ارادے

اتوار کی ایک معمولی سی دوپہر ۔ یعنی نہ کچھ زیادہ رنگین اور رومانوی اور نہ بالکل غیر دل چسپ___ ہم بے چاری لڑکیاں امرود کے ایک گھنے درخت کے نیچے قالین پر بیٹھی جمائیاں لے رہی تھیں۔ نیند تھی کہ خواہ مخواہ چلی آرہی تھی اور ایک دوسرے سے لڑنے کو دل چاہ رہا تھا۔ اب یہ میں کیوں بتائوں آپ کو کہ جب اس وقت اچھی خاصی طرح کمرے میں بیٹھ سکتے تھے تو ہمیں درخت کے سائے میں بیٹھنے کی کیا خاص ضرورت پیش آئی تھی۔ لیکن شاید آپ کو معلوم نہیں کہ آج کل لڑکیاں حد سے زیادہ رومان پسند ہوتی جارہی ہیں اور آم کے تنے سے ٹیک لگاکر چارلس بوایئر کے فلموں اور غوث محمدؐ کے تازہ ترین ٹینس میچ پر تبصرہ کرنا ان کے لیے بے حد ضروری ہے۔

چاکلیٹ کھاتے ہوئے ہم لوگ بھی اسی قسم کی باتیں کر رہے تھے۔ روس۔ مذہب، فلسفہ۔ بالی ووڈ، کیوٹکس کے رنگوں کا انتخاب۔ انڈیا گیٹ کے معرکوں کا ذکر خیر۔ یہ کہ فرخ پیاری جو شیفون کل تم لیلا رامؔ کے یہاں سے لائی ہوئی ہو اس پر کس طرح کی Piping کروگی اور ہائے ڈوکی پرویز کے کوہاٹ جانے کے بعد شاہد کو میں نے تین مرتبہ وینگرز میں زرینہ کے ساتھ دیکھا۔ اس قدر غضب کا اسمارٹ لگ رہا تھا کہ کیا بتائوں۔

زبیدہؔ دنیا سے قطعی بے زار ایک طرف کواکڑوں بیٹھی لکڑی سے مٹی میں گڑھا کھودتے ہوئے شاید مسائل تصوف کے حل میں مصروف تھی۔ اس نے طے کرلیا تھا کہ اب وہ سب سے الگ تھلگ جنوبی فرانس کے مرغ زاروں میں ایک انگوروں کی بیل سے چھپی ہوئی شاخوں میں رہا کرے گی۔ پیانو بجائے گی۔ تصویریں بنائے گی ۔ مختصر یہ کہ بالکل کسی الف لیلوی شہزادی کی سی زندگی بسر کرے گی اور یہ کہ اب اسے عزیزؔ یا کسی اور گدھے کی ذرا بھی پروا نہیں ۔ کیونکہ وجہ یہ تھی کہ زبیدہ کو اسی دن صبح خالہ جان کی میز پر پڑا ہوا ایک خط مل گیا تھا۔ جس میں اسی گدھے عزیز نے یعنی زبیدہؔ کے سابق منگیتر نے اپنے کسی دوست کو یہ لکھا تھا کہ صاحب مجھے اس قسم کی لڑکیوں سے تو ڈرلگتا ہے جو سر پر پگڑی سی لپیٹ کر اور پتلون پہن کر امریکن وضع کی انگریزی بولتی ہوں اور یہ کہ میں تو ایک ایسی سیدھی سادی گھریلوسی لڑکی سے شادی کر رہا ہوں جو اس سال پرائیویٹ طور پر میٹرک کا امتحان دینے والی ہے۔ جو موزوں میں رفو کرنے کے علاوہ مرغ مسلم اور پلائو پکانا بھی خوب جانتی ہے۔

لیکن ابھی تک میں نے اس قسم کا کوئی ارادہ نہ کیا تھا کیونکہ میرا خیال تھا کہ ابھی دنیا کو میری کافی سے زیادہ ضرورت ہے۔ اور اسی سلسلے میں مجھے بہت سے کام کرنے باقی تھے۔ ایک تو یہ کہ اپنی نئی ٹشو کی ساری میں بارڈر لگانا تھا اور دوسرے پرویز کو فون کرنا تھا کہ ہال سرمینسؔ کا میچ دیکھنے کے لیے چلے۔

ہم سب چپ چاپ بیٹھے امرود وں کو گن رہے تھے کہ خالہ اماں نے باورچی خانے کے برآمدے میں سے آواز دی۔ ’’لڑکیو! خالی بیٹھی کیا کر رہی ہو؟ منشی گردھاری چرن کو پرچہ لکھ دو کہ صبح سے میں نے فیضو کو کوپن دے کر موہن اسٹورز آم اور شکر لینے کے لیے بھیجا ہوا ہے ۔ اب تک انہوں نے کیوں نہیں بوریاں بھجوائیں۔ سوا دو روپے من تو کوئلہ دے رہے ہیں، اللہ مارے_____ ‘‘اُف کس قدر غیر رومانوی بات______

خالدہ نے اپنے لمبے لمبے عُنّابی ناخنوں کو دیکھتے ہوئے دھوئیں سے بھرے باورچی خانے میں رکھی ہوئی کوئلے کی بوریوں کے تکلیف دہ تصور کو ایک طرف جھٹک کر پھر رومان کی دنیا میں واپس آنا چاہا۔ اس لیے وہ امرود کا ایک پتا سونگھ کر بولی ’’پرویز کتنا حسین نام ہے۔ بالکل جیسے جہلم کے کنارے کوئی چرواہا الغوزہ بجا رہا ہو۔‘‘

’’واہ! کیا زوردار تخیل ہے آپ کا۔‘‘ میں نے فوراً جل کر کہا۔ ذرا دیکھو تو لڑکی کی باتیں۔ اتھل مینن ، کراکا اور ہکسلے کی کتابیں پڑھتے پڑھتے اس کا دماغ خطرناک طور پر چل گیا ہے۔ یہ بے انصافی اور زیادتی ملاحظہ کیجئے کہ میں نے خود ہی خالدہ کاپرویز سے تعارف کرا دیا تھا اور اب کس اطمینان اور بے تکلفی سے وہ فرما تی ہیں کہ جہلم کے کنارے چرواہا الغوزہ بجا رہا ہے___ واہ بھئی۔

ہم پھر خاموش ہوکر جمائیاں لینے لگے۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب کون سی بات شروع کی جائے۔ جو موضوع بھی گفتگو کا میں چھیڑتی، یقینا اس میں لڑائی کا کوئی پہلو نکل آتا۔ لہٰذا میں نے چپ رہنا ہی مناسب سمجھا اور کنکر سے نشانہ لگاکر امرود توڑنے کے مسئلے پر غور کرنے لگی۔

’’کیوں لالہ ڈیریسٹ، یہ عارفؔ کیوں آرہے ہیں۔ تمہارے یہاں؟‘‘ فرخ نے مجھے گویا آنے والی جنگ کا الٹی میٹم دے دیا۔

’’کیسا لغو سوال ہے ۔ عام طور سے مہمان کیوں آیا کرتے ہیں؟‘‘ میں نے فیضو کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ جو مہمان کمرے کی صفائی کے سلسلے میں نہایت مستعدی سے انتظامات کرتا پھر رہا تھا۔

’’تو تم شادی کروگی ان چغد سے؟‘‘

’’ارادہ تو فی الحال ایسا ہی ہے۔‘‘ گویا اب تک جتنے چغد مہمان آئے تھے ان سے شادی کا ارادہ کرنا ایک ضروری بات تھی۔

خاک پڑے تمہارے ارادوں پر ۔ کل شام امریتا شیرگلؔ کی تصاویر کی نمائش سے واپسی میں تم بالکل یقین کے ساتھ کہہ رہی تھیں کہ تمہارا ارادہ زندگی بھر بے لوثی سے آرٹ اور قوم کی خدمت کرنے کا ہے۔‘‘

اب میں اسے کیا یاد دلاتی کہ جب تک وہ شاہد سے نہ ملی تھی اس نے کامریڈ احمد سے صدق دل کے ساتھ وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ جنتا کی حالت سدھارے گی۔ اور اس موجودہ قومی اور پولتاری جنگ کو جیتنے کے سلسلے میں کامریڈ اسٹالین کا ہاتھ بٹائے گی اور اب وہ شاہد کے ساتھ مسوری جانے کے پروگرام بنا رہی تھی۔

’’فرخ! نہایت بورژوا ہو تم۔‘‘میں نے خالص ترقی پسند لہجہ میں اس سے کہا۔ اور پھر مجھے اس بے تکے سے لفظ کے استعمال کرنے پر خود ہنسی آگئی۔ روس کس بری طرح ہم پر چھایا جارہا ہے۔ میں نے سوچا۔

سیاسی افق پھر غبار آلود ہوتا جارہا تھا، اس لیے میں نے فیضوؔ کو آواز دے کر چائے منگوائی۔ بدقسمتی سے قریب کے برآمدے میں ماموں جان بیٹھ کر اخبار پڑھنے لگے تھے اور دوتین دفعہ انہوں نے عینک اتار کر ہماری طرف بھی نظر کی تھی۔ شاید ان کا خیال تھا کہ بے چاری بچیاں کتنی محنت سے امتحان کی تیاری کر رہی ہیں۔

فرح بورژوا اور پولتاری کی تکرار پر نہایت جوش سے کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن اب خالہ جان بھی منشی گردھاری چرن کے کوپنوں کا انتظام کرتی ہوئی برآمد ے میں ماموں جان کے پاس آچکی تھیں۔ اس لیے میں نے اچھی اچھی لڑکی بننے کی کوشش کرتے ہوئے ذرا اونچی آواز سے کہا۔

’’خدا کے لیے لڑکیو ان لغویات کے علاوہ کبھی تو اور باتیں بھی کیا کرو۔ اب مثلاً یہ کہ تم تو اتنی قیمتی کیڈ بری چاکلیٹ اپنے کتے کو کھلا رہی ہو اور سرزمین بنگالہ کے سیکڑوں فرزند فاقہ _____‘‘ لیکن یہ تو بے حد پیٹنٹ قسم کا جملہ ہے۔ ہزاروں دفعہ دہرایا جاچکا ہے۔ میں اپنے دماغ پر زورڈالنے لگی کہ کوئی اور شریفانہ سا تذکرہ چھیڑوں۔ یاد آیا کہ خالہ اماں تہذیب نسواں اور عصمت میں حقو ق نسواں، اصلاح نسواں اور تعلیم نسواں وغیرہ پر بہت مضامین لکھا کرتی تھیں۔ اس لیے___ ہاں تو ذرا اس جفا کا ر سماج کے مظالم پر غور کرو جو بے کس صنف نازک پر ____‘‘ نہیں بھئی یہ بھی نہیں، کچھ اور سوچنا چاہئے۔ ہاں خوب یاد آیا۔ قوم قوم ہماری کس تیزی سے قعر پستی میں گری جارہی ہے۔ اس ڈوبتی نیّا کو کوئی پار لگانے والا نہیں۔ ہائے قوم۔ وائے قوم۔ سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا_____پاکستان_____بہنو آئو اور میدان عمل میں کود کر شاہراہ ترقی پر گامزن ہوجائو_____ زندہ باد مزدور سبھا_____ زندہ باد___

’’کافی ہائوس ۔‘‘ خالدہؔ نے چپکے سے جملہ پورا کردیا۔ میں نے چونک کر گھڑی دیکھی۔ سوا پانچ بج چکے تھے اور چھ بجے پرویز نے کافی ہائوس میں مدعو کیا تھا۔

اور ہم سب اصلاح قوم اور آزادی ہندوستان کے ارادوں کو ملتوی کرکے تبدیل لباس کے لیے ڈریسنگ روم کی طرف بھاگ گئے۔

______________________________________________

یہ افسانہ ادیب۔ جون۔ 1944 میں چھپا تھا۔ ’’ستاروں سے آگے میں شامل ہے۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

آسماں بھی ہے ستم ایجاد کیا!

قرۃالعین حیدر جولائی ۴۴ء کی ایک ابر آلود سہ پہر جب وادیوں اور مکانوں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے