مرکزی صفحہ » تاریخ » جلال الدین خلجی

جلال الدین خلجی

از منتخب التواریخ

691 ھ/ 1292ء میں چنگیزی مغلوں نے ہندستان پر حملہ کیا29؎ سنام کے قریب ہندستانی فوج سے ان کا مقابلہ ہوا۔ ہندستانی فوج کی قوت دیکھ کر انھوں نے ہتھیار ڈال دیے اور صلح کی گفتگو کی۔ ان کے سردار نے بادشاہ کو باپ کہہ کر فرزندی اختیار کرنے کی خواہش کی، بادشاہ نے بھی صلح کرلی اور اسے بیٹے سے مخاطب کیا۔ دونوں طرف سے بہت سے تحائف کا تبادلہ ہوا اور مغل ہندستان کی سرحد سے لوٹ گیے۔ اسی دوران چنگیز خاں کا نواسہ الغو کئی ہزار مغلوں کے ساتھ مسلمان ہوگیا اور سلطان کی حمایت میں آگیا، سلطان نے اسے غیاث پورمیں رہنے کی جگہ دے دی اور اپنی بیٹی کا اس سے نکاح کردیا۔ ان مغلوں کو لوگ نومسلم کہنے لگے۔

اسی سال کے آخر میں بادشاہ نے منداور پر حملہ کیا اور اس کے مضافات کو تباہ کرکے لوٹ لیا۔ بادشاہ کے داماد اور بھتیجے علاء الدین نے جو کڑہ کا حاکم تھا بھیکہ پر حملہ کرنے کی اجازت مانگی اور اس کو فتح کرکے کافی مال وغنیمت لے کر سلطان کی خدمت میں لوٹ آیا۔ علاء الدین بھیکہ سے ایک بت بھی اٹھا لایا تھا جس کو ہندو بہت زیادہ پوجا کرتے تھے، اسی بت کو اس نے بدایوں کے دروازے کے سامنے راستے میں ڈال دیا۔ علاء الدین کے اس کارنامہ پر سلطان بہت خوش ہوا اور اودھ کا علاقہ بھی اس کی جاگیر میں دے دیا۔

علاء الدین کی مہم پسندی

علاء الدین کو اپنی بیوی اور ساس سے بڑی رنجش تھی وہ دونوں بادشاہ کے سامنے ہی اس کی برائی کرتی رہتی تھیں۔ اس لیے اسے خطرہ تھا کہ کہیں یہ دونوں بادشاہ کو اس کے خلاف کرکے اس کو کسی خطرے میں مبتلا نہ کردیں۔ اس لیے وہ بادشاہ کی عملداری سے کسی اور طرف نکل جانا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے لشکر میں نئے آدمیوں کو بھرتی کیا اور سلطان سے چندیری پر حملے کی اجازت لے کر کڑہ آیا۔ وہاں اس نے اپنے ایک نائب علاء الملک کو متعین کرکے اسے ہدایت دی کہ کوئی ایسی کاروائی نہ ہو جو بادشاہ کی ناراضگی کا باعث بنے۔ پھر وہ کڑہ سے چل کر ایلچ پور آیا لیکن یہاں بجائے چندیری کے دیوگڑھ کے راستے پر روانہ ہوگیا۔

دکن کی فتح

چند دن تک بادشاہ کو علاء الدین کی کوئی خبر نہیں ملی جس کی وجہ سے و ہ بڑی تشویش اور فکر میں مبتلا رہا۔ ایک عرصے بعد خبر آئی کہ علاء الدین نے دیوگیر اور تقریبا سارے دکن کو فتح کرلیا ہے اور وہاں سے وہ بہت مال و دولت، ہزاروں گھوڑے، ہاتھی اور تحائف و اسباب لے کر کڑہ واپس آرہا ہے۔ یہ سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا لیکن لوگوں کو گمان تھا کہ علاء الدین نے اپنی ساس اور بیوی کے ہاتھوں بہت رنج اٹھایا ہے اور وہ دیو گڑھ بغیر اجازت کے ہی چلا گیا تھا۔ اب اس کے پاس کافی مال و اسباب بھی جمع ہوگیا ہے ممکن ہے وہ کوئی فتنہ برپا کرنے کی فکر میں ہو لیکن کسی کو جرأت نہیں تھی کہ بادشاہ کے سامنے ان اندیشوں کو ظاہر کرے، نہ بادشاہ کو ہی اطلاع تھی کہ اس کو ساس اور بیوی کے خلاف اتنا شدید رنج ہے۔ وہ اس کے خلاف جب بھی کچھ کہتی تھیں بادشاہ ان باتوں کو اہمیت نہیں دیتا اور ٹال دیا کرتاتھا۔

علاء الدین کی واپسی

جس وقت بادشاہ کو علاء الدین کی واپسی کی خبر ملی تو وہ گوالیار میں تھا۔ اس نے امراء کی مجلس مشاورت طلب کی اور ان سے کہا کہ علاء الدین اس شان وشوکت کے ساتھ آرہا ہے اب ہم چند یری کے راستے پر آگے اس کا استقبال کریں یا اس سے اسی جگہ ملیں یا دہلی واپس چلے جائیں۔

ملک احمد چپ جلال الدین کا نہایت خیرخواہ اور دانش مند وزیر تھا۔ اس نے بادشاہ کو سمجھایا کہ میری رائے میں تو یہی مناسب ہے کہ سلطان مع لشکر چندیری کی طرف کوچ کرے اور علاء الدین کو راستہ ہی میں روک لے اور جو کچھ ساز و سامان وہ لے کر آرہا ہے اس سے لے لے اور اتنی قوت رہنے نہ دے کہ وہ بغاوت کا خیال کرسکے، اس نے اپنی تائید میں ملک چھجو کی سرکشی کا بھی حوالہ دیا لیکن بادشاہ نے اس کی تجویز نہیں مانی اور یہی کہتا رہا کہ علاء الدین میرے ہی نمک کا پروردہ ہے اور میں نے ہی اسے اس بلند مرتبے پر پہنچایا ہے، میں نے اس کے ساتھ کوئی برائی نہیں کی کہ جو وہ کسی فاسد خیال کو اپنے دل میں جگہ دے۔ بعض امیر بھی ہاں میں ہاں ملانے لگے حالانکہ احمد چپ کی رائے نہایت معقول اور دوراندیشی پر مبنی تھی۔ ملک احمد نے جب مجلس کا یہ رنگ دیکھا تو وہ غصہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور جاتے جاتے کہہ گیا کہ ’’اگر خدا نخواستہ علاء الدین کڑے میں آنے کے بعد سریوندی عبور کر کے لکھنوتی کا ارادہ کرے تو میں کسی میں بھی یہ جرات نہیں پاتا کہ اس کو روک سکے‘‘۔ بہرحال بادشاہ اس خطرے کا اندازہ نہیں کر سکا جس کو احمد چپ بھانپ چکا تھا اور وہ وہاں سے کوچ کرکے دہلی چلا گیا۔

علاء الدین کی سازش

علاء الدین نے کڑے میں پہنچ کر بادشاہ کو متعدد عرضیاں لکھیں اور بہت سے ہاتھی اور تحائف روانہ کرنے کا وعدہ کیا۔ یہ بھی لکھا کہ اگر میری طلبی کافرمان صادر ہو تو حاضر ہوکر باریابی کاشرف حاصل کروں۔ لیکن ان سب باتوں سے اس کی غرض صرف یہ تھی کہ اسے کچھ مہلت مل جائے۔ اس عرصے میں اس نے لکھنوتی جانے کی تیاریاں پوری کرلیں اور اپنے چھوٹے بھائی ظفر خاں کو اودھ رخصت کردیا کہ وہ سریوندی میں کشتیاں تیار رکھے۔

جلال الدین کا پھنسنا

سادہ لوح بادشاہ نے حسب تحریر عمادالملک اور ضیاء الدین دو سرداروں کے ذریعے حاضری کا فرمان ارسال کیا۔ علاء الدین نے ان کو فوراً ہی حراست میں لے کر قید میں ڈال دیا۔ اپنے دوسرے بھائی الماس بیگ کو جو دہلی میں تھا ایک خط لکھا کہ ’’میں نے بادشاہ کی اجازت کے بغیر دیوگیر پر حملہ کیا تھا اس کو بہانہ بناکر لوگوں نے بادشاہ کو مجھ سے بدظن کردیا ہے حالانکہ میں ان کا ویسا ہی فرمانبردار فرزند اور غلام ہوں اگر وہ خود تنہا آکر مجھے لے جائیں تو میں اطاعت کے لیے موجود ہوں اور اگر بادشاہ کو مجھ پر اعتماد نہیں رہا ہے اور وہ اس کو صحیح سمجھتے ہیں جو لوگوں نے مشہور کر رکھاہے تو میں مایوس ہوکر جس طرف سینگ سمائیںگے چلا جاؤں گا پھر میرا پتہ تک نہیں ملے گا‘‘ الماس بیگ نے یہی خط بادشاہ کو سنادیا۔ بادشاہ نے اسی وقت الماس بیگ کو علاء الدین کے پاس روانہ کردیا اور کہا کہ تم چلو میں بھی پیچھے آرہا ہوں۔ الماس بیگ کشتی کے ذریعے ساتویں دن علاء الدین کے پاس پہنچ گیا، اس کو لکھنوتی چلے جانے کا مشورہ دیا لیکن بعض ہوشیار خیر خواہوں نے کہاکہ لکھنوتی جانے کی کیا ضرورت ہے؟ دیوگڑھ کے ہاتھیوں، گھوڑوں اور مال و اسباب کا لالچ بادشاہ کو اسی برسات میں یہاں کھینچ لائے گا، اس وقت وہ تمہارے قابو میں ہوگا، جو چاہو اس سے سلو ک کرو۔ ان کا یہ خیال ٹھیک تھا۔ سلطان جلال الدین کی قضا اسے کشاں کشاں اپنے بھتیجے کے پاس کھینچ لائی اور مال کی لالچ میں اس نے آگے پیچھے کا کوئی خیال نہیں کیا اور اپنے سرداروں کے ساتھ ایک ہزار سوار لے کر کڑے کی طرف کوچ کردیا۔ ملک احمد چپ کو خشکی کے راستہ لشکر لے آنے کا حکم دیا۔ احمدچپ نے بادشاہ کو اس ارادے سے روکنے کی بہت کوشش کی لیکن کچھ حاصل نہ ہوا اور وہ بڑی تیزی سے کوچ کرتے ہوئے رمضان کی سترہ تاریخ کو کڑہ پہنچ گیا۔

سلطان جلال الدین کا قتل

علاء الدین کڑے اور مانک پور کے درمیان گنگا میں اتر کر اپنی فوج کے ساتھ تیا ر کھڑا تھا۔ جب بادشاہ کے قریب آنے کی خبر سنی تو اس نے الماس بیگ کو بادشاہ کے لیے کچھ جواہر نذرانہ دے کر بھیجا کہ کسی تدبیر سے وہ اسے تنہا لشکر میں لے آئے۔ مکار الماس بیگ نے بادشاہ کے پاس جاکر بڑی چاپلوسی کی باتیں کیں اور کہا کہ اگر میں یہاں نہ آتا تو علاء الدین تو ہاتھ سے نکل ہی گیا تھا کیوں کہ دشمنوں نے آپ کی طرف سے اسے بہت بدگمان کردیا تھا، میں نے بہت کچھ اس کی دل جمعی کردی ہے لیکن آپ کی ہیبت اس کے دل پر اس طرح چھائی ہوئی ہے، حضور سے التماس ہے کہ شفقت و عنایت کا اظہار کریں اور تنہاجا کر اس کا ہاتھ پکڑ کر لے آئیں۔ بادشاہ کی توعقل پھرچکی تھی وہ ان جھانسوں میں آگیا اور ایک ہزار سواروں کو وہیں چھوڑکر چند مسلح محافظوں کو لے کر الماس بیگ کے ساتھ ہو لیا۔ کچھ دور جانے کے بعد الماس بیگ نے پھر عرض کی میرا بھائی اس قدر خوفزدہ ہے کہ وہ جب حضور کے ساتھ ان ہتھیار بند آدمیوں کو دیکھے گا تو دہشت کے مارے بھاگ جائے گا۔ بادشاہ نے اپنے آدمیوں کو ہتھیار کھول دینے کا حکم دیا۔ حالاں کہ لوگوں پر یہ بہت گراں گزرا لیکن وہ کچھ نہ کرسکے۔ جب آگے بڑھے تو ایک بڑے لشکر کو وہاں صف آرا پایا۔ محافظ سرداروں نے الماس بیگ سے کہا آخر یہ کیا معاملہ ہے تم نے ہم سے ہتھیا ر رکھوا لیے اور یہاں یہ فوج لڑائی کے لیے مستعد دکھائی دے رہی ہے۔ اس نے کہا اندیشہ نہ کرو اصل میں بھائی مع لشکر کے بادشاہ کو سلامی دینا چاہتے ہیں تاکہ ساری فوج حضور کے ملاحظے سے گزرجائے۔ ان باتوں پر بھی بادشاہ نہیں چو نکا۔ اس کو نہ معلوم کیوں ایسا اعتماد تھا کہ وہ کسی وہم میں نہ پڑا اور چلتا رہا۔ اس طرح جب کافی مسافرت طے ہوگئی تو بادشاہ نے الماس بیگ سے کہا ’’میں بوڑھا آدمی یہاں تک چلا آیا اور تیر ے سنگ دل بھائی کو اب تک یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ کسی کشتی میں بیٹھ کر میرے پاس آجاتا ‘‘۔ اس نے عرض کیا کہ ’’وہ آپ کے حضور خالی ہاتھ کیسے آئے، وہ تو اس وقت پیش کش اور نذرانوں کی ترتیب اور ہاتھی گھوڑوں کے انتخاب میں مشغول ہوگا‘‘۔ بادشاہ نے اس وقت قرآن مجید کی تلاوت شروع کردی اور عصر کے وقت تک کشتی دوسرے کنارے پہنچی۔ بادشاہ کشتی سے اتر کر جب مقررہ مقام پر پہنچا توعلاء الدین اپنی جمعیت کے ساتھ آگے بڑھ کر آیا اور حکمراں چچا کے قدموں میں گرگیا۔ بادشاہ نے اسے اٹھایا اور مسکرا کر محبت سے اس کے رخساروں پر ایک طمانچہ مارا اور اسے نصیحتیں کیں اور اپنے شوق ملاقات کا حال بیان کیا۔ وہ تسلی آمیز باتیں کرتے ہوئے اس کا منھ چومتا جاتا اور اپنے قریب کھینچتا جاتا تھا۔ اسی عالم میں بدبخت بھتیجے نے بادشاہ کا پنجہ زور سے پکڑ لیا اور اپنے آدمیوں سے جو پہلے سے تیار کھڑے تھے اشارہ کیا۔ اس کے اشارے پر محمود سالم ایک کمینے شخص نے جو سامانہ کا رہنے والا تھا بادشاہ پر تلوار سے حملہ کردیا۔ بادشاہ زخمی ہو کر کشتی کی طرف بھاگا اور کہا علاء الدین نامراد یہ تونے کیا کیا؟ اتنے میں اختیار الدین نے جو بادشاہ کا پروردہ تھا پیچھے سے ایسا کاری ہاتھ مارا کہ اس کا کام تمام ہوگیا اور سر کاٹ کر علاء الدین کے پاس لے آیا۔ اس کے حکم سے بادشاہ کا سر ایک نیزہ پر چڑھا کر کڑے اور مانک پور میں گھمایا گیا۔ اس کے بعد بریدہ سر کو اودھ بھیج دیا گیا بادشاہ کے تمام ساتھیوں کو بھی وہیں قتل کردیا گیا، ان میں سے کچھ دریا میں کود کر ڈوب گیے۔ ملک فخرالدین کو زندہ گرفتار کرلیا گیا۔

قدر خان کی تخت نشینی

جب احمد چپ کو اس حادثہ کی اطلاع ملی تو وہ فوراً دہلی لوٹ گیا۔ ارکلی خاںجو بادشاہ کا بڑا بیٹا اور تخت کا وارث تھا ان دنوں ملتان میں تھا۔ احمد چپ نے اس کاانتظار کرنا مناسب نہیں سمجھا اور چھوٹے شاہزادے قدر خان کو سلطان رکن الدین ابراھیم کا خطاب دے کر ملکہ جہان کے تعاون سے تخت نشین کردیا۔ مرحوم سلطان کے تمام امراء نے بھی قدر خان کو بادشاہ تسلیم کرلیا اور مبارک باد دی۔ لیکن قدر خان کی بادشاہت برائے نام رہی ۔

دہلی پر قبضہ

علاء الدین نے اسی دن جس دن کہ جلال الدین شہید ہوا تھا چتر شاہی سر پر رکھ کر تخت سلطنت پر جلوہ افروز ہوا او بارش کے باوجود وہ دن رات دہلی کی جانب بڑھتا رہا اور دہلی پہنچا۔ راستے میں اس نے کافی اشرفیاں اور دوسرے قیمتی سامان لوگوں میں خیرات اور انعام کے طور پر تقسیم کیے۔ جب وہ بدایوں پہنچا تو اس کے لشکر میں ساٹھ ہزار سوار تھے۔ ملک رکن الدین چونکہ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا اس لیے وہ ارکلی خاںکے پاس ملتان چلا گیا۔

علاء الدین نہایت اطمینان کے ساتھ دہلی پہنچ گیا 31؎ وہاں اس نے جمنا کے کنارے ایک باغ میں قیام کیا۔ قدیم امراء اور سردار روپے کے لالچ میں اس سے آکر مل گیے۔

عہدِ جلال الدین کے شعرا

سلطان جلال الدین کی شہادت کاحادثہ 17؍ رمضان 694ھ / 1295ء کو پیش آیا۔ سات سال اس نے سلطنت کی مرحوم سلطا ن کو شعروسخن کا بھی خاصا ذوق تھا۔ سلطان معز الدین کے قتل کے بعد امیر خسرو کو اس نے اپنی مجلس میں شریک کرلیا تھا۔ بادشاہ کا مصحف ان کی تحویل میں رہتا تھا اور ہر سال ان کو ایک بھاری خلعت ملتی تھی۔ اس کے ندیموں میں امیر حسن، مؤید امیر ارسلان کاتبی، سعد منطقی اور قاضی خطیب جیسے صاحب علم و ادب لوگ شامل تھے۔ اسی عہد کے سب سے بڑے عالم قاضی مغیث ہانسوی تھے۔

جن کی ایک غزل بہت مشہور ہے۔ یہ غزل فن غزل گوئی کا ایک نادر نمونہ تھی اسے اُنیس بحروں میں پڑھ سکتے تھے ۔اس غزل کا مطلع ہے:

دو دُر گوش وقد خوش دو خد خو ب وخط تر

فرتو فری پری وپری وبا کرّ وفرّ

سلطان جلال الدین خود بھی شعر کہتا تھا ۔ اس کا نمونہ کلام درج ذیل ہے:

آن زلف پر یشانت ژولیدہ نمی خواہم

وآن روئی چو گلنارت تفسیدہ نمی خواہم

بی پیر منت خواہم یک شب بکنارآئی

ھان بانگ بلندست این پوشیدہ نمی خواہم

سلطان نے جس زمانہ میںگوالیار کا محاصرہ کیاتھا تو وہاں اس نے ایک بڑاگنبد تعمیر کرایا تھا اس کے کتبہ کے لیے خود ہی یہ رباعی کہی تھی:

ماراکہ قدم بہ سرگردون ساید

از تودۂ سنگ وگل چہ قدر افزاید

این سنگ شکستہ زان نہادم درست

باشد کہ دل شکستہ آساید

سلطان نے اس رباعی کو ہم نشیں شاعروں، خاص طور پر سعد منطقی کو سنا کر اس پر تنقید و جرح کر نے کاحکم دیا۔ سب نے بے حد تعریف کی اور کوئی غلطی نہیں بتائی۔ سلطان نے کہا تم لوگ میرا پاس ولحاظ کررہے ہو اس رباعی کے عیب میں خود ایک دوسری رباعی میں ظاہر کر دیتا ہوں:

باشد کہ درین جا گزر کس باشد

کس خرقہ ردائی چرخ اطلس باشد

شاید کہ زیمن قدم میمونش

یک ذرہ بمارسد ھمان بس باشد

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

غیاث الدین بلبن خورد

از منتخب التواریخ الغ خانی خطاب تھا 664 ھ/ 1265ء میں تمام امراء اور ملوک …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *