوٹے ستاروں کی طرح نہیں ٹوٹا کرتے۔

پرزندگی کے تھکے ہارے مسافر ان چمکیلے اورچھپے ہوئے راستوں کی تلاش میں بھٹکتے اندھیرے جنگلوں اور تپتے ہوئے رتیلے میدانوں میں جانکلتے ہیں۔ جہاں شعلے لپکتے ہیں، مصیبتیں قہقہے لگاتی ہیں، تباہیاں مسکراتی ہیں۔ تلخیوں کے گرم اور کسیلے دھویں کی تاریکی کے پیچھے سے کوئی مدھم سی ، خنک سی روشنی جھلملاتی ہے لیکن پھر دھندلکوں میں چھپ جاتی ہے۔

بھئی خدا کے لیے ! مجھے جذباتی بن جانے کا الزام مت دو۔ میں کیا کروں۔ تمہیں سال نو کی وہ کہر آلود شام یاد ہے __ ؟ ۳۱؍ دسمبر ۔ آج بھی وہی تاریخ ہے ہم سب اس روز کتنی اودھم مچایا کرتے تھے۔ تحفے اور مبارکبادیں۔ خوشیاں اور قہقہے۔ ۳۱؍ دسمبر! بعض چھوٹی چھوٹی باتوں کی ہمارے دلوں میں کیسی محبوب سی ،عزیز سی اہمیت اور قدر تھی۔ تمہاری سال گرہ کی تاریخ۔ عید کا دن ، نو روز کی رات ، امتحان کے آخری پرچے کی شام۔ ان معمولی چیزوں کی Sentimental Value کی وجہ سے زندگی زیادہ دل کش اورپرلطف معلوم ہوتی تھی نا۔ مگر یہ کیسی پیاری سی حماقت ہے ۔ پرانی باتیں یاد آتی ہیں۔ رونے کو دل چاہتا ہے۔ اور پھر یہ سوچ کر ہنسی بھی آجاتی ہے کہ پہلے ہم دوسروں کا مذاق اڑایا کرتے تھے ۔ واقعات کا جواربھاٹا بہت ہی عجیب چیز ہے۔ !

دنیا بہت مزے دار جگہ تھی، ہم اور تم ۔ ہمارا گھر ہمارے عزیزوں اور دوستوں کا حلقہ۔ ہماری چھوٹی چھوٹی مصروفیتیں اور تفریحیں۔ ننھے منے غصے اور پیار۔ فلسفہ حیات پر غور کرنے کی کبھی ذرا سی بھی ضرور ت محسوس نہ ہوتی تھی۔ تم پینٹنگ کرتی تھیں۔ میں کارٹون بناتی تھی ۔ پھردونوں مل کر اپنے کارناموں پر تبصرہ کرتے تھے۔ ابسن کا ’’گڑیا کا گھر‘‘ پڑھ کے ایک دفعہ تم تقریباً رونے لگی تھیں اور میں نے تمہیں ڈانٹا تھا ہم اپنے آپ کو بہت عقل مند سمجھتے تھے۔ لڑتے تھے اور چاکلیٹ کھاتے تھے۔ اب تم جانے کیا بن گئی ہو۔ مجھے بھی یقین نہیں کہ اب میں کیا ہوں، کم از کم دوسرے تو مجھے نہ معلوم کیا سمجھنے لگے ہیں۔ مغرور، ضدی، خودپسند۔ اور جھوٹ کی شائق ۔ واقعی زندگی اب جھوٹ اور دھوکے کے رنگین لبادے میں لپٹ کر رہ گئی ہے۔

اگر وہ گزری باتیںبے تحاشا یادآتی ہی پی جائیں تو میں کیا کروں۔ خدارا مجھے جذباتی مت سمجھو۔ ۳۱ ؍دسمبر کی شام! یاد ہے اس نے کہا تھا کہ اگر چمکتے ہوئے اونچے اونچے ستاروں کا عکس پگڈنڈی کے کنارے ٹھہرے ہوئے گدلے پانی میں پڑے تو اس میں ستاروں کا کیا قصور۔ لیکن جب وہ بے حقیقت جوہڑ ان ستاروں کے خواب دیکھنے لگے تو کیا ہو۔؟وہ اونچے اونچے ستارے تو صرف گومتی کے شفاف سنہرے پانیوں میں آنکھ مچولی کھیلیں گے۔ اس کا فلسفہ، اس کی معموں جیسی باتیں، اس کا بوہیمین انداز ۔ مجبوریوں کا تندرو سیلاب تاش کے پتوں کے اس محل کو بہت دور بہا لے گیا ہے جو تم نے خوشی خوشی بنایا تھا۔ وہ دن بھی ختم ہوچکے ہیں۔‘‘ میبل کارمن برانڈاکی نقل کر رہی تھی ۔ اسلمؔ وائلن پروہی نغمہ بجا رہا تھا۔جس سے ہم ہر سال پہلی جنوری کی رات کو خوش آمدید کرتے تھے۔ میبلؔ اور اسلمؔ، انورؔ اور صبیحہؔ ایڈمنڈؔ اور خورشیدؔ۔ ملاحتیں اور صباحتیں ،ناز اور نیاز۔ قہوے کی پیالیوں سے چاندی کے ننھے منے چمچے ٹکرا رہے تھے۔ زندگی، گرمی، خوشیاں، قہقہے، مجھے نامعلوم سا خوف محسوس ہورہا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ لمحے پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں ۔ سپنوں کے رنگین سلسلے بہت جلد بکھر جاتے ہیں ۔

اسلمؔ وائلن بجا رہا تھا ۔ میبلؔ ان لرزتے تاروں سے اٹھتے ہوئے نغموں کے سیلاب میں بہی جارہی تھی۔

I,I,I,I,I,I, Like You- a verry muchh!

I,I,I,I,I,I, Think you- a grand.

______ کیسا مضحکہ خیز گانا تھا۔ ہم سب ہنس ہنس کے لوٹے ہوئے جارہے تھے۔ کتنے بے وقوف تھے ہم لوگ___

Why, why, why, why, why, why, when I Fell Your  touch,  My heart begins to beat,the band,

میبلؔ رقص کر رہی تھی۔ خوشیاں ناچ رہی تھیں۔ ایک پارٹی گیم ہم نے ایک دوسرے کے نام تجویز کیے تھے۔ ’’پلم پڈنگ‘‘ ’’مکی مائوس‘‘ اور جانے کیا کیا۔ یا اللہ ۔ پچھلے مہینے میں نے مکی مائوس کا نام اسٹیٹس مین کی ہلاک شدگان کی فہرست میں دیکھا تھا۔ خیال تو کرو۔ وہ ہر وقت ہنسنے اور شور مچانے والا شخص جو صرف زندہ رہنے کے لیے پیدا ہوا تھا ۔ ہم سب زندہ رہنے کے لیے پیدا ہوئے تھے ۔ عمر بھر ہنستے رہنے اور میوزیکل چیرز کھیلنے کے لیے۔

میبلؔ نے ایک اور گیت شروع کردیا تھا۔ ’’آئو رقص کریں بھئی۔لیکن پھر ہم تینوں کمرے کی گرم وروشن فضا سے بچنے کے لیے باہر خاموش بالکونی پر نکل آئے تھے___ یہ تیزی سے پرواز کرتے ہوئے لمحات ماضی کی بوجھل یادوں کو اپنے آنچل میں سمیٹ کربہت دور لیے جارہے ہیںچاندکی کرنوں پر سے اترتی ہوئی شبنمی نیندیں انہیں رخصت کرنا چاہتی ہیں۔ اب پچھلی ساعتوں کا غم کرنے کا کیا فائدہ…؟‘‘

اس نے بالکونی کی ریلنگ پر جھکتے ہوئے ڈرامائی انداز سے کہا تھا’’ بھئی اپنی شاعری اس وقت تو بھول جائو ، شاید تم بولی تھیں۔ دھیمی سی آواز میں جیسے کسی سحر کے زیر اثر تھیں  اور اس سے بچنا چاہتی تھیں۔ ہماری نظروں کے سامنے درختوں کے پھیلے ہوئے اندھیرے میں کہیں کہیں مدھم روشنیاں جھلملااٹھتی تھیں۔ خوابیدہ کائنات ناکامیوں اور اندھیروں کے سرد دھندلکے میں لپٹی ہوئی آنے والی کل کے انتظار میں خاموشی کی گہری گہری سانس لے رہی تھی۔ دور، چھتر منزل کا اداس سنہری گبند اور یونیورسٹی کی مغرور برجیاں اسی زوردار اور بھاری کہرے میں ڈوبی جارہی تھیں۔ ہمارے محبوب لامارٹنیزؔ کے کنگورے سیاہ دھند میں کھوئے ہوئے کیا سوچ رہے تھے۔ اس کے اونچے ہال کے روشن دانوں سے ہلکی نیلی روشنی جھلکنے لگی تھی۔ ضیافت شروع ہوچکی ہے۔ تم نے کہا تھا ہر سال ۳۱؍ دسمبر کی رات وہ ہال نیلی روشنیوں سے جگمگا اٹھتا ہے جب ہم تم وہاں تھے اور اب بھی نئے سال کے استقبال کے لیے وہ شمع دان اب بھی جلائے جاتے ہیں۔ کل نیا سال ہے ۔ زندگی کے غبار آلود راستے کا ایک اور نامعلوم سنگ میل کل کے بعد کیا کیا ہوگا۔ تجدید حیات نظام نو۔ نیا افق ، آفتاب تازہ … ہش ۔ جذباتی لغویات ___ دنیا توجوں کی توں رہتی ہے ۔ بوڑھی ہوتی جارہی ہے ۔ تھکن اور خستگی زیادہ ہوگئی ہے لیکن لوگ اچھے اچھے خواب دیکھنے سے باز نہیں آتے۔

خدارا اب اندر چلو۔ مجھے تو سردی بھی لگنے لگی۔ واقعی اتنی دیر تک گلا پھاڑ پھاڑ کر گاتے اور شور مچاتے مچاتے زوروں کی بھوک محسوس ہورہی تھی ۔ دوسرے ساتھی ڈنر کے لیے دوسرے کمرے میں جاچکے تھے ۔میوزک روم خاموش پڑا تھا۔

’’سردی لگ رہی ہے ؟ راحتیں اور رنگینیاں ایک لمحے کے لیے بھی چھوڑنا نہیں چاہتیں؟ تم تو بڑی بڑی دشوار گزار پگڈنڈیوں اور ویرانوں میں سفر کرنے کے لیے تیار ہو؟ ‘‘ وہ اسی طرح ریلنگ پر جھکا ہوا تھا۔

’’ہاں لیکن تمہارے ساتھ ۔ تمہارے سہارے !‘‘ پر یہ الفاظ زبان پر نہ آسکے تم بھی خاموش تھیں۔ فراز آسماں سے ایک ننھا سابے چارہ ستارہ ٹوٹ کر تاریکی کی گہرائیوں میں گم ہوگیا۔ ہم دونوں جیسے سہم سے گئے۔

ارے مسخروچلو جلدی ورنہ ہم تمہارے بغیر ہی شروع کرتے ہیں کھانا، اسلم نے اندر سے چلاکر آواز دی۔

پھر بارہ بجے ، کریکرز توڑے گئے کرسیاں الٹی گئیں۔ کشنوں کی لڑائی ہوئی۔ ’’ہیپی نیوایئر‘‘۔ نیا سال آگیا۔ نئی خوشیاں، نئی امیدیں، نئی زندگی۔ یقینا۔!! نئی خون آشامیاں۔ جنگوں میں مارے جانے والوں کی تازہ فہرستیں۔ تباہ کاریوںکے جدید کارخانے۔ نیا سال !!ہم سب پاگل تھے۔ احمق۔ تم بھی اور میں بھی۔ اور وہ بھی۔ اسلمؔ، میبلؔ ،انورؔ، سب کے سب ۔ ہمیں ایک دوسرے پر اعتماد تھا۔ محبت تھی اور رفاقت کا خلوص۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھی تھے۔ طوفانوں کے مقابلے میں ایک ہی تختے پر بہنے والے ۔ ایک ہی پگڈنڈی کے مسافر۔ کیسی کیسی حسین اور شیریں غلط فہمیاں تھیں! وہ تمہیں چاہتا تھا ۔ کم از کم یہی ظاہر کرتا تھا۔ جو ہڑ کا پانی اونچے اونچے ستاروں کے خواب دیکھ رہا تھا۔ اسلمؔ ، میبلؔ پر مرتا رہتاتھا ۔ لیکن اب تک بالکل تندرست ہے۔ ہاں انورؔ مرچکا ہے۔ سوچو تو یہ تین الفاظ کہنے میں کیسے آسان ہیں لیکن اصلیت کتنی خوف ناک، بھیانک اور ظالم۔ وہ اٹلی میں اپنی یونٹ کی قیادت کرتے ہوئے دشمن کے ایک مورچے پر حملہ کر رہا تھا کہ اس پر مشین گن کی گولیوں کی بوچھار پڑی اور وہ مرگیا۔ نیلوفر کے ایک نازک سے پودے کی طرح گرپڑا اور ختم ہوگیا۔ جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ ایک لحظے کے اندر اند ر اس کا دنیا میں آنا اور نہ آنا برابر ہوکے رہ گیا۔ تم نے اس کی موت کی خبر سنی ہوگی تو گہری سی سانس بھرکر کہہ دیا ہوگا۔ چچ چچ چچ بے چارہ؟ میبلؔ اور زبیدہؔ کی شاید پلکیں بھی نہ بھیگی ہوں۔ خدایا…!!

بتائوزبیدہ، کیا تم میں اتنی ہمت ہے کہ اب کے ۳۱؍ دسمبر کی رات کو کلاک کی طرف نظر اٹھا کے دیکھ سکو۔ وہی گھر ہے ، وہی دنیا ، وہی ہم تم ہیں۔ نیا سال اپنے دامن میں نہ جانے کتنی خوشیاں اور آنسو چھپائے چلا آرہا ہے۔ ہنس کر اس کا استقبال کرسکوگی۔ وہ گیت بھول چکی ہو جس سے پہلی جنوری کو خوش آمدید کہا جاتا تھا۔ اسلم کے وایلن کے تاروںمیں تو شاید زنگ بھی لگ گیا ہوگا۔ وہ دن بھر راشننگ کے دفتر میں سرکھپاکر شام کو گھر جاتا ہے تو اس کی بیوی کی چلاتی ہوئی آواز اور اس کے تین چھوٹے چھوٹے چیں پیں کرتے ہوئے بچے اس کے سر کے درد کو اور بڑھادیتے ہیں۔ ہوائیں گتار اور اس کے گزرتے ہوئے تاروں پر جنوب کے نیلے سمندروں اور پام کے درختوں پر برستی ہوئی رسیلی چاندنی کے خواب آلود نغمے راشننگ کے اعداد وشمار کی تلخیوں سے بہت دور ہیں۔ بہت ہی دور۔

پر زبیدہؔ اچھے دن کیوں پیچھے رہتے جاتے ہیں۔ مجھے خدا سے بڑی شکایت ہے۔ بہت سی شکایتیں ہیں ۔ دیکھو تو سہی۔ میں خدا سے روٹھنا بھی سیکھ گئی ہوں۔ ذرا فلسفی بنتی جارہی ہوں۔

ہماری کیسی خوش گوار دنیا تھی۔ ہمارا سوئیٹ پی کا باغ۔ ناشپاتی کے درخت۔ باورچی خانے کی چمنی سے اٹھتا ہوا پرسکون سا دھواں ، نوکروں کی مانوس چیخ پکار۔ امی کے احکام اور ڈانٹ ڈپٹ۔ سوئیٹ پی کی کیاریوں پر منڈلاتی رنگین مکھیوں کی بھنبھناہٹ ، دوپہر کے سناٹے میں ریلوے لائن کے اس پار سے آتی ہوئی پیپرمل اور پن چکی کی صدائیں۔ وہ مخصوص اور محبوب سی آوازیں، وہ عزیز فضائیں، جیسے دنیا کی ہرچیز صرف ہمارے آرام کے لیے بنائی گئی تھی۔ لیکن اگر وہ ہماری اس دنیا میں داخل نہ ہوسکتا تھا تو یہ ستاروں کا قصور تھا۔ ہم نے فرصت اور بے فکری کی ایک سہ پہر ناشپاتی کے سائے میں بیٹھ کر جتنے احمقوں کی فہرست تیار کی تھی اس میں میں نے اس کا نام سب سے اوپر رکھا تھا اور تم بگڑ گئی تھیں۔وہ تمہارا آئیڈیل تھا نا___! یہ تخیل پرستیاں بعض مرتبہ کس قدر تکلیف دہ ثابت ہوتی ہیں!

اس روز تم بھاگی بھاگی آئیں اور ریکٹ ایک طرف پھینک کر جلدی جلدی کہنے لگیں۔ آج ۔آج۔ اُف اللہ ۔ کیسی عجیب باتیں ہیں۔ اس نے۔ سنو تو۔ اس نے کہا ۔‘‘ میں کالج کے کام میں بہت زیادہ مصروف تھی اور جانتی تھی کہ یہ عجیب عجیب باتیں عقل سے قطعی بالاتر اور بالکل فضول ہوا کرتی ہیں۔ اس وقت میں نے تمہاری داستان سننے کی ضرورت نہ سمجھی…مجھے پڑھنے دو بھئی۔ روز ہی یہ بے وقوفیاں ہوتی رہتی ہیںتمہارے لیے۔‘‘

’’بے وقوفیاں نہیں بھئی۔ موت وزیست کا مسئلہ ہے۔ سنوتو سہی۔ اس نے کہا‘‘… تم بولیں۔

’’اس نے کہا کہ نغمۂ بہاراں کی نکہتیں انجم رنگین کی‘‘__ میں نے چڑکر تمہاری بات کاٹ دی تھی۔

’’ارے نہیں۔ اللہ بات تو پوری کرلینے دو۔‘‘

’’بکواس قطعی__امتحان کے دن قریب آتے جارہے ہیں اور تم بالکل نہیں پڑھتیں۔ تمہارے دماغ میں کیا بے تکی باتیںگھس گئی ہیں۔ خدارا اتنی احمق نہ بنو‘‘___ میں تمہیں نصیحت کرنے چلی تھی ۔ اللہ میرے___!

اور پھر، تم مجھ سے خفا ہوگئیں___ ہونا چاہئے تھا ۔ میں نہیں کہہ سکتی کہ اگر میں تمہاری جگہ ہوتی تو کیا کرتی۔ وہ بیمار تھا۔ اس نے لکھا تھا کہ اگر ہوسکے اور مناسب سمجھو تو آکر مجھے دیکھ جائو۔ کچھ عرصے بعد وہ جانے والا تھا۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ تم دہرہ دون کیوں بھیجی جارہی ہو___ میں اب کارٹون کیوں نہیں بناتی۔ اسے رخصت کرنے تم اسٹیشن تک نہ گئیں۔ شاید نہ جاسکتی تھیں تم امید کرتی تھیں کہ میں تمہیں منالوں گی۔ مگر میں اپنے آپ کو زیادہ عقل مند سمجھتی تھی۔ وہ چلا گیا۔ یہ کوئی خاص یا اہم بات نہیں تھی۔ ’’دل کشا‘‘ کی ڈھلوان سے اترتے ہوئے اس نے کہا تھا۔’’ ہم اپنے آپ کو خود ساختہ فریب میں مبتلا رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔ تین ستارے ٹکراجائیں تو معلوم نہیں کون سا ستارہ ٹوٹے‘‘۔ اور ٹرین پلیٹ فارم کو چھوڑ کر آگے نکل گئی اور پٹڑیاں چمکتی رہیں۔ میں گھر واپس آگئی۔ تم بھی اسی روز دہرہ دون جاچکی تھیں، رات کے گہرے سناٹے میں گھڑی کی متوازن ٹک ٹک کے ساتھ وہ لحظہ بہ لحظہ دور ہوتا جارہا تھا ۔ مجھ سے دور۔ تم سے دور___

اور ۳۱؍ دسمبر کی رات آنے والی ہے۔ دریچے میں وہ چینی واز خالی رکھا ہے جو اس زمانے میں ہمیشہ سفید پھولوں سے بھرا رہتا تھا۔ نہ معلوم ہمارے گھر کی کیا حالت ہوگی۔ سیب کی ٹہنیوں میں کلیاں کب آئیں گی۔ سوئیٹ پی کے پودے بڑے ہوں گے تو انہیں لکڑیوں کا سہارا لینے کی ضرورت پڑنے لگے گی۔ خدا کرے بہارجلد آجائے۔ خزاں کی خشک ہوائیں اور پت جھڑ کی ویرانیاں تم کس طرح برداشت کرسکوگی؟

دنیا غمگین ہوتی جارہی ہے ۔ انورؔ ختم ہوچکا ہے ۔ صبیحہؔ نے ایک گورنمنٹ کنٹریکٹر کے اکلوتے بیٹے سے شادی رچالی ہے دماغ کی تندرستی کی یہی علامت ہے ۔ میں بھی گزرے ہوئے دنوں کی یاد میں اپنا وقت کیوں خراب کروں۔ ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں تو ہوتی ہی رہتی ہیں۔ میبل WAC(D)میں شامل ہوکر نہ جانے کہاں چلی گئی ہے۔ اسلم اپنے بچوں کے لیے بازار میں موزے اور کھلونے خریدتا دکھلائی دے جاتاہے۔ یاد کرو ہم سب اپنے آپ کو آئیڈیلسٹ کہا کرتے تھے___

کل سال نو ہے ۔ آئو اب اس افسانے کو ختم کریں ۔ بھول جائو کہ رومان نے تمہارا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن مجبوریوں کی بھاری زنجیر نہ کھل سکی۔ چاہنے اور چاہے جانے کے نامعلوم راستے پر تم نے جتنے چراغ جلائے تھے وہ کب کے بجھ چکے۔ مسرتوں کے راگ ختم ہوگئے ہیں۔ اندھیرابہت گہرا اور بہت ٹھنڈا ہوچلا ہے۔ بارہ بجنے والے ہیں آئو نئی شمعیں روشن کرلیں۔ کیا پتہ اچھے دن اب زیادہ دور نہ ہوں__ ______________________________________________

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

انت بھئے رت بسنت میرو

قرۃالعین حیدر لکڑی کا چھوٹا سا سفید پھاٹک کھول کر ٹونی پنیزی کی کیاری میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے