مرکزی صفحہ » تاریخ » خسرو شاہ بن بہرام شاہ

خسرو شاہ بن بہرام شاہ

از منتخب التواریخ

اپنے والد کے بعد تخت نشین ہوا، علاء الدین حسین بن حسن غوری اس کے مقابلے پر آیا۔ خسروشاہ نے بھاگ کر لاہور کا رخ کیا اور جب علاء الدین غزنی سے کامیاب ہوکر واپس آیا تو خسرو شاہ جوموقع کی تلاش میں لگا ہوا تھا فوج کشی کی اور غزنی پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔ جب قبیلہ غزان نے سلطان سنجر کو گرفتار کر لیا تو علاء الدین وہاں سے غزنی پہنچا۔ خسروشاہ تک جب یہ خبر پہنچی تو وہ دوبارہ بھا گ کر لاہور چلا آیا۔ یہاں 555ھ؍ 1160ء میں اس کا انتقال ہوگیا۔ اس نے 8سال تک حکومت کی۔ اس کے عہد حکومت میں بڑے بڑے شاعر ہوئے تھے۔ جنھوں نے خسرو شاہ کی مدح میں قصیدہ لکھے تھے۔ یہ شعر ایک ترجیع بند سے لیا گیا ہے:

شاہنشہ معظم خسرو شہ آنکہ آسان

باتیغ و گرز گیرد از ھندتا خراسان

قاضی بیضاوی نے اس سے اختلاف کیا ہے اور اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ خسروشاہ کا انتقال غزنی ہی میں ہوا تھا۔ علاء الدین نے جب غزنی کو تباہ وبرباد کر کے قتل کیا تھا تو وہ اپنے بھتیجوں غیاث الدین ابو الفتح اور شہاب الدین ابو لمظفر کو وہاں چھوڑ آیا تھا۔ انھوں نے وہاں مستقل سکونت اختیار کر لی تھی۔ اس دوران انھوں نے مختلف ترکیبوں سے خسرو شاہ کو اپنی امن پسندی اور وفاداری کا اطمینان دلایا تھا۔ مگر1160/555ء میں انہی کے ہاتھوںخسروشاہ گرفتار ہوا اور اسی سال اُس کا انتقال بھی ہوگیا۔ خسرو شاہ کے انتقال کے بعد غزنوی خاندان کا عہد حکومت ختم ہوگیا۔ کیونکہ اس کی تمام سلطنت شہاب الدین غوری کے قبضے میں آگئی تھی۔ چونکہ نظام الدین احمد ؒنے تاریخ نظامی میں لکھا ہے جسے انھوں نے اسے روضتہ الصفا سے اخذ کیا ہے کہ خسرو ملک ابن خسرو شاہ غزنوی خاندان کا آخر ی بادشاہ تھا اس لیے میں نے بھی انکی پیروی کی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

معزالدین کیقباد

از منتخب التواریخ سلطان بلبن نے خسرو خان کو اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *