مرکزی صفحہ » فکشن » افسانے » انت بھئے رت بسنت میرو

انت بھئے رت بسنت میرو

قرۃالعین حیدر

لکڑی کا چھوٹا سا سفید پھاٹک کھول کر ٹونی پنیزی کی کیاری میں کود آیا۔ چاروں اور پھول کھلے تھے۔ زمین میں ابھی پانی دیا گیا تھا۔ بھیگی ہوئی گھاس میں ٹونی کے چھوٹے چھوٹے فل بوٹ چمکنے لگے۔ چند کنکروں کو ادھر اُدھر ٹھوکر مار نے کے بعد اس نے فاتحانہ انداز سے ہرے رنگ کے پردوں والے مکان کی طرف دیکھا جو سڑک کی دوسری جانب ٹونی کے آمد کی مطلق کوئی پروا نہ کرتے ہوئے چپکا کھڑا تھا۔ ٹارا لارا ٹا لارا __ پھاٹک کے جنگلے پر چڑھ کر ٹونی زور سے چلایا۔ پنیزی کے پھول ابھی سو رہے تھے۔ ایک قطار میں ہولی ہو کس کھڑے تھے۔ ان کے چوڑے پتوں پرسے پانی کی بوندیں گھاس میں گر جاتیں۔ درختوں کی ٹہنیوں میں سے دھوپ چھن رہی تھی۔ حوض کی ٹوٹی ہوئی مڈیر پر وہ اطمینان سے بیٹھ گیا۔ اب یہاں وہ مزے سے رائے روجرز کی کہانی کا دوسرا حصہ پڑھے گا۔ جس میں اس نے سات ریڈ انڈین مارے۔

سامان اتار کر برآمدے میں رکھا جارہا تھا۔ پھاٹک تک صندوق اورکریٹ بکھرے ہوئے تھے۔ سب سے پہلے اس کا سرخ اسکوٹر ٹرک میں سے اتارا گیا تھا۔ ابوکے اسپینارڈ دوست اس کے کتے کی دیکھ بھال میں لگے ہوئے تھے۔ ابو جو اس کے لیے اسکیٹس لائے تھے۔ انہیں پہن کر وہ اسکیموز کے ملک کی طرف سفر کرے گا۔ اور روکیز میں جاکر لون رینجر سے ملاقات کرے گا۔

’’ ای ہو__ ‘‘ ابو چلائے۔ برآمدے کی سیڑھیوں پر تینوں اسپینش دوستوں کے ساتھ بیٹھے وہ نہایت زور شور سے گا رہے تھے۔ ٹونی کو دیکھ کر انہوں نے زور سے ہوامیں ہاتھ ہلایا۔ ہرے پردوں والے مکان کی طرف بشاشت سے نظر ڈالی۔ جہاں اوپر سے برآمدے کی ریلنگ کے سہارے کوئی لڑکی دھوپ کے رخ بیٹھی نٹنگ کر رہی تھی ۔ یہاں اس کی صورت صاف دکھائی نہ دیتی تھی۔ لیکن اس کے بال جو ہوامیں اڑ رہے تھے اتنی دور سے بہت اچھے معلوم ہوتے تھے۔

’’ ای ہو __ ٹونی۔ ویٹ از سم ڈیم __ واٹ __ ؟ ‘‘ ابو نے اسے مخاطب کر کے کہا۔ پھر وہ اور ان کے دوست کسی بات پر بے حد محظوظ ہوئے۔ غالباً‘‘ وہ لوگ راستے بھر جو مسخرے پن کی باتیں رہی تھیں ان کا تذکرہ تھا۔ ابو نے لائیٹر کو ٹھونک بجا کر ٹھیک کرنا شروع کردیا تھااور اپنے تینوں دوستوںکے ساتھ نہایت بشاشت سے جٹ طیاروں کے انجنوں پر تبادلہ خیال کر رہے تھے ۔ ٹونی نے بے حد سمجھ داری سے ان پر نظر ڈالی۔ ’’ بالکل ٹھیک ہے ابو اتنی پیاری دنیا میں تم کو ہم سب کواس سے بھی زیادہ خوش ہونا چاہئے۔ اگر تم چاہو تو تم بھی میرے ساتھ بیٹھ کر رائے روجرزکا قصہ پڑھ سکتے ہو۔ لیکن تمہارے جوتوں کے بوجھ سے سارے پھول ٹوٹ جائیں گے۔‘‘ احتیاط سے اس نے پنیزی کے پتوں کو چھوا۔

پر اسرار صندوق اب فرش پر ادھر ادھر گھسیٹے جارہے تھے۔ کئی دن تک ابو بچوں کی سی خوشی کے ساتھ کمرے سجانے میں جٹے رہیں گے۔ پھر وہ ابو کے ساتھ مل کر پچھلے برآمدے میں اپنی ورک شاپ تیار کرے گا۔ ممی کا اس کی اور ابو کی اس علاحدہ دنیا سے کچھ زیادہ تعلق نہ تھا۔ ٹونی اور ابو ۔ اس کو اپنی اہمیت کا شدت سے احساس ہوا۔ تصویروں والی کتاب اٹھا کے اور اپنا کوٹ بڑے آدمیوں کی طرح کندھے پر لٹکا کر بہت مدبرانہ انداز سے روش پر چلنا شروع کیا۔ ’’ میں تم سب کے محسوسات کو اچھی طرح سمجھتا ہوں۔‘‘ برآمدے کی سیڑھیوں پر جمع ابو اور ان کے دوستوں کو یگانگت کے احساس کے ساتھ دیکھا اور روش پر چلتا رہا۔ ممی تیزی سے سامنے سے گذر گئیں۔ اس نے ان کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا۔

’’ ای ہو__ ‘‘ ابو نے پھر سیٹی بجائی۔ ان کے اسپینش دوست نے سامان میں سے گراموفون نکال کر لاپلوما بجانا شروع کردیا۔

شور سن کر وہ ریلنگ پر جھک گئی۔ نیچے کا منظر جاڑوں کی مدھم دھوپ میں کھل کرپنیزی کی کیاریوں تک پھیل گیا۔ سامنے کے مکان کے باغ میں چند سیاہ بالوں والے غیر ملکی اداس آواز میں پلوما کا نغمہ گارہے تھے۔

جب کبھی کبوتری تمہارے دریچے میں آکر بیٹھے تو اس کا خیال کرنا۔ کیوں کہ وہ میری طرح ہے۔

جب کبھی یہ نغمہ بجایا جائے تو میرا خیال کرنا کیوں کہ ہمیں یہ نغمہ پسند تھا۔ گذرتے ہوئے وقت کے گہرے تیز رنگ سارے میں پھیلتے چلے گئے۔ سامنے کا منظر دھوپ کی زرد سطح میں روشن ہوگیا۔

اس منظر میں ایک پرانا مانوس چہرہ تھا۔ خوش باش لوگ ادھر ادھر چل پھر رہے تھے ۔ جانے پہچانے آدمی ہیں۔ کہہ دو کہ یہ تو جانے پہچانے ______

ان آدمیوں نے ٹوپیاں گھاس پر پھینک کر خالی کریٹ پر چائے کا سامان نکال کر رکھا۔ بلوجینز پہنے ایک عورت نے ہنستے ہوئے ان کے لیے ٹوکرا گھسیٹا۔ دو کالے بالوں والے غیر ملکی پلوما کا گیت الاپتے رہے۔

لیکن سنو سنو لا پلوما بجانے والو۔ تم جو ساری دنیا میں تاروں پر اور پردوں پر یہ راگ بجاتے ہو۔ تمہاری آوازیں گونجتی ہیں۔ لوگ اداسی سے ناچتے ہیں۔ معصومیت اور رنجیدگی کے ساتھ ان الفاظ کو دہراتے ہیں۔ لیکن پھر کچھ نہیں ہوتا۔ ٹونی______ ؟ ٹونی ادھر آؤ تمہارا اولٹین تیار ہے‘‘۔ نیچے کوئی کہہ رہا ہے۔

’’ ٹونی __ ؟ پیارے شریر آنکھوں والے بچے۔ میں نے ابھی تمہاری آواز سنی ہے۔ تم پنیزی کے پھولوں میں چہکتے پھر رہے ہو اور نیلے لباس والی تمہاری ماں‘‘۔

اور اب دفعتاً ذہن پر ایک مکمل تاریکی چھا گئی۔ منظر کی روشنی اور گاتے ہوئے وقت کے رنگ اس تاریکی میں ڈوب گئے۔ میں یقینا جاگ رہی ہوں۔ اور یہ شام کا سمے ہے۔ میں نٹنگ کر رہی ہوں۔ مجھے قطعی ساری روشنیاں نظر آرہی ہیں۔ یہ میرا گھر ہے۔ اس کے سامنے باغ ہے۔ اس کے پرے ایک اور گھر ہے۔ اب رات چھانے والی ہے ۔ بارن کے جنگلوں پر بیٹھ کر وہ گٹار بجاتے ہیں۔ وادی میں لالٹین کی روشنی اور چیڑھ کے پتوں کے دھوئیں میں تاریخ کے نظریوں پر بحث ہوتی ہے۔ اب کے جو کرسمس آئی تو انہوں نے مسلسل چھ دفعہ لاپلوما بجوا کر سارے مجمع کو مستقل اسی پر ناچتے رہنے پر مجبور کردیا۔ کٹی بے حد ہنستی تھی۔ تم لوگ صریحاً کریک ہو۔

اور دن رات مہا بھارت __ جی نہیں جناب والا آج ہم صبح سے متواتر نہایت صلح وآشتی اور مفاہمت کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مثلاً ابھی میں اس کے رومال پر استری کر کے آرہی ہوں۔

اور اس پر گرا دیا اپنا کیوٹکس __ تم ہو کس لائق __ ؟ بیٹھی اترا رہی ہیں ‘ وہ دھاڑتا ہے۔

ماموں میاں کے ملنے والے بہت سارے بین الاقوامی شہرت کے انتہائی قابل اور سنجیدہ لوگ بیٹھے نہایت بقراطی سے سگار پی رہے ہیں۔ وہ فون کرنے کی خاطر کھڑکی میں سے اندر کودی۔

یہ کیا آفت مچا رکھی ہے۔ ہر وقت ہو حق __ ماموں میاں نے چونک کر کہا۔

ماموں میاں جیر لڈین سالرز کے چہیتے میک سالزر نے کل انتقال کیا ان کی وجہ سے ذرا اظہار افسوس کر رہے تھے۔

ایں__ جیر لڈین سالرز کے چہیتے میک__ کیا عمر تھی بے چارے کی۔ ماموں میاں نے عینک پیشانی پر چڑھا کر افسوس کے ساتھ سوال کیا۔

آٹھ سال کے تھے غریب اور نہایت ذہین ______

ماموں میاں نے ہڑ بڑاکر فون اٹھایا۔ جیر لڈین سالرز کالج کی امریکن پرنسپل تھیں۔ آپ کے پیارے بیٹے کے انتقال کی خبر سن کر سخت صدمہ ہوا۔ انہوں نے کہنا شروع کیا۔ وہ سرپٹ باہر بھاگی۔ گیلری میں سے وہ آرہا تھا۔

’’ کہاں بھاگی۔ جاتی ہو______‘‘

’’ ہک سالرز __ انہوں نے کل جان شیریں‘ جان آفرین کے سپرد کی__؟

__ خاصا شریف کتا تھا غریب ‘ گو چور تھا۔

’’ ہرگز چور نہیں تھا۔‘‘ اس نے لڑنا شروع کیا۔

’’ چور۔ اور جو گیٹ کریشنگ کرتا تھا مرحوم۔ کہیں چائے ہوئی آگئے۔ اب کھڑے دم ہلا رہے ہیں۔ بہر حال اگر اس وقت تمہارے کالج کی کوئی خوب صورت لڑکیاں بھی مس سالرز کے وہاں موجود ہوں تو میں بھی تعزیت کی خاطر تمہارے ہم راہ چلا چلوں گا۔ کیا ایک سے ایک مدراسن کو چن چن کر تم دوست بناتی ہو‘‘ اس نے خفگی کے ساتھ کہا ۔

راستوں پر دھوپ پھیل گئی۔ گلابی مکانوں میں سے دھواں نکل رہا ہے۔ خنکی میں پردے ہل رہے ہیں۔ عمیق ٹھنڈے کمروں کی کھڑکیوں میں فرن کے پودے رکھے ہیں۔ زرد کنارے والے کاغذ جن پر خزاں کے مناظر ہیں۔ امی بیگم کی تصویریں ‘ جن میں سفید لیس میںملبوس‘ وکٹورین صوفوں پر بیٹھی مسکرائے جاتی ہیں۔ ورک باکس میں سے پرانے پھولوں کی مہک آتی ہے۔ ارما ارما۔

ارما__ ؟ ہاں۔ میں ارما ہوں۔ بیس سال میںنے اس گھر میں گذارے۔ نیلے پہاڑوں پر خچر پر بٹھا کر مجھے فرانسیسی گرامر پڑھانے کے لیے بھیجا جاتا تھا۔ چھ سال میں نے تاریخ کا مطالعہ کیا۔ مالینی شیرا لے میری دوست تھی۔ اس نے مجھ سے کہا۔ ارما تم زندگی میں مرو گی۔ مجھے معلوم ہے وہ دیدانت کی بڑی استاد تھی۔ اور سیمل کے نیچے خیمے میں بیٹھ کر بڑی عقل مندی کی باتیں کرتی۔ ارما__ وہ کہتی زندگی میں صرف جھوٹ ہے۔ مایا میں جو روشنی داخل ہوئی۔ وہ گیان کی تھی۔ اور گیان اس وقت اتم ہوا جب وہ مایا سے پھر باہر نکل گیا۔ ویسے مالینی شیرالے دن بھر برج کھیلتی تھی۔ اور اپنی ماں کو خوش کرنے کے لیے اچار اور مر بے بنایا کرتی تھی۔ ارما۔ اس نے کہا۔ زندگی میں صرف دل کی وہ بے اطمینانی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ موت آجاتی ہے۔ موت اصل گیان ہے۔ شام کو مالینی اپنے چاروں بھائیوں کے ساتھ رمبا کے فینسی اٹیپس کیا کرتی۔ ارما۔ وہ کہتی تم بھی سایہ ہو۔ میں بھی سایہ ہوں۔ اوٹو بھی سایہ ہے۔

اوٹو__ ؟ یعنی سید باقر اصطفیٰ رضوی۔ نام کی بوریت کی بھی ایک حد ہونی چاہئے۔

’’ اوٹو__‘‘۔ آنسو خشک کرنے کے بعد اہتمام سے پائنچے پھیلا کر قالین پر بیٹھنے کے بعد اس نے سوگوار آواز میں کہنا شروع کیا۔ ’’ اوٹو نے ہمارا کیا ساتھ دیا۔‘‘ بالکل اپنی اماں کے اندازمیں کوشش کے ساتھ سنجیدگی اور ناراضگی کوبرقرار رکھتے ہوئے اس نے کہا۔ ’’ جی ہاں وہ میرا بھائی تھا ایک قسم کا ___کزن ہونے کے علاوہ یعنی میرے بابا نے اس کو متبنی بنایا تھا۔ وہ بابا کا بھانجا تھا۔ وہ ان کو ماموں میاں کہتا تھا۔ بچپن سے مجھے بھی بابا کو ماموں میاں کہنے کی عادت پڑ گئی تھی۔ اس کو متبنی کرنے کے سات سال بعد میرے دونوں بھائی پیدا ہوئے۔ تو اس نے جلنا شروع کردیا۔ ہم لوگوں سے بھی جلتا رہا۔ مستقل ۔ پھر بابا کے مرنے پر برسوں اس نے کہا کہ جائیداد میں میرا بھی صریحاً قانونی حصہ ہے۔ کیوں کہ میں متبنی ہوں۔ اس نے یہ کبھی نہ کہا تھا۔ لیکن ہمدرد خواتین کو جو ماموں میاں کے پر سے کے لیے آئی ہوئی تھیں۔ اس نے بڑی تفصیل سے یہ مکالمہ سنایا۔ اپنی اماں کی طرح وہ سفید دوپٹہ اور کھڑے پائنچے میںملبوس تخت پر چڑھی بیٹھی رہی۔ اور کچھ وقفے کے بعد وہ آنسو خشک کرتی ۔ باہر تیز ہوائیں چل رہی تھیں۔ جن میں سرخ پتے اڑ رہے تھے۔ اگر وہ اس وقت کمرے میں آجاتا تو دھاڑ کر اس سے کہتا ’’ یہ کیا مسخرہ پن لگا رکھا ہے۔ تم بالکل ناقابل اعتماد ہو‘‘ (یہ اس کا خاص لفظ تھا) لیکن وہ ماموں میاں کے مرنے کے بعد واپس نہ آیا ۔ ویسے عموماً وہ اپنے کلب میں ہی رہتا تھا۔ دوستوں سے اس نے کہا ۔ مور بڈٹی سے مجھے نفرت ہے۔ یہ لوگ موربڈ (Morbid)ہیں۔ اسی موربڈٹی کے تحت اماں نے مجھے بیٹا بنایا تھا۔

یہ لوگ __ ؟ وہ ارما ہے۔ جس میں اس کا مطلق قصور نہیں۔ اس کا اب وہ کیا علاج کرسکتی ہے کہ وہ __ ایک مخصوص گھرانے میں پیدا ہوئی۔ مثلاً اگر وہ آغا رفاقت حسین کے ہاں پیدا ہوئی ہوتی تو اس وقت برقع پہنے امیر الدولہ پارک میںکامدانی کی دوکان پر کھڑی کرن گوکھرو خریدتی ہوتی۔ یا وہ ودیا وتی بھار گوا بھی ہوسکتی تھی۔ بہر حال اب وہ ارما تھی۔ اس طرح بے تکی باتیں سوچے جانے میں کبھی کبھی اسے بہت مزہ آتا۔ ایک قسم کا ذہنی اوپیرا اپنے کرداروں سے جس طرح کی چاہی ایکٹنگ کروائی۔ اور جیسے چاہے مکالمہ ادا کروائے۔ اور ساتھ ساتھ فٹ نوٹ لکھے جارہے ہیں۔

لیکن اب تو وہ اٹھائیس سال کی ہوچکی ہے( اس نے ایک نامعلوم سی پھریری لی) یہ کرسمس کی سہ پہر ہے‘ اپنی نند کی لڑکی کے لیے صبح سے وہ کوٹی بننے میں لگی ہے۔ اوٹو نے بنگلور جاکر اسے چند مشفقانہ خط لکھے جن میں اس نے رائے دی کہ اسے یقینا کہیں جاکر اور زیادہ تاریخ پڑھنی چاہئے۔ مثلاً ہو پکنز یونی ورسٹی جہاں مالینی شیرالے گئی ہوئی ہے۔ جو اس کی گرو تھی۔ اور وہ خود بھی سٹل ڈاؤن ہوجائے گا( یہ اس نے اپنے دوستوں کو بتایا)

اوٹو کے چلے جانے اور ماموں میاں کی پہلی برسی کے بعداس کا بیاہ ہوا۔ اس کا میاں بھی کہیں پر کسی زمانے میں اوٹو کا ہم جماعت رہ چکا تھا اور اوٹوکے متعلق کچھ زیادہ قابل ذکر رائے نہ رکھتا تھا۔ اور ہمیشہ اس کا پورا نام لیتا تھا۔ سید باقر اصطفیٰ رضوی۔

شادی بھی کوئی ایسا خاص ذہنی تجربہ ثابت نہ ہوئی جیسا کہ اس کا خیال تھا اور جس کی مالینی شیرالے کو توقع تھی (کالج میں ایک صاحبزادی اسماء سلطانہ تھیں۔ جس بیچلر سے بھی شامت کے مارے سے‘ ان کی ملاقات ہوتی ان کو فوراً یقین کامل ہوجاتا ہے کہ بس اب یہ دوچار روزمیں پروپوز کرنے والا ہے‘ اور عرصے تک جب وہ پروپوز کرنے ہی میں نہ آتا تو وہ ساری دنیا سے خفا ہوجاتیں اور زندگی کی زیادتیوں کی شاکی رہتیں۔ ان کا ایمان تھا کہ جتنے بھی انسان اس دنیائے فانی میں ان سے ملتے ہیں سب کے سب ان کے مداح ہیں۔ ارما کو زندگی کے متعلق ان کا اتنا صحت مند نظریہ بہت پسند تھا۔ اکثر اس نے مالینی شیرالے کے سامنے ان کی زندہ مثال پیش کی۔ لیکن مالینی شیرالے نے ہمیشہ سر ہلا کر سنسکرت کا کوئی اور مقولہ دہرا دیا اور منہ لٹکائے شلجم کا اچار بنانے میں مصروف رہی۔ تم بالکل ڈی مور الائیز ہوچکی ہو۔ وہ جل کر مالینی سے کہتی)

اور اوٹو ہے۔ اس کا سامان ابھی اتار کر سامنے کے مکان میں رکھا گیا ہے۔ اور اس کی بیوی بلوجنیز میں ملبوس ادھر ادھر حکم چلاتی پھر رہی ہے۔ شام کو اس کامیاں کہے گا چلو بھائی ارما ذرا رضوی کے یہاں ہو آویں۔ دوستوں سے وہ بے حد خوش مزاجی کے ساتھ تعارف کروائے گا۔ یہ میرے سالے ہیں ہا ہا ہا !!!

چناں چہ بہت بڑی دنیا پڑی ہے۔ ہزاروں مشغلے ہیں۔ وہ خود بے حد ہردلعزیز ہے اور کیا عمدہ گاتی ہے۔

لیکن اوٹو موجود ہے۔ پر وہ جاچکا ہے۔ وہ جاچکا ہے۔ لیکن موجود ہے اور سب مایا ہے اور اسے زندہ رہنا ہے۔ اس طرح کی کوئی قابلیت کی بات اس کی پیاری مالینی رانی اس سے کہتی اگر وہ یہاں ہوتی۔

پرانے خاندانی جھگڑوں قصوں کو بھول جاؤ ارما ڈرالنگ‘ کل تمہارے بھائی صاحب اور بھاوج کو ہم کھانے پر بلاتے ہیں۔ اس کامیاں خوش دلی اورسادگی سے اس سے کہے گا۔

کیا آئیڈیل میچ ہے واہ وا__ عمر بھر وہ اپنے اور اوٹو کے لیے دوسروں سے یہ سنتی آئی تھی۔ اوٹو اس کے ساتھ کس قدر محبت سے پیش آتا تھا۔ کمینہ وہ اس لیے بنا کہ در اصل اسے ارما کچھ زیادہ پسند نہ تھی۔ اگر وہ ماموں میاں کے مرنے کے بعد بھی اتنا ہی فرماں بردار متبنی بیٹا بنا رہتا تو لامحالہ اس کو ارما سے بیاہ کرنا پڑتا۔ سارے عالم کو پتہ تھا کہ اوٹو بھیا کا بیٹا سے بیاہ ہوگا۔ اس سے بچنے کا واحد طریقہ یہ تھا کہ وہ انتہائی کمینے پن پر اتر کر ان سب سے لڑائی مول لے اور ہمیشہ کے لیے خاندان سے علاحدہ اور آزاد ہوجائے۔ یہ سب اس نے خود سوچا تھا اور یہ سوچ کر ایک حد تک مطمئن ہوگئی تھی۔ اگر اس بلو جنیز والی امریکن نما‘ لیکن خاصی حسین عورت کی بجائے وہ اس وقت اس شدید مالکانہ طمانیت کے ساتھ اوٹو کا سامان برآمدے میں رکھواتی ہوتی۔ اس کے دوست اس سے چائے کی فرمائش کرتے اور وہ چلاتا__ ای ہو__ لیکن ایسا کون سا فرق پڑا ہے۔ کوئی بھی نہیں۔ کل رات کو یقینا میں ان لوگوں کو مدعو کروں گی اور اس قدر اخلاق اور یگانگت کا برتاؤ کروں گی کہ یہ لوگ بھی کیا یاد کریں گے۔ آخر فرق ہی کیا پڑتا ہے۔ اس نے ہواکی زد سے بچنے کے لیے ساری کو چاروں اور لپیٹ کر سوچا۔ در اصل یہ سب ایک طرح کا ذہنی تاثر تھا۔ جس میں عرصہ ہوا نکل چکی ہوں ( پیٹرن بک اٹھا کر اس نے نند کی بچی کے لیے دوسرا نمونہ سلائی پر اتارا) گو کہ یہ عورت__

یہ عورت اوٹو کے گھر میں رہتی ہے۔ سنا ہے کہ بد مزاج بھی ہے۔ وہ اوٹو کی بیوی اور بددماغ الگ اور عقل میں بہت کم ہے____

سر پر سے رومال ہٹا کر بلوجنیز میںملبوس عورت نے دوسرا ٹوکرا گھسیٹا۔ کسی بات پر سب لوگ ہنسے۔ اوٹو نے آواز دی۔ ای ہو__ ڈارلنگ__‘‘

ہاں کیا فرق پڑتا ہے۔ ریلنگ پر سے ہٹ کر اس نے سوچا۔ دھوپ ڈھلتی ہوئی پنیزی کی کیاریوں کے پرے چلی گئی۔ کاسنی پھولوں کی بیلیں زور زور سے ہوا میں جھولنے لگیں۔

ٹونی نے ناقدانہ نگاہوں سے منظرکو دیکھا۔ اس کے اتنے شان دار اور بالکل قطعی ونڈر فل رائے روجرز سے بھی عمدہ ابو اب اندر چلے گئے تھے۔ ان کے دوست گرامو فون کے ریکارڈ سمیٹ رہے تھے۔ ممی حسب معمول نوکروں پر چلا رہی تھیں۔ شانوں پر کوٹ جھلاتا ہوا وہ روش کے اختتام پر پہنچا۔ سامنے والے مکان کی دوسری منزل پراتنا عمدہ کھلا ہوا شفاف فرش والا برآمدہ تھا۔ کاش وہ اسی وقت وہاں پہنچ کر اپنے نئے والر سیکٹس کا تجربہ کرسکتا۔ ممکنات کا معائنہ کرنے کی غرض سے چھوٹے چھوٹے پر اعتماد قدم رکھتا وہ زینے پر چڑھا اور ریلنگ کے سہارے بیٹھی ہوئی لڑکی کے سامنے جاکر کھڑا ہو گیا۔

بلیک آؤٹ پوری کائنات میں پھیل گیا۔ رنگ اور فضا‘ اور محسوسات۔ ایک اچانک صدمے کے ساتھ بالکل اس اندھیرے کی تہہ میں جاگرے۔ ’’ آنٹی‘‘ ۔ دوستی کے اندازمیں اجنبی بچے نے ہاتھ بڑھائے۔ میں تمہارے برآمدے میں اپنے اسیکٹس پہن سکتا ہوں__ ؟ ‘‘ چھوٹی سی آواز میں اس نے سوال کیا۔

اندھیرے میں وہ کرسی پر سے اٹھی۔

’’ باہر جاؤ__‘‘ وہ دفعتاً چیخی__‘‘ چلو واپس جاؤ‘‘ اور بچے کو مخاطب کر کے ڈانٹنے کی بجائے وہ دیوار کے قریب بچھی ہوئی سیٹی پر اوندھی گر گئی۔ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

’’ نیچے جاؤ __ چلو__ فوراً بھاگو یہاں سے __‘‘۔ روتے روتے وہ پھر چلائی۔

ٹونی نے اپنی پشت پر ہاتھ باندھ کر ایک لمحے کے لیے اس کو حیرت اور غور سے دیکھا۔ اور افسوس سے سر ہلا کر نیچے اتر گیا۔ بڑے انسانوں کی بعض حرکتیں اس قدر عجیب و غریب اور مسخرے پن کی ہوتی ہیں ۔ اس نے خیال کیا۔

’’ ای ہو__ ویٹ از سم ڈیم ابو__ پنیزی کے پھولوں میں واپس پہنچ کر اس نے کہا اور پھر رائے روجز کی کتاب نکال کر اس کہانی کے تیسرے باب میں منہمک ہو گیا۔ جس میں رائے روجز نے چار ڈاکوؤں کو پکڑ کر مارا تھا۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

آسماں بھی ہے ستم ایجاد کیا!

قرۃالعین حیدر جولائی ۴۴ء کی ایک ابر آلود سہ پہر جب وادیوں اور مکانوں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے