مرکزی صفحہ » تاریخ » ابراہیم بن مسعود بن محمود غزنوی

ابراہیم بن مسعود بن محمود غزنوی

از منتخب التواریخ

وہ ایک عادل، زاہد اور متقی بادشاہ تھا۔ ہر سال اپنے ہاتھ سے قرآن مجید لکھ کر مکہ معظمہ بھیجا کرتا۔ اس نے اپنے لیے کوئی محل سرا تعمیر نہیں کرایاتھا، سوائے ایک مسجد اور مدرسہ کے اور وہ بھی خدا کے لیے تھا۔ جب اُمور سلطنت کی ذمہ داری اس کے کندھوں پر پڑی تو اس نے سب سے پہلے سلجوقیوں کے ساتھ مصالحت کی اور پھر پوری دل جمعی اور اطمینان کے ساتھ ہندستان کی جانب روانہ ہوا۔ راستہ میں بہت سے قلعوں اور علاقوں کو فتح کیا۔ ان میں سے ایک شہر ایسا بھی تھا جہاں ان خراسانیوں کی نسل آباد تھی جنھیں افراسیاب نے شہر خراسان سے شہر بدر کیا تھا، انھوں نے ہندستان آکر سکونت اختیار کرلی تھی۔ سلطان ابراہیم نے اس شہر کے ہزاروں خراسانی النسل باشندوں کو گرفتار کرکے غزنی بھجوادیااور علیٰ ھذاالقیاس بے شمار مال غنیمت بھی وہ اپنے ساتھ لے گیا۔ اس نے اپنے قیام کے دوران چند قصبوں کی بنیاد بھی ڈالی۔ ان میں سے خیرآباد اور ایمن آباد وغیرہ بھی ہیں۔ اسے سید السلاطین بھی کہاجاتا ہے اور اسے ولی اللہ سمجھاجاتا ہے اس کے عہد حکومت میں غزنی کے لوگوں کو راوی چشم، شربت اور دیگر دوائیں اور غذائیں غرض تمام اشیاء خزانہ شاہی سے مفت ملاکرتی تھیں۔ چالیس سال حکومت کرنے کے بعد اس نے 472ھ492/ء میں وفات پائی۔ قاضی بیضاوی نے لکھا ہے کہ اس کا دور حکومت 450ھ تا 492ھ؍1058ء تا 1097ء تھا۔ مسعود سعد سلمان سلطان ابراہیم کے زمانہ ہی کا شاعر تھا، ذیل کے اشعار اسی کے ایک قصیدہ کے ہیں جو اس نے سلطان کی مدح میں لکھے تھے:

ابوالقاسم ملک محمود ابراہیم بن مسعود

کہ نازوچار چیز از وی کندھریک بدومفتخر

یکی افروختہ چتری دومؔ افروختہ رایت

سومؔ دینارگوں کلکی چہارم آب گون خنجر

ولہ

ای عزم سفرکردہ وبستہ کمرفتح

بکشاد چپ وراست فلک پر تو درفتح

مسعود جہانگیر کہ از دھرسعادت

ہرلحظہ بسوئی تو فرستاد نفرفتح

مانندسنان سربسوی رزم نہادی

چون  تیر میان تو بہ بند و کمرفتح

صد فتح کنی بی شک و صدسال ازین پس

در ہند بہر خطہ ببیند اثر فتح

استاد ابوالفرج رونی بھی سلطان ابراہیم کامداح تھا اور اس کے قبل وہ مسعود کامداح تھا۔ ان دونوں کی مدح میں اس نے بے شمار قصیدے لکھے تھے جو اس کے کلیات میں موجود ہیں۔ وہ رون نامی گاؤں کا رہنے والاتھا۔ یہ گاؤں نواح لاہور میں واقع تھا مگر مرور ایام میں اس حد تک ویران اور برباد ہوگیا کہ آج اس کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا۔ استاد ابوالفرج نے ذیل کا قصیدہ بھی سلطان ابراہیم کی مدح میں لکھا تھا:

زھی ببازوی شمشیر کا مگار ترا

شبیہ نفس عزیز ونظر عقل عدیم

اسیرکردہ آن بی نفس چو حلق گلو

یتیم کردۂ این بی عقب چو دُرّ یتیم

اور مسعود سعد سلمان نے ازروئے حسد جو شعرا کا لازمی خاصہ ہے استاد ابوالفرج کی مذمت کی تھی جس کی بنا پر اسے دس سال قید میں رہنا پڑا اور یہ رباعی اس نے قید خانہ ہی میں کہی تھی:

زندان تُرا ملک شہی می باید

تابند پائی غدّار می شاید

آن کس کہ ز پشت سعد سلمان زاید

گر مار بُوَد ملک ترا بگزاید

اس کے کلیات عربی، فارسی اور 44؎ ہندی تینوں زبانوں میں موجود ہیں۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

معزالدین کیقباد

از منتخب التواریخ سلطان بلبن نے خسرو خان کو اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے