مرکزی صفحہ » فکشن » افسانے » دوسرا کنارہ

دوسرا کنارہ

قرۃالعین حیدر

اندھیرا۔ بہت گہرا اندھیرا۔ خوابوں کا شہر، پرانے نغموں ، پرانی یادوں کاچھوٹاسا ویرانہ، اس پر اندھیرا چھا گیا۔ سارے ایک دوسرے سے مل کر روتے ہوئے آگے روانہ ہوگئے۔ تاریک راستوں پر سے گزرتے ہوئے ۔ سب امیدیں، سارے سپنے ان تاریک راستوں کے کنارے تھک کر گرپڑے۔ اور روحیں آئیں۔ تاریکی، وحشت اور ویرانی کی روحیں۔ چیختی چلاتی___ اور سائیں سائیں کرتی ہوائیں چلیں۔ اور آہستہ آہستہ بہنے والے سرخ دریا کے ساحل پر دھواں اٹھا اور احمق خدائوں کے سیاہ معبدوں میںجلنے والے چراغ روتے رہے۔ اور خوابوں کے اس ویران شہر میں رہنے والے شکست خوردہ انسان آگے بڑھے۔ ان کے دکھ بہت تھے۔ ان کے راز بے حد چھوٹے چھوٹے، بے بس، مجبور اور حماقت خیز۔ اور تاریکی چھاگئی۔ خاموش، ستاروں اور خوشبوئوں والی رات کی تاریکی۔گہری ۔ اور گہری۔ سناٹا۔ اکیلا اور ابدی اور لازوال۔ اور تھکے ہوئے وقت کے اس ریگستان کے پرے سے ، اس کی عمیق وسعتوں کو کاٹتی ہوئی ، ایک تیز، گمبھیر آواز تیر کی طرح نکلی اور بلند ہوئی۔ میرا سلام کہیو اگر نامہ برملے۔ اور دھواں اوپر اٹھتا رہا ۔ شعلوں کی سرخ اور زردرقصاں پرچھائیوں نے پانی کی سطح کو اور سرخ کردیا۔ اورچاند ڈوب گیا۔ پرانے درختوں کی شاخیں آگے جھک آئیں۔ آبشار ٹوٹ کر چٹانوں پر بکھر گئے۔ چاند ٹوٹ پھوٹ کر ، تھک کر ، نیچے گرپڑا۔ اور ہوائیں روتی رہیں۔

پھر یہ اندھیرا کم ہوا۔ اور صبح ہوئی۔ ایک اور صبح۔ اور چھائونی کا بگل بج اٹھا۔ صبح، دوپہر، شام، رات، وہ بگل ہمیشہ اسی طرح بجاکرتا۔ ٹھنڈی اور سہانی صبح۔ اور دریچے کے باہر سوئیٹ پی کی خوشبوئیں اڑنے لگیں۔ اور گوبھی کے پتوں پر شبنم کے قطرے جھلملا اٹھے۔ دور پریڈ گرائونڈز میں بگل بجتا رہا۔ پھر سورج نکلا۔ پھر بادل چھٹے۔ پھر روشنی پھیل گئی۔ پر وہ وہاں نہیں تھا۔ وہ بہت دور تھا ۔ بہت دور۔ لاپرواہ، مذاق اڑاتا ہوا، خودپسند، مغرور۔ اور کرائیسٹ چرچ کے گھنٹے بجنے لگے۔ اور بہت سے شوربہت سی آوازیں۔ سب نے مل کر چاروں طرف سے جیسے اس کو دبا دیا۔ وہ بہت اکتاکر، بہت تھک کر اپنی بڑی بڑی آنکھیں ملتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔ بیٹا صاحب جگ گئیں۔مہریوں نے ایک دوسرے سے سرگوشی میں کہا اور دوڑ بھاگ مچاکر اس کے کام میں مصروف ہوگئیں۔ اس کا کتا اچھلتا کودتا آکرمسہری کے قریب صوفے پر پیر لٹکاکر کھڑا ہوگیا۔کھانے کے کمرے میں صبح کی چائے کی گھنٹی تھرانے لگی۔ اس نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے۔ اس نے اپنی آنکھیں آہستہ آہستہ بند کرلیں۔ سرخ اندھیرا اور زیادہ گہرا ہوتا گیا۔ اس نے کسی چیز کو دیکھنا نہ چاہا۔ ہرچیز سے ۔ ہر ذرے سے اس کا خیال وابستہ تھا۔ وہ دریچے کے نیچے اس روش پر سے گزر کر اپنی کار میں بیٹھا کرتا تھا۔ وہ گیلری میںرکھے ہوئے ریک پر اپنی ہیٹ پھینکتا ہوا پردہ اٹھاکر اندر بڑے بھیا کے کمرے میں چلا جاتا تھا۔ وہ ٹیلیفون کی میز پر جھک کر ڈائریکٹری کے ورق پلٹتا تھا۔ وہ اسی نیلے آسمان کے نیچے، ان ہی فضائوں میں اب بھی سانس لے رہا ہے۔ کاش ۔ کاش۔ یہ سب کچھ نہ ہوتا۔ کچھ نہ ہوتا۔ پر ایسا نہیں تھا۔اور اس کا کتا مسہری کے نیچے کھڑا چوکلیٹ کے انتظارمیں دم ہلا رہا تھا۔ وہ اس کمبخت کتے کو بھی چھو چکا تھا۔ اسے اپنے ہاتھ سے چوکلیٹ کھلا چکا تھا۔ اس نے مسہری پر سے جھک کے کتے کے ریشمی بالوں پر ہاتھ پھیرا۔ اور ایسا کرتے ہوئے اسے انتہائی تکلیف محسوس ہوئی۔ باہر برآمدے میں آیا بڑے بھیا کے بچے کو ڈانٹ رہی تھی۔ اگر تم نے پھر شرارت کی تو آنکل جمیلؔ نہیں آیا کریں گے۔ وہ تمہیں کبھی اپنی موٹر سائیکل پر نہیں بٹھائیں گے۔ وہ کہہ رہے تھے ٹونی بڑا برا ہے ۔ ہم اس سے خفا ہوکر جارہے ہیں۔ آیا برابر ٹونی سے باتیں کرتی رہی۔ کتابرابر دم ہلاتا رہا۔ اب وہ پاگل ہوجائے گی۔ قطعی پاگل۔ بالکل بائولی ایسی۔

پھر وہ مسہری پر سے اتری۔ ایک مہری روز کی طرح اس کو صبح کا اخبار دے گئی۔ وہ صوبے کا گزٹ کبھی نہیں دیکھتی تھی۔ پر اس وقت اس کی نظریں پانیئر کے گزٹ کے کالم پر پڑگئیں۔ اس کاتبادلہ کہیں بہت دور ہوگیا تھا۔ اس نے اخبار قالین پر پھینک دیا۔ کمبخت گدھا کہیں کا۔ گدھا۔ الو۔ چھائونی کے بگل بجتے رہے۔ صبح، شام، رات، صبح، شام، رات۔ رنگ برنگی روشنیاں اور لرزاں سائے اس کے چاروں طرف ناچا کیے۔

اس نے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے۔ اس نے بھولنا چاہا۔ ہمیشہ کے لیے بھول جانا چاہا۔ وہ لمحے۔ وہ ساعتیں۔ وہ انتہائی تکلیف دہ ساعتیں۔ ان کی انتہائی کرب انگیز یاد۔ جب اس کی بہن کی شادی کے ڈنر کی رات وہاں پر خوب تیز روشنیاں جھلملا رہی تھیں۔ اور  دور دور تک پھیلے ہوئے یوکلپٹس اور پام کے درختوں کے پتے رات کی ہوائوں میں سرسرا رہے تھے، اور’’شرارت‘‘ اور’’صندل‘‘ اور’’پیرس کی شام‘‘ کی خوشبوئیں ’’رات کی رانی‘‘ کی مہک میں مل جل کر ہوا میں اڑ رہی تھیں۔ اور لا تعداد چمک دار طویل کاروں کی قطاریں برآمدوں، درختوں اورشہ نشینوں میں سے جھانکتی ہوئی برقی روشنیوں میںجگمگا تی تھیں اور سبزے پر ملٹری بینڈ بجایا جارہا تھا۔ اور مہمانوں کے گروپ گھاس کے قطعوں پر، جگمگاتے درختوں کے نیچے، برآمدوں اور شہ نشینوں میں بکھرے ہوئے تھے۔ اور اندر آرکیسٹرا بج رہا تھا۔ اور اس وقت وہ تھوڑی دیر کے لیے گل مہرکے پیڑ کے قریب آکر کھڑا ہوگیا تھا۔ اس کی انگلیوں میں سگریٹ جل رہا تھا۔ اور اس نے ٹوٹو سے کہا تھا ۔ میرا عزیز ترین دوست لیفٹننٹ کمانڈر رحمن کراچی سے آیا ہوا ہے۔ وہ راج کماری صاحبہ سے شادی کرناچاہتا ہے میں بھی اس کی پرزور سفارش کرتا ہوں۔ راج کماری سے پوچھنا کیا وہ اسے پسند کرلیں گی مجھے تو وہ بے حد پسند ہے۔ بہت اچھا لڑکا ہے۔ پھر وہ ٹوٹو سے باتیںکرتا ہوا دوسرے مہمانوں کی طرف چلا گیا تھا۔ اور سبز درختوں اور سرخ شہ نشینوں میں نارنجی اور نیلے برقی قمقمے جل رہے تھے اور وہ قمقمے سب کے سب ایک دم سے بجھ گئے۔ آرکیسٹرا کی موسیقی بجتی رہی۔ اوردریا کے سرخ پانیوں کے کنارے دھواں بل کھاتا ہوا اوپر اٹھا۔ اٹھتا گیا۔ اور اس کے پپوٹوں کی جلن زیادہ ہوگئی۔

اور رات کے گہرے اندھیرے میں ریڈیو گرام چلاتا رہا۔ تجھ سے توکچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم ۔ میرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے۔ اگر نامہ برملے۔

پھر وہ وہاں سے چلا گیا۔

اس وقت وہ سب بالکونی کے نیچے باتوں میں مصروف تھے۔ گل مہر کی شاخوں کے پرے اس کی ٹرک کھڑی تھی۔ اور درختوں میں بڑے بڑے سرخ پھولوں سے جیسے آگ لگ رہی تھی۔ وہ اپنی بہن کی شادی میں آئے ہوئے مہمانوں کو اپنے ساتھ پکنک اور مچھلی کے شکار پر لے جانے کے پروگرام بنا رہا تھا۔ اور اس نے بڑے بے تکلفی سے اس کی طرف مڑ کر اسماء سے کہا آپ کی ممی بھی ہمارے ساتھ جاویں گی ؟ آپ کے لیے کل صبح پانچ بجے تک اسٹیشن ویگن اور ٹرک بھجو ا دیئے جاویں گے۔ پھر اس نے سب کو اپنی مترنم آواز میں خدا حافظ کہا اور اس کی ٹرک سرخ بجری والی سڑک پر سے گزرتی صنوبر کے درختوں کے پرے جاکر نظروں سے اوجھل ہوگئی۔

پھر وہ اسماء کے لیے جس کے شوہر کاتبادلہ ان ہی دنوں پونا سے وہاں کا ہوا تھا، کوٹھی کے متعلق طے کرنے کے لیے اس راستے پر سے گزری جس کے دونوں طرف جامن کے سایہ دار درخت تھے۔ اس نے اس گھر کے آگے کارروک لی جس کی روشوں کے ساتھ ساتھ چنار اور صنوبر کے درخت کھڑے تھے۔ جہاں چاروں طرف سبز گھاس کے وسیع قطعوں میں جن کے کنارے کنارے تیز سرخ ، کاسنی اور سفید پھول لہلہا رہے تھے، پانی دیا جارہا تھا۔ گھاس پر پانی کے ٹیوب دور دور تک بکھرے پڑے تھے ان میں سے بہہ بہہ کر پانی آہستہ آہستہ گھاس میں جذب ہورہا تھا۔ سرد پرسکون ۔ خاموش ۔ وہ اس کا گھر تھا۔ اس کا ہوسکتا تھا۔ پر اس کا نہیں تھا۔ مالی اپنا برہا ختم کرکے لمبے لمبے قدم رکھتا پھاٹک تک آیا۔ کوٹھی ابھی خالی نہیں ہوگی مس صاب۔ صاحب بہادر سرکاری کام سے تھوڑے دن کے لیے ولایت جانے والا ہے۔ اس لیے پوری کوٹھی بند کردی جائے گی خالی دفترکے کمرے کھلے رہیں گے۔ اپنا کارڈ چھور جائیے مس صاحب۔ اس کی کار ایک جھٹکے کے ساتھ آگے بڑھی اور دوسرے پھاٹک سے نکل کر خاموش، سایہ دار سڑک پر آگئی۔

اور وہ اندر سو رہا تھا۔ وہ باہر ہی سے واپس چلی گئی۔ اور وہ اندر سو رہا تھا۔ پھر وہ جاگ کر اپنی ساگوان کی مسہری پر سے اٹھا۔ اس نے گھڑی دیکھی۔ اس نے سگریٹ جلایا۔ اس نے ڈریسنگ گائون پہنا۔ اور وہ اپنے پرانے ووڈ اسٹاک اسکول کا ایک پرانا گیت گنگناتاہوا غسل خانے میں گیا، وہاں نہاتے میں اس کی ناک میں صابن گھسا اور اسے خوب چھینکیں آئیں۔ اور اس نے چپکے سے کہا لاحول ولاقوۃ۔ پھر وہ ٹینس کے لیے تیار ہونے لگا۔ اور چائے پیتے پیتے اس نے ریڈیوگرام پر اپنا پسندیدہ ریکارڈ لگا دیا۔ تجھ سے توکچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم۔ میراسلام کہیو اگر نامہ برملے۔

جبکہ وہ اس سایہ دار سڑک پر سے واپس جارہی تھی۔

پھر اندھیرے میں دوکاریں آمنے سامنے مخالف سمتوں سے ایک دوسرے کی طرف بڑھیں۔ پہلی کار نے قریب پہنچ کر اپنی سامنے کی روشنیاں مدھم کردیں۔ اور دوسری کار زناٹے کے ساتھ برابر سے نکل گئی۔ وہ کلب سے واپس آرہا تھا۔ اور وہ اسی وقت کلب جارہی تھی۔

وہ چلتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ دریا کے آخری پل تک پہنچ گئی۔ اس نے کار روک لی۔ وہ اسے بہت پیچھے چھوڑ آئی تھی۔

اور خوابوں، امیدوں کا ایک روتا ہوا ہجوم اندھیرے میں آگے بڑھتا گیا۔ اس کے پپوٹے یوں ہی جلتے رہے۔ چھائونی کا بگل بجا اور آدھی رات کے پرند باغ کی تاریک جھاڑیوں میں شور مچانے لگے۔ اللہ ۔ اللہ میرے۔ میں کس قدر کی احمق ہوں۔اُلو۔ وہ جتنی مرتبہ اب تک اس سے ملی تھی۔ کلب کے بال روم میں ، ٹینس کورٹ پر، سال نو کی پریڈ کے موقع پر ، ٹی پارٹیوں میں، اس کو ایک ایک منظر، ایک ایک لفظ، ایک ایک بات یاد تھی۔ وہ کس کس سے باتیں کرتا رہا تھا۔ اس نے کیا کیا کہا تھا۔ وہ کس کس موقع پر ہنسا تھا۔ اس نے کب اپنے مخصوص انداز میں اپنی سیاہ آنکھیں جھپکائی تھیں اور اس کو یہ بھی یاد تھا کہ اتنے سارے موقعوں پر اس نے کبھی اس سے ایک بات بھی نہیں کی تھی۔ وہ ہمیشہ دوسری لڑکیوں کا پارٹنر بنتا۔ کھیلوںمیں، رقص میں، بحثوں میں، وہ کبھی اس گروپ میں شامل نہیں ہوا جس میں وہ موجودرہی ہو۔ سال نو پر اس نے سب کو اپنے ضلع کے جنگلوں میں شکار کے لیے مدعو کیا۔ پر اس کی طرف مڑ کر دیکھا بھی نہیں۔ وہ جب بھی کسی جگہ جاتی ہمیشہ ایسا اتفاق ہوتا کہ وہ چند لمحے قبل وہاں سے جاچکا ہوتا یا پھر اس کے جانے کے بعد وہاں پہنچتا۔ اس ساری بے تعلقی اور بے نیازی کے باوجود وہ بڑے بھیا کا بہت گہرا دوست تھا، اور ٹوٹو کا ، اور اس کی ممی بڑی کنور رانی صاحبہ کا۔ بڑی کنور رانی صاحبہ کو وہ ہمیشہ ان کی ریاست کے مقدموں کے متعلق طرح طرح کے دل چسپ  مشورے دیا کرتا۔ ان کے اختلاج قلب کے وہمی عارضے کے لیے نئے نئے معالج تجویز کرتا۔ بڑے بھیا کو گھوڑوں، کتوں اور موٹروں کی خریداری میں ان کی مدد کرتا۔ بڑے بھیا کی ولایتی بیوی یعنی چھوٹی کنور رانی صاحبہ کے ساتھ ان کے پسندیدہ رقص کرتا۔ ٹونی سے کھیلتا۔ ٹوٹو سے اس کی فزکس اور ہوائی جہازوں کی باتیں کرتا۔

پھر اس کا تبادلہ ہوگیا اور وہ وہاں سے بہت دور چلا گیا۔

اور اس نے یوپی گزٹ کا پرچہ آتش دان میں پھینک دیا۔ اس کی بڑی بڑی آنکھوں کے پپوٹے اسی شدت سے جلاکیے۔

وہ اپنی اس بے کار، بے مصرف، احمق زندگی سے عاجز آگئی۔ پھر وہ جاڑوں کے سرد، اکتائے ہوئے بے رنگ دن گزارنے کے لیے اپنے تعلقے پر چلی گئی۔ اس نے اپنے پرانے قصباتی محل کی ایک ایک چیز کو چھوا۔ شہ نشین، دالان، گیلریاں، کمرے، وہ پھاٹک جن کی محرابوں پر اودھ کی سلطنت کا پرانا نشان آمنے سامنے دو بڑی بڑی مچھلیاں سرخ پتھر سے بنی ہوئی تھیں۔ وہ درخت جن کی شاخوں پر بیٹھ کر وہ ٹوٹو کے ساتھ بچپن میں اسکول کا ہوم ورک ختم کیا کرتی تھی۔ اور باغ کے نشیب میں بانس کے ہرے جھنڈ کے نیچے بڑے حوض کے جنگلے کی جالی کے کچھ حصے شکستہ ہوکر پانی میں گرچکے تھے۔ آم کے سائے میں سرخ پتھر کے چبوترے کے چاروں طرف اونچی اونچی گھاس اور خودرو پودے اگ آئے تھے۔ اور چبوترے کی سیڑھیوں کے کونے ٹوٹ گئے تھے۔ موٹر خانے اور اصطبل کی چھت کے بھاری شہتیر بہت نیچے جھک آئے تھے۔ اور اس کا دل جیسے بیٹھا جارہا تھا۔ اور سارے قصبے میں شور مچ رہا تھا۔ بٹیا صاحب واپس آگئیں۔ بٹیا صاحب اب بہت بڑی ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کالج ، ولایت سب پاس کرلیا ہے۔ بڑے بھیا صاحب اتنا پڑھ گئی ہیں۔ پر اب ان کو گھوڑوں کا شوق نہیں رہا۔ ان کے دونوں گھوڑے اصطبل میں اکتائے ہوئے کھڑے ہیں پر بٹیا صاحب نے بھول کر بھی رام آسرے سے ان کے لیے کچھ نہیں پوچھا۔ و ہ اب موٹر بھی اتنی تیزی سے نہیںچلاتیں۔ بس دن بھر اکیلی اکیلی باغ میں گھوما کرتی ہیں یا بڑے چودھری صاحب کے مزار کی سیڑھیوں پر بیٹھی جانے کیا کیا لکھا کرتی ہیں۔

پھر سرگوشیاں شروع ہوئیں۔ بٹیا صاحب کی بڑے بھیا صاحب سے لڑائی ہوگئی ہے۔ چھوٹے کنور صاحب ٹوٹو میاں تو گزارے دار ہیں ان سے بڑے بھیا سے کوئی مطلب نہیں لیکن بڑے چودھری صاحب بٹیا صاحب کو بہت چہیتے تھے و ہ بٹیا صاحب کے نام بہت سے گائوں لکھ گئے ہیں۔ ویسے تعلقداری کے قانون کے لحاظ سے لڑکی کو وراثت میں کچھ نہیں ملتا۔ اسی لیے بڑے بھیا اب ان سے جلتے ہیں۔ بڑے بھیا اپنی ریاست میں بہت ہردلعزیز تھے۔ انہیں ٹینس، کتوں، گھوڑوں اور موٹروں کا بے حد شوق تھا۔ وہ ہر سال نئی موٹریں خریدتے اور عمدہ گھوڑے اور کتے۔ لیکن وہ کبھی ریس میں نہیں جاتے تھے۔ کبھی ڈرنک نہیں کرتے تھے۔ چھتر منزل اور دل کشا کلب میں رات رات بھر ڈانس میں نہیں گزارتے تھے۔ ان کے تعلقے کو کورٹ آف وارڈ سے چھٹکارا حاصل کیے بہت کم عرصہ ہوا تھا لیکن اتنے دنوں میں انہوں نے اپنی رعایا کے دلوں میں بہت جلد جگہ بنالی تھی ۔ ان کی ولایتی میم صاحب کبھی پتلون یا اونچی اونچی اسکرٹ پہن کر باہر نہیں گھومتی تھیں جیسا کہ سنا گیا تھا کہ وہ لکھنؤ ، نینی تال اور مسوری میں کرتی ہیں۔ بلکہ ہمیشہ بڑی کنور رانی صاحب اور بٹیا صاحب کی طرح ساڑی پہن کر اور آنچل سے سر ڈھک کر باہر نکلتی تھیں۔ پراتنے اچھے بھیا صاحب کو جانے کیاہوا کہ اپنی اکلوتی بہن سے لڑ بیٹھے۔

اور پرانی محل سرائے کی ساری مہریاں، مغلانیاں، سائیس، رکاب دار اور دوسرے ملازمین سائے کی طرح جیسے چپکے ادھر ادھر سرگوشیاں کرتے پھرتے۔ بٹیا صاحب کو دیکھ کر انہیں بڑے چودھری صاحب کا زمانہ یاد آرہا تھا۔ ان کو مرے کتنے کم دن ہوئے تھے پر لگتا تھا جیسے مدتیں گزر گئیں۔ وہ دن جب بٹیاصاحب اسکول بند ہونے پر چھٹیوں میں نینی تال سے آتی تھیں اور چھوٹے بھیا کے ساتھ دور دور تک گھوڑا دوڑاتی چلی جاتی تھیں اور جب گرمیوں میں آم کھانے کے لیے لکھنؤ سے بھیا صاحب کے دوستوں اور ان کی سہیلیوں کی پارٹیوں کے ٹرک اور اسٹیشن ویگنیں خوب دھول اڑاتے قصبے کی سڑک پر داخل ہوتے تھے۔ وہ سب زمانے گزر گئے۔ اور بڑے چودھری صاحب سفید جالی والے سنگ مرمر کے مزار پر موتیا اوربیلے کے جھاڑجھک آئے اور ان کے گھوڑے اصطبل میں کھڑے کھڑے بوڑھے ہوچلے۔ اور بٹیا صاحب اکیلی اکیلی دن بھر آم کے باغوں میں گھوما کرتیں۔

پھر وہ اپنے باغوں سے بھی اکتا گئی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اب کیا کرے۔

اور ایک روز لکھنؤ سے آنے والی سیمنٹ کی چوڑی سڑک پر سے گرد اڑاتی ہوئی ایک سفید اسٹیشن ویگن آم کے ان ہرے کنجوں میں داخل ہوئی اور سرجو کے کنارے آکر رک گئی۔

اور سارے میںکھلبلی مچ گئی۔ کیونکہ بڑے بھیا صاحب اورچھوٹے کنور صاحب کی غیرموجودگی میں بڑے صاحب ضلع کا دورہ کرتے ہوئے وہاں آن پہنچے تھے۔ اور بٹیا صاحب کو یہ خبر سنانے کے لیے مہریاں سارے کام چھوڑچھاڑ کر اپنے گھیردار سرخ اور اودے لہنگے سمیٹتی اور پیروں کے کڑے اور جھاجن بجاتی محل سرا کے اندر بھاگیں۔ اور ڈیوڑھیوں میں بیٹھ کر شطرنج کھیلنے اورحقہ پینے والے منشی اور لالہ اور بھیا صاحب کا سارا عملہ ہڑبڑا کر اپنے اپنے کاغذات اور رجسٹروں کی طرف لپکا۔

اور قیامت کی طرح وہ اپنی سفید اسٹیشن ویگن میں سے اترا۔ اوراپنے گوگلز اتار کر اس نے چاروں طرف کی ہریالی ، اور سرجوؔ کے پگھلی ہوئی چاندی جیسے پانی پر نظر ڈالی ۔ اور پھر وہ اپنے عملے کے ساتھ جانچ پڑتال کے لیے آگے روانہ ہوگیا۔

اور بٹیا صاحب پرانی محل سرا کے اندر اپنے وکٹورین طرز کے سجے ہوئے کمرے میں بیٹھی پیانو بجاتی رہیں۔ اور سرجوؔ کے کنارے آم کے باغ میں بڑے صاحب کا پڑائو کئی دن تک رہا۔

اور ایکاایکی بٹیاصاحب اپنی بیوک میں بیٹھ کر لکھنؤ واپس جانے لگیں۔ ان کا سارا عملہ او سارے رشتے دار انہیں خدا حافظ کہنے باغ کے بڑے پھاٹک تک آئے جس کی محرابوں پر سرخ پتھروں کی دو مچھلیاں بنی ہوئی تھیں۔ اور پھر دو موٹریںاسی ٹرک پر جامنوں کی چھائوں میں آگے پیچھے دوڑنے لگیں۔ ایک سفید اسٹیشن ویگن ۔ اور ایک گہری سرمئی بیوک ایک جھٹکے کے ساتھ نیلے دھویں کے بادل چھوڑتی ہوئی آگے نکل گئی اور اسٹیشن ویگن سیمنٹ کی سفید ویران سڑک پر رینگتی رہی۔

اس کی آنکھوں کے پپوٹے یوں ہی چلتے رہے۔ اور چھائونی کے بگل اسی طرح بجا کیے۔ اور کرائیسٹ چرچ کے گھنٹے ۔ پھر گرمیاں آئیں۔ اور مسوری کا سیزن… وہ ایک انگریز پولیس آفیسر تھا۔ جو صرف تین سال قبل انگلستان سے آیا تھا اور کہتے ہیں اس سیزن میں وہ اس پر بالکل مرمٹا۔اور قصبے میں پھر سرگوشیاں شروع ہوئیں۔ بٹیا صاحب کو کیا ہوگیا جو انگریز سے شادی کیے لے رہی ہیں۔ اور مسوری کی روایت ہے کہ ایلمر بریڈلے تو چٹان پر سے کود کر خودکشی کے لیے تیار تھا۔ ٹوٹو کا بمبئی سے تار آیا۔ کیا یہ افواہ صحیح ہے ۔ کاش وہ صرف یہ محسوس کرلیتا۔ کاش اس کا اندازہ ہوجاتا کہ وہ یہ کچھ محض انتقاماً کرنا چاہ رہی ہے ۔ بے بسی کا انتقام۔ لیکن وہ بہت دور تھا اور ہمیشہ کی طرح سب بے نیاز اور بے تعلق۔ چاہے وہ اس سے بھی زیادہ کوئی انتہائی حماقت انگیز حرکت کربیٹھتی تب بھی اس پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ وہ اس کے متعلق کچھ سوچتا بھی نہیں۔

اور بریڈلے کی چھٹی ختم ہورہی تھی اور وہ الٰہ آباد واپس جارہا تھا جہاں کا وہ ایس پی تھا۔

اور جب وہ رنک سے نکل کر ایلمربریڈلے کے ساتھ رکشا میں بیٹھ رہی تھی اسی وقت وہ لیڈی اعجاز کے خاندان کے ساتھ اس طرف آتا نظر آیا۔ اس کی سیاہ آنکھوں کی گہرائیاں بہت خاموش تھیں۔ ہمیشہ کی طرح بہت خاموش لیکن متبسم۔ رکشا کے قریب سے گزرتے ہوئے انہیں دیکھ کر وہ بریڈلے سے باتیں کرنے لگا۔ ادھر ادھر کی باتیں۔ اپنے اپنے محکموں کے واقعات ۔ اور پھر قہقہے، مترنم قہقہے ۔ اور مسوری کی ساری روشنیاں چکرکھاتی، گھومتی ہوئی نیچے ڈوبی جارہی تھیں۔ اور جس چٹان پر اس کی رکشا کھڑی تھی وہ ٹوٹ کر تیزی سے نیچے کھڈ میں گر رہی تھی۔

پھر وہ اس کو سلام کیے بغیر، اس کو دیکھے بغیر لیڈی اعجاز کی چھوٹی لڑکی اور دونوں بڑے بیٹوں کے ساتھ وادی کی طرف اترگیا۔ شاید وہ سب چاندنی رات کی پکنک کے لیے جارہے تھے۔ یہ راج کماری جہاں آرا بیگم اس انگریز شخص سے کیوں شادی کر رہی ہیں۔ اس سے تو ہمارا لیفٹنٹ کمانڈر حفیظ الرحمن ہی کہیں بہتر تھا جو میںنے تجویز کیا تھا۔ اس نے دور سے اسے کہتے سنا پھر وہ سب وادی میں اترتے ہوئے چاندنی کے دھندلکے میں کھوگئے۔

اور اس شام ، واپس سوائے پہنچ کر اس نے رات بھر میں اپنا سارا سامان پیک کرلیا۔ ٹوٹو بمبئی سے آچکا تھا۔ بڑی کنور رانی صاحبہ کی دیکھ بھال اس کے سپرد کرکے وہ صبح پہلے گیٹ سے دہرہ دون آگئی۔ راجپور سے اس نے ایلمربریڈلے کو فون کیا کہ وہ جارہی ہے اور افسوس ہے کہ اب اس سے کبھی نہیں مل سکے گی کیونکہ اس نے اپنا شادی کا ارادہ تبدیل کردیا ہے۔

وہ گھر واپس پہنچی اور کار سے اتر نے کے بعد سیدھی اپنے کمرے میں جاکر مسہری پر گرگئی۔ اور خوب خوب رونے سے زیادہ مناسب کام اس کی سمجھ میں اس وقت اور کوئی نہ آیا۔ وہ خوب روئی۔ یہاں تک کہ شام کااندھیرا چھا گیا اور مال پر قمقمے جگمگا اٹھے ۔پھر چھائونی کا رات کا بگل بجا۔ اور باغ میں رات کے پرند چیخنے لگے۔

پھر صبح ہوئی۔ ایک اور صبح۔ اور وہ آنکھیں ملتی ہوئی اٹھی۔ اور مسہری کے سرہانے کی میز پر اس کی غیر موجودگی میں جمع شدہ ڈاک کے ایک نقرئی لفافے پر اس کی نظر پڑی۔ وہ سَر احمد ولیڈی اعجاز کی چھوٹی لڑکی کی شادی کا دعوت نامہ تھا۔ اور کھانے کے کمرے میں چھوٹی کنور رانی صاحبہ اپنے بچے کو اوولٹین پلانے کے مرحلے میں مصروف اسے طرح طرح سے بہلاپھسلارہی تھیں ٹونی اب کے سے تمہارے انکل جمیل تمہارے لیے اسکوٹر لائیں گے۔ اور اچھا تم اپنی نئی آنٹی کو دیکھوگے؟ انکل جمیل تمہارے لیے ایک پیاری سی آنٹی لینے گئے ہیں۔ تم نے اوولٹین نہیںپیا تو ریحانہ آنٹی تم سے کبھی نہیں بولیں گی۔ اور ٹونی نے فوراً اوولٹین پینا شروع کردیا۔

اور رات آئی۔ ایک اور رات۔ جبکہ ہوائیں چل رہی تھیںاور بارش ہورہی تھی۔ بڑے بھیا اور چھوٹی کنور رانی صاحب گورنمنٹ ہائوس کے ڈنر میں گئے ہوئے تھے۔ اور وہ اکیلی تھی۔ اتنے بڑے گھر میںاکیلی۔ بالکل تنہا۔ اور اس وقت اس نے سوچا ۔ وہ کیوں پیدا ہوئی۔ کیوں بڑی ہوئی۔ اس نے کیوں اتنا پڑھا لکھا۔ وہ مسوری کے مقابلۂ حسن میں کیوں ہمیشہ فرسٹ آئی۔ اس نے شہسواری اور پیانو میں مہارت کس لیے حاصل کی۔ کس لیے انسان اتنا مجبوراور بے بس ہے۔ اتنا بے بس۔

پھر ٹوٹو نے بمبئی سے لکھا۔ بٹیا۔ لفٹنٹ کمانڈر رحمن سے اب بھی شادی کرلو۔ وہ تمہیں بہت پسند کرتا ہے۔ لیکن وہ خاموش رہی، جن باتوں کا وہ مذاق اڑایا کرتی تھی وہی سب باتیں ایک ایک کرکے اس کے ساتھ ہورہی تھیں۔ قسمت کتنی ستم ظریف ہے۔

اور روایت ہے کہ ایلمر بریڈلے اس قدر دل شکستہ ہوا کہ اس نے آئی سی ایس اور آئی پی والوں کے لیے (Compensation) کی تجویز منظور کرلی اور اگلے جہاز سے ولایت واپس جانے کے لیے تیار ہوگیا۔

اور پھر بڑے بھیا نے کہلوایا۔ میں ہرگز یہ پسند نہیں کرسکتا کہ تم اس طرح بے کار بے کار ادھر ادھر گھوما کرو۔ تمہیں اب کسی نہ کسی سے شادی ضرور کرنا پڑے گی۔ بڑی کنور رانی صاحبہ پر اختلاج قلب کا بہت سخت دورہ پڑنے والا تھا لیکن اس کی شادی کی خوشی میں وہ اچھی ہونے لگیں۔

اور پھر اسی طرح شہ نشینوں اور درختوں میں برقی قمقمے جگمگائے۔ اسی طرح ملٹری بینڈ اور آرکیسٹرا چیخا۔ اور اس کی شادی ہوگئی۔ اس نے اپنے شوہر کو ایک آدھ مرتبہ پہلے کبھی مسوری میں دیکھا تھا۔وہ ایک چھوٹاسا تعلقہ دار تھا ۔ اس کی تعلیم لکھنؤ کے لامارٹنیز اور کالون تعلقہ دارز کالج سے آگے نہ تھی۔ لیکن وہ اچھا ڈانسر تھا اور ٹینس کااچھا کھلاڑی ۔ اوراچھا فلرٹ ۔ مسوری آئی ہوئی ہندوستان کی ساری راج کماریوں اور بیگمات سے فلرٹ کرنا اس کا دل چسپ ترین مشغلہ تھا۔ اور اس کی شادی ہوگئی اور وہ اس زندگی میں زبردستی دل چسپی لینے لگی جو اسے کبھی بھی زیادہ پسند نہ تھی۔ وہ گرمیوں کے چارمہینے پہاڑ پر اور سال کا باقی حصہ اپنے شوہر کے تعلقے پر بارہ بنکی یا سیتا پور میں گزارتی جہاں روز کسی نہ کسی انگریز یا ہندوستانی افسر کی آمد پر دعوتیں ہوتیں اور اکثراسے رات گئے تک  رقص میں جاگنا پڑتا۔ لیکن وہ خاموش رہی۔ وہ اپنی آنکھوں کے پپوٹوں کی جلن کو بھلانے میں خاصی کامیاب ہوچکی تھی۔ اور چھائونی کے بگل کی آواز کو ____ پھر وہ اپنے بچے کی دیکھ بھال میں مصروف رہنے لگی۔ اور پھر ایسا ہوا کہ اس کا تبادلہ اسی ضلع کا ہوگیا جہاں اس کے شوہر کی ریاست تھی۔ اس کی بیوی ان دنوں اپنی ممی لیڈی اعجاز کے وہاں شملے گئی ہوئی تھی۔ کاش کوئی آکر اس سے کہتا کہ وہ بالکل اپنی بیوی سے خوش نہیں ہے۔ وہ بہت رنجیدہ رہتا ہے۔ وہ اکثر افسوس کیا کرتا ہے کہ اس نے ریحانہ اعجاز سے کیوں شادی کرلی۔ لیکن وہ تو ہمیشہ کی طرح بہت خوش او ر بشاش تھا۔ اس کی سیاہ آنکھیں ویسے ہی متبسم تھیں اور اس کے قہقہے ویسے ہی مترنم ۔ کاش ایسا نہ ہوتا۔ کاش ایسا نہ ہوتا۔

اور اس سال مسوری میں اس کا شوہر جس کی اپنے مخصوص مشغلہ میں دل چسپی ایسی ہی برقرار تھی، سوسائٹی کے ایک بہت زبردست اسکینڈل میں انوولو (Involve) ہوگیا اور نئی دہلی کے ایک ’’نائٹ‘‘ کی لڑکی نے اسے کورٹ تک پہنچانے کی دھمکی دی وہ یہ سب باتیں برداشت نہیں کرسکی۔ اس نے خاموشی سے طلاق لے لی اور ایک بار پھر لکھنؤ واپس آگئی۔ اس کا بچہ اسے نہیں مل سکا بڑی کنور رانی صاحبہ نے اس سے بولنا چھوڑ دیا۔ بڑے بھیا نے اس سے قطع تعلق کرلیا ٹوٹو کسی ٹریننگ کے لیے امریکہ جاچکا تھا۔

اور اس وقت اسے ایلمربریڈلے کا خیال آیا۔ وہ ابھی ہندوستان ہی میں تھا اور اسے معلوم ہوگیا تھا کہ وہ اپنے شوہر سے طلاق لے چکی ہے۔ وہ اپنے بچے کو کسی طرح نہ چھوڑنا چاہتی تھی۔ وہ اس کو نہیں مل سکتا تھا کیونکہ وہ اپنے باپ کی ریاست کا ولی عہد تھا۔ اس کے لیے اس نے خود تلاش کرایک عمدہ سی کورنس بھجوائی اور اس کے پہلے شوہر نے وعدہ کرلیا کہ وہ جب چاہے بچے کو آکر دیکھ سکتی ہے۔ وہ کوئی مداخلت نہیں کرے گا۔

اور اس کے چاروں طرف اتنا گہرا، اتنا سرخ، اتنا بھاری اندھیرا چھاگیا کہ وہ اپنی آنکھیںنہ کھول سکی۔ فضائوں میں وحشت اور ویرانی کی تاریک روحیں زور سے چیخیں مارنے لگیں۔ ہوائیں روتی رہیں۔ سرخ دریا کے کنارے دھواں بلند ہوتا گیا یہاں تک کہ وہ ساری کائنات پر چھا گیا۔ پرشور طوفان کی زد میں آکر تیزی سے گھومتے ہوئے نڈھال چاند کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے، ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر اتھاہ تاریکی میں گم ہونے لگے۔

اور ایلمربریڈ لے سے اس کی سول میرج ہوگئی۔

سارے صوبے کی سوسائٹی میں اچھا خاصا تہلکہ مچ گیا۔ انڈین پولیس کے ایک یورپین آفیسر نے ایک ہندوستانی تعلقہ دار کی لڑکی سے شادی کرلی۔ گورنر سمیت سارا یورپین طبقہ تلملا اٹھا۔ لیکن ایلمربریڈلے خاموشی سے اسے اپنے ساتھ لے کر چند ہفتوں کے لیے کشمیر چلا گیا۔

اور اس کے کچھ عرصے بعد اس کے پہلے شوہر نے اپنے خاندان کی ایک پردہ نشین لڑکی سے دوسری شادی کرلی جو اس کی تفریحات میں قطعی مداخلت نہیں کرسکتی تھی۔

وہ کشمیر سے الٰہ آباد آئی دن تیزی سے پرواز کرنے لگے۔ اس کا دل بے انتہا چاہ رہا تھا کہ اپنے بچے کو دیکھے لیکن ایلمربریڈلے کو قطعی گوارا نہیں تھا کہ وہ اپنی گزشتہ زندگی سے کسی قسم کا تعلق بھی قائم رکھے۔

پھر اس سال مسوری میں ایسا اتفاق ہوا کہ سوائے میں اپنے برابر والے سوٹ میں اس کا پہلا شوہر مع اپنی بیوی اور اس کے بچے کے آکر ٹھیرا۔ اکثرلان پر اس کو اپنا بچہ کھیلتا ہوا نظر پڑجاتا۔ وہ دوڑ کر اس کے پاس جاتی اسے چوکلیٹ اور کھلونے دیتی۔ بچہ ممی ممی کہہ کر اس کی ساری کے آنچل یا دوپٹے کے پلو کو اپنی طرف کھینچتا لیکن وہ جی پر جبر کرکے اسے گورنس کے پاس چھوڑ کر اپنے کمروں کی طرف چلی آتی۔ اس کے پہلے شوہر کا حکم تھا کہ بچے کو تو یہ بالکل معلوم نہ ہونے پائے کہ اس کی ماں کا دوسرا شوہر ایک انگریز ہے اور اس کے سوتیلے بہن بھائی اینگلو انڈین ہوں گے۔

اور مسوری کا سارا سیزن اسی طرح گزرا اور وہ چپکے چپکے خدا سے دعا مانگتی رہی کہ وہ مرجائے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اور اس وقت وہ ایک چٹان پر کھڑی تھی۔ اس کے سیاہ لہروں والے بال اسکارف میں سے نکل نکل کر ہوا میں اڑ رہے تھے ، اس کی ساڑی ہوا کے تھپیڑوں سے مخالف سمت میں اڑی جارہی تھی۔ اور وہ اکتاکردوربین کے ذریعے وادی کا نظارہ کر رہی تھی۔ چٹان کے نیچے بل کھاتی ہوئی سڑک پر موٹریں اور بسیں کھنکھجوروں کی طرح ایک دوسرے کا پیچھا کرتی ہوئی اوپر چڑھ رہی تھیں یا نیچے اتر رہی تھیں۔ ایلمرکیمرہ لے کر پہاڑی کی چوٹی کی طرف چڑھ گیا تھا اور وہاں سے اس کو آواز دے رہا تھا اور اسے ایک طویل سفید اسٹیشن ویگن نظر آئی جو لہراتی ہوئی سڑک پر اوپر چڑھ رہی تھی۔ اور اس نے دوربین اپنی آنکھوں پر سے ہٹا دی۔

پھر وہ ایلمر کا سہارا لے کر چٹان سے نیچے اتر آئی۔ اور ایلمر نے اس سے کہا تھا کہ وہ اب سرکاری معاوضہ لے کر ولایت واپس جانا چاہتا ہے اور اس نے یقین دلایا تھا کہ وہ اس کے انگلستان کے خوب صورت پرسکون قصباتی مکان میں اور سیب اور چیری کے شگوفوں کے درمیان پہلے سے کہیں زیادہ خوش رہ سکے گی۔ اور اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب کیا کرے۔ قسمت۔ قسمت کی ستم ظریفیاں۔ کم از کم اس کو اب تک یہ اطمینان تھا کہ وہ اپنے پیارے بچے کو جس سے اسے بے حد محبت تھی کبھی کبھی دیکھ سکتی تھی۔ پر اب وہ بھی اس سے ہمیشہ کے لیے چھٹ رہا تھا۔ وہ انتقاماً اپنی پہلی شادی کے لیے راضی ہوگئی تھی، پھر انتقاماً اس نے اپنے پہلے شوہر کو طلاق دے دی تھی۔ اب اس تیسرے شخص سے انتقام لے کر وہ کہاں جاسکتی تھی۔

اور رات ہورہی تھی ۔ وہ سب تاج کے ٹیرس پر بیٹھے تھے۔ ایلمر وطن جانے کی خوشی میں سیٹیاں بجا رہا تھا اور اپنے دوستوں سے کہتا پھر رہا تھا کہ وہ مشر ق کی الف لیلوی سرزمین میں آکر یہاں سے ایک سچ مچ کی چھوٹی سی سوتی جاگتی گڑیا ایسی ’’پرنسس‘‘ کو اپنے ساتھ لیے جارہا ہے۔ وہ ریلنگ پر جھک گئی۔ اس نے دیکھا۔ نچلی منزل سے وہ لفٹ کے ذریعے نیچے اتر رہا تھا۔ وہ جو کسی سرکاری کام سے انگلستان بھیجا جارہا تھا اور وہ ان ہی کے جہاز میں سفر کرنے والا تھا۔ وہ سب ایک ساتھ ٹہلتے ہوئے گیٹ وے آف انڈیا تک گئے۔ گرین فر کے قریب تیزی سے بینڈ بج رہا تھا اور سمندر کی سیاہی مائل گہری سبز موجیں گیٹ وے کی سڑھیوں سے ٹکراٹکراکر واپس جارہی تھیں۔ تھکا ہوا، اکتایا ہوا چاند ناریل کے درختوں کے پیچھے سے طلوع ہورہا تھا۔ اور کولابہ کی طرف سے ہوا کے خنک اورنم جھونکے آرہے تھے۔

پھر اس لمبے، سفید جہاز نے سیٹی دی۔ وہ عرشے پر کھڑی رہی۔ ساحل آہستہ آہستہ اس سے دور ہوتا گیا۔ شام ہوئی عرشے پر ڈانس شروع ہوگیا۔ وہ تھک کر اپنے کیبن میں آکر سوگئی۔ اور سمندر اور آسمان کی تاریکی گھل مل کر سب گہری ہوگئی۔ موجوں کی سطح پر بہت سی آوازیں تیر رہی تھیں۔ مانوس ، پرانی آوازیں ۔ اور وہ آوازیں دور ہوتی چلی گئیں۔ لائٹ ہائوس کی سرخ روشنیاں رفتہ رفتہ افق میں کھوکر اندھیرے میں ڈوب گئیں۔ دور۔ سب دور۔ لیکن وہ اس سے دور نہیں تھا۔ وہ جو اس وقت اس کے برابر والے کیبن میں سو رہا تھا۔ اور وہ خود ایک غیرملکی شخص کے ساتھ ایک اجنبی سرزمین کی طرف جارہی تھی۔ ہمیشہ کے لیے ، ایک نامعلوم منزل کی طرف۔ اور بڑے بڑے چینی کے گل دانوں کے سائے دیوار پر پھیل گئے۔

اور ایلمربریڈلے اپنی برف جیسی سفید برتھ پر لیٹا خالص انگریزی اورامپریلسٹک انداز سے خراٹے لے رہا تھا۔ اور برابر والے کیبن میں دوسرا شخص بھی سورہا تھا۔ وہ کم بخت دوسرا شخص ۔ سفید پردوں کی دوسری جانب۔ سفید ریشمی پر دے جو آدھی رات کی سمندری ہوا میں آہستہ آہستہ ہل رہے تھے۔ جہاز موجوں کے سفید جھاگ کو چیرتا ہوا آگے بڑھتا گیا اور اندھیرا گہرا ہوگیا۔

______________________________________________

یہ افسانہ ’’آج کل دہلی‘‘۔ یکم جون۔ 1947 میں شائع ہوا تھا۔ کسی بھی افسانوی مجموعے میں شامل نہیں ہے۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

انت بھئے رت بسنت میرو

قرۃالعین حیدر لکڑی کا چھوٹا سا سفید پھاٹک کھول کر ٹونی پنیزی کی کیاری میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے