مرکزی صفحہ » فکشن » افسانے » خوابوں کے محل

خوابوں کے محل

اور جب وہ کار سے اُتر کر میری طرف نظر کیے بغیر رومال سے ناک پونچھتا ہوا برآمدے کی سیڑھیوں پر چڑھنے لگا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ گذشتہ رات کالج کی اسٹیج پر اس کے ساتھ آسٹرین ڈچس کے لباس میں رقص کرتی ہوئی ایمیلی شاید میرا مذاق اڑا رہی تھی۔ ’’اپنے چھوٹے سے رومان کا رو پہلا محل تو میں نے بنایا ہے۔ تم اس میں داخل ہونا کیسے چاہتی ہو۔ کیسے ہوسکتی ہو۔ ہا ہا ہا! یہ تو صرف میرے لیے ہے۔‘‘ اور میرے کانوں میں اس کے سریلے قہقہے کی آواز گونج کر رہ گئی۔

ثریا دریچے میں کھڑی لالہ کے پھولوں کو گل دان میں سجا رہی تھی۔ مجھے میرے کمرے میں آتا دیکھ کر اس نے اپنا آٹو گراف البم میری طرف پھینک دیا۔

’’میں کیا کروں اس کا ؟‘‘ ’’کرو کیا؟ اس کے دستخط ہیں اس میں ۔ ڈرامہ ختم ہونے سے قبل گرین روم میں جاکر میں نے لے لیے تھے اس سے۔‘‘

’’تو آخر یہ مجھے اس خصوصیت سے کیوں دکھا رہا ہے بھئی۔‘‘ مجھے واقعی رونا آگیا۔

ثریا نے گل دان ایک طرف رکھ سیٹی بجاتے ہوئے پھر کہا۔ ’’ رومانیتک___ حد سے زیادہ لیکن وہ پاؤڈر بھی لگاتا ہے۔‘‘

’’ ہر گز نہیں۔ لگاتا پاؤڈر۔ واہ۔‘‘ میں فوراً اس کی طرف داری پر آمادہ ہوگئی۔

’’ بالکل لگاتا ہے۔ میں نے خود اس کی سنگھار میز پر میکس فیکٹر پاؤڈر اور پونڈس کریم رکھی دیکھی ہے۔ ‘‘

’’ آخر تم اس قدر دل چسپی اور انہماک سے کیوں کر رہی ہو؟ ‘‘ میں نے جل کر کہا۔

’’ وہ اتنا خوب صورت جو ہے ۔ خواب ناک آنکھیں اورنقرئی آواز___ ! ہا ہا ہا۔ قطعی خطرناک بات ہے۔‘‘ ثریا بہت صاف گو لڑکی ہے۔ دریچے میں بیٹھ کر ٹانگیں ہلاتے ہوئے وہ پھر بولی۔‘‘ اس وقت تو وہ خالہ جان سے نہایت سعادت مندی کے ساتھ کوئلے کی گرانی اور نوکروں کی قلت کے مسئلے پر گفتگو کر رہا ہے۔ پر سوں بھی تو آیا تھا۔‘‘

’’ کون آیا تھا پرسوں بھی؟‘‘ ریاض بھیّا نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے دخل در معقولات کی۔

’’ درزی۔‘‘ ثریا نے اطمینان سے جواب دیا اور لالہ کے پھولوں کو نئے سرے سے سجانے لگی۔ ریاض بھیّا تپائی پر جھک کر چائے بنا رہے تھے۔ اور ثریا نہایت معصومیت سے ان کے لیے سنترہ چھیل رہی تھی۔

میرا دل چاہ رہا تھا کہ ریاض بھیا اور ثریا دونوں کو چاء دانی میں ڈبو دوں اور پھر ڈرائنگ روم کی روشنیاں گل کر کے کشتوں میں منہ چھپا کر خوب روؤں۔

خالہ جان کے کمرے میں سے باتوں‘ قہقہوں اورچھینکوں کی آوازیں آنی بند ہو گئی تھیں۔ ریاض بھیا اور ثریا دریچے میں سے باہر باغ میں کود کر شاید ٹینس کھیلنے کے لیے جاچکے تھے۔ ریڈیو میں چارلس جوڈا کا آرکیسٹرا تیزی سے بج رہا تھا۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ اور تصور میں بھورے بالوں والی آسٹرین ڈچس پھر آکر کھڑی ہوگئی جو رقص کرتے ہوئے اس سے کہہ رہی تھی۔‘‘ میرے چھوٹے سے رومان کا رو پہلی محل___‘‘

___ ’’سرو کے درختوں سے ڈھکی ہوئی پہاڑی کی چوٹی پر بنا ہوا سرخ برجیوں اور اونچے اونچے کنگوروں والا محل جس میں خوابوں کی شہزادیاں رہتی ہیں۔

پچھلے ہفتے وہ اپنے کالج کے ڈرامے کے ٹکٹ بیچنے کے لیے ہمارے یہاں آیا۔ ریاض بھیّا نے میرے اور ثریا کے لیے دس دس روپے کے ٹکٹ خرید کر کہا ’’ Vepex‘‘ ہوگا آپ کے پاس؟‘‘ اورمیں نے طے کر لیا کہ میں اسے اپنے اس سرخ برجیوں والے قلعے میں قطعی نہ گھسنے دوں گی۔ اسی دن شام کو ’’ پکیڈلی‘‘ میں پھر اس سے ٹکر ہوگئی۔ اس کے ساتھ اس کے دوستوں کے علاوہ ایک لڑکی بھی تھی___ یہ ہیں میری دوست مس ایمیلی آرکڈیل___ اور یہ ___ یہ ___ مس___ مس___‘‘ اس نے نیازی سے میرا تعارف کروایا۔ گویا میرے بے کار سے نام کو یاد کرنے کے لیے اسے اپنے دماغ پر زوردینے کی ضرورت پڑ رہی تھی اور وہ فضول سی اینگلو انڈین لڑکی جسے لپ اسٹک لگا کر سائیکل پر کناٹ پلیس کے چکر لگانے کے سوا اور کوئی کام نہیں ہنس ہنس کر اس کی طرف سے ٹکٹ خریدنے کا شکریہ ادا کر رہی تھی۔

لیکن اگلے دن اس نے مجھے فون کیاکہ ہمارے لیے آگے کی بہترین نشستیں اس نے خاص طور پر ریزرو کروالی ہیں اور کافی دیر تک وہ ادھر اُدھر کی بے معنیٰ باتیں کرتا رہا۔

اور رو پہلے محل کے ایوان پھر جگمگا اٹھے۔ خانہ بدوشوں کے کاروان کی موسیقی سے کہر اور دھندلکے میں چھپی ہوئی وادیاں گونجنے لگیں۔ اونچے اونچے کنگوروں والے چاکلیٹ کی رنگت کے قلعے کی شہزادی نے بربط پر اپنے پسندیدہ نغمے گنگنانے شروع کر دیئے۔

میں نے ریڈیو کی آواز مدھم کر کے پھر آنکھیں بند کر لیں___ لیکن مگر اس کہانیوں کی سرزمین اس رنگین بوہیما پر کوئی بھورے بالوں والی آسٹرین ڈچس اپنا قبضہ کر لے تو___؟ جگمگاتے ہوئے بال روم میں بلوری میز پر جھکا ہوا جیسے کوئی آہستہ آہستہ کہہ رہا تھا___ آپ کے آٹو گراف البم میں کیا لکھوں___؟ ان سیاہ آنکھوں کا خیال مجھے کھوئے ہوئے خوابوں کی وادی میں پہنچا دیتا ہے۔ جہاں رائن کے پانیوں میں اترتے ہوئے زرد چاند کی کرنیں ان چمک دار پگڈنڈیوں پر پڑتی ہیں جو سر سبز پہاڑیوں اور شاہ بلوط کے گھنے جنگلوں میں سے گذرتی ہوئی خوابوں کے سرخ برجیوں والے قلعے تک باقی ہیں___!

لیکن نہیں___ اس نے تو کہا تھا۔ یہ میری دوست مس ایمیلی آرکڈیل۔ آپ ہمارے کالج کے ڈرامے میں ضرور تشریف لائیے گا۔ ہم دونوں کو بہت خوشی ہوگی ’’ ہم دونوں ‘‘___ خوابوں کے سربہ فلک قلعے پر جیسے کسی نے بمباری کردی۔

’’ اجی وہ تو فلرٹ (Flirt)ہے بالکل۔ چاہے جس سے پوچھ لو۔ ایمیلی کے کالج میں آنے سے پہلے امرجیت اس کے ساتھ گھومتی رہتی تھی۔ اب دیکھ لینا اگر ایمیلی کہیں چلی گئی تو سلطانہ کا نمبر آجائے گا۔‘‘ ثریا کہہ رہی تھی___ میں چڑ کر رہ گئی۔ بھئی اگر وہ فلرٹ ہے تو میں کیا کروں۔ آحر ثریا اس قدر باقاعدگی سے اس کی ریسرچ کیوں کر رہی ہے۔ لاحول ولا ۔ میں نے مستقل مزاجی سے طے کر لیا ان رو پہلے محلات کو سجانے کا کام اگلے سال پر اٹھا رکھوں گی۔ کیونکہ سالانہ امتحانات بہت قریب آگئے تھے___

کافی دن گذر گئے۔ ایک شام میں کسی کام کے لیے ڈرائنگ روم میں گئی ثریا سجی سجائی حسبِ معمول دریچے میں بیٹھی انڈین لِس نرؔ کے ورق الٹ پلٹ کر شاید کسی کا انتظار کر رہی تھی۔ مجھے دیکھ کر چھوٹتے ہی بولی ’’ ایک بڑے مزے کی بات سنوجی۔ پچھلے ہفتے تک تو شاہدہ بھلی چنگی کالج آئی تھی اور اس اتوارکو اس کی شادی ہو رہی ہے۔

’’ اچھا؟ بڑی خوشی کی بات ہے۔ کس سے ہو رہی ہے؟‘‘ ظاہر ہے مجھے شاہدہ کی شادی سے کوئی خاص دل چسپی نہیں ہوسکتی تھی۔

’’ اسی سے ___تم کو اس لیے انہوںنے نہیں بلایا کہ تمہاری پڑھائی میں ہرج ہوگا۔ فائنل ایئر ہے تمہارا___ ہماری توکار بھی تین دن سے ان کے وہاں منگنی میں گئی ہوئی ہے۔‘‘ اور پھر وہ ایسا انداز بنا کر بیٹھ گئی کہ برقی لیمپ کی نیلی روشنی میں اس کے چہرے پر پڑے کیونکہ ریاض بھیا کمرے میں آچکے تھے۔

کہانی ختم ہوگئی___ لیکن خوابوں کے سرخ برجیوں اور اونچے اونچے کنگوروں والے قلعے کی شہزادی آتش دان کے سامنے بیٹھی شاید تب بھی کسی شہزادے کا انتظار کر رہی ہے۔

______________________________________________

یہ افسانہ ادیب لطیف ۔ ستمبر۔ 1944 میں شائع ہوا تھا۔کسی بھی افسانوی مجموعے میں شامل نہیں ہے۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

انت بھئے رت بسنت میرو

قرۃالعین حیدر لکڑی کا چھوٹا سا سفید پھاٹک کھول کر ٹونی پنیزی کی کیاری میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے