مرکزی صفحہ » فکشن » افسانے » آہ ! اے دوست

آہ ! اے دوست

غمِ روزگار کو بھلا دینے کے لیے آؤ اورنج اسکویش پئیں۔ کچھ طلسماتی خوابوں کی باتیں کریں۔ تم یوں ہی بیٹھے بے وقوف بنتے رہو تو مجھے زیادہ اچھے لگو گے۔ بڑا اچھا مشغلہ ہے۔ ان سبز پردوں کی دوسری طرف انگور کی بیلوں سے ڈھکے ہوئے برآمدے میں مہادیو جی اپنی کلاس لے رہے ہیں۔ ایک دو تین۔ چھنن چھنن چھنن ۔ کلاسیکل رقص دیکھو گے؟ خداؤں کا اپنا محبوب شغل۔ جگمگاتے تاروں کے پرے، ہمالیہ کی بلندیوں پر رہنے والے حسین خداؤں کے کھیل بہت پُرلطف اور انوکھے ہوتے ہیں۔ برج باسیوں میں شام، برج باسیوں میں شام، بنسری بجائے جا۔ بجائے۔ واللہ۔ کیا کیا نظمیں لکھتی ہے، تم لوگوں کی قوم۔ بیٹھے پیٹے جارہے ہیں وہی پرانی باتیں۔ سایوں کا ناچ دیکھو گے؟ وہ سامنے دیوار کی رو پہلی سطح پر نارنجی اور قرمزی دھبّے اندھیرے میں پھیلتے جارہے ہیں۔ یہ دریا میں ڈوبتے سورج کی کرنوں کا الوداعی رقص ہے۔ کاش تم سدھیر یا اویا ما ہوتے۔ ہائے جمالیاتی حِس کا فقدان اور بد ذوقی کی فراوانی۔ کیا کروں، کہاں جاؤں بے چاری میں؟

ایک دو۔ ایک دو۔ تال کہروا۔ جمنا کنارے شیاما، جمنا کنارے شیاما ناچیں گائیں سُرنگ بالا۔ چُپ دیوتاؤں کی لڑکیاں جمنا کنارے ناچ رہی ہیں۔ تم مہادیو جی سے ملے۔ مانی پور کی ہری ہری وادیوں کے اپنے بیٹے۔ کہتے ہیں زندگی ایک رقصِ مسلسل ہے۔ فکر کا ہے کی ۔ چھنن چھنن۔ تیز کروئے۔ مہادیو برمن مہاراج اصل فن کار ہیں۔ ہندوستان کے فن کار ۔ ٹٹ ٹٹ ۔ شانتی نکیتن میں ملازم تھے۔ گورودیو کی موت کے بعد دادا نے الموڑے بلا لیا اور اب تو کلچر سنٹر بھی ختم ہوگیا ہے۔ کاش کہ اپنے دیس واپس جاسکتے۔ پر کوئی فکر نہیں۔ ناچے جاؤ سُر رنگ بالا۔ دادا اور املا دیدی اگر ہندوستان کی بجائے روس یا امریکہ میں پیدا ہوگئے ہوتے تو کیا ہوتا؟ فضول کی باتیں۔ ہائے الموڑے کے پھولوں سے بھری گھاٹیاں۔ کاٹھ گودام سے جب موٹر بل کھاتی ہوئی اوپر چڑھتی ہے اور یوکلپٹس کے جھنڈوں سے چھنتی ہوئی ہوائیں سامنے آکر ٹکرا جاتی ہیں۔ دادا کہا کرتے تھے کہ ہمارے ملک میں جو فنونِ لطیفہ کی مٹی… لاحول ولا قوۃ۔ یہ کیا فنون اور لطیفہ اور گڑ بڑ سٹربٹر لے بیٹھے۔ مہا دیو جی آپ ناچے جائیے۔ بڑی نالائق لڑکیاں ہیں۔ ایک ہفتے سے اسی ایک دھن سے آگے نہیں بڑھتیں۔ جی ہاں یہ سیزنل ڈانس ہے۔ پھر اس کے بعد ہاروسٹ ڈانس آپ کو دکھایا جائے گا۔ پھر فوک ڈانس یا ہندوستان کی پیاری پیاری معصوم بیٹیاں، دھان کے کھیتوں اور پہاڑیوں کی وادیوں اور ندی کے کنارے اور آم کے باغوں کی رنگین پرچھائیاں۔ اٹریا پر چور بھابی، دیا تو جلاؤ۔ put out the blue light sweetee pie پاروتی کے اسٹیج پر آنے سے پہلے ایک دم مدھم سازرو اجالا کردو، effect زیادہ خوب صورت رہے گا۔ مسٹر رولینڈ خود ڈیڈی سے کہہ رہے تھے کہ آپ کی بچیوں کی مددکے بغیر ہمارا جنگی ہفتہ اس قدر کامیاب نہ ہوپاتا۔ ہم سب اتحادیوں کی فتح کے لیے کوشاں ہیں۔ چھنانن نن۔ چھن چھن چھن۔ زندگی ایک نغمۂ پیہم ہے، ایک رقصِ مسلسل۔ مہادیو جی آپ نے ہندوستان کی موسیقی پرور سرزمین میں جنم لیا ہے اسی لیے ایسے شاعرانہ طریقے سے سوچتے ہیں۔ آپ برہم پتر کی وادیوں کے لوگ ہر معمولی سے معمولی بات کو لطافت اور خوب صورتی سے ادا کرنے کے قائل ہیں۔ زندگی آپ کے لیے جل ترنگ ہے۔ دنیا کے نقرئی تاروں میں سے اُٹھتی ہوئی ایمن کلیان کی دُھنیں۔ یہی باتیں آپ اس طرف کے لوگوں سے کہیں تو ایک زور دار قہقہہ پڑے۔ دنیا ان کے لیے بوکسنگ رنگِ ہے یا گروسری شاپ ۔ بہت ہی matter of fact قسم کے لوگ ہیں ہم۔ آپ کسی لڑکی کی تعریف کریں گے تو کہیے گا: کماری تم چاندنی میں تیرے ہوئے کنول کا خواب ہو۔ پاروتی کے مرمریں قدموں پر لرزاں دیپک کی جھلملاتی روشنی۔ میرے ساتھ گنگا کے دھارے پر ناؤ چلاؤ__ افوہ! سیدھے سادے طریقے پر کہہ دیجیے کہ ! look here  تم مجھے بہت خوب صورت لگ رہی ہو۔ میرے ساتھ شادی کر لو یا آج شام کو روشن آرا یا پکچرز چلی چلو__ ایک دو تین چُھن __

__ آ لی ری سائیں کے مندر میں دیا بار آؤں کر لوں سولہ سنگھار۔ سمکی دیدی ناچتی تھیں تو ایسا لگتا تھا‘ یعنی خیر__ مہا دیو جی آپ ناچے جائیے ۔ اور اس زندگی میں کیا رکھا ہے؟ سب ہی ناچتے ہیں اپنی اپنی جگہ۔ سمکی دیدی کلچر سنٹر کے کلاس روم میں اور حضور وائسرائے بہادر وائسریگل لاج کے بار روم کی فلور پر اور رنگ برنگے پھولوں والے کپڑوں میں ملبوس پناہ گزیں پولش بچے کاٹھیاواڑ کی سمندری ریتوں پر __ اور __ اور __ اچھا۔

لیمپ کی روشنی ذرا کم کردو۔ مالکونس کی لہریں ضرورت سے زیادہ نرم۔ سانجھ بھئی گھر آ بالموا۔ ہنسے جاؤ۔ مجھے تمہاری مسکراہٹ بہت پسند ہے ۔ یہ روشنیاں کبھی تیز ہوجاتی ہیں کبھی مدھم۔ یہی تو سارا فلسفہ ہے بھئی۔ الموڑے کی چوٹیوں پرمال کے قمقمے جگمگاتے ہیں اور نیچے وادی میں رقص ہوتا رہتا ہے۔

الموڑہ۔ نینی تال ۔ مسوری۔ ہائے مسوری۔ ہائے دہرہ دون۔ میرا پیارا بچپن کا رفیق دہرہ دون۔ ان کے بغیر ہندوستان، تمہارے گرم اور پھیکے ملک میں رہنا ایک مستقل مصیبت ہوجاتی ۔ اللہ بڑا مہربان ہے۔ بڑا اونچا اور عمدہ ۔ کیمسلز بیک روڈ پر ایک ہزہائی نس کی چمک دار مخملیں رکشا کس قدر خوب صورتی سے بہتی چلی آرہی ہے۔ اب تم مارکس اور لینن کا وظیفہ شروع کردو۔ یہ تم ہندوستانی۔ قنوطیت پسندی تو تمہیں لے ڈوبی۔ کبھی یہ غور نہیں کرتے کہ ہماری Aristocracyکس قدر شان دار اور خوب صورت ہے۔ پرنسس کرم جیت اور شہزادی نیلو فر اور مہاراجہ راج پیپلا اور بیگم گوہر تاج اور مہارانی کوچ بہار __ ایک خاص رومان ہے ان ناموں میں۔ فش بیورلی فلکس ۔ ان کے غیر ملکی سکریٹریوں سے ملو، ان کو رِنک میں اسکیٹنگ کرتے دیکھو۔ ان کے بال روم، سوائے کے کمرے، ریس کورس، وہ ڈائننگ ہال جہاں میزوں پر چھوٹی چھوٹی برقی ٹرینوں کے ذریعے کھانا سرو کیا جاتا ہے، آسٹریلین گھوڑے، اسکاچ کتے۔

کم از کم تم نے میرے کتے کی تو آج تک تکلفاً بھی ذرا سی تعریف نہیں کی۔ کیسی ایک خاص شاعرانہ انداز سے چاکلیٹ ملنے پر دُم ہلاتا ہے۔ دن بھر پچھلے برآمدے کے کونے میں اپنی ٹوکری کے گدیلے پر سمٹا سمٹا یا غور و فکر میں محو رہتا ہے یا کبھی کبھی محض از راہِ اخلاق ایک آنکھ کھول کر نرمی سے بھونک دیتا ہے۔ تم سے بہر حال زندگی کے متعلق اس کا نظریہ زیادہ صحت مند ہے۔

ہائے دہرہ دون‘ گرمیاں آرہی ہیں، یعنی کیلے اور فالسے کے جھنڈوں میں بھنورے گو بخنا شروع کردیں گے۔ ہائے یو۔ پی۔ میرا اپنا پیارا یو۔ پی۔ تم نے کبھی یو۔ پی۔ کی گرمیاں نہیں دیکھیں۔ آم کے باغوں میں دوپہر کے سناٹے کی خاموش موسیقی کا بوجھ محسوس نہیں کیا۔ امرودوں کے جھرمٹ میں سے بلند ہوتی ہوئی برہا اور آلھا اودل کی تانیں نہیں سنیں۔ شاید کبھی ملیح آباد جاکر آم بھی نہیں کھائے۔ اور گومتی کے خربوزے‘ آہ میرا اودھ۔ قیصر باغ کی بارہ دری میں اندر سبھا ہو رہی ہے۔ سبز پری۔ نہیں کھول لو آنکھیں۔ پیچھے دیکھنے کے بجائے آگے دیکھنا صحت کے لیے مفید ہے۔

___تمہاری قنوطیت (یہی لفظ ہے ناشاید) یعنی بھئی کبھی تو زندگی کو خوش گوار رنگوں میں دیکھنے کی کوشش کیا کرو۔ مثلاً۔ مثلاًمیرین ڈرائیو۔ جوہو۔ مالا بارہل۔ ورسوا۔ گہرے نیلے سمندر میں ڈوبتی ہوئی قرمزی شفق اور اودے آسمانوں میں تیرتا ہوا نارنجی چاند، برے سے، رسیلے سے سنترے جیسا۔ تاج کا پرتگالی آرکیسٹرا یا پھر دمشق کے تیز سرخ گلاب۔ بغداد کے رنگین شگوفوں سے بھرے ہوئے چھوٹے چھوٹے صحن۔ تمہیں معلوم نہیں مجھے زندگی سے کتنا بے انتہا عشق ہے۔ تم نے طہران کے امیروں کی اونچی دیواروں والی محل سرائیں اور ان کے اندر کے وہ باغ نہیں دیکھے جن میں چھوٹی چھوٹی نہریں بے حد الف لیلوی انداز سے بہتی رہتی ہیں اور جہاں سیاہ فراکوں میں ملبوس خانمیں ایک دوسرے سے نرم نرم اس طرح باتیں کرتی ہیں جیسے قہوے کی پیالیوں میں نقرئی چمچوں سے شکر گھولی جارہی ہو۔ افوہ! مجھے بغداد، طہران اور قاہرہ کی یاد مت دلائو، ورنہ اس روکھے پھیکے ملک اور اس تنگ اور بد مزہ ماحول سے اڑ جانے کو جی چاہے گا۔ گزرے خوابوں کو یاد کرکے ایک کونے میں جگہ دینے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ بہت حد تک Compensationکا کام دیتے ہیں۔ ارے! تو گویا قنوطیت پسندی بھی الٹرافیشن ایبل بنتی جارہی ہے؟

اچھے گیت بھی تو اس وقت نہیں بج رہے۔ سحاب قزلباشؔ کو خط لکھنا پڑے گا۔ گریسی فیلڈ کا کوئی نیا ریکارڈ لگائوں۔ اچھا تو تمہیں مغربی موسیقی سے دل چسپی نہیں۔ بدمذاق تو اب کیا باتیں کریں۔ علی گڑھ۔ میرس روڈ۔ سیاہ برقعے۔ نقوی پارک۔ گرلز کالج کی لاری۔ اسٹیشن۔ ڈاکٹر ضیاء الدین۔ نہیں کچھ اور سوچو۔ احمد عباس کی تازہ کتاب؟ یا The Brave New Worldنہیں بھئی۔ بہت زیادہ Boringہوتی جارہی ہے دنیا۔ چلو امریکہ اڑ چلیں۔ نیلی آنکھیں جانتی ہو میری کمزوری ہیں، یعنی ویک پوائنٹ۔ میلون ڈگلس نے روشن آرا کلب میں میلینی کے ساتھ رقص بھی کیا تھا اور اسٹال پر پورے ساڑھے چار منٹ تک مجھ سے باتیں کرتا رہا تھا۔ ذرا خیال تو کرو، یہ کہہ رہا تھا۔ ’’ہالی ووڈ آئو۔ ہم ہندوستان اور امریکہ کا کلچرل اور دوستانہ رشتہ زیادہ مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ ’’میلون ڈگلس نے کہے یہ الفاظ‘ اوو۔‘‘

خیر تم کم از کم چیمسفورڈ یا روشن آرا کے ممبر بن جائو۔ تمہاری تندرستی بہت عمدہ ہوجائے گی۔ یا پھر گاجر کھائو۔ ٹماٹر بھی فائدہ مند ہوں گے۔ حیاتین کی کمی سے انسان کمیونسٹ بن جاتا ہے اور راز حیات پر گفتگو کرنے لگتا ہے۔ میں اتنی دیر سے کس قدر بصیرت افروز گفتگو کررہی ہوں۔ بڑی بڑی گہرائیاں ہیں اس حیات مستعار میں جناب عالی۔ وہ تو یہ سمجھو کہ کیا کیا فلسفے ہیں۔ کیا ٹھکانا ہے میری قابلیت کا۔ بہت قابل ہوں۔ چین اور روس اور فرائڈ پر ساری کتابیں پڑھ چکی ہوں، گویہ معلوم نہیں کہ ان کتابوں میں کیا لکھا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہندوستان میں رہ کر تم کچھ نہیں کرسکتے۔ بہت ہی کم نظری اور رجعت پسندی اس ملک میں عام ہے اور نہر سویز کو پار کرلینے کے بعد ایک نہایت ہی وسیع قسم کی بلند نظری انسان میں پیدا ہوجاتی ہے۔ دماغ کے اندر بے حد اعلیٰ خیالات آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں یہاں قرول باغ میں بیٹھے بیٹھے اس قدر وسیع نظر ہوں کہ چین ماچین سب دیکھ سکتی ہوں حالاں کہ سویز کو میں نے بچپن میں پار کیا تھا___ اس کے اثرات کا اندازہ اب ہورہا ہے۔ قابلیت کے علاوہ مجھ میں ایک وصف اور بھی ہے۔ یعنی بہت کافی خوب صورت ہوں۔ بالکل تازہ تازہ میڈیم جین کے بیوٹی پارلر سے نکل کر آرہی ہوں۔ بہت عمدہ فرم ہے۔ دیانت دار، خوش معاملہ، فیسیں بالکل واجبی اور معقول۔ ایک سٹنگ کے صرف پینتیس روپے اور بال بالکل ویو کرانے ہوں تو پچھتر روپے۔ کناٹ پیلیس کے انرسرکل میں ہے، فون نمبر۔۔۔۔۔

لیکن یہ رقص وسرور اور روشن آرا اور میڈیم جین کا بیوٹی پارلر___ یہ تعلیم دین کے منافی ہیں اور متقاضی ہیں اس امر کے کہ___ بھئی خوب یاددلایا۔ میں بہت سخت مسلمان ہوں۔ ملت بیضا پر جان بھی نثار ہوجائے تو مضائقہ نہیں۔ لکھنؤ میں مسلم لیگ کے سارے ایٹ ہوم ہمارے لان پر ہوتے تھے چاہے جس سے پوچھ لو، اور یہاں تو فی الحال___ تو دراصل بات یہ ہے کہ دہلی میں مکان نہیں مل رہے۔ بری قلت ہے مکانوں کی۔ عالم کون ومکاں Versus لامکاں۔ اے طائر لا ہوتی، نہ تو زمین کے لیے نہ آسماں کے لیے۔ ہوا میں معلق رہ۔ اسرار خودی پڑھو۔ رموز بے خودی پڑھو۔ اقبال کا مطالعہ کرو۔ تمہاری خود آگاہی اس قدر عمدہ ہوجائے گی اور تم میں ایسے بال وپر نکل آئیں گے کہ تم انٹر ویو میں آجائو گے اور فوراً فلائٹ لفٹنٹنٹ بن جائو گے۔ اقبال ___ ہائے اقبال___ یہ ایک بہت بڑا شاعر تھا جس نے قوم کی بدنصیبی کی وجہ سے اس سرائے فانی سے عالم جاودانی کی طرف رحلت فرمائی اور بد نصیب قوم نے اخباروں کے ذریعے اعلان کیا کہ وہ اس کا مزار بے حد گرینڈ بنوائے گی۔ لہذا چندہ جمع ہونا شروع ہوا اور فرزند کو ہستان’ شاہ افغانستان کی طرف سے بھی شاہی عطیے کا فرمان جاری ہوا( اچھا اب باقی آئندہ)۔

ہاں تو مہادیو جی آپ ناچے جائیے۔ مانی پور کے سنہرے مندروں کا ناچ۔ تنخواہ کم ہے تو کیا ہرج ہے۔ رام گوپال نیچے جنوب میں ایک اور سنٹر قائم کررہا ہے بھرت نایٹم او رکتھا کلی کے لیے۔ وہاں چلے جائیے گا۔ فی الحال تو ہمیں جنگی ہفتے کے کنسرٹ کے لیے فوک ڈانس کی مشق کرائے جائیے۔ بڑا اسکوپ پڑا ہے۔ ہندوستانی رقص کا فن معراج پر پہنچنے والا ہے۔ تعمیرات بعد ازجنگ میں فنون لطیفہ کا روس کی طرح خاص درجہ ہوگا۔ عوام کے تھیٹر اور کلچر کیمپ کھولے جائیں گے۔ (وغیرہ)

دادا پونا میں ایک انگریزی رنگین فلم تیار کررہے ہیں۔ رام گوپال کو ایک فلم میں تین منٹ کے رقص کے لیے دس ہزار روپے ملے ہیں۔ تو مہادیو جی یہی تو دنیا ہے، آپ کے کنول کے پھولوں اور سنہری گھنگروئوں کی جھنکار سے علاحدہ اور ہم بہت پریکٹیکل لوگ ہیں۔ چلیے ریہرسل کروائیے۔ ایک دو تین۔ چھنن چھنن۔ پگ گھنگرو باندھ میرا ناچی رے۔ میرا ناچی رے۔

______________________________________________

یہ افسانہ ’’ساقی ‘‘ اپریل 1945میں شائع ہوا۔ مجموعہ ’’ ستاروں سے آگے‘‘ میں شامل ہے۔

ہمارے بارے میں admin

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

انت بھئے رت بسنت میرو

قرۃالعین حیدر لکڑی کا چھوٹا سا سفید پھاٹک کھول کر ٹونی پنیزی کی کیاری میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے