مرکزی صفحہ » خسرو ملک ابن خسروشاہ

خسرو ملک ابن خسروشاہ

از منتخب التواریخ

خسرو شاہ کے انتقال کے بعد خسرو ملک لاہور کے تخت پر بیٹھا۔ وہ اعلی درجہ کا عیاش تھا اس لیے اس کے عہد حکومت میں ہرطرف ابتری پھیل گئی۔ غزنوی حکومت جو پہلے کمزور ہو چکی تھی، خسرو ملک اس کی مردہ لاش کو بس دّرے مار مار کر گھسیٹتا رہا۔ غوری خاندان کا ستارہ عروج پر تھا اور وہ دن رات ترقی کرتا رہا۔ اس لیے حکومت عورتوں کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بن گئی۔ سلطان معزالدین محمد سام المعروف بہ سلطان شہاب الدین غوری نے غلبہ پاکر غزنی کو اپنا پایہ تخت بنایا اور غزنوی بادشاہوں کی طرح اس نے بھی ہندستان پر لشکر کشی کی اور لاہور کے نزدیک آپہنچا۔ خسرو ملک کے پاس تو کچھ بھی نہ تھا، سلطان شہاب الدین غوری کا مقابلہ کیسے کرتا؟ اس لیے اس کی خدمت میں حاضر ہوکر امان چاہی ۔ سلطان شہاب الدین غوری اسے اپنے ہمراہ غزنی لے گیا اور وہاں سے اسے غیاث الدین کے پاس بھیج دیا جس نے اسے فیروز پہاڑ کے دامن میں قید کر دیاجہاں قید کے دس سال بعدوہ مرگیا:

دل ببندید درین دہر کہ بی بنیاد است!

نو عروسی است کہ در عقب بسی داماد است!

خسرو ملک نے 583ھ؍1187ء میں وفات پائی، وہ غزنوی خاندان کا آخری بادشاہ تھا۔ اس نے 28سال تک حکومت کی، اس کے بعد غوری خاندان کی باری آئی اور اس نے زمامِ حکومت سنبھالی۔

’’توتی الملک من تشاء ‘‘ 

بقا بقای خدای ست و ملک ملِک خدای قاضی بیضاویؒ غزنوی مملکت کی مدت سلطان محمود سے خسروشاہ تک 161سال لکھتے ہیں اور اس کے بارہ بادشاہوں نے حکومت کی، مگر قاضی یحییٰ قزوینی کے نزدیک یہ عہدحکومت 155سال تھا اور 14 بادشاہوں نے حکومت کی۔ تاریخ نظامی کے مصنف کی رائے میں 215 سال ہوتی ہے اور 15 بادشاہوں نے حکومت کی،واللہ اعلم بالصواب۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

مجھے الجھا دیا دانش کدوں نے صرف خوابوں میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے