مرکزی صفحہ » فکشن » افسانے » جب طوفان گذر چکا

جب طوفان گذر چکا

قرۃالعین حیدر

تو کبوتر آسمانوں سے نیچے اترا۔ اور اس کی چونچ میں زیتون کی ایک سبز ڈالی تھی اور اس ڈالی کو دیکھ کر وہ سب زمین کی اس وادی میں پہنچے اور خدا وند خدا کی بزرگی کا نشان قائم کرنے کے لیے آس پاس کی پہاڑیوں کے نیلے بھورے پتھر جمع کرکے انہوں نے ایک عبادت گاہ بنائی۔ اور اس میں وہ آسمانوں کے بادشاہ کی حمد کرنے لگے جس نے انہیں طوفان سے بچایا۔ اور تب خدا وند اسرائیل کے خدا کا جلال زیادہ ہوا اور کائنات نور سے معمور ہوگئی اور وادی میں رنگ برنگے پھول کھل گئے۔ اور خانقاہ کے چاروں طرف انگور کی بیلیںاور زیتون اور انجیر کے درخت اُگ آئے۔

اور یوں ہوا کہ اس خانقاہ میں از ابلا رہتی تھی۔ جو لوریٹو کی مریم کی کنواریوں میں سے ایک تھی۔ اس کے بالوں کی لٹیں سرخی مائل سنہری اور اس کی آنکھیں نیلی اور بچوں کی طرح بڑی بڑی تھیں۔ اور اس کی پیشانی پر فرشتوں کا تقدس جھلکتا تھا اور ازابلا خانقاہ کی سب سے زیادہ خوب صورت‘ سب سے زیادہ خوش آواز اور سب سے زیادہ نیک لڑکی تھی۔ جب وہ صبح کی سروس کے وقت موم بتیوں کی دھندلی روشنی میں کوائر کے ساتھ ’’ ہیل میری فل آف گریس‘‘ گاتی تھی تو قربان گاہ کے پیچھے محرابوں کے اندھیرے میں فرشتوں کے پروں کی سرسراہٹ سنائی دینے لگتی تھی اور ازابلا خانقاہ کے مدرسے کی سب سے زیادہ ذہین اور سب سے زیادہ ہردلعزیز طالب علم تھی۔ وہ ہمیشہ اچھی اچھی باتیں سوچتی تھی اور اچھی کتابیں پڑھتی تھی اور اچھی فلم دیکھتی تھی____ ایک قدم جنت میں ’’اور برنادیت کا نغمہ‘‘ اور ’’ بادشاہت کی کنجیاں‘‘ اور اس طرح کے سارے فلم اس نے دیکھ رکھے تھے۔ اور جب ازابلا خانقاہ کی دوسری کنواریوں کے ساتھ لوریٹو کی مریم کی مقدس راہبات کی نگرانی میں وادی کے خوب صورت سایہ دار راستوں پر سے گزرتی ہوئی کیتھڈرل یا وادی کی طرف جاتی تو راہ گیر ایک دوسرے سے سرگوشی میں کہتے آج بھگتن کے اسکول کی بابا لوگ ٹہلنے جارہی ہیں یا کالا اسکول آج سنیما جارہا ہے۔

اور اس سرسبز وادی میں رہنے والی ازابلا کی خانقاہ کالا اسکول اس لیے نہیں کہلاتی تھی کہ اس میں کالا لوگ پڑھتے تھے بلکہ اس لیے کہ اس کی راہبات کا لباس سیاہ اور اس کی لڑکیوں کے فراک سیاہی مائل نیلے ہوتے تھے اور اس خانقاہ کا خدا خاص الخاص گورے لوگوں کا خدا تھا اور کالوں کی روحانی اصلاح اور تربیت کے لیے خانقاہ کے باغ کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا چیپل الگ سے بنا دیا گیا تھا کیوں کہ طوفان کے بعد ہی خدا وند مسٹر نوح کے خدا کے کالے کالے بچوں کے لیے کشتی میں چند نشستیں علاحدہ ریزور کردی گئی تھیں اورخدا وند خدا کے یہ کالے کالے بچے گورے بچوںکے خانے میںکسی طرح داخل نہ ہوسکتے تھے۔

اور یوں ہوتاکہ مقدس مریم کی سیاہ پوش راہبات خانقاہ کی لمبی سفید کار میں جب باہر نکلتی تھیں تو کار کی کھڑکیوں پر کریب ڈی شین کے نیلے پردے کھینچ دیئے جاتے تھے۔ کیوں کہ وہ ناپاک دنیا کی خرافات کے نظاروں سے اپنی پاک اور معصوم نگاہوں کو ملوث نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ اور یوں ہوتا کہ یسوع کے سیدھے راستے پر چلنے والی ایک اچھی کیتھولک کی طرح ازابلا بھی خانقاہ کی دنیا سے باہر اپنی بڑی بڑی نیلی آنکھیں ہمیشہ نیچی رکھتی۔ اور جب نومبر اور دسمبر کے برفانی مہینوںکا کہرا وادی پر چھا جاتا تو ازابلا دوسری لڑکیوں کے ساتھ خانقاہ کے بڑے ہال میں آتش دان کے قریب بیٹھ کر الجبرا کے سوال حل کرتی اور وادی کے غرب بچوں کے لیے اونی چیزیں تیار کرتی۔ اور جب باہر برف گر رہی ہوتی اور دیودار کے درختوں کی ساری ٹہنیاں اورخوبانی اور آلوچے کے سارے پیڑ نرم نرم سفیدبرف سے لد جاتے تو وہ سب بڑے بڑے دریچوں والے موسیقی کے کلاس روم کے لکڑی کے فرش پر جمع ہو کر اپنے پسندیدہ رقص کرتیں اور پیانو پر رکھے ہوئے چاندی کے اونچے شمع دانوں کی روشنی میں کنواری مریم کی تقدیس کے گیت گاتیں اور فرصت کے لمحوں میں ازابلا اپنی رفیق کے ساتھ دریچے کی نشست پر بیٹھ کر میڈونا کی تصویریں بناتی اور اسی طرح کی دوسری اچھی اچھی باتیں کرتی۔

پراکثر ازابلا کو بہت دکھ ہوتا کہ اس کی عزیز ترین دوست کا جی ایسی اچھی اچھی باتوں میں نہیں لگتا۔ وہ خانقاہ بھر میں اس کی سب سے پیاری سہیلی تھی اور وہ اس کے ساتھ پڑھتی تھی اور روز میری میں ان کے برف جیسے سفید پلنگ بھی پاس پاس تھے اور اس کا نام راحیل تھا۔

اور یوں ہوتا کہ راحیل بائبل ہسٹری کے سبق کبھی یاد نہ کرتی اور __ (Maculate conception…..) کی تھیوری سمجھنے کی کوشش کرنے کے بجائے مطالعے کے گھنٹے میں وہ اپنے چچا زاد بھائی عمران کو لمبے لمبے دل چسپ خط لکھا کرتی جو اس برفانی وادی سے بہت دور پہاڑوں کے اس پار ان سبز میدانوں میں رہتا تھا۔ جن میں سے پگھلی ہوئی چاندی جیسے کئی دریا بل کھاتے ہوئے گذر کے مشرقی سمندروں میں جاگرتے تھے۔ اور راحیل کی کتابوں میں مریم اور اس کے الوہی بیٹے اور مقدس خاندان اور مشرق کے تینوں عقل مند بادشاہوں کی رنگین تصویروں کے ساتھ عمران کی تصویریں بھی رکھی رہتیں۔ بلکہ عمران کی تصویروں کی تعداد زیادہ تھی۔

اور ازابلا کو یہ سب جان کر بڑا دکھ ہوتا ۔ رات کو جب دعائے شب کے بعدخانقاہ کی روشنیاں بجھا دی جاتیں اور مدر اینجیلا ڈور مٹری کا چکر لگا کر اپنے حجرے کی طرف چلی جاتیں تو ازابلا اپنے چھوٹے سے سفید بستر کے پاس دوزانو جھک کر زیر لب سوتے وقت کی دعا دہراتی: ’’ مقدس مریم‘ خدا وند کی ماں ہم گنہگاروں کے لیے دعا کیجئے‘‘ اور پلیز میری راحیل کے لیے بھی دعا کیجئے۔ ‘‘ پھر وہ سوجاتی اور سوتے میں اسے لگتا جیسے اس کے پلنگ کے آس پاس خوب تیز روشنی ہو رہی ہے اور ورجن میری نے راحیل کو معاف کردیا ہے کیوں کہ اس نے عمران کو خط لکھنا چھوڑ دیا ہے اور اس کی ساری تصویریں آتش دان میں پھینک دی ہیں۔

اور سردیوں کی ایسی راتوں میں جب برفانی ہوائیں خانقاہ کے دریچوں سے ٹکرا کر شور مچاتی تھیں ازابلا کو اپنی پر سکون نیند میں بڑی اچھی اچھی سنہری دھوپ کا سماں دکھائی دیتا تھا پر پھیلائے ہوئے فوارے کے چاروں طرف سفید خوشبودار پھولوں کے انبار ہی انبار اور رو پہلے پروں والے فرشتوں کے بازوؤں میں آسمان کی بلندیوں کی طرف اٹھتی ہوئی مقدس کنواریاں۔ اور دور دراز کی صحرائی اور کوہستانی خانقاہوں میں رہنے والے اور بانسریوں پر الوہی نغمے چھیڑتے ہوئے خوب صورت راہب اور اسی طرح کی اور بہت سی چیزیں جو راحیل کو ہرگز نظر نہ آسکتی تھیں۔

اورایک بار ایسا ہوا کہ بہار کی ایک خوش گوار سہ پہر جب کہ خانقاہ کی فضا پر ایک مطمئن اور بشاش سکوت چھایا ہوا تھا۔ سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے کچھ راہبات باغ کی کیاریوں میں کام کر رہی تھیں‘ باورچی خانے میں یسوع کے دوبارہ زندہ ہو جانے کی عید کے لیے انڈے رنگے جارہے تھے اورکلاسوں میں خاموشی سے پڑھائی ہو رہی تھی۔ یکایک سیب اور بادام کے جھنڈ میں چھپے ہوئے عبادت خانے کا گھنٹہ زور زور سے بجنے لگا اور سب کے دل ایک لحظے کے لیے ڈوب سے گئے اور بخشش کی دعائیں لبوں پر لرز اٹھیں کیوں کہ یہ گھنٹہ اتنے زور زور سے اوربے وقت تب ہی بجایا جاتا تھا جب خانقاہ کے کسی باسی کی روح دنیا کے پل کو عبور کر کے ابدی خلائے بے کراں میں جاسماتی تھی اور سب اپنی اپنی جگہوں سے اٹھ کر قطار در قطار خاموشی سے عبادت خانے کی طرف جانے لگے۔ کیوں کہ سسٹر ایڈونا کو جو ایک عرصے سے سخت ترین جسمانی تکالیف انتہائی صبر و سکون سے برداشت کر رہی تھی مریم نے اپنے پاس آسمانوں پر بلا لیا تھا۔ راہبات کے چہروں پر مسرت جھلک رہی تھی۔ وہ کتنی خوش قسمت تھی کہ اتنی جلدی اس کم عمری میں مریم کے پاس پہنچ گئی اورجتنی راہبات اور لڑکیاں ایڈونا کے آخری وقت میں اس کے پاس موجود تھیں انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ اس کا نیلے پتھروں والا حجرہ ایک لحظے کے لیے آسمانی نور سے جگمگا اٹھا تھا اور اس نے اس نور میں مریم کا جگمگاتا چہرہ دیکھ کر ہوا میں اپنے بازو پھیلا دیئے تھے۔ کتنی قابل رشک موت تھی اور جب اس کے جنازے کے جلوس کے آگے اونچی اونچی شمع دانیں لیے مقدس باپ ناشپاتی اور سیب کے جھنڈ کے سایوں میں کھو گئے اور جب چیپل میں اس کی موت کا ماس ختم ہوگیا اور سب باری باری قربان گاہ کے کالے پردے کو چوم کر نیچے اترآئے تو راحیل سب سے آخر میں شاہ بلوط کا بھاری سفید روغنی دروازہ آہستہ سے بند کرکے عبادت خانے کی پچھلی سیڑھیوں پر آکر بیٹھ گئی اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اس کے قریب ہی ایک پتھر پر ازابلا دعا کی کتاب بند کر کے خاموشی سے بیٹھی کچھ سوچ رہی تھی اور پھر اس نے راحیل سے کہا مت روؤ راحیلہ ‘ ایڈونا سویٹ جینرس کے بازوؤں میں پہنچ چکی ہے لیکن راحیل کی سمجھ میں یہ قطعی نہیں آیا وہ کہتی رہی ایڈونا کیوں مرگئی‘ کیوں مرگئی اور ازابلا لرز اٹھی۔ راحیلہ ایسی کفر کی باتیں کیوں سوچتی ہے پھر اسے یاد آیا کہ وہ یسوع کے گلے میں شامل نہیں ہے اور بپتسمہ کی نعمت سے محروم رہی ہے۔ اسی لیے راحیل پھر چلا اٹھی۔ کہاں ہے تمہارا سویٹ جینرس۔ اور ازابلا نے جلدی سے صلیب کا نشان بنا لیا اور سوچنے لگی کہ اسے خدا سے کوئی شکایت نہیں‘ وہ اپنی دنیا اور اپنی زندگی سے بے حد مطمئن ہے اور پھر اس نے خدا وند کی بے شمار رحمتوں ‘ برکتوں اور نعمتوں کے لیے اس کا شکریہ اداکیا۔

اور دن اسی طرح گزرتے رہے۔ ایسٹر کے بعد موسم گرما کی ہوائیں چلنے لگتیں اور راحیلہ اورخانقاہ کے بورڈنگ کی بہت سی لڑکیاں اپنے گھروں کو چلی جاتیں اور بارشوں کا زمانہ آنے پر خانقاہ مدرسہ دوبارہ کھلتا۔ پھر پت جھڑ کے مہینے آتے اور سردیوں کی آمد کے ساتھ ساتھ کرسمس کے استقبال کی تیاریاں شروع ہو جاتیں۔ فضا میں کرسمس کے نغمے گونجنے لگتے اور خاموش اندھیری راتوں میں الاؤ کے گرد بیٹھ کر پر انی اور محبوب حمدیں گائی جاتیں __ سائیلنٹ نائٹ، ہولی نائٹ ہولی نائٹ، ہولی مدراینڈ دی چائیلڈ اور سٹار آف ونڈر اسٹار آف لائٹ __ والے گیت اور بیت اللحم کا ستارہ اسی تابانی سے جھلملاتا جیسے اس رات بیت الحم کے اس اصطبل پر جھلملایا کرتا تھا جہاں خدا وند خدا کے اکلوتے بیٹے نے بھو سے کے ڈھیر پر جنم لیا تھا ۔ پھر کرسمس کا شان دار پیجنیٹ ہوتا اور اس کے بعد سال نوکی ضیافت مریم اور سینٹ پال اور سینٹ فلورا اور ساری مقدس روحوں کے تہواروں کی خوشیاں منائی جاتیں اور پھر اسی سیدھے راستے پر سے گزرنے کے لیے زندگی کا ایک اور سال شروع ہوجاتا اور ازابلا انتہائی اشتیاق سے اس وقت کی منتظر تھی جب تعلیم ختم کرنے کے بعد اسے ’’ ہماری لوریٹوکی لیڈی‘‘ کے آرڈر میں باقاعدہ داخل کر لیا جائے گا۔ اور اس کی سرخی مائل سنہری لٹوں کو مونڈ کر اس کا سر سفید چھجے والے سیاہ ہڈ میں اور اس کی پیشانی سفید پٹی میں چھپا دی جائے گی اور جب وہ ایک ملکوتی وقار کے ساتھ اپنی کمر سے نقرئی صلیب کی زنجیر لٹکائے اپنا سیاہ لبادہ سرسراتی خانقاہ کے برآمدوں اور غلام گردشوں میں سے گزرا کرے گی تو راحیلہ کے بچے اپنے ساتھیوں کو فخریہ بتائیں گے کہ ان کی ممی نے سسٹر ازابلا کے ساتھ پڑھا تھا۔ پھر ایک مبارک وقت ایسا آئے گا جب اس کی دنیاوی زندگی کے دن خدا وند کی مرضی کے مطابق پورے ہوجائیں گے اور اسے اوپر اٹھا لیا جائے گا اور اسے باغ کی سایہ دار روشوں پر سے اسی طرح لے جائیں گے جیسے ایڈونا کو لے گئے تھے اور اس کے سیاہ تابوت کے ساتھ بہت سی شمعیں ہوں گی جس طرح کور پس کرسٹی کے تہوار کے جلوس میں سب کے ہاتھوںمیں ایک ایک اونچی سی شمع ہوتی ہے۔

اور ازابلا یہ سب سوچ سوچ کر بے حد خوش ہوا کرتی اور اسکول کے پہلے گھنٹے میں دینیات کے وقت قریب بیٹھی ہوئی راحیلہ کو چپکے چپکے ساری ضروری باتیں یاد کرا دیتی۔ پیدائش کا بیان اور رومیوں کا خط اور داؤد کے نغمے اور یوحنا اور لوقا کے باب تاکہ اگر مدر سپریر پڑھاتے پڑھاتے کوئی سوال کر بیٹھیں تو راحیلہ کو سٹپٹانا نہ پڑے۔ اور وہ پڑھتیں۔ اور خدا کی روح سمندر کی سطح پر منڈلا رہی تھی اور یہ چھٹا گھنٹہ تھا اور یسوع نے کہا خدا وند خدا میرے باپ کا جلال زیادہ ہو اور وہ زیتون اور انجیر اور شراب اس کے سامنے لائے اور یہ اٹھارواں گھنٹہ تھا اور اس نے تھوڑی تھوڑی مچھلیاں سب کو دیں۔ اور یوں ہوا کہ وہ مچھلیاں اتنی ہی رہیں اور خدا وند خدا نے ایک کبوتر آسمان سے کنواری مریم کے پاس بھیجا اور یوں ہوا کہ وہ روح القدس سے بھر گئی__ اور یوں ہوا__

اور پھر یوں ہوا کہ ایک شام راحیل کی اٹھارویں سالگرہ کی ضیافت کے موقع پر جب اس نے دیکھا کہ راحیل عمران کے علاوہ اور بہت سے نوجوانوں سے بھی اسی طرح ہنس ہنس کر باتیں کر رہی ہے‘ جو باتیں اسے صرف عمران سے ہی کرنی چاہیں تھیں تو اسے یہ بات اس قدر خوف ناک طور پر نامناسب معلوم ہوئی کہ اس نے چاہا کہ چپکے سے فوراً صلیب کا نشان بنالے لیکن وہ ایسا نہ کرسکی کیوں کہ دوسرے لمحے ایک شان دار اور خوب صورت نوجوان جو کافی دیر سے پیانو کے قریب کھڑا اپنی سیاہ آنکھوں کے تبسم کے ذریعے ایوان رقص میں موجود ساری خواتین کے نازک اور معصوم دلوں پر سینکڑوں بجلیاں گرا رہا تھا اس کے پاس آگیا اور رومال سے پیشانی پونچھ کر بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس سے کہنے لگا: کہ آج کی شام کس قدر گرم ہے اور ازابلا نے جو کہ اپنی خوش خلقی کے لیے مشہور تھی‘ اس کی رائے سے اتفاق ظاہر کیا۔ اور پھر جب آرکیسٹرا کے سازوں پر زور زور سے چوٹیں پڑنا شروع ہوئیں تو راحیل اپنے مہمانوں کو فردا فرداً محظوظ کرتی ہوئی ان کی طرف بھی آئی اور اس نوجوان کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھسیٹتی ہوئی فلور پر لے گئی۔ جہاں وہ رقص کرنے والوں کے مجمع میں کھو گیا اور پھرایسا ہوا کہ دوسرا ناچ شروع ہونے سے قبل کے وقفہ میں راحیلہ نے ازابلا کا اس سیاہ متبسم آنکھوں والے نوجوان سے تعارف کرایا۔ چنانچہ یوں ہوا کہ اس نے ازابلا سے درخواست کی اگلے اسپینش والز میں وہ اس کے ساتھ ناچے اور رقص کے بعد اس نے دوبارہ گرمی کی زیادتی کی شکایت کی اور پھر وہ ہال سے باہر آکرنیچے باغ میں اتر گئے۔ اور وہ فوارے کے قریب ستاروں کے نیچے بہت دیر تک بے حد دل چسپ باتیں کرتا رہا۔ اور اس نے بتایا کہ وہ کون کون سے ملکوں میں گھوم چکا ہے اور کیا کیا چیزیں دیکھ رکھی ہیں‘ پھر اس نے ازابلا سے پوچھا کہ اس نے کون سے نئے فلم دیکھے ہیں اور کیا کیا کتابیں پڑھی ہیں اور اسے فرانسیسی‘ لاطینی اور جرمن کے علاوہ اور کون کون سی زبانیں آتی ہیں اور اسی طرح کی بہت سی باتیں اور اس نے یہ بھی بتایا کہ اسے جرمن موسیقی سے عشق ہے اور زرد گلاب کے پھولوں سے اور دھوپ کی رنگت والے سرخی مائل نارنجی بالوں اور نیلی آنکھوں سے ‘ اور اس وقت ہوا گرم تھی اور اس میں زرد گلاب کے شگوفوں کی خوشبوئیں ملی ہوئی تھیں اور راحیلہ کے خوب صورت باغ کے کنارے پل کے نیچے کوہستانی ندی مدھم سا شور کرتی بہہ رہی تھی اور جگمگاتی ہوئی دنیا ان کے چاروں طرف دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ اور پہاڑی راستوں پر چرواہے بانسریاں بجاتے ہوئے گذر رہے تھے۔اور ایوان رقص میں اس کی طرح کے اور بہت سے شان دار اور سیاہ لباسوں والے آدمی خوب صورت عورتوں سے اسی قسم کی باتیں کر رہے تھے۔ اور چاندی کے برتنوں پر برقی فانوسوں اور تیزی سے گھومتے ہوئے سفید برقی پنکھوں کا عکس جھلملا رہا تھا۔

اور دوسری جگمگاتی ہوئی روشن صبح ازابلا دوسرے مہمانوں کے ساتھ راحیلہ کی خوب صورت جھنڈ کی سیر کرکے واپس آرہی تھی تو اس نے دیکھا کہ باغ کے سرے پرندی کے پل کے پاس پچھلی رات کا ساتھی چند اور آدمیوں کے ساتھ کھڑا گھوڑوں پر زین کسوا رہا ہے اور جب وہ ان کے قریب سے گزری تو وہ تعظیماً اپنی ٹوپی اتار کر مسکرا دیا اور پھر اپنے دوستوں کی طرف مڑ کر ان سے باتوں میں مصروف ہوگیا۔

اور پھر دوسری شام آئی اور راحیل کے گھر پر طعام شب کے بعد اسے اچانک یاد آیا کہ یہ سینٹ فرانسس کے تہوار کی رات ہے اوراس نے گھبرا کر اپنے چاروں طرف دیکھا اور اسے ایسا معلوم ہوا کہ اس مقدس رات کے احترام کی پرواہ کسی کو نہیں۔ سب لوگ کھیل کود میں بے طرح مصروف تھے۔

اور تب ایسا ہوا کہ اس رات اس نے نیندوں کی بستی میں پہنچ کر دیکھا کہ راحیلہ کے مہمان خانے کی خوب صورت نیل گوں خواب گاہ میں خوب تیز روشنی ہورہی ہے اور فصا میں فرشتوں کے نغمے لرزاں ہیں اور پھر اسے ایک بے حد خوب صورت اور شان دار آدمی نظر آیا جس نے گہرے عنابی رنگ کا لباس پہن رکھا تھا اور اس کی ٹوپی میں ایک لمبا سا نیلا پر لہرا رہا تھا اور اس کے ہاتھ میں چاندی کی بانسری تھی اور ازابلا صلیب کا نشان بنا کر فوراً دوزانو جھک گئی۔ ’’سینٹ فرانسس‘‘ ___اس نے خوشی سے بھرپور آواز میں آہستہ سے کہا اور اس شخص نے اپنی بانسری کو جنبش دے کر بے حد شیریں اور بے حد گہری آواز میں جیسے کہیں دور ڈینیوب کے پانیوں پر چاندنی رات میں گٹار بجایا جارہا ہو‘ اسی آہستگی سے جواب دیا: ’’ میں سینٹ فرانسس قطعی نہیں ہوں‘‘۔ اور پھر وہ ایک قہقہہ لگا کر غائب ہوگیا اور روشنی بجھ گئی اور فضاؤں کے راگ بند ہوگئے ۔ اور ازابلا اسی طرح دوزانو بیٹھی رہ گئی اور یک لخت اس نے محسوس کیا کہ نیندوں کی بستی کی ساری شمعیں ماند پڑتی جارہی ہیں اور پھر خواب گاہ کے خوب صورت نیلے ایرانی قالین پر سے اسے بازوؤں کی مضبوط گرفت میں کسی نے اوپر اٹھا لیا اور دریچے سے باہر چاندنی رات کی ہوائیں چلنا بند ہو گئیں اور فضا میں گرمی بڑھ گئی۔

اور یوں ہوا کہ ایک کبوتر مریم کے پاس آیا اور یوں ہوا کہ وہ روح القدس سے بھر گئی۔

______________________________________________

سنہ اشاعت نا معلوم۔ ’’شیشے کے گھر‘‘ میں شامل ہے۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

آسماں بھی ہے ستم ایجاد کیا!

قرۃالعین حیدر جولائی ۴۴ء کی ایک ابر آلود سہ پہر جب وادیوں اور مکانوں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے